Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کی مصیبت عظمیٰ اور امت مسلمہ کی شرعی ذمہ داریاں اور غم حسین میں تخفیف کے لیے شرعی نصیحتیں

  حامد محمد خلیفہ عمان

ہر مومن کا اس بات پر پورا یقین ہے کہ رب کی تقدیر نافذ ہو کر رہتی ہے، اسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ

 (سورۃ الرعد: آیت 38) 

’’ہر وقت کے لیے ایک کتاب ہے۔‘‘

اور فرمایا:

وَ مَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ کِتٰبًا مُّؤَجَّلًا وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْہَا وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَۃِ نُؤْتِہٖ مِنْہَا وَ سَنَجْزِی الشّٰکِرِیْنَ (سورۃ آل عمران: آیت 145)  

’’اور کسی جان کے لیے کبھی ممکن نہیں کہ اللہ کے حکم کے بغیر مر جائے، لکھے ہوئے کے مطابق جس کا وقت مقرر ہے، اور جو شخص دنیا کا بدلہ چاہے، ہم اسے اس میں سے دیں گے اور جو آخرت کا بدلہ چاہے، اسے اس میں سے دیں گے اور ہم شکر کرنے والوں کو جلد جزا دیں گے۔‘‘

اور اس بات پر بھی ہر مومن کا ایمان ہے کہ جب نبی کریمﷺ کو یہ فرما دیا گیا، تو اس کے بعد اس دنیا میں کسی کو بقا اور دوام نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِِنَّہُمْ مَیِّتُوْنَo (سورۃ الزمر: آیت 30)

’’بے شک تو مرنے والا ہے اور بے شک وہ بھی مرنے والے ہیں۔‘‘

اور اس بات پر بھی سب کا ایمان ہے کہ حیلہ و تدبیر تقدیر کے آگے کارگر نہیں۔

ہر مومن کا اس بات پر بھی پکا ایمان ہے کہ جناب سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو لسان نبوت سے جنت کی بشارت مل چکی ہے، جو ایک اٹل حقیقت ہے اور جنت کے حصول کے لیے بے پناہ قربانیاں دینی پڑتی ہیں اور ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ جناب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے اہل بیت کو جو بھی حوادث پیش آئے، وہ آپ کے رفع درجات اور تکفیر سیئات کے لیے تھے۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت امت مسلمہ کو اس بات کا عظیم درس دیتی ہے کہ جنت کا راستہ، یہ وفا کا راستہ ہے۔ اس راستے میں جان دینا پڑتی ہے۔ یہاں ہر سو کانٹے بکھرے ہیں۔ یہاں راحت و آرام نام کی کوئی چیز نہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:

راہ وفا میں ہر سو کانٹے

دھوپ بہت اور سائے کم

اگر کسی پیکر حسن و جمال کو نکاح کا پیغام بھیجنا ہے تو پھر خطیر مہر کے لیے تیار رہیے۔ جب ریحانہ رسولﷺ کو راہ حق میں یوں شہید کر دیا گیا، تو کیا راہ حق پر چل کر سنت کی نصرت و حمایت کرنے والے دوسرے مجاہدین اور جاں نثار شہادت کے اس رتبہ سے کنی کترا کر گزر سکتے ہیں؟ ہرگز بھی نہیں اور جن کو جاں عزیز ہو، انہیں اس راستے پر قدم رکھنے کا سوچنا بھی نہیں چاہیے۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا حادثۂ فاجعہ امت مسلمہ کو یہ درس دیتا ہے کہ وہ قاتلان حسین کے عقیدہ و عمل اور دجل و تلبیس سے ہوشیار رہیں۔

کتاب وسنت سے سچی محبت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنے اندر حسینی قربانی کی روح کو ہر وقت زندہ رکھیں، اس مصیبت عظمی پر صبر کریں اور اس پر رب تعالیٰ سے اجر کی امید رکھیں۔

یہ دنیا جائے فنا ہے، یہاں کسی کو بقا اور قرار نہیں جیسا کہ خود جناب حسین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ

’’اگر یہ دنیا اس لائق ہوتی کہ اسے کسی کے لیے باقی رکھا جاتا یا کوئی اس کے لیے باقی رہتا، تو وہ رب کے پیغمبر ہیں۔ مگر یہ کہ یہ دنیا گرتا گھر ہے، اس کی ہر نعمت خراب ہونے والی اور ہر خوشی ختم ہونے والی ہے۔‘‘

جب بادشاہ اشبیلیہ معتمد بن عباد اندلسی کی حکومت جاتی رہی اور وہ مغرب کے شہر ’’اغمات‘‘ میں پس دیوار زنداں کر دیا گیا، تو بدلتے زمانہ اور دگرگوں ہوتے حالات میں گہری نگاہ ڈالنے کے بعد حسرت سے یہ شعر پڑھنے لگا:

سیسلی النفس عما فات

علمی بان الکل یدرکہ الفناء

’’میں اپنے ہاتھوں سے نکل جانے والی حکومت پر اپنے دل کو یہ جان کر تسلی دیتا ہوں کہ فنا تو ایک دن سب کو آ کر رہے گی۔‘‘

پھر یہ شعر پڑھا:

نعیم و بؤس ذا لذلک ناسخ

و بعدہما نسخ المنایا الامانیا

’’نعمتیں اور تنگیاں یہ آتی جاتی رہتی ہیں اور یہ ایک دوسرے کو مٹاتی رہتی ہیں، پھر موت آ کر سب تمناؤ ں کا خاتمہ کر دیتی ہے۔‘‘ 

(قلائد العقیان للفتح بن خاقان: صفحہ 26-29)

بس یہی دنیا ہے، یہ چل چلاؤ کا میلہ ہے، یہاں خویش اور وطنوں کی جدائیوں کے صدمے سہنے پڑتے ہیں۔ خوش نصیب وہ ہے، جسے حسن خاتمہ نصیب ہو گیا۔ رب کے حضور دست سوال دراز ہے کہ وہ ہمیں حسن خاتمہ نصیب فرمائے۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کئی لوگوں کے لیے عبرت بنی۔ چنانچہ عمیر بن عبدالملک بیان کرتے ہیں کہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس گیا، وہاں اس کے سامنے ایک ڈھال پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر رکھا تھا، اللہ کی قسم! اس واقعہ کو چند دن بھی نہ گزرے تھے کہ میں مختار بن ابی عبید کے پاس گیا، تو وہاں ڈھال پر عبیداللہ بن زیاد کا سر ڈھال پر رکھا دیکھا، اللہ کی قسم! اس واقعہ کو بھی چند دن نہ گزرے تھے کہ میں مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، تو میں نے وہاں مختار کا سر ایک ڈھال پر رکھا دیکھا، اور اللہ کی قسم! اس واقعہ کو بھی چند دن نہ گزرے تھے کہ میں عبدالملک بن مروان کے پاس گیا، تو میں نے وہاں مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کا سر ڈھال پر رکھا دیکھا۔ (المعجم الاوسط: صفحہ 2877)

یہ ان لوگوں کے سر قلم کر کے ڈھالوں پر رکھے گئے تھے جو مقام و مرتبہ، قوت و طاقت، علم و فراست اور اعوان و انصار کی کثرت والے تھے، تو ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو ان سب باتوں سے محروم ہیں۔ بے شک یہ دنیا دار الفنا ہے، یہاں سب کو آ کر چلے جانا ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کی راہ میں اللہ اور اس کے رسول کے دین کی نصرت و حمایت کرتے ہوئے فنا ہو جانا، یہ شہوتوں اور خواہشات کے پیچھے فنا ہو جانے سے بہتر ہے اور اللہ کی راہ کی موت بزدلوں اور بیٹھ رہنے والوں کی بستروں پر آنے والی موت سے بہتر ہے۔

اس مقام پر یہ نکتہ ازحد ملحوظ رہے کہ جن حضرات نے قتل حسین رضی اللہ عنہ کو جن خود ساختہ اور طلسماتی کہانیوں کے پردوں میں لپیٹ کر امت کے سامنے پیش کیا ہے اور اس لامتناہی سلسلہ کو نسل درنسل نقل کرتے چلے آ رہے ہیں، وہ اس بات کو بھول گئے کہ جناب رسول اللہﷺ اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان باتوں میں سے کسی ایک بات کو بھی پائے بغیر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ پھر حضرات خلفائے ثلاثہ سیدنا فاروق اعظم، سیدنا عثمان غنی اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم ان حضرات کی سازشوں کا شکار ہوئے اور ان بزرگوں نے مساجد میں اور قرآنی اوراق کے سامنے جام شہادت نوش کیے لیکن انہیں بھی وہ باتیں حاصل نہ ہوئیں، جن کے تذکروں سے ان حضرات کی کتابیں بھری پڑی ہیں، ان لوگوں نے ان باتوں کے تذکروں سے دنیائے عالم کی فضا کو جھنجھنا کر رکھ دیا ہوا ہے۔ آخر یہ سب امور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے حصہ میں ہی کیوں آئے، جبکہ ان کے والد ماجد بھی ان باتوں کے حصول سے محروم رہے؟ آخر یہ حالات، تغیرات اور واقعات حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کے قتل سے قبل کیوں منصہ شہود پر وقوع پذیر نہ ہوئے؟ کہیں اس کی وجہ صرف یہی تو نہیں کہ یہ جملہ ہوش ربا، طلسماتی اور ماورائے عقل و خرد واقعات و حوادث ان حضرات کے اپنے ساختہ پرداختہ ہیں اور یہ واقعات گھڑنا اور دنیائے تاریخ میں جعل سازی کے اس نئے باب کا آغاز کرنا، ان کی سخت مجبوری تھی تاکہ آنے والی نسلوں کو قتل حسین کے قبیح ترین جرم کے اصلی مجرموں کے چہروں کی شناخت حاصل نہ ہو۔ اس لیے بے اصل و بے سند واقعات کا ایک طومار تیار کر کے کتب تاریخ کو ان سے بھر دیا گیا اور قتل حسین کے واقعہ پر شک و تلبیس اور دجل و تدلیس کی دبیز تہیں چڑھا دی گئیں۔

امام ابن کثیر رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

’’ان لوگوں نے (یعنی روافض نے) ذکر کیا ہے کہ جس روز سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا، اس روز جس کنکری، روڑے یا پتھر کو پلٹا جاتا تھا، تو نیچے سے تازہ خون نکل آتا، اس دن سورج کو گرہن لگ گیا، آسمان کا کنارا سرخ ہو گیا اور آسمان سے پتھر برسنے لگے۔ یہ سب باتیں محل نظر ہیں اور بظاہر یہ روافض کی کذب بیانی کا شاخسانہ ہے تاکہ قتل حسینؓ کے امر کو بے حد عظیم بنا کر پیش کیا جا سکے۔ اس با ت میں کوئی شک نہیں کہ سبط رسولﷺ کا قتل ایک عظیم واقعہ ہے، لیکن جو باتیں اس قتل کی آڑ میں ان شیعہ حضرات نے جعل سازی سے گھڑ کر بیان کی ہیں، وہ سراسر خلاف واقع ہے۔ جناب حسین رضی اللہ عنہ سے قبل خود ان کے والد ماجد سیدنا علی رضی اللہ عنہ قتل ہوئے، جو بالاجماع ان سے افضل ہیں، لیکن ان کی شہادت پر ایسا کوئی خلاف فطرت واقعہ پیش نہیں آیا۔ پھر ان سے پہلے امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو محصور کر کے مظلومانہ قتل کر دیا گیا، لیکن ایسے ماورائے عقل واقعات رونما نہ ہوئے اور ان سے بھی قبل سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجد و محراب کے درمیان عین نماز فجر میں شہید کر دئیے گئے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت واقعی مصیبت عظمیٰ تھی کہ اس سے قبل اہل اسلام کو ایسا واقعہ ہرگز بھی پیش نہ آیا تھا، لیکن اس طامۂ کبریٰ کے وقت بھی زمین و آسمان کے درمیان کوئی ایسا تغیر و انقلاب پیش نہ آیا تھا اور تو اور جناب محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ، جو سید البشر خاتم الانبیاء و المرسلین اور امام الانبیاء ہیں اور بالاجماع ذات باری تعالیٰ کے بعد جملہ مخلوقات میں سب سے افضل ہیں اور آپﷺ کی یہ فضیلت و بزرگی دنیا و آخرت دونوں جہانوں کے لیے ثابت ہے، لیکن جس دن آپ نے اس دار فانی سے رحلت فرمائی گردش لیل و نہار میں سر مو تغیر بھی پیش نہ آیا تھا اور جو باتیں یہ شیعہ شہادت حسینؓ کے دن کے بارے میں بیان کرتے ہیں، ایسی کوئی بات کسی کے دیکھنے سننے میں نہ آئی۔ یہی وجہ ہے کہ جب نبی کریمﷺ کے فرزند ارجمند سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اور اس دن اتفاقاً سورج کو گرہن بھی لگ گیا اور لوگوں میں اس بات کا چرچا ہونے لگا کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات پر سورج بھی گہنا گیا ہے، تو نبی کریمﷺ نے نماز کسوف ادا فرمائی اور بعد میں لوگوں میں ایک نہایت بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں اس بات کو واضح فرما دیا کہ آفتاب و ماہتاب کا گہنا جانا، کسی کی موت و حیات پر موقوف نہیں۔‘‘ (دیکھیں : البدایۃ و النہایۃ: جلد، 5 صفحہ 311 صحیح مسلم: 901)

نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:

’’بے شک سورج اور چاند رب تعالیٰ کی (آفاقی) نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت یا حیات کی وجہ سے نہیں گہناتے۔ پس جب تم ان کو گہناتے دیکھو، تو رب تعالیٰ سے دعا مانگو اور تکبیر پڑھو اور نماز پڑھو اور صدقہ دو، پھر ارشاد فرمایا: ’’اے امت محمد! اللہ کی قسم! اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں، تو (بہت) کم ہنسو اور (بہت) زیادہ روؤ۔‘‘ (صحیح البخاری: 997)