سر حسین رضی اللہ عنہ کا مدفن اور قتل حسین رضی اللہ عنہ کی بابت یزید کا موقف
حامد محمد خلیفہ عمانسرِ حسین رضی اللہ عنہ کا مدفن، یزید کی بیعت، قتل حسین رضی اللہ عنہما کی بابت یزید کا موقف، مظلومیت کا عقیدہ اور عاشوراء کا بیان
اعدائے صحابہ نے جس قدر ناجائز فائدہ خود اس حادثہ فاجعہ سے اٹھایا ہے، اسی قدر ناجائز فائدہ انہوں نے سر حسین رضی اللہ عنہ کے مدفن کی بابت موضوع سے اٹھایا ہے، تاکہ مجوسی رسوم و عادات کی ترویج کے ضمن میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر امت مسلمہ میں فتنوں کو ہوا دینے کے اسباب کو دوام بخشا جا سکے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان مجوسیانہ رسوم و افعال کا دین اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اس موقعہ پر یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ رسوم و عادات کا یہ نیا جہان آخر کیوں آباد کیا گیا، جس سے اہل اسلام اس سے قبل ہرگز بھی آشنا نہ تھے؟ ذیل میں اس کے چند اہم اسباب کو ذکر کیا جاتا ہے:
٭ آل بیت رسولﷺ کے پاکیزہ خون سے ہاتھ رنگنے کے جرم سے خود کو بری قرار دینے کی یہ ایک بھونڈی کوشش تھی، تاکہ آنے والی نسلیں قتل حسین رضی اللہ عنہ اور قتل اہل بیت رضی اللہ عنہم کے اصلی مجرم تک رسائی نہ حاصل کر پائیں۔
٭ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور آل بیت رضی اللہ عنہم سے شد و مد کے ساتھ محبت کے اظہار کی آڑ میں حقائق کو مسخ اور سنت نبویہ کو بگاڑا جا سکے، جبکہ دوسری طرف امت مسلمہ کے بزرگ ترین اور پاکیزہ ترین طبقہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، امہات المومنین رضی اللہ عنہن، قائدین فاتحین اور اسلاف و اکابر پر لعن طعن اور سب و شتم کی راہ ہموار کی جا سکے، تاکہ آنے والی نسلوں کے دلوں میں ان مقدس بزرگوں کی بابت کینہ اور بغض و نفرت کے بیجوں کو بویا جائے، ان قدسی صفات ہستیوں کے خلاف نفرت کی فضا پیدا کی جائے اور نوجوانان ملت کے دلوں میں سے ان رشک ملائک وجودوں پر سے اعتماد کو کھرچ کر نکال دیا جائے۔
اس مختصر سی تمہید کے بعد اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں، سر حسین رضی اللہ عنہ دراصل کہاں دفن ہے؟ جان لیجیے کہ اس بارے میں کوئی صریح اور ثابت روایت نہیں ملتی۔ اگرچہ اس باب میں مروی روایات بہت زیادہ ہیں۔ اس بارے میں دو رائے نہیں کہ یہ جملہ روایات خود تراشیدہ ہیں، تاکہ جا بجا شرکیہ رسومات کے اڈے کھولے جا سکیں اور کھول دئیے گئے۔ ان مشاہد و مزارات کو اسی مقصد کے لیے قائم کیا گیا تاکہ امت مسلمہ میں شبہات کو ہوا دی جا سکے اور فتنہ، کینہ اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے نفرت و کراہت کی ثقافت کو پالا پوسا جا سکے اور یہ سب کچھ اس زعم باطل کی آڑ میں کیا جائے کہ ہم تو آل بیت کے تقرب کے لیے ان مشاہد و مزارات کی زیارتوں کے لیے جا رہے ہیں۔
لیکن یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ان زیارتوں کا آل بیت رضی اللہ عنہم سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ کیونکہ ان زیارتوں کے اکثر افعال و اعمال سنت نبویہ کے ان آداب سے خالی ہیں، جن کو حضرات اہل بیت رضی اللہ عنہم نے تا دم واپسیں مضبوطی سے تھامے رکھا تھا۔