آل حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یزید کا موقف - دفاعِ اہلِ…

آل حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یزید کا موقف

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 1 از 2

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کر دینے کے بعد جب ابن مرجانہ فارسیہ نے یزید سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی آل اور خواتین کے بارے میں رائے دریافت کرنے کے لیے خط لکھا، تو یزید یہ الم ناک خبر سن کر رو پڑا اور کہنے لگا:

’’اے عراقیو! میں حسین (رضی اللہ عنہ) کے قتل کیے بغیر بھی تمہاری اطاعت پر راضی تھا، ابن مرجانہ پر لعنت ہو، اس نے حسین (رضی اللہ عنہ) سے قرابت داری کا رشتہ دور دیکھا، (اس لیے انہیں بے دردی سے شہید کر ڈالا) اللہ کی قسم! اگر حسین (رضی اللہ عنہ) کا معاملہ میرے ہاتھ میں ہوتا، تو میں انہیں معاف کر دیتا۔ پس اللہ حسین (رضی اللہ عنہ) پر رحم فرمائے۔‘‘ (انساب الاشراف للبلاذری: جلد، 3 صفحہ 219 مواقف المعارضۃ: 282)

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی ایسی مظلومانہ شہادت پر دل خون ہو جائیں اور پتھروں کے جگر بھی چاک ہو جائیں۔ بھلا یزید اپنے چچیروں کی شہادت پر کیوں نہ روتا؟ اور اس کا دل اس صدمہ سے رنجور کیوں نہ ہوتا؟ جبکہ وہ جانتا تھا کہ یہ دل فگار حادثہ قریش میں افتراق کا باعث بن سکتا ہے، جن کی وحدت کا امت کی وحدت پر بے پناہ اثر ہے، اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یزید کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر بڑا غم تھا اور حقیقی غم تھا اور اسے اس بات کا حقیقی ادراک تھا کہ یہ واقعہ اس کے دین و دنیا دونوں کے تباہ ہو جانے کا قوی سبب بن سکتا ہے۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد جب یزید کے پاس پہنچی، تو جناب حسین رضی اللہ عنہ کی لخت جگر اور نور نظر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یزید سے مخاطب ہو کر کہا:

’’اے یزید! کیا رسول اللہﷺ کی بیٹیاں بھی قیدی بنائی جائیں گی؟ یزید نے برجستہ کہا: ہرگز نہیں بلکہ وہ تو آزاد ہیں، عزت والیاں ہیں۔ تم اپنی چچیری بہنوں کے پاس چلی جاؤ، تم انہیں بھی وہی کچھ کرتے پاؤ گی، جو میں کر رہا ہوں۔ سیدہ فاطمہ رحمۃ اللہ فرماتی ہیں: ’’سو میں ان کے پاس گئی، تو میں نے ساری سفیانیہ خواتین کو بس روتے ہی دیکھا۔‘‘ (تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ 395)

یہ روایت امت مسلمہ میں فتنہ بھڑکانے اور کینہ پھیلانے والوں کا منہ توڑ جواب ہے، جو جعلی روایات کی آڑ میں دراصل ہمارے پیغمبرﷺ کے آل بیت کی استہانت و اہانت میں لگے ہیں اور لوگوں کو بھی اس ناپاک کام پر جری کرتے ہیں۔ چنانچہ کوفیوں نے ان مقدس خواتین کی بابت ازحد حیا باختہ باتیں تراش رکھی ہیں اور ان کو اپنے خطبوں اور ٹی وی پروگراموں میں بیان کرتے ہیں۔ ان رافضیوں کا یہ رسوائے زمانہ رویہ ہر عاقل اور صاحب علم و فضل پر ان کے مقاصد کو آشکارا کرتا ہے کہ دراصل یہ لوگ امت مسلمہ کے دلوں سے نبی کریمﷺ کے آل بیت کی عظمت و ہیبت اور تقدس و احترام کو کھینچ کر نکال دینا چاہتے ہیں۔ افسوس کہ کتاب و سنت اور ان کے سچے پیروکاروں کے خلاف یہ مذموم سازش آل بیت رسول کے دفاع کے نام پر اور ان کے غم و الم پر کی جا رہی ہے۔ تاکہ جو بھی کتاب و سنت پر عزیمت و اخلاص کے ساتھ چلنا چاہے اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چل کر انہیں سعادتوں سے اپنا دامن بھرنا چاہے، اس کے خلاف شور مچا کر آسمان سر پر اٹھا لیا جائے۔ (مقاتل الطالبین للاصفہانی: صفحہ 119) تاکہ ایک تو عقیدۂ توحید کے خلاف جنگ پورے زور و شور کے ساتھ جاری رہے، دوسرے اس گنہ گار مجرم کی شناخت کو امت مسلمہ پر خلط ملط کر دیا جائے جس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکر و فریب کا ارتکاب کیا، اور اس پاکیزہ خون کے بہانے میں اپنا حصہ ڈالا۔

ان کوفیوں نے آل بیت رسول کی خواتین کی بابت جو روایات گھڑی ہیں، وہ واقعہ کی منظر کشی کچھ یوں کرتی ہیں کہ ان پاکیزہ خواتین کو بے پردہ اور قیدی بنا کر پیش کیا گیا تھا۔ حاشا و کلا کہ ان مقدس خواتین نے کسی بھی حال میں بے پردگی کو قبول کیا ہو۔ دوسرے ہم یہ بھی جانتے ہیں ایک غیور اور مومن مسلمان ایسا ہنود و یہود اور صلیبی و مجوسی خواتین کے ساتھ بھی نہیں کر سکتا، چہ جائیکہ وہ آل بیت رسول کی واجب صد احترام مقدس اور نیک ترین خواتین کے ساتھ ایسی بے تہذیبی و بدسلوکی کو روا جانے۔ مَعَاذَ اللّٰہِ!

لیکن افسوس کہ صحت و ثاقت اور صدق و مصداقیت سے معرا یہ جعلی روایات جو کذب و بطلان کا طومار ہیں، یہی کچھ بیان کرتی ہیں تاکہ کسی کو خود ان پر نگاہ ڈالنے کا موقعہ نہ ملے۔ جبکہ یہ جعلی اور مکذوبہ روایات ان ثابت روایات کے بھی مغایر و مخالف ہیں، جو یہ بیان کرتی ہیں کہ یزید نے آل حسین کا بے حد اکرام کیا تھا۔

یزید کے اس کریمانہ سلوک کو امام زین العابدین علی بن حسین رحمۃ اللہ نے خوب یاد رکھا۔ چنانچہ انہوں نے زندگی بھر یزید کے ساتھ صلح قائم رکھی اور جب کوفیوں نے ایک بار پھر فتنہ کی آگ بھڑکا کر اس کے شعلوں کی لپٹوں میں جناب زین العابدین رحمۃ اللہ کو گھسیٹنا چاہا، تو انہوں نے صاف انکار کر دیا اور یزید کی وفات تک اپنے کسی قول یا فعل سے یزید کے خلاف کسی کو انگیخت نہ کیا۔

تو کیا اب یہ کوفی خونِ حسین رضی اللہ عنہ پر خود ان کے فرزند ارجمند سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین رحمۃ اللہ اور ان کے چچا جناب محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ سے زیادہ غیرت رکھتے ہیں؟ جنہوں نے مرتے دم تک یزید کے ساتھ اچھے تعلقات قائم و برقرار رکھے اور کسی صحیح روایت میں ان دونوں بزرگوں سے یزید کی بابت کسی قدح و تنقیص کا ثبوت نہیں ملتا اور جب تک یزید نے آل حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے ہاں مہمان رکھا، اس نے جناب علی بن حسین رحمۃ اللہ کے بنا کبھی صبح یا شام کا کھانا نہ کھایا تھا۔ (طبقات ابن سعد: جلد، 5 صفحہ 397)

چنانچہ یزید سیدنا علی بن حسین رحمۃ اللہ کو بلواتا، ساتھ بٹھاتا، کھانے میں شریک کرتا، گفتگو کرتا اور ان کی غم گساری اور دل داری کرتا تھا اور جب آل حسین رضی اللہ عنہ مدینہ کوچ کرنے لگے، تو یزید نے سب ہاشمی خواتین کو بلوا کر ان سے دریافت کیا کہ اس حادثۂ فاجعہ کے دوران میں ان سے کیا کیا لے لیا گیا تھا۔ غرض جس خاتون نے جو بھی بتلایا، یزید نے اسے اس سے دوگنا دیا۔ (طبقات ابن سعد: جلد، 5 صفحہ 397 تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ 395)

صفحہ 1 از 2