آل حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یزید کا موقف - دفاعِ اہلِ…

آل حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یزید کا موقف

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 2

پھر یزید نے مدینہ سے بنی ہاشم اور بنی علی (طبقات ابن سعد: جلد، 5 صفحہ 397) کے موالیوں کو بلوا بھیجا، جب وہ پہنچے، تو یزید نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی ازواج و بنات کو سامان تیار کرنے کا حکم دیا اور ان کو ہر قسم کا زادِ راہ اور مدینہ تک کی ضروریات بہم پہنچائیں۔ (طبقات ابن سعد: جلد، 5 صفحہ 397 تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ 393) پھر حضرت نعمان بن بشیر انصاری رضی اللہ عنہ کو سامان سفر تیار کرنے کا حکم دیا۔ (تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ 392) جب یہ حضرات کوچ کرنے لگے، تو یزید نے امام زین العابدین رحمۃ اللہ کو بلوا کر کہا:

’’اگر آپ چاہیں کہ میرے ہاں ہی ٹھہر جائیں اور میں آپ کے ساتھ صلہ رحمی کروں اور آپ لوگوں کا حق پہچانوں تو میں اس کے لیے تیار ہوں۔‘‘ (تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ 392 سیر اعلام النبلاء: جلد، 6 صفحہ 386)

لیکن امام زین العابدین رحمۃ اللہ نے مدینہ لوٹنے کو اختیار کیا۔

غرض یزید نے اولادِ حسین رضی اللہ عنہ کو دونوں باتوں کا اختیار دیا کہ عزت و آبرو کے ساتھ اسی کے پاس ٹھہرے رہیں یا پھر احسان و اکرام کے ساتھ مدینہ لوٹ جائیں۔ چنانچہ انہوں نے مدینہ لوٹ جانے کو اختیار کیا۔ (منہاج السنۃ: جلد، 4 صفحہ 559)

یہ حضرات جب دمشق سے مدینہ روانہ ہونے لگے، تو یزید نے الوداع کہتے ہوئے ایک بار پھر عذر پیش کیا اور یہ کہا:

’’ابن مرجانہ پر خدا کی پھٹکار ہو، اللہ کی قسم! اگر حسین رضی اللہ عنہ کا معاملہ میرے ہاتھ میں ہوتا اور وہ مجھ سے کسی بات کا سوال کرتے، تو میں انہیں وہ ضرور عطا کرتا اور جہاں تک ہو سکتا انہیں ہلاکت سے بچاتا، چاہے ان کی خاطر مجھے اپنی کسی اولاد کی قربانی بھی دینا پڑتی، تو دریغ نہ کرتا۔ لیکن رب کی تقدیر غالب آئی۔ آپ کو جو بھی ضرورت پیش آئے، مجھے لکھ بھیجا کیجیے!‘‘ (تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ 393)

ایک روایت میں آتا ہے کہ جب آل حسین مدینہ روانہ ہونے لگے، تو یزید نے حضرت علی بن حسین رحمۃ اللہ سے یہ کہا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ کس بات نے حسین رضی اللہ عنہ کو اس اقدام پر ابھارا اور کس بات نے انہیں اس حالت میں مبتلا کیا؟ وہ بولے: نہیں۔ تو یزید کہنے لگا: انہوں نے دراصل رب تعالیٰ کے ان ارشادات میں تدبر نہ کیا تھا:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

قُلِ الّٰلہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآئُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآئُ وَ تُعِزُّمَنْ تَشَآئُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآئُ بِیَدِکَ الْخَیْرُ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌo (سورۃ آل عمران: آیۃ 26) (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 8 صفحہ 195)

’’کہہ دے اے اللہ! بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دیتا ہے، اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے، اور جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے، بے شک تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔‘‘

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ دونوں آیات غور کرنے والوں کے لیے بے پناہ عبرتوں کی حامل ہیں۔ لیکن یہ بات درست نہیں ہے کہ جناب حسین رضی اللہ عنہ نے ان آیات میں نگاہ غور و تدبر نہ ڈالی ہو۔ وہ حسین رضی اللہ عنہ جنہوں نے کتاب و سنت کے علوم کے سرچشموں سے سیرابی حاصل کی، علم کے ماحول میں آنکھ کھولی، رسول اللہﷺ کی گود میں بچپن گزارا، اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم کی صحبت اٹھائی اور اپنے والد ماجد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زیر تربیت پروان چڑھے، جو ایک سچے عالم ربانی اور اس بات کے بے حد حریص تھے کہ ان کی اولاد علم و عمل کی اعلیٰ ترین سطح تک جا پہنچے۔ ان سب امور کے ہوتے ہوئے بھلا یہ کیونکر گمان کیا جا سکتا ہے کہ جناب حسین رضی اللہ عنہ نے ان آیات کریمہ کے مقاصد و عبر میں غور نہ کیا ہو۔

تب پھر کیا ہوا؟

افسوس کہ اس موقعہ پر کوفیوں کے مکر و غدر نے آپ کو اپنی ان سازشوں میں گھیر لیا، جو انہوں نے امت مسلمہ کے ائمہ و اکابر اور ابرار و اخیار کے خلاف تیار کی تھیں، تاکہ یہ امت اپنے پیغمبر کی اس سنت سے روگرداں ہو جائے، جس میں دنیا و آخرت کے سب فتنوں سے نجات اور پناہ ہے۔

غرض جب آل حسین رضی اللہ عنہ مدینہ کی طرف کوچ کرنے لگے، تو یزید نے آل ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے تقریباً تیس گھڑ سوار موالیوں کو ان کے ہمراہ کر دیا اور انہیں اس بات کا تاکیدی حکم دیا کہ یہ حضرات جہاں چاہیں اور جب چاہیں پڑاؤ ڈالیں، تم لوگوں نے ان کی اثنائے طریق میں ہر قسم کی مدد و معاونت کرنی ہے۔ (طبقات ابن سعد: جلد، 5 صفحہ 397 مواقف المعارضۃ: صفحہ 286) یزید نے آل حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ محرز بن حریث کلبی اور بہراء کے ایک آدمی کو بھی ان کے ہمراہ کیا، جو اہل شام کے افاضل علماء میں سے تھے۔ (مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید: صفحہ 286) غرض آل حسین رضی اللہ عنہ نوازشات و احترامات سے لدے دمشق سے نکلے اور مدینہ جا پہنچے۔ 

(مواقف المعارضۃ: صفحہ 286)

امام زین العابدین رحمۃ اللہ مدینہ میں ہی رہے، یزید کے ساتھ شام میں ان کے تعلقات قائم رہے۔ یزید جناب امام زین العابدین رحمۃ اللہ کی ضروریات پوری کرتا، ان کے مطالبات کی تعمیل کرتا، ہدیے بھیجتا جن کو جناب امام زین العابدین رحمۃ اللہ مدینہ کے فقراء و مہاجرین میں تقسیم فرما دیتے۔ رب تعالیٰ نے سیدنا علی بن حسین رحمۃ اللہ کی اولاد میں بے پناہ برکت رکھ دی اور وہ خوب پھیلی، حتیٰ کہ اکثر عرب قبائل میں آل حسین پہنچ گئی اور بلاد و امصار کی کوئی اقلیم ان کے وجود باجود سے خالی نہ رہی۔ جناب حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی اولاد و باقیات کے یہ آثار ان لوگوں کے علاوہ ہیں، جو خود کو زبردستی آل حسین کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ نہ تو وہ عرب ہیں اور نہ آل حسین میں سے ہیں، بلکہ وہ عجمی ہیں جن کی زبان بھی عربی نہیں اور یہ زبردستی کا انتساب صرف دجل و تلبیس کی غرض سے ہے۔ وَ اللّٰہُ یَفْعَلُ مَا یَشَآئُ۔


صفحہ 2 از 2