Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیّدنا امیر معاویہؓ کا سیّدنا علیؓ کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کرنا

  محمد ذوالقرنین

سیّدنا امیر معاویہؓ کا سیّدنا علیؓ کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کرنا

شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کے پاس سیدنا علیؓ کو بُرا بھلا کہا اور بطورِ دلیل سنن ابنِ ماجہ کی روایت پیش کرتے ہیں جو کچھ یوں ہے۔
سند: حدثنا علی بن محمد حدثنا ابو معاويه حدثنا موسیٰ بن مسلم عن ابنِ سابط وهو عبد الرحمن عن سعد بن ابی وقاص۔
متن: عبدالرحمٰن بن سابط نے سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے سنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ کسی حج کے موقع پر تشریف لائے سیدنا سعدؓ ان کے پاس گئے اُنہوں نے سیدنا علیؓ کا تذکرہ کیا تو سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا علیؓ کے بارے میں کچھ کہا تو سیدنا سعدؓ غصے میں آگئے اور کہا تم اس شخص کے متعلق یہ کہتے ہو میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جس کا میں مولا ہوں اس کا سیدنا علیؓ مولا ہے۔
(سنن ابنِ ماجہ (اردو) روایت نمبر 121)
(مصنف ابنِ ابی شیبہ (اردو) جلد9 روایت 32741)
اسناد کا تعاقب: اس روایت میں دو علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس کا ایک راوی ابو معاویہ جو کہ محمد بن حازم ضریر کوفی ہے وہ اعمش کے علاوہ دیگر راویوں سے روایت کرنے میں مضطرب ہے۔
امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔
نوویں طبقہ کہ حضرات میں سے ثقہ ہے اعمش کی احادیث کو تمام لوگوں سے زیادہ یاد رکھنے والا ہے تاہم دیگر حضرات کی احادیث میں بسا اوقات غلطی کر جاتا ہے۔
(تقریب التہذیب (اُردو) جلد 2 صفحہ 73)
اور امام زہبیؒ اس کے بارے میں امام احمد بن حنبلؒ کا قول نقل کرتے ہیں کہ۔
ابو معاویہ ان احادیث میں مضطرب ہے جو اس نے اعمش کے علاوہ نقل کی ہیں یہ انہیں اچھی طرح حفظ نہیں کر پاتا۔
(سیر اعلام النُبلاء (عربی) جلد 9 صفحہ 75،74)۔
اور امام ابنِ رجب حنبلیؒ اس کے بارے میں عثمان بن ابی شیبہؒ کا قول نقل کرتے ہیں کہ۔
ابو معاویہ اعمش کی حدیث میں حُجت ہے اور اس کے علاوہ کسی راوی سے روایت کرنے میں حُجت نہیں ہے۔
(شرح علل الترمذی (عربی) جلد 1 صفحہ 670)۔
دوسری علت: اس روایت کی دوسری علت اس کے مرکزی راوی عبدالرحمن بن سابط کا ارسال ہے کیونکہ اس نے سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے سماع نہیں کیا اور یہ ارسال کرتا ہے۔
جیسا کہ امام ابنِ حجرؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔ تیسرے طبقہ کا ثقہ کثیر الارسال راوی ہے۔
(تقریب التہذیب (اردو) جلد 1 صفحہ 520)۔
امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں مزید فرماتے ہیں۔
یحییٰ بن معینؒ سے پوچھا گیا عبدالرحمٰن نے سیدنا سعدؓ سے سماع کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا نہیں۔
(تہذیب التہذیب (عربی)جلد 4 صفحہ 49)۔
حافظ مزیؒ بھی اس کے بارے میں یہی لکھتے ہیں کہ۔
عبدالرحمٰن بن سابط نے سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے سماع نہیں کیا۔
(تہذیب الکمال فی اسماء الرجال (عربی) جلد 17 صفحہ 124،123)۔
امام ابنِ عساکرؒ بھی نقل کرتے ہیں کہ۔
یحییٰ بن معینؒ سے پوچھا گیا عبدالرحمٰن بن سابط نے سیدنا سعدؓ سے سماع کیا ہے؟ تو ابنِ معینؒ نے پوچھا کون سعد؟ سعد بن ابراہیم؟ کہا گیا نہیں سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے؟ تو (ابنِ معینؒ) نے فرمایا نہیں (پھر فرمایا) عبدالرحمٰن بن سابط ان کی طرف ارسال کرتا ہے اور اس نے ان سے سماع نہیں کیا۔
(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 34 صفحہ 380 381)۔
ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت باطل ہے اور اس سے استدلال جائز نہیں کیونکہ ابو معاویہ کی اعمش کے علاوہ راویوں سے کی گئی روایت مضطرب ہوتی ہے اور یہاں بھی ابو معاویہ موسیٰ بن مسلم سے روایت کر رہا ہے اور یہ روایت ویسے بھی متصل نہیں بلکہ اس میں ارسال ہے کیونکہ عبدالرحمٰن بن سابط کا سماع بھی سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے ثابت نہیں۔
ان دو علتوں کی وجہ سے یہ روایت باطل ہے اس لیے اس روایت کو بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا علیؓ کے بارے میں کوئی نازیبا جملہ استعمال کیا اور اس بنیاد پر سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کرنا جائز نہیں۔