Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا ابنِ عباسؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ کو گدھا کہنا

  محمد ذوالقرنین

سیدنا ابنِ عباسؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ کو گدھا کہنا

شیعوں کی طرف سے ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ سیدنا ابنِ عباسؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ کو گدھا کہا روایت کچھ یوں ہے۔

سندحدثناثنا عبد الوہاب بن عطاء قال انا عمران بن حدير عن عكرمة۔

متن: عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابنِ عباسؓ کے ساتھ سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس تھا ہمیں باتیں کرتے ہوئے رات کا ایک حصہ گزر گیا پس سیدنا امیر معاویہؓ نے کھڑے ہو کر ایک رکعت (وتر ) پڑھی تو سیدنا ابنِ عباسؓ نے فرمایا اس حمار (گدھے) نے یہ چیز کہاں سے لی ہے؟

(شرح معانی الاثار المعروف طحاوی شریف (اردو) جلد 1 روایت 1678)۔

اسناد کا تعاقب: یہ روایت بھی باطل ہے اس روایت کے راوی عبد الوہاب بن عطاء کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں۔

امام احمدؒ فرماتے ہیں یہ ضعیف الحدیث اور مضطرب ہے امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ قوی نہیں ہے امام رازیؒ کہتے ہیں یہ جھوٹ بولا کرتا تھا (مزید لکھتے ہیں) یہ قدری فرقے سے تعلق رکھتا تھا اور یحییٰ بن معینؒ نے اس کی نقل کردہ روایت کو موضوع بھی کہا ہے۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 4 صحفه 388)۔

امام ابنِ جوزیؒ نے اس کو الضعفاء میں شامل کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی ان کے نزدیک بھی ضعیف ہے لکھتے ہیں۔

امام احمدؒ کہتے ہیں حدیث میں ضعیف اور مضطرب ہے امام رازیؒ اور امام نسائیؒ کہتے ہیں حدیث میں قوی نہیں ہے۔

(كتاب الضعفاء والمتروکمین (عربی) جلد 2 صحفه 158)۔

امام نسائیؒ بھی اس کو الضعفاء میں شامل کر کے کہتے ہیں یہ قوی نہیں ہے۔

(كتاب الضعفاء والمتروکین للنسائی (عربی) صحفه 163)۔

امام بخاریؒ بھی عبد الوہاب بن عطاء کو کتاب الضعفاء میں شامل کر کے کہتے ہیں۔

ہمارے نزدیک یہ قوی نہیں۔

(كتاب الضعفاء للبخاری (عربی) صحفه 75)۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ عبد الوہاب بن عطاء نامی راوی قوی نہیں اور اس کی بیان کردہ روایت باطل ہے اور اس سے استدلال جائز نہیں۔

سید ابنِ عباسؓ کی زبان سے سیدنا امیر معاویہؓ کی تعریف

اس روایت کے برعکس صحیح ترین روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب سیّدنا امیر معاویہؓ نے ایک رکعت وتر پڑھا اور سیدنا ابنِ عباسؓ کو اس چیز کی خبر ملی تو انہوں نے سیدنا امیر معاویہؓ کی تعریف کی اور ان کی فضیلت بیان کی۔

امام بخاریؒ نقل کرتے ہیں۔

سیدنا ابنِ عباسؓ سے کہا گیا کہ امیر المؤمنین سیدنا امیر معاویہؓ نے ایک رکعت وتر پڑھا ہے تو سیدنا ابنِ عباسؓ نے فرمایا اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ فقیہ ہیں۔

(صحیح بخاری (اردو) جلد 3 روایت 3765)۔

ایک اور مقام پر سیّدنا ابنِ عباسؓ نے اسی عمل کے بارے میں فرمایا۔

انہوں(سیّدنا امیر معاویہؓ) نے سنت پر عمل کیا۔

(مصنف ابنِ ابی شیبہ (اردو) جلد 2 روایت 6788)۔

اور سنن الکبریٰ بیہقی کی روایت کے الفاظ تمام شیعوں کی موت ہیں روایت کچھ یوں ہے۔

سیّدنا ابنِ عباسؓ کے آزاد کردہ غلام کریب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا امیر معاویہؓ کو عشاء کی نماز پڑھتے دیکھا پھر انہوں نے ایک رکعت وتر پڑھا اس سے کچھ زائد نہیں کیا میں نے سیدنا ابنِ عباسؓ کو خبر دی تو سیدنا ابنِ عباسؓ فرمانے لگے ہم میں سے کوئی سیدنا امیر معاویہؓ سے زیادہ علم والا نہیں ہے وتر ایک پانچ سات یا اس سے زائد بھی ہوسکتے ہیں۔

(سنن الکبریٰ بیہقی (اردو) جلد 3 روایت 4794)۔

ان روایات سے ثابت ہوا کہ جب سیدنا امیر معاویہؓ نے ایک رکعت وتر پڑھا تو سیدنا ابنِ عباسؓ نے یہ فرمایا کہ ہم میں سب سے زیادہ علم والے ہی سیدنا امیر معاویہؓ ہیں اس لئے یہ کہنا کہ سیدنا ابنِ عباسؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ کو گدھا کہا یہ درست نہیں اور ہم یہ ثابت کر چکے کہ یہ روایت ہی باطل ہے جس میں گدھا کہنے کے الفاظ ہیں اور اس کے برعکس اوپر بیان کردہ یہ تینوں روایات جن میں سیدنا امیر معاویہؓ کی تعریف کی گئی ہے یہ تینوں روایات صحیح و حسن ہیں۔

اب شیعوں کو بھی چاہیئے کہ سیدنا ابنِ عباسؓ کی بات کو مانتے ہوئے سیدنا امیر معاویہؓ کو فقیہ اور سیدنا ابنِ عباسؓ سے زیادہ علم والا کہیں۔