شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد مظلومیت کا عقیدہ - دفاعِ…

شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد مظلومیت کا عقیدہ

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 2

امت مسلمہ پر لازم ہے کہ وہ ان آتش پرست مجوسیوں اور ان کے سرکش قائدین سے امت کو بچانے کی پھرپور کوشش کریں اور ہر اس قول و فعل کی حقیقت کو آشکارا کریں، جس کے ذریعے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عزت و حرمت اور عقیدہ و ایمان پر طعن کیا جاتا ہے تاکہ امت مسلمہ کے عقیدہ ان کی وحدت اور ان کی شخصیت کو موردِ الزام ٹھہرایا جا سکے، جبکہ ان سب افعال کا ارتکاب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور آل بیت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ غم خواری، تعزیت اور محبت کے اظہار کی آڑ میں کیا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور آل بیت نبیﷺ کی مصیبت کا غم تو امت مسلمہ کو پہنچا ہے اور انہیں دہرا غم پہنچا ہے۔ ایک غم یہ کہ ان مقدس ہستیوں کے ساتھ نہایت گھناؤنی صورت میں غدر و خیانت کی گئی، جس کے نتیجہ میں امت مسلمہ ان مقدس ہستیوں کے بابرکت وجودوں سے محروم ہو گئی اور دوسرا غم یہ اٹھانا پڑا کہ خود آل بیت اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ناموں کو کتاب و سنت کے عقیدہ اور ان کی لغت پر بھرپور حملہ کرنے کے لیے بطور ہتھیار کے استعمال کیا جانے لگا۔ لہٰذا یہ کہنا عین حقیقت ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مصیبت کا صدمہ تو امت مسلمہ نے اٹھایا ہے۔ جبکہ اعدائے صحابہ ان کے مصائب کے نام پر تعزیت اورمظلومیت کا اظہار کرنے کا ڈھونگ رچاتے ہیں اور مظلومیت کے نام کے نعرے بلند کرتے ہیں، جن کا مقصد امت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ اس گھناؤ نے مقصد کے حصول کے لیے ان رافضی اعدائے صحابہ نے ایک مستقل حکومت کو قائم کیا ہے، جو اصحاب رسولﷺ اور حضرات تابعین کے عقیدہ و عمل کے نشانات اور آثار کو مٹانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور ’’خاکم بدہن‘‘ ان بدبختوں کی کوششوں کی کامیابیوں کے آثار بھی ظاہر ہونے لگے ہیں۔ جن میں سرفہرست کتاب و سنت اور ان کی ثقافت سے جنگ کرنا، نام نہاد بے علم و عمل مسلمانوں کو حسینیت اور مظلومیت کے ناموں پر اور نعروں کی آڑ میں کتاب و سنت کے خلاف ابھارنا اور ان کے نزدیک حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شخصیات کو مشکوک بنانا ہے۔ جیسا کہ دَورِ حاضر میں اس کے واضح آثار نظر آنے لگے ہیں۔ اس لیے علماء کی یہ خصوصی ذمہ داری بنتی ہے کہ اعدائے صحابہ کے چہروں کو بے نقاب کریں، آل بیت رسولﷺ کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کے اصلی مجرموں کو سامنے لائیں، جو آج بھی امت مسلمہ کو تباہی کے گھاٹ اتارنے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں، علماء کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کی تربیت کر کے انہیں کتاب و سنت کے حقیقی دشمنوں سے آگاہ کریں، ان کے تمام وسائل کا پردہ چاک کریں، ان کے معاونین کو بے نقاب کریں اور اعدائے صحابہ نے اسلامی ثقافت اور جغرافیہ پر جو جو ستم بھی ڈھائے ہیں، ان کے تدارک کی تدابیر اختیار کریں۔ بالخصوص ان نام نہاد، دھوکا باز، گمراہ اورمفاد پرست مسلمانوں سے امت کو خبردار کریں، جو حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم میں اور ان کے کینہ پرور قاتلوں میں برابری کرنے کی نامسعود کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

مناسب ہے کہ اس مقام پر اپنے معزز قارئین کے سامنے مظلومیت اور حسینیت کے نام پر کیے جانے والے باطل افعال اور گمراہ رسومات کی حقیقت خود رافضی مآخذ و مصادر سے کھول کر بیان کر دی جائے، تاکہ امت مسلمہ کو ان افعال کی گمراہی اور خطرناکی کا علم دلیل کے ساتھ حاصل ہو اور وہ جان لیں کہ ان باطل رسومات کی آڑ میں دراصل حضرات صحابہ کرام اور بالخصوص آل بیت رسولﷺ کے عقیدہ و عمل کو باطل قرار دینے کی گھناؤنی سازش کی جا رہی ہے، جو صدیوں سے جاری ہے تاکہ امت مسلمہ خوابِ غفلت سے بیدار ہو۔


صفحہ 2 از 2