معاویہ بن یزید کا سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں خطبہ
محمد ذوالقرنینمعاویہ بن یزید کا سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں خطبہ
شیعہ اکثر سیدنا امیر معاویہؓ کو اہلِ بیت کا دشمن اور گناہ گار ثابت کرنے کے لئے معاویہ بن یزید بن معاویہ (سیدنا امیر معاویہؓ کے پوتے) کی طرف منسوب ایک خطبے کا سہارا لیتے ہیں۔
یہ واقعہ جمال الدین یوسف تغری نے ابوحفص الفلاس کے حوالے سے بلا سند نقل کیا ہے۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ:
ابوحفص الفلاس کہتا ہے جب معاویہ بن یزید خلیفہ بنا تو ممبر پر آیا اور کہا یہ خلافت اللہ کی رسی ہے اور میرے دادا سیدنا امیر معاویہؓ نے اس آدمی سے خلافت کا تنازع کیا جو اس سے خلافت کا زیادہ مستحق تھا یعنی سیدنا علیؓ اور جو سلوک وہ تم سے کرتا رہا ہے تم اس کو جانتے ہو حتیٰ کہ اس کی موت آگئی اور وہ اپنی قبر میں اپنے گناہوں کا قیدی ہوگیا۔
(النجوم الزاهرة (عربی) جلد 1 صحفہ 164)۔
اور یہ واقعہ امام ابنِ حجر ہیتمیؒ نے بھی اپنی کتاب الصواعق المحرقہ (اردو) صحفہ 574 پر نقل کیا ہے۔
واقعہ کی حقیقت: یہ واقعہ ابوحفص الفلاس نے بلاسند بیان کیا ہے۔
اور ابوحفص الفلاس نے معاویہ بن یزید کا زمانہ نہیں پایا بلکہ معاویہ بن یزید کی وفات کے سو سال بعد پیدا ہوا۔
جیسا کہ امام ابنِ کثیرؒ نے لکھا کہ:
14 ربیع الاول 64 ہجری کو معاویہ بن یزید کی بیعت کی گئی اس کی مدت زیادہ نہیں ہوئی بعض کا قول ہے اس نے چالیس دن حکومت کی بعض کے نزدیک بیس دن اور بعض کے نزدیک دو ماہ یہ اپنی حکومت کے زمانے میں مریض تھا اور لوگوں کے پاس نہیں گیا معاویہ بن یزید 21 سال کی عمر میں وفات پاگیا بعض کے نزدیک 23 سال بعض کے نزدیک 19 سال اور بعض کے نزدیک 20 سال کی عمر میں فوت ہوگیا۔
(البدایہ والنہایہ (اردو) جلد 8 صحفہ 300)۔
اس سے معلوم ہوا کہ معایہ بن یزید نے 64 ہجری میں حکومت سنبھالی اور اُسی سال تقریباً دو ماہ حکومت کر کے فوت ہوگیا۔
اور ابوحفص الفلاس سو سال بعد سنہ 164 ہجری میں پیدا ہوا۔
جیسا کہ امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:
ابوحفص الفلاس عمرو بن علی بن بحر بن كنيز ولد سنة نيف وستين ومئة سنہ 160 ہجری میں پیدا ہوا اور مات فی ذی القعدة سنة تسع واربعين ومئتین سنہ 249 ہجری میں فوت ہوا۔
(سیر اعلام النبلاء (عربی) جلد 11 صحفہ 372)۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابوحفص الفلاس نے معاویہ بن یزید کا زمانہ ہی نہیں پایا اور نہ ہی اس روایت کی کوئی سند کسی دوسری کتاب میں موجود ہے تو جب ابوحفص نے معاویہ بن یزید کو دیکھا ہی نہیں تو اس کی بیان کردہ روایت کس طرح قابلِ قبول ہوسکتی ہے؟
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی باطل ہے اور اس سے استدلال جائز نہیں۔