حسینی رسومات ائمہ کے عہد میں نہ تھے
حامد محمد خلیفہ عماناس بات کا اقرار خود اہل تشیع کے علماء کو بھی ہے کہ ماتم، تعزیہ، سینہ کوبی، زنجیر زنی وغیرہ کے شعائر کا خود ائمہ کے دور میں وجود تک نہ تھا۔ چنانچہ اہل تشیع کا مشہور عالم نجم الدین ابو القاسم المعروف بہ ’’المحقق الحلی‘‘ کہتا ہے کہ
’’تعزیہ اٹھانا اور جلوس نکالنا دور صحابہ رضی اللہ عنہم میں موجود نہ تھا اورنہ ائمہ کے دور میں اس کا نام و نشان اور تذکرہ ہی ملتا ہے، بلاشبہ تعزیہ بنانا اور جلوس نکالنا اسلاف کی سنت کے خلاف ہے۔‘‘ (المعتبر: صفحہ 94)
ماتم، حسینی شعائر وغیرہ بدعت ہیں جن کا ترک واجب ہے، روافض کے شیخ، آیت اللہ العظمی جواد التبریزی بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں۔ چنانچہ جب شیخ سے ان شعائر و رسومات کی بابت سوال کیا گیا کہ ائمہ کے ادوار میں یہ شعائر نہیں تھے تو ان کا حکم کیا ہے؟ تو موصوف اس کا یہ جواب دیتے ہیں:
’’اہل تشیع ائمہ کے ادوار میں تقیہ کر کے جیتے تھے۔ ائمہ کے ادوار میں ان شعائر کا عدم وجود ان کے عدمِ امکان کی وجہ سے اس بات کی دلیل نہیں کہ دور حاضر میں یہ شعائر غیر مشروع ہیں۔ اگر شیعہ حضرات کو اس دور میں بھی وہ وسائل اور امکانیات میسر آتے ہوتے، جو ان کو آج اس دور میں میسر ہیں کہ وہ ان شعائر کا اظہار اور ان کو قائم کر سکتے ہیں، تو ائمہ کے ادوار کے شیعہ بھی ان شعائر پر ضرور عمل کرتے جیسا کہ آج ہم کر رہے ہیں، جیسے غم کے اظہار کے لیے حسینیات کے بلکہ ہر گھر کے دروازے پر کالے جھنڈے نصب کرنا وغیرہ۔‘‘ (ضمیمہ جلد دوم ’’صراط النجاۃ‘‘ للخوئی: صفحہ 562 ط 1417 ہـ)
ایسا ہی اعتراف علامہ آیت اللہ عظمی علی الحسینی الفانی الاصفہانی (آگے عباس قمی اور خونساری کی تصریحات بھی آ جاتی ہیں کہ یہ معز الدولہ بویہی تھا، جس نے سب سے پہلے لوگوں کو اس بات کا حکم دیا تھا کہ وہ گلی کوچوں اور بازاروں میں ماتمی جلوس نکالیں اور نوحہ زنی اور سینہ کوبی کریں) بھی کرتا ہے۔ چنانچہ وہ ایک اعتراض ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے:
’’بے شک یہ شعائر و رسومات ائمہ معصومین کے ادوار میں نہ تھے، حالانکہ حسین کے غم کے زیادہ حق دار وہی تھے کہ وہی تو اہل مصیبت تھے۔ کسی حدیث میں یہ مذکور نہیں کہ ائمہ معصومین میں سے کسی نے ان رسومات کا حکم دیا ہو۔ ان امور کا آغاز اہل تشیع نے کیا، انہوں نے اس بدعت کی بنیاد رکھ کر اس کو مذہبی شعائر کا نام دیا۔ جبکہ ایک حدیث میں ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں جائے گی۔‘‘
فانی اصفہانی اس کا یہ جواب دیتا ہے:
’’جواب بالکل واضح ہے کہ ہر جدید چیز بدعت نہیں ہوتی۔ مبغوض بدعت وہ ہے، جس کو دین میں نیا حکم بنا کر پیش کیا جائے کہ یہ الٰہی تشریع ہے، ایسی ہی بدعت کی بابت روایات میں مذمت آتی ہے اور یہ بات بدیہی ہے کہ حسینی شعائر کی حیثیت یہ نہیں اور ایسا کیوں نہ ہو کہ رونے کا تو شریعت میں حکم آیا ہے۔ (احمد بن فہد الحلی ’’عدۃ الداعی: صفحہ 169‘‘ پر امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتا ہے، وہ فرماتے ہیں: ’’تین آنکھوں کے سوا روزِ قیامت ہر آنکھ رو رہی ہو گی: (1) ایک وہ آنکھ جو محارم کے دیکھنے سے پست رہے۔ (2) دوسری وہ آنکھ جو رب کی طاعت میں جاگتی رہے۔ (3) تیسری وہ آنکھ جو رات میں خوفِ خدا سے روتی ہو۔ رونا اللہ کے خوف سے ہوتا ہے ناکہ اس طرح جس طرح حسینیات اور ماتمی جلوسوں اور مجلسوں میں ہوتا ہے) یہ ایک تولیدی فعل ہے جس کا ایک سبب ضرور ہوتا ہے۔ یا تو وہ سبب قولی ہوتا ہے، جیسے مصائب کو ذکر کرنا اور مرثیہ پڑھنا۔ یا پھر اس کا سبب فعلی ہوتا ہے، جیسا کہ شبیہ اور تعزیہ۔ اس لیے ایک فقیہ کے ذمہ لازم ہے کہ وہ ان شعائر کو جائز قرار دے کیونکہ ان شعائر پر وہ رونا مرتب ہوتا ہے، جو راجح ہے جیسا کہ تعزیہ بنانا اور اٹھانا کہ یہ ایک قصدی عنوان ہے۔ اس کا نکالنا ضروری ہے۔ یہ عزاداری کا عنوان ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف قوموں میں تعزیت اور عزاداری کے عناوین اور صورتیں مختلف ہیں۔ عزاداری کا جو طریقہ اہل تشیع کے ہاں رائج ہے، وہ شرعی ممنوعہ بدعت کے زمرے میں نہیں آتا۔ لہٰذا جس کو بھی تعزیت اور عزاداری کے ان رائج طریقوں کی مشروعیت پر شک ہے، اسے پہلے بدعت کا مفہوم سمجھنا چاہیے، پھر جس پر چاہے اس بدعت کی تطبیق کرے۔‘‘ (مقتل الحسین لمرتضی عباد: صفحہ 192 طبع چہارم)
حسن مغنیہ لکھتا ہے:
’’چوتھی صدی ہجری میں جب بویہی دور آیا، تو انہوں نے بغداد، عراق، خراسان، ماوراء النہر اور ساری دنیا میں ان رسومات کی بنیاد رکھی۔ اب سیاہ پرچم ہر طرف لہرائے جانے لگے اور لوگوں نے ماتمی جلوس نکالنے شروع کیے جن میں اہل تشیع سینہ کوبی کرتے تھے۔ اسی طرح حمدانی کے دور میں حلب اور موصل کا حال بھی تھا۔ پھر فاطمیوں کا دور آیا۔ ان کے دور کی رسومات بغداد کی رسومات کے تابع تھیں۔ فاطمیوں نے ان اصول پر اکتفا کیا، جو آج تمام اسلامی اور عربی بلاد و امصار میں پھیلی ہوئی ہیں بالخصوص عراق، ایران، ہندوستان (پاکستان)، شام اور حجاز۔ چنانچہ ماتمی جلوسوں کا انعقاد کیا جاتا، نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کی جاتی اور آنسو بہائے جاتے۔ آج ان حسینی شعائر کو قائم کرنا دین کی خدمت اور اعلانِ حقیقت کا مظہر بن چکا ہے۔‘‘ (آداب المنابر: صفحہ 192 یہ عبارت بتلاتی ہے کہ بویہیین اور فاطمیوں کے ادوار سے قبل دین کی خدمت اور اعلانِ حقیقت کا کوئی مظہر نہ تھا۔ پھر یہ لوگ آئے جو ائمہ معصومین نہ تھے اور ان لوگوں نے ان رسومات کی بنیاد رکھ کر ان کو خدمت حق کا ایک مظہر قرار دیا)
شیعہ امام اور شہید آیت اللہ حسن شیرازی ان شعائر و رسومات کی تاریخ اور ادوار کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ ظلم ہے کہ اہل تشیع کو ان ادوار سے قبل ان رسومات کے ادا کرنے کی اجازت نہ تھی اور نہ وہ اس پر قادر ہی تھے۔ کیونکہ شیعہ بنو عباس اور بنو امیہ کے ظلم و ستم کے ہاتھوں کمزور تھے۔ ان پر سال کے موسموں کی طرح گرم سرد موسم آتے رہتے تھے۔ چنانچہ حالات کے اعتبار سے ان کی تعبیرات مختلف رہی ہیں۔
(الشعائر الحسینیۃ للشیراز: صفحہ 197-198)
آگے موصوف شیرازی اہل تشیع پر آنے والے پانچ ادوار کا ذکر کرتے ہیں:
پہلا دَور:
یہ ائمہ کا دور ہے۔ شیرازی لکھتا ہے:
’’اس دور میں یہ لوگ کسی ایک کے گھر میں جمع ہو کر اشعار پڑھتے اور اہل بیت کے پرسا میں احادیث پڑھ کر سناتے تھے۔ جبکہ دوسرے یعنی سامعین زار و قطار روتے تھے، لیکن یہ سب کچھ کمال راز داری اور تقیہ کے ساتھ ہوتا تھا کہ کہیں ظالم حکومتیں ان پر غضب ناک ہو کر ان کے سر قلم نہ کر دیں۔‘‘ (الشعائر الحسینیۃ: صفحہ 98)
لیکن موصوف شیرازی کا یہ قول ردّ ہے کیونکہ موصوف نے اپنی اس عبارت کا کوئی حوالہ ذکر نہیں کیا۔
دوسرا دَور:
یہ بنو عباس کا دور ہے۔ شیرازی اس دور کا خوب شکویٰ کرتا ہے اور کہتا ہے:
’’چنانچہ امام شہید پر نوحہ کی مجالس میں وسعت آئی اور منبروں پر مرثیہ خوانی علی الاعلان ہونے لگی۔ البتہ یہ سب کچھ ایک محدود ماحول میں ہوتا تھا، جو تحریک تشیّع سے جدا تھا۔‘‘ (ایضاً)
میں کہتا ہوں کہ موصوف کا یہ قول بھی ردّ ہے، کیونکہ وہ خود اس بات کا اقرار کر رہا ہے کہ یہ نوحہ خوانی وغیرہ تحریک تشیّع سے جدا تھی، تب پھر اس بات سے استشہاد اور استدلال چہ معنی دارد؟!!
تیسرا دَور:
موصوف شیرازی لکھتا ہے:
’’یہ بویہیین، دیالمہ اور فاطمیوں کا دور ہے۔ بالخصوص معز الدولہ دیلمی کا دور جنہوں نے دہشت گردی کا شیوہ اختیار کیا، کھل کر سبائی طاقت کا مظاہرہ کیا اور اہل تشیع کو ماتمی اور نوحہ و مرثیہ خوانی کی مجالس گھروں سے نکال کر گلی کوچوں اور سڑکوں پر لے آنے کی کھلی اجازت دی۔ اب دس محرم کو حکومتی سطح پر سوگ منایا جانے لگا۔ چنانچہ اس وقت دکانیں بند کر دی جاتیں اور ایک منظم طریق سے مختلف گلیوں، راستوں اور کھلے میدانوں میں ماتمی جلوس نکالے جاتے تھے۔‘‘ (الشعائر الحسینیۃ: صفحہ 99)
چوتھا دَور:
یہ صفویوں اور بالخصوص علامہ مجلسی کا دور ہے، جس نے اہل تشیع کو اپنے تمام شعائر اور رسوم آزادی کے ساتھ ادا کرنے کی زبردست ترغیب دی۔ اس دَور میں واقعۂ کربلا کے المیہ کو ڈرامائی انداز میں نقل کر کے دکھانے کی بدعت کا بھی آغاز کیا گیا۔ (الشعائر الحسینیۃ: صفحہ 99)
پانچواں دَور:
موصوف شیرازی لکھتا ہے:
’’یہ متاخرین فقہاء کا دور ہے۔ جن میں سرفہرست شیخ مرتضی انصاری اور آیت اللہ دربندی کے نام آتے ہیں۔ اس دور میں سینہ کوبی اور زنجیر زنی کے جلوسوں کو کثرت کے ساتھ نکالا جاتا تھا۔‘‘ (ایضاً)
اس کے بعد شیرازی بھی تبریزی، اصفہانی اور فانی کی طرح اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ
’’اگر ان لوگوں کو ائمہ کے ادوار میں آزادی میسر آئی ہوتی تو وہ ان شعائر کو آج سے کہیں زیادہ قائم کرنے والے ہوتے، لیکن انہیں ان اَدوار میں آزادی نصیب نہ ہو سکی، گو کہ اہل تشیع اس معاملہ میں ہر دَور میں بے حد حساس رہے ہیں۔‘‘ (الشعائر الحسینیۃ: صفحہ 100)
شیرازی کا یہ قول کہ ’’یہ لوگ ان شعائر کو قائم کرتے جو انہوں نے آج قائم کر رکھے ہیں ‘‘ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ رسومات ان اَدوار میں ناپید تھیں۔
معلوم ہوا کہ ان شعائر و رسومات کا نہ تو نبی کریمﷺ نے حکم دیا اور نہ یہ ائمہ کے اَدوار میں تھیں، تب پھر یہ ان بدعات میں سے ہیں، جن سے نبی کریمﷺ نے یہ فرما کر ڈرایا ہے:
’’نئی نئی باتوں سے بچو کہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں جائے گی۔‘‘
موصوف شیعی مصنف اور اسی طرح ہر شیعی اہل علم کو اس بات کا ادراک حاصل کرنا چاہیے، وہ ان موجودہ رسومات پر نگاہِ غور ڈالے اور ان ماتموں پر پابندی کا ازسر نو جائزہ لے۔
مذکورہ مضمون کو ختم کرنے سے قبل ہم محمد حسین فضل اللہ کے دئیے گئے ایک جواب کو قارئین کی نذرِ نظر کرتے ہیں۔ چنانچہ جب موصوف سے پوچھا گیا کہ حسینی ماتم کی بنیاد کس نے رکھی تھی، تو موصوف اس کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے:
’’حسینی ماتم کی بنیاد ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم نے رکھی تھی۔ یہ حضرات ان مجالس کا اپنے گھروں میں انعقاد کرتے تھے اور ان لوگوں کو بلواتے، جو رقت آمیز طریقہ سے حسین علیہ السلام پر آنے والی مصیبت کو اشعار کی شکل میں ذکر کرتے تھے۔‘‘ (الندوۃ: جلد، 5 صفحہ 509)
اور ایک موقعہ پر یہ جواب دیتے ہیں:
’’حسینیات کی بنیاد مساجد کے احترام کے تناظر میں ہے۔ لوگوں کو عزاء حسین علیہ السلام کے سننے اور وعظ و ارشاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں جنبی اور حائض بھی ہوتے ہیں۔ اب چونکہ مساجد کو نجس کرنا جائز نہیں اس لیے حسینیات کو مساجد کے پہلو میں منعقد کیا جاتا تھا۔ یہ سوچ کر ایسا نہیں کیا گیا کہ یہ مساجد میں مجالس کے انعقاد کا بدل ہے۔ بلکہ ایک تو اس میں مساجد کی حمایت و حفاظت ہے، دوسرے کھلی جگہ کا میسر آنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آ کر حسینی نوحوں اور ذکر کو سن سکیں اور چاہے مساجد ناپاک بھی ہو جاتی ہوں۔ ہم نہیں جانتے کہ حسینیات کی ابتدا کب سے ہوئی ہے۔‘‘ (الندوۃ: جلد، 4 صفحہ 478-479)
ذرا موصوف کی قلابازیوں کا نظارہ تو کیجیے کہ ابتدا میں حسینیات کے آغاز کو ائمہ اہل بیت کے سر دھرتے ہیں، جبکہ آگے چل کر صاف مکر جاتے ہیں اور دو باتوں کو ان حسینی رسومات کی تاسیس کی وجہ قرار دیتے ہیں:
(1) مساجد کا احترام
(2) جگہ کی وسعت
جبکہ اخیر میں چل کر صاف کہہ جاتے ہیں کہ ان رسومات کی بنیاد کس نے رکھی، ہمیں معلوم نہیں۔