Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا امیر معاویہؓ کے ایک وفد کا یا رسول الله کہنا

  محمد ذوالقرنین

سیدنا امیر معاویہؓ کے ایک وفد کا یا رسول الله کہنا

آج کل کے کچھ نام نہاد شیعہ جو خود کو کافی علمی کتابی سمجھتے ہیں وہ سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں تنقید کرتے ہوئے ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جس پر ان کا دعویٰ ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے معاویہ رسول اللّٰہ کلمہ پڑھوایا ہوا ہے (یعنی یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے خود کو نبی کہلوایا ) (معاذ اللّٰه)۔

دلیل کے طور پر تاریخ ابنِ کثیر (اردو) جلد 8 صحفہ 184 کا حوالہ دیتے ہیں جس پر ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔

جبکہ تاریخ ابنِ کثیر میں یہ واقعہ تاریخ طبری کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے اور اس واقعہ کی سند بھی تاریخ طبری میں موجود ہے اس لئے ہم یہاں اس واقعہ کو تاریخ طبری کے حوالے سے بیان کر کے اس کی حقیقت بیان کریں گے دونوں کُتب میں اس واقعے کے الفاظ ایک ہی ہیں۔

علامہ طبری لکھتے ہیں۔

 سند:حدثنی عبداللّٰه بن احمد قال حدثنی ابی قال حدثنی سليمان قال قرات على عبداللّٰه عن فليح قال اخبرت۔

 متن: فلیح کہتا ہے مجھے خبر پہنچی کہ سیدنا عمرو بن العاصؓ جو اہلِ مصر کا ایک وفد لے کر سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس گئے تو سیدنا عمروؓ نے ان سے کہا جب تم سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس جاؤ تو ان کو خلافت کا سلام (السلام علیک یا امیر المؤمنین) نہ کہنا اس سے ان کی نظر میں تمہاری عظمت اور بھی بڑھ جائے گی جب وہ سب سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس پہنچے تو سیدنا امیر معاویہؓ نے اپنے حجاب (دروازے پر کھڑے ہونے والے نوکر/دربان) سے کہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمروؓ نے ان کے نزدیک میرے رتبے کو کم کر دیا ہے جب یہ آئیں تو ان کو خوب ستانا پہلا شخص جو سامنے آیا وہ ابنِ خیاط تھا جس کو نوکروں نے بہت ستایا تھا اس نے داخل ہوتے ہی (بے حواسی میں) کہا "السلام علیک یارسول اللّٰہ" اور اسی کو دیکھتے ہوئے باقی سب نے بھی ایسا ہی کہا پھر جب سیدنا عمروؓ ان کے پاس آئے تو فرمایا اللّٰه کی لعنت ہو تم پر میں نے تم کو سلام خلافت کہنے سے منع کیا تھا اور تم نے ان کو سلام نبوت کہا ہے۔

(تاریخ طبری (عربی) جلد 5 صحفه 330،331)۔

اس واقعہ کو بیان کر کے نام نہاد علمی کتابی شیعہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ معاویہ رسول اللّٰہ کلمہ "پڑھوایا گیا" ہے۔

اس واقعہ کی سند پر تو ہم نیچے کلام کریں گے ہی لیکن اس سے پہلے آپ خود اس بات کا فیصلہ کریں کہ اس واقعہ میں کلمہ پڑھوانے کا ذکر کہاں پر ہے؟۔

واقعہ میں الفاظ یہ ہیں کہ ابنِ خیاط جب دربار میں داخل ہوا تو (بے حواسی میں کیونکہ سپاہیوں نے اس کو بہت ستایا تھا) داخل ہوتے ہی اس نے کہا السلام علیک یارسول اللّٰہ پھر اسی کو دیکھتے ہوئے وفد کے دوسرے آدمیوں نے بھی ایسے ہی کہا پھر جب سیدنا عمرو بن العاصؓ کو پتہ چلا تو انہوں نے کہا کہ لعنت ہو تم پر میں نے تم کو سلام خلافت کہنے سے منع کیا تھا اور تم نے ان کو سلام نبوت کہہ دیا۔

اگر صرف ان الفاظ پر ہی غور کر لیا جائے تو ان شیعوں کے جھوٹ کا پردہ فاش ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ محض سیدنا امیر معاویہؓ کے بغض میں جھوٹ بولنے سے بھی نہیں کتراتے۔ 

اس واقعہ کی حقیقت ملاحظہ فرمائیں۔

اسناد کا تعاقب: اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں۔

 پہلی علت: اس روایت کی پہلی علت اس روایت کا راوی فلیح ہے۔

یہ تبع تابعین میں سے ہے اور اس نے سیدنا امیر معاویہؓ کا زمانہ بھی نہیں پایا اس کے حالات ملاحظہ فرمائیں۔

امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں لکھتے ہیں۔

ساتویں طبقہ کا صدوق کثیر الخطاء راوی ہے 168 ہجری میں فوت ہوا۔

( تقريب التہذيب (اردو) جلد 2 صحفہ 21)۔

اور امام ابنِ حجرؒ اپنے طبقات کی تقسیم میں ساتویں طبقہ کے بارے میں لکھتے ہیں۔

کبار اتباع تابعین

(تقريب التہذيب (اردو) جلد 1 صحفہ 13)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فلیح تبع تابعین میں سے ہے اور اس نے کسی صحابی کو نہیں دیکھا۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

امام یحییٰ بن معینؒ امام ابوحاتمؒ اور امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ قوی نہیں ہے ایک اور مقام پر امام یحییٰؒ فرماتے ہیں یہ ضعیف ہے اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا اور یحییٰ بن معینؒ نے ابو کامل کے حوالے سے اس پر جرح نقل کی ہے کہ ہم اس پر (احادیث ایجاد کرنے) کا الزام عائد کرتے ہیں کیونکہ یہ نبیﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی کرتا تھا امام ابو داؤدؒ کہتے ہیں فلیح سے استدلال نہیں کیا جائے گا (پھر امام ذھبیؒ کہتے ہیں) اس کا انتقال 168 ہجری میں ہوا۔

(میزانُ الاعتدال (اردو) جلد 5 صحفه 425)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی تابعی نہیں تبع تابعی ہے اور اس پر کثیر تعداد میں ضعیف ہونے کی جروحات ہیں اور گستاخ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جرح بھی موجود ہے اس لئے اس کی روایت سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔

 دوسری علت: اس روایت میں ایک مجہول راوی ہے کیونکہ فلیح تو تابعی نہیں اور وہ کہہ رہا ہے کہ مجھے خبر دی گئی فليح قال اخبرت اور یہ بیان نہیں کیاگیا کہ وہ کون ہے جس نے فلیح کو خبر دی کیونکہ فلیح تو تابعی نہیں اور اس نے سیدنا امیر معاویہؓ کا زمانہ نہیں پایا اور جس نے اس کو خبر دی آیا وہ تابعی تھا یا نہیں؟ ثقہ تھا یا نہیں؟

تو ایسی روایت جس کی سند ہی منقطع ہے اور جس کے راوی پر حدیث ایجاد کرنے اور گستاخِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہونے کی جروحات موجود ہوں اس کی روایت سے کیسے استدلال کیا جا سکتا ہے؟

پس ثابت ہوا کہ یہ روایت بھی باطل و بے اصل ہے اور اس سے کسی طرح کا استدلال جائز نہیں۔