Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کی بدعت کے موجد اہل تشیع ہیں

  حامد محمد خلیفہ عمان

اہل تشیع کی ماتمی رسومات پر خود ایک صاحب قلم و قرطاس اور زبردست شیعہ مبلغ داعی عبد الحسین شرف الموسوی نے ’’المجالس الفاخرۃ فی ماتم العترۃ الطاہرۃ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے اور اپنی قدیم عادت کے مطابق موصوف نے بدعات و خرافات کے دفاع کی زبردست کوشش کی ہے۔

چنانچہ وہ ماتم کے جواز کا ثبوت نبی کریمﷺ کے اپنے لخت جگر سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات پر آنسو بہانے سے دینے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ (المجالس الفاخرۃ: صفحہ 11 و ما بعدہا)

ہم مانتے ہیں کہ نبی کریمﷺ سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات پر روئے۔ لیکن کیا وہ سب کچھ بھی کیا جو آج بلکہ گزشتہ کئی صدیوں سے ماتم حسینی کے نام پر ہوتا آرہا ہے؟!!

کیا نبی کریمﷺ نے اپنے عزیز چچا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت پر بھی ایسا کچھ کیا، جو آج یہ ذاکر رو رو کر اور دوسروں کو رُلانے کے لیے کرتے ہیں؟!!

کیا نبی کریمﷺ بھی کسی مرنے والے کے ذکر کے وقت اسی طرح شیریں شربت تقسیم کیا کرتے تھے، جیسے کسی کی موت کے ذکر کے وقت یہ لوگ آج کرتے ہیں؟!!

پھر موصوف عبدالحسین نے قیاس سے کام کیوں لیا، جو ان کے مذہب میں حرام ہے؟!

موصوف لکھتا ہے:

’’ائمہ کی سیرت مرثیہ پڑھنے اور نوحہ کہنے سے معمور ہے اور انہوں نے نسل در نسل اپنے اولیاء کو حسین کے غم میں نوحہ کرنے اور ماتم کرنے کی وصیت کی ہے۔‘‘ (المجالس الفاخرۃ: صفحہ 17)

موصوف نوحہ خوانی اور سینہ کوبی وغیرہ پر اعتراض کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے لکھتا ہے:

’’اگر یہ ملامت گر احمق جان لیتا کہ ہمیں آلِ بیت کا کتنا غم ہے اور ہم ان کے کتنے مددگار ہیں اور ہم نے ان کے دشمنوں سے کیسی گمبھیر جنگ چھیڑ رکھی ہے، تو اس کی گردن ہمارے اس بے پناہ حزن و ملال کے آگے جھک جاتی۔ اس نوحہ خوانی اور مرثیہ خوانی کی حکمت جان کر اس کا سر خم ہو جاتا اور ان اسرار میں آ کر پناہ لیتا جو ہم صدیوں سے چھپائے آتے ہیں۔‘‘ (المجالس الفاخرۃ: صفحہ 26-27)

شیعی عالم دکتور ہادی فضل اللہ نوحہ، ماتم اور سینہ کوبی وغیرہ کی بابت شیعہ علماء کے موقف کی دو قسمیں بیان کرتا ہے:

 (1) مدرسہ اصلاحیہ

یہ مجددین کا فریق ہے جن میں سر فہرست محسن الامین کا نام آتا ہے، ان کے نزدیک یہ حسینی رسومات حرام اور بدعت ہیں، کیونکہ ان میں جانوں کے ضیاع کا اندیشہ ہے۔ جیسا کہ زنجیر زنی کرنے والے خود اپنا بے جا خون بہاتے ہیں اور بسا اوقات ہلاک بھی ہو جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک واقعہ کربلا کا ڈرامہ بنا کر دکھانا حرام ہے۔ (رائد الفکر الاصلاحی: صفحہ 137)

 (2) مدرسہ محافظہ

یہ محافظین کا فریق ہے، جن میں سرفہرست عبدالحسین صادق کا نام آتا ہے۔ اس مدرسہ (سکول آف تھاٹ) کا مرکزی خیال یہ ہے کہ جب تک کسی کام کے حرام ہونے کی نص نہ آ جائے، تمہارے لیے ہر بات مباح ہے چاہے، وہ ایذا اور اذیً تک ہی جا پہنچائے۔

دوسرے ان کے نزدیک مدرسہ اصلاحیہ نے جن جن باتوں کو حرام قرار دیا ہے، ان میں سے کوئی بات بھی حرام نہیں۔ (رائد الفکر الاصلاحی: صفحہ 138 حاشیہ)

پھر ہادی فضل اللہ عبدالحسین موسوی کے مدرسہ محافظہ کے نظریات کے درپے ہوتے ہوئے لکھتا ہے:

’’ہمارے مفکر عبدالحسین کہتے ہیں حسینی ماتم کے جملہ مظاہر حرام نہیں، کیونکہ شرعی قاعدہ ہے کہ اشیا میں اصل اباحت ہے ناکہ حرمت۔ چنانچہ وہ مدرسہ اصلاحیہ کی طرح حسینی ماتم کے مظاہر کو حرام قرار نہیں دیتے۔‘‘ (رائد الفکر الاصلاحی: صفحہ 137)

حسن مغنیہ لکھتا ہے:

’’دس محرم آتا ہے، تو عجب حال ہو جاتا ہے عاملیہ کی مساجد، حسینی مجالس، گلی کوچے اور بازار سیاہ پرچموں سے ڈھک جاتے ہیں، ہر طرف آہوں سسکیوں اور گریہ و زاری کا بازار گرم ہوتا ہے، در و دیوار پر غم کی پرچھائیاں نظر آتی ہیں، واقعہ کربلا کو سنا سنا کر ماحول اس قدر غمگین و حزین بنا دیا جاتا ہے کہ چہرے افسردہ، دل رنجیدہ، سینے آزردہ، جی گھٹے ہوئے اور فضا ازحد مغموم ہوتی ہے۔ ہر طرف ہائے ہائے کی پکار ہوتی ہے۔ جس سے دل زخمی اور سینے چھلنی ہوتے ہیں۔‘‘ (آداب المنابر: صفحہ 181)

ایک اور جگہ مغنیہ لکھتا ہے:

’’دس محرم کی صبح آٹھ بجے سے ہی واقعہ کربلا کی تمثیلی شکل دکھلانے کو نبطی نکل آتے ہیں اور ہزاروں لوگوں کی بھیڑ لگ جاتی ہے۔ واقعہ کربلا کی ڈرامائی عکاسی کرنے میں نبطیوں کے بڑے بوڑھے اور بچے عورتیں سب شریک ہوتے ہیں۔ یہ ڈرامہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہتا ہے۔ لمحہ بہ لمحہ بھیڑ بڑھتی جاتی ہے۔ واقعہ طف کے ناظرین کی تعداد پچاس ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔ جب یہ لوگ لوٹتے ہیں، تو ان کے سینے کھلے اور ننگے ہوتے ہیں۔ جن کو بے تحاشا پیٹ رہے ہوتے ہیں، جبکہ ہاتھوں میں خنجر، تلواریں اور زنجیریں ہوتی ہیں، چنانچہ خنجروں اور تلواروں کو تو اپنے سروں پر جب کہ دھاری دار زنجیروں کو اپنی پیٹھوں پر مارتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس قدر جذباتی انداز میں کیا جاتا ہے کہ دل مارے غم کے پگھل پگھل جاتے ہیں۔‘‘ (آداب المنابر: صفحہ 176)

اہل تشیع کا خطیب بے بدل دکتور احمد وائلی زنجیر زنی اور سینہ کوبی کی بابت سوال کے جواب میں لکھتا ہے:

’’اس باب میں گزشتہ علماء اپنی رائے دے چکے ہیں کہ اگر تو یہ ضربیں جان لیوا ہیں، تو ایسا کرنا حرام ہے اور اگر یہ ضربیں جان لیوا نہیں تو حرام نہیں، بلکہ یہ حب حسین رضی اللہ عنہ کی ایک وجدانی تعبیر ہے۔‘‘ (مجلۃ مرآۃ الامۃ الکویتیۃ، عدد: 1073، 16 جون 1997ء)

ایسا ہی ملتا جلتا شیعی مصنف فتویٰ عبدالہادی عبدالحمید صالح کا بھی ہے کہ 

’’اگر تو یہ زنجیر زنی وغیرہ ہلاکت آفرین ہو تو حرام ہے وگرنہ جائز ہے۔ موصوف اس زنجیر زنی کو دل کا ایک فطری جذبہ قرار دیتے ہیں۔‘‘ (تعال نتفاہم: صفحہ 61)

شیخ الشیعہ مہدی محمد سویج لکھتا ہے:

’’واقعہ کربلا پر نوحہ خوانی، سینہ کوبی اور زنجیر زنی کرنے والے دراصل ایک طرف اپنے دل کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں، تو دوسری طرف آل بیت سے اپنی سچی محبت جتلاتے ہیں۔ ان کا منہ پیٹنا اور سینہ کوبی کرنا ظالموں پر غیض و غضب کے اظہار کے لیے ہوتا ہے، کیونکہ کوئی زمانہ یزید اور ابن زیاد سے خالی نہیں ہوتا اور ہر زمانہ کے مظلوم اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی فریاد اپنا منہ پیٹ کر کرتے ہیں۔‘‘ (مائۃ مسئلۃ مہمۃ حول الشیعۃ: صفحہ 168-169)

اہل تشیع کا استاذِ محقق ’’طالب خرسان‘‘ لکھتا ہے:

’’ایسے ماتمی مظاہرے تمام بلادِ اسلامیہ میں حسین اور ان کے ساتھ شہید ہونے والوں پر غم کے اظہار کے لیے قائم کیے جاتے ہیں۔‘‘ (ثورۃ الطف: صفحہ 75)

شیخ الشیعہ دکتور عبد علی محمد حبیل اپنے شیخ حسن دمستانی سے نقل کرتے ہیں کہ

’’حسین پر نوحہ کرنا فرضِ عین ہے۔‘‘ (ملحۃ الطف: صفحہ 15)

علی خامنائی لکھتا ہے:

’’چند امور ایسے ہیں، جو لوگوں کو اللہ کے قریب کرتے ہیں، جن پر کاربند رہنے سے وہ اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہ سکتے ہیں، ان امور میں سے چند مراسم عزاداری ہیں۔ ہمارے امام خمینی نے ہمیں اس بات کی وصیت کی ہے کہ ہم محرم کے روایتی عزاداری کے زمانہ میں حسینی مجالس میں شریک ہوا کریں، امام حسین پر نوحہ اور گریہ و زاری کیا کریں، جلوسوں میں سینہ کوبی کیا کریں۔ یہ وہ امور ہیں جو اہل بیت کے حق میں ہمارے جذبات کو اور زیادہ انگیخت کرتے ہیں۔ انہی مراسم میں سے سر اور سینوں کا پیٹنا بھی داخل ہے۔‘‘ (فلسفۃ عاشوراء: صفحہ 8-9)

اہل تشیع کا نفس ناطقہ، مرجع العام و الخاص آیت اللہ العظمی امام خمینی شیعہ ذاکروں کو نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہے:

’’خطباء کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرثیے پڑھا کریں۔ جبکہ عوام کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ تعزیتی جلوسوں اور ماتمی مجالس میں نکلا کریں، تاکہ سینہ کوبی کریں اور اپنے سے پہلوں کے افعال پر عمل کریں۔‘‘ (نہضۃ عاشوراء: صفحہ 107)

ایک اور جگہ امام خمینی لکھتا ہے:

تعزیتی جلوسوں میں نکل کر سینہ کوبی کرنا اہل بیت کے ساتھ ہمارے اظہار ہم دردی کی ایک رمز ہے، اس لیے ہمیں بلاد و امصار میں ماتمی مجالس کو قائم کرنا چاہیے، جس میں خطباء مرثیے پڑھیں، عوام زار و قطار روئے، سینہ کوبی کرے، حسینی نعرے لگائے جیسا کہ گزشتہ لوگ کیا کرتے تھے۔ یاد رہے کہ ہم ان مراسم و شعائر کے بل پر زندہ ہیں۔‘‘ (نہضۃ عاشوراء: صفحہ 108)