سیدنا امیر معاویہؓ جہنم میں تالا لگے تابوت میں
محمد ذوالقرنینسیدنا امیر معاویہؓ جہنم میں تالا لگے تابوت میں
امام البلاذریؒ کی طرف منسوب ایک کتاب کی روایت کو بنیاد بنا کر بعض شیعہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ کو نبیﷺ نے (معاذ اللّٰه) جہنمی کہا ہے۔
روایت کچھ یوں ہے۔
سند: حدثنی خلف بن هشام البزار حدثنا أبو عوانة عن الاعمش عن سالم بن ابی الجعد قال قال رسول اللّٰهﷺ۔
متن: سالم بن ابی الجعد کہتا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا سیدنا امیر معاویہؓ جہنم میں تالا لگے ہوئے تابوت میں بند ہے۔
(انساب الاشراف (عربی) جلد 5 صحفہ 136)۔
اسناد کا تعاقب: اس روایت میں دو علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کے راوی اعمش درجہ سوم کے مدلس ہیں اور یہاں بھی یہ تدلیس کر رہے ہیں اعمش عن سالم اور سماع کی تصریح نہیں کی۔
امام ذهبیؒ اعمش کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
عبد اللّٰہ بن مبارک کہتے ہیں اہلِ کوفہ کی حدیث کو ابواسحاق اور اعمش نے تمہارے لیے خراب کیا ہے (امام ذھبیؒ کہتے ہیں) یہ تدلیس کرتا تھا اور بعض اوقات کسی ضعیف راوی سے بھی تدلیس کر دیتا تھا لیکن اسے اس کا پتہ نہیں چلتا تھا تو جب یہ حدثنا کہے تو اس کے بارے میں کوئی کلام نہیں ہوگا لیکن جب یہ عن کہے تب اس میں تدلیس کا احتمال ہوگا۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 3، صحفه 308)۔
امام ابنِ حجرؒ نے اعمش کو پہلے تعریف اھل التقدیس میں دوسرے طبقہ کے مدلسین میں شامل کیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے رجوع کرتے ہوئے اعمش کو تیسرے طبقہ کے مدلسین میں شامل کر دیا جیسا کہ فرماتے ہیں۔
تیسرا طبقہ: یہ وہ ہیں جو کثرت سے تدلیس کرنے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ان میں سلیمان اعمش ہیں۔
(النکت علی کتاب ابنِ الصلاح (عربی) صحفہ 442)۔
درجہ سوم کے مدلس کی معنن کے بارے میں امام ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں:
یہ وہ مدلسین ہیں جن کی (معنن) حدیث سے آئمہ نے احتجاج نہیں کیا جب تک سماع کی تصریح نہ کریں ان کی (معنن) احادیث مطلقاً رد کی جاتی ہیں۔
(تعریف اهلِ التقديس بمراتب الموصوفين بالتدلیس (عربی) صحفه 13)۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اعمش جب تک سماع کی تصریح نہ کرے تو اس کی روایت مطلقاً رد ہوتی ہے اور خاص طور پر جب کوفی راوی سے روایت کرتے ہوئے تدلیس کرے تو اور زیادہ خرابی ہے اور سالم بن ابی الجعد بھی کوفی ہے۔
دوسری علت: اس روایت کا راوی سالم بن ابی الجعد جو کہ تابعی ہے وہ یہ روایت بلا واسطہ نبیﷺ کی طرف منسوب کر رہا ہے یعنی ارسال کر رہا ہے اس راوی کے حالات ملاحظہ فرمائیں۔
امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں تیسرے طبقہ کا ثقہ راوی ہے اور بکثرت ارسال کرتا تھا:
(تقریب التہذیب (اردو) جلد 1 صحفه 298)۔
اور تیسرے طبقہ کے راویوں کے بارے میں فرماتے ہیں:
الطبقة الوسطى من التابعين۔
(تقريب التہذيب (اردو) جلد 1 صحفه 13)۔
امام ذھبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں یہ ثقہ تابعین میں سے ہے تاہم یہ تدلیس اور ارسال کرتا ہے:
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 3 صحفه 165)
ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ سالم بن ابی الجعد ایک تابعی ہے اور یہ بکثرت تدلیس اور ارسال کرتا تھا اور یہ روایت بھی مرسل ہے۔
اور ایسی باطل مرسل روایت سے استدلال کرتے ہوئے ایک جلیل القدر صحابی رسولﷺ کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ جہنم میں ہیں قطعی طور پر حرام ہے۔
یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ اس کتاب (انساب الاشراف) کے بارے میں بھی اختلاف رہا ہے که یه کتاب امام بلاذری کی کتاب ہے یا نہیں کیونکہ اس کتاب کی کوئی سند موجود نہیں لیکن ہم پھر بھی اس کتاب سے شیعہ کی طرف سے جو روایات پیش کی جاتی ہیں ان کا تعاقب کریں گے تاکہ حُجت تمام ہو جائے۔