اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ قصاص عثمان رض لیتے تو جنگ جمل اور جنگ صفین نہ ہوتیں۔ جنگ جمل ہو یا جنگ صفین یہ سب سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص نہ لینے کی وجہ سے ہوئیں۔ اگر سیدناعلی رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کا قصاص لے لیتے تو نہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا کے مقابلے میں یہ اقدام کرنا پڑتا، اور نہ سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں۔
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبندسیدنا علی رضی اللہ عنہ پر خوارج کا چوتھا اعتراض
اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ قصاص عثمانؓ لیتے تو جنگ جمل اور جنگ صفین نہ ہوتیں۔
جنگِ جمل ہو یا جنگِ صفین یہ سب سیدنا عُثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص نہ لینے کی وجہ سے ہوئیں۔ اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کا قصاص لے لیتے تو نہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے مقابلے میں یہ اقدام کرنا پڑتا، اور نہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مقابلہ میں۔
جوابات اہلسنت
جواب 1: قتلِ عُثمان رضی اللہ عنہ اور اس میں سازش سے سیّدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کا بری ہونا پہلے ہم دلائل سے ثابت کر چکے ہیں۔
تاخیرِ قصاص کے وجوہ حسبِ ذیل ہیں۔ ملاحظہ ہوں:
وجۂ اول:
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر جب بلوائیوں نے حملہ کیا تھا، اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے اور مہاجرین و انصار رضی اللہ عنھم بھی۔ پس اگر قتل کرتے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ان پر کوئی داؤ نہ چل سکا تھا تو ابتدائے خلافت میں، جبکہ ان کی قوت ابھی تک مستحکم و مضبوط نہ ہوئی تھی، کیسے حکم تسلیم کیا جا سکتا تھا اور آنحالیکہ وہ جماعت منظم اور مستقل تھی۔
وجۂ ثانی:
حضرت علی المُرتضٰی رضی اللہ عنہ کی پوزیشن خلیفۂ وقت کی تھی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا وغیرہ کی پوزیشن ورثائے حکم مقتول کی تھی۔ ورثاء کے لیے حق تو یہ تھا کہ دعویٰ دائر کرتے، نہ یہ کہ ایسے اقدامات کرتے جِن سے فریق ثانی کے بعض نا عاقبت اندیش لوگوں کو تخالف کا شبہ پیدا ہوا۔ جب دعویٰ ہی مفقود تھا تو تکاسل فی القصاص کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
وجۂ ثالث:
سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کبھی بھی یہ نہیں فرمایا کہ مجھے قاتلین سے قصاص لینے کا انکار یے۔ البتہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ ضرور فرمایا تھا، کہ استحکام کے بعد فوراً میرا کام یہی ہو گا۔ صبر کیجیے۔ لیکن بہت سے حضرات کا یہ خیال تھا کہ اولین فُرصت میں یہی کام کیا جاۓ تا کہ فساد نہ بڑھے۔