*اگر حضرت علی رض قصاص عثمان رض لیتے تو جنگ جمل اور جنگ صفین نہ ہوتیں۔* جنگِ جمل ہو یا جنگِ صفین یہ سب سیّدنا عُثمان رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے قصاص نہ لینے کی وجہ سے ہوئیں۔ اگر سیّدنا علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ سیّدنا عُثمان رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے قتل کا قصاص لے لیتے تو نہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنھا کے مقابلے میں یہ اقدام کرنا پڑتا، اور نہ سیّدنا معاویہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے مقابلہ میں۔
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند♦️ *سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر خوارج کا چوتھا اعتراض* ♦️:
*اگر حضرت علی رض قصاص عثمان رض لیتے تو جنگ جمل اور جنگ صفین نہ ہوتیں۔*
جنگِ جمل ہو یا جنگِ صفین یہ سب سیّدنا عُثمان رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے قصاص نہ لینے کی وجہ سے ہوئیں۔ اگر سیّدنا علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ سیّدنا عُثمان رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے قتل کا قصاص لے لیتے تو نہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنھا کے مقابلے میں یہ اقدام کرنا پڑتا، اور نہ سیّدنا معاویہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے مقابلہ میں۔
♦️ *جوابات اہلسنّت* ♦️
جواب 1:
قتلِ عُثمان رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ اور اس میں سازش سے سیّدنا علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کا بری ہونا پہلے ہم دلائل سے ثابت کر چُکے ہیں۔
تاخیرِ قصاص کے وجوہ حسبِ ذیل ہیں۔ ملاحظہ ہوں:-
*وجۂ اوّل*
سیّدنا عُثمان رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ پر جب بلوائیوں نے حملہ کیا تھا، اس وقت حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ بھی موجود تھے اور مہاجرین و انصار رضی اللّٰهُ تعالٰی عنھم بھی۔ پس اگر قتل کرتے وقت حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کا اُن پر کوئی داؤ نہ چل سکا تھا تو ابتدائے خلافت میں، جبکہ اُن کی قوّت ابھی تک مستحکم و مضبوط نہ ہوئی تھی، کیسے حکم تسلیم کیا جا سکتا تھا اور آنحالیکہ وہ جماعت منظم اور مستقل تھی۔
*وجۂ ثانی*
حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کی پوزیشن خلیفۂ وقت کی تھی اور سیّدہ عائشہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنھا وغیرہ کی پوزیشن ورثائے حکم مقتول کی تھی۔ ورثاء کے لیے حق تو یہ تھا کہ دعویٰ دائر کرتے، نہ یہ کہ ایسے اقدامات کرتے جِن سے فریق ثانی کے بعض نا عاقبت اندیش لوگوں کو تخالف کا شبہ پیدا ہوا۔ جب دعویٰ ہی مفقود تھا تو تکاسل فی القصاص کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
*وجۂ ثالث*
سیّدنا علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے کبھی بھی یہ نہیں فرمایا کہ مُجھےقاتلین سے قصاص لینے کا انکار یے۔ البتہ آپ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے یہ ضرور فرمایا تھا، کہ استحکام کے بعد فوراً میرا کام یہی ہو گا۔ صبر کیجیے۔ لیکن بہت سے حضرات کا یہ خیال تھا کہ اوّلین فُرصت میں یہی کام کیا جاۓ تا کہ فساد نہ بڑھے۔