نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کے جواز کا فتویٰ
حامد محمد خلیفہ عماناہل تشیع کے اکابر علماء نے ان بدعات کے جواز کا برملا فتویٰ دیا ہے، چنانچہ اہل تشیع کے امام محقق، رئیس الفقہاء آیت اللہ العظمی شیخ محمد حسین نائینی سے جب ماتمی جلوسوں میں کیے جانے والے حسینی شعائر کے بارے سوال کیا گیا، تو موصوف نے یہ تفصیلی جواب لکھا:
اوّل
پس محرم کے دن گلی کوچوں، سڑکوں اور شاہراہوں پر ماتمی جلوسوں کے نکالنے کے جواز میں کوئی شک نہیں۔ بلاشبہ یہ مظلوموں کی عزاداری کا سچا ترین طرز و طریق ہے اور دور و نزدیک کے ہر انسان تک حسینی دعوت پہنچانے کا سہل ترین راستہ بھی ہے۔ البتہ مناسب ہے کہ جلوسوں کے شرکاء ان امور سے گریز کریں، جو ان کے شایانِ شان نہیں جیسے گانا گانا، لہو و طرب اور موسیقی کے آلات کا استعمال کرنا، دو محلوں کے لوگوں کا جلوس پہلے نکالنے میں باہم جھگڑا کرنا وغیرہ اور اگر ان امور میں سے کسی امر کا اتفاقی وقوع ہو بھی جاتا ہے، تو وہ امر بذات خود تو ضرور حرام ہے، لیکن اس کی حرمت ماتمی جلوس تک سرایت نہیں کرتی۔ اس کی نظیر حالت نماز میں اجنبیہ کی طرف دیکھنا ہے کہ اگرچہ وہ بذات خود حرام ضرور ہے، لیکن دوران نماز اجنبیہ کو دیکھنا نماز کو باطل نہیں کرتا۔
دوم
چہروں اور سینوں کو اس قدر پیٹنا جائز ہے، جس سے وہ سرخ یا سیاہ ہو جائیں۔ بلکہ اتنی حد تک کندھوں اور پیٹھوں پر زنجیر زنی بھی جائز ہے، بلکہ اگر ان امور سے معمولی درجے کا خون بھی نکل آئے، تب بھی یہ امور جائز ہیں۔ رہا سروں پر تلواریں اور خنجر مارنا تو اگر یہ ہلاکت کے درجے تک نہیں لے جاتا، تو قوی قول ان کے جواز کا ہے، جس سے ماتھے کی کھال تو مجروح ہو، لیکن ہڈی متاثر نہ ہو، جیسا کہ ماہر زنجیر زن کرتے ہیں اور اگر زنجیر زنی عادی ہو، مگر اس سے غیر عادی خون نکل آئے، یہ بھی اس کی حرمت کا موجب نہیں۔ البتہ اولیٰ اور زیادہ محتاط یہ ہے کہ اناڑی لوگ زنجیر زنی سے گریز کریں، بالخصوص جوشیلے نوجوانوں کو اس امر سے باز رکھا جائے، جن کو اپنی جانوں کی مطلق پروا نہیں ہوتی، جن کے دل محبت حسین سے معمور ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا و آخرت میں قولِ ثابت پر ثابت قدم رکھے۔
سوم
صدیوں سے امامیہ واقعہ کربلا کی تمثیل کے طور پر جو کچھ کرتے چلے آ رہے ہیں، اس کے جواز میں بظاہر کوئی اشکال نہیں، جن میں واقعہ کربلا کو یاد کر کے یہ امامیہ روتے بھی ہیں اوررلاتے بھی ہیں۔ اگرچہ اس میں بعض مرد عورتوں کے لباس پہن کر ان کی مشابہت اختیار کرتے ہیں، لیکن قوی قول اس کے بھی جواز کا ہے۔ اگرچہ آج سے چار سال قبل ہمیں اس کے جواز میں اشکال تھا، لیکن جب ہم نے اس مسئلہ کا از سر نو جائزہ لیا، تو ہم پر یہ بات واضح ہوئی کہ عورتوں کی ایسی مشابہت حرام ہے، جس میں مرد مردانگی کے حلیہ سے بالکل ہی باہر نکل جائے۔ جیسا کہ ہم نے ’’العروۃ الوثقی‘‘ کے حواشی میں اس مسئلہ کی بابت اپنے استدراک میں اس امر کی وضاحت کر دی ہے۔ لیکن پھر بھی حسینی مجالس کو محرمات کے ارتکاب سے منزہ رکھنا لازم ہے۔
چہارم
ماتمی جلوسوں میں سواریوں پر سوار جو سرخ رنگ یا سرخی وغیرہ استعمال کرتے ہیں، ہمیں ابھی تک اس کی حقیقت معلوم نہیں ہو سکی۔ اگرچہ اس سرخی کو صرف عزاداری کے اظہار میں ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ البتہ اس سرخی کا لہو و لعب کے طور پر استعمال کرنا جائز نہیں، جیسا کہ نجف اشرف میں ماتمی جلوسوں میں یہ سرخی استعمال کی جاتی ہے کہ بہرحال بظاہر اس کا استعمال عزاداری کی حد تک جائز ہے۔ و اللہ اعلم۔ (مقتل الحسین: صفحہ 146)
موصوف کے اس فتویٰ پر جن اکابر شیعہ علماء نے دستخط کیے، ذیل میں ان کے نام اور بعض کی آراء کو بھی درج کیا جاتا ہے:
1۔ آیۃ اللہ العظمی مرزا عبدالہادی شیرازی۔ موصوف لکھتے ہیں: ’’موصوف قدس سرہ نے اس فتویٰ میں جو کچھ لکھا ہے، وہ ان شاء اللہ درست ہو گا۔‘‘ (مقتل الحسین: صفحہ 147)
2۔ آیۃ العظمی محسن الحکیم طباطبائی۔ (مقتل الحسین: صفحہ 147)
3۔ آیۃ العظمی ابو القاسم الخوئی۔ موصوف لکھتے ہیں: ’’شیخ الاستاذ قدس سرہ نے بصری استفتاء کے جواب میں جو کچھ رقم کیا ہے، وہ صحیح ہے اور اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (مقتل الحسین: صفحہ 148)
4۔ آیۃ العظمی الامام محمود الشاہرودی۔ (ایضاً)
5۔ آیۃ اللہ الشیخ محمد حسن المظفر۔ (مقتل الحسین: صفحہ 149)
6۔ آیۃ اللہ العظمی حسین الحمامی الموسوی۔ (مقتل الحسین: صفحہ 149)
7۔ آیۃ اللہ محمد الحسین آل کاشف العظاء۔ (مقتل الحسین: صفحہ 149)
8۔ آیۃ اللہ العظمی محمد کاظم شیرازی۔ (مقتل الحسین: صفحہ 150)
9۔ آیۃ اللہ جمال الدین الکلبایکانی۔ (مقتل الحسین: صفحہ 150)
10۔ آیۃ اللہ کاظم المرعشی۔ (مقتل الحسین: صفحہ 150)
11۔ آیۃ اللہ مہدی المرعشی۔ (مقتل الحسین: صفحہ 151)
12۔ آیۃ اللہ علی مدد الموسوی الفاینی۔ (مقتل الحسین: صفحہ 151)
13۔ آیۃ اللہ الشیخ یحییٰ النوری۔ (مقتل الحسین: صفحہ 152)
شیخ مرتضی عیاد لکھتا ہے:
’’اہل تشیع کے معتبر علماء و فقہاء کی ایک جماعت نے اس موضوع کے جواز کا فتویٰ دیا ہے، جن کے ذکر کا احصاء اس مقام پر ممکن نہیں۔‘‘ (مقتل الحسین: صفحہ 152)