Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا امیر معاویہؓ غیرِ اسلام پر فوت ہوں گے

  محمد ذوالقرنین

سیدنا امیر معاویہؓ غیرِ اسلام پر فوت ہوں گے

انساب الاشراف ہی کی ایک روایت جو کہ دو اسناد سے مروی ہے کو دلیل بنا کر بعض شیعہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے اپنی زندگی میں ہی سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں فرما دیا تھا کہ یہ غیرِ اسلام یعنی اسلام کے علاؤہ کسی مذہب پر (مرتد ہوکر) فوت ہوں گے اس اعتراض پر پیش کی جانے والی روایت دو اسناد سے مروی ہے۔

 پہلی سند: حدثنی اسحاق و بكر بن الهيثم قالا حدثنا عبد الرزاق بن عمام انبانا معمر عن ابنِ طاؤس عن ابيه عن عبد اللّٰه ابنِ عمرو بن العاصؓ

 متن: سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ فرماتے ہیں میں نبیﷺ کے پاس موجود تھا تو نبیﷺ نے فرمایا ہمارے پاس ایک ایسا شخص آنے والا ہے جو میری ملت (یعنی اسلام) کے غیر پر مرے گا تو سیدنا عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاصؓ کہتے ہیں میں قضائے حاجت کے لیے جانا چاہتا تھا لیکن میں بیٹھا رہا تو ہمارے پاس سیدنا امیر معاویہؓ آئے تو نبیﷺ نے فرمایا وہ یہی ہے۔

(انساب الاشراف (عربی) جلد 5 صحفہ 134)۔

 اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔

 پہلی علت: اس روایت کی سند کا ایک راوی ابکر بن الہیثم مجہول ہے اس کا ترجمہ اسماء والرجال کی کسی کتاب میں موجود نہیں کہ آیا یہ ثقہ تھا یا نہیں اس لئے اس کی راویت سے استدلال جائز نہیں۔

 دوسری علت: اس روایت کی دوسری علت امام عبد الرزاق بن حمام الصنعانی ہیں امام عبد الرزاق خود محدث ہیں لیکن ان سے کئی منکر روایات منقول ہیں اور یہ پہلے شیعہ تھے اور غالی شیعہ تھے اور پہلے سیدنا امیر معاویہؓ سے بغض رکھتے تھے آخری عمر میں عبدالرزاق کی بینائی چلی گئی اور ان کو تلقین کی جاتی تھی تو ان کو ایسی روایات کی تلقین کر دی گئی جو ان کی کتب میں نہیں تھیں اور وہ منکر و باطل تھیں اس لئے ان کی وہ روایات جو ان کی اپنی کتاب میں ہوں وہ حُجت ہیں ذیل میں اس بارے میں تصریحات ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذھبیؒ ان کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں ہم سنہ 200 ہجری سے پہلے عبد الرزاق کے پاس گئے تھے اس وقت ان کی نظر ٹھیک تھی لیکن جس نے ان کی بینائی رخصت ہونے کے بعد ان سے سماع کیا تو اس کا سماع ضعیف ہوگا (مزید فرماتے ہیں) جب وہ نابینا ہوگئے تو ان کو تلقین کی جاتی تھی تو انہیں ایسی باتوں کی تلقین بھی کی گئی جو ان کی کتابوں میں نہیں تھی ان لوگوں نے ان کے حوالے سے ایسی روایات نقل کی ہیں جو ان کی کتابوں میں نہیں تھیں جو ان کے نابینا ہونے کے بعد ان کو تلقین کی گئی تھی امام نسائیؒ کہتے ہیں اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے جس نے ان کے حوالے سے بعد میں روایات نقل کی ہیں ان میں بہت سی منکر روایات بھی نقل کی گئی ہیں ابن عدیؒ کہتے ہیں انہوں نے فضائل کے بارے میں ایسی روایات نقل کی ہیں جن میں کسی نے ان کی موافقت نہیں کی اور دیگر لوگوں کی تنقید کے بارے میں منکر روایات نقل کی گئی ہیں لوگوں نے انہیں تشیعوں کی طرف بھی منسوب کیا ہے امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ ثقہ ہیں لیکن معمر سے روایت کرنے میں غلطی کر جاتا ہے امام بخاریؒ کہتے ہیں عبد الرزاق اپنی کتاب سے جو نقل کریں وہ صحیح ہوگا احمد بن زکیر حضرمی اور مخلد شعیری کہتے ہیں میں عبدالرزاق کے پاس موجود تھا ایک شخص نے سیدنا امیر معاویہؓ کا ذکر کیا تو عبدالرزاق نے کہا تم ابوسفیان کی اولاد کا تذکرہ کرکے ہماری محفل خراب مت کرو امام یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں ایک دن میں نے عبد الرزاق کا ایسا کلام سنا جس سے میں نے استدلال کیا کہ وہ شیعہ ہیں تو میں نے کہا کہ آپ کے وہ تمام استاد جن سے آپ نے استدلال کیا ہے وہ تو سنی ہیں تو آپ نے یہ مسلک کس سے حاصل کیا ؟ تو انہوں نے جواب دیا جعفر بن سلیمان ہمارے پاس آئے میں نے انہیں دیکھا کہ وہ ایک فاضل شخص ہیں اچھے اخلاق کے مالک ہیں تو میں نے ان سے یہ مسلک حاصل کر لیا امام یحییٰؒ سے کہا گیا کہ امام احمدؒ کہتے ہیں عبید اللہ بن موسیٰ کی روایات کو مسترد کیا جائے گا کیونکہ وہ شیعہ ہے تو یحییٰ نے کہا اللّٰه کی قسم امام عبد الرزاق عبید الله سے زیادہ غالی شیعہ تھے (پھر امام عبد الرزاق سے مروی کچھ منکر روایات کا تذکرہ کیا گیا)۔

امام ابنِ حجرؒ ان کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 4 صحفہ 310 تا 315)۔

ثقہ حافظ مصنف راوی ہے تاہم آخری عمر میں نابینا ہوگیا تھا اور اس کا حافظہ متغیرہ ہوگیا تھا۔ 

(تقریب التہذیب (اردو) جلد 1 صفحہ547)۔

امام بخاریؒ ان کے بارے میں فرماتے ہیں:

جو حدیث یہ اپنی کتاب سے بیان کریں وہ صحیح ہے۔

(التاريخ الكبير للبخاری (عربی) جلد 6 صحفه 130)۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ امام عبد الرزاق سے بہت سی منکر روایات منقول ہیں کیونکہ آخری عمر میں وہ نابینا ہوگئے تھے اور ان کا حافظہ خراب ہوگیا تھا اور ان کو روایات کی تلقین کی جاتی تھی اور ان کی معمر سے کی گئی روایت میں بھی بعض اوقات غلطی پائی جاتی ہے اور یہاں بھی وہ معمر سے ہی روایت کرہے ہیں اور ان کی وہ روایات جو ان کی کتب میں موجود ہیں وہ زیادہ قابلِ اعتماد ہیں۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت باطل ہے اور اس سے استدلال جائز نہیں۔

 دوسری سند:

حدثنی عبد اللّٰه بن صالح حدثنی يحيیٰ بن آدم عن شريك عن ليث عن طاوس عن عبداللّٰه بن عمرو بن العاصؓ۔ (انساب الاشراف (عربی) جلد 5 صحفه 134)۔

اس روایت کا راوی شریک بن عبد اللّٰہ نخعی ہے جو اختلاط کا شکار تھا اور احادیث میں بہت زیادہ غلطیاں کیا کرتا تھا اس کے حالات ملاحظہ فرمائیں۔

امام ابنِ حجرؒ اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

صدوق راوی ہے بکثرت غلطیاں کرتا تھا جب قاضی بنا تو اس وقت اس کا حافظہ بدل گیا۔

(تقریب التہذیب (اردو) جلد 1 صحفه 377)۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

یحییٰ بن سعید القطانؒ سے کہا گیا کہ لوگ کہتے ہیں آخری عمر میں شریک اختلاط کا شکار ہوگیا تھا تو انہوں نے جواب دیا وہ تو شروع سے ہی اختلاط کا شکار تھا عبد اللّٰہ بن مبارکؒ کہتے ہیں شریک کی نقل کردہ روایات کی کوئی حیثیت نہیں جوزجانی کہتے ہیں یہ بُرے حافظے کا مالک تھا روایات میں اضطراب کا شکار ہوتا تھا ابراہیم بن سعید جوہری کہتے ہیں شریک نے 400 روایات میں غلطی کی ہے یحییٰؒ کہتے ہیں شریک ثقہ ہے لیکن یہ غلطی کرتا ہےعبد الرحمٰن بن شریک (شریک کا بیٹا) کہتا ہے میرے والد کے پاس دس ہزار غریب روایات تھیں امام دار قطنیؒ کہتے ہیں شریک جس روایت کو بیان کرنے میں منفرد ہو اس میں قوی شمار نہیں ہوگا۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 4 صحفہ 310 تا 315)۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شریک روایات میں بہت زیادہ غلطیاں کرتا تھا اور جس روایت میں یہ منفرد ہو وہ قابلِ استدلال نہیں۔

 دوسری علت: اس روایت کے راوی الیث بن ابی سلیم ضعیف اور مضطرب الحدیث راوی ہے یہ اختلاط کا شکار تھا اور اس کی روایت میں امتیاز نہیں ہوسکا کہ کون سی اختلاط سے پہلے کی ہیں کون سی بعد کی اس لئے اس کو ترک کر دیا گیا اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ابن حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

صدوق راوی ہے تاہم بہت زیادہ عارضہ اختلاط کا شکار ہوگیا اور اس کی بیان کردہ احادیث میں امتیاز نہیں ہوسکا (کہ کون سی اختلاط سے پہلے کی ہیں اور کون سی بعد کی) جس وجہ سے اسے ترک کر دیا گیا۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

(تقریب التهذیب (اردو) جلد 2، صحفہ 52)۔

امام احمدؒ فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہے یحییٰؒ اور امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے ابنِ حبانؒ کہتے ہیں یہ آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہوگیا تھا امام دار قطنیؒ کہتے ہیں محدثین نے اسے اس حوالے سے منکر قرار دیا ہے کہ اس نے عطاء طاؤس اور مجاہد کو جمع کر دیا تھا ابنِ ادریسؒ کہتے ہیں میں جب بھی اس کے پاس بیٹھا میں نے ایسی بات سنی جو پہلے کبھی نہیں سنی امام یحییٰ بن سعیدؒ کی رائے کسی کے بارے میں اتنی بری نہیں تھی جتنی لیث محمد بن اسحاق اور ہمام کے بارے میں تھی اور کوئی بھی ان کی رائے تبدیل نہیں کر سکتا تھا یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں لیث عطاء سے زیادہ ضعیف ہے۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 5 صحفہ 484،485)۔

ان تمام جروحات سے ثابت ہوتا ہے کہ لیث بن ابی سلیم کی روایت قابل اِستدلال نہیں کیونکہ یہ سخت ضعیف راوی ہے اور اس کو ترک کر دیا گیا تھا اور اختلاط کا شکار تھا جس وجہ سے اس سے منکر روایات منقول ہیں۔

پس ثابت ہوا کہ یہ سند بھی باطل ہے کیونکہ اس کی سند کے دو راوی شریک بن عبد اللّٰہ نخفی اور لیث بن ابی سلیم دونوں اختلاط کا شکار تھے اور ان سے منکر روایات منقول ہیں۔

اس لئے اس روایت کو دلیل بنا کر سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ (معاذ الله) مرتد ہو کر فوت ہوئے کسی صورت جائز نہیں۔

سیدنا امیر معاویہؓ غیر اسلام پر فوت ہوئے (ایک قول کا تحقیقی جائزہ)

شیعہ کی طرف سے سیدنا امیر معاویہؓ کے خلاف ایک قول پیش کیا جاتا ہے جو کہ حافظ علی ابنُ الجعد کی طرف منسوب کیا جاتا ہے قول کچھ یوں ہے:

ابنِ ھانیؒ کہتے ہیں میں نے امام احمد بن حنبلؒ سے سنا اور ان کو دلویه نے بتایا کہ میں نے علی بن جعد کو سُنا انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم سیدنا امیر معاویہؓ اسلام کے علاوہ (کسی مذہب) پر فوت ہوئے۔

(مسائل امام احمد براویة ابنِ ھانی جلد 2 صحفہ 154)۔

اس قول کو پیش کر کے شیعہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اہلِ سنت کے امام علی بن جعد سیدنا امیر معاویہؓ کو مرتد مانتے تھے شیعہ کے اس اعتراض کے جواب میں کئی محققین نے لکھا کہ اُن کا یہ قول تب کا ہے جب وہ شیعہ تھے (کیونکہ علی بن جعد پہلے شیعہ تھے) لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ دلویه نے یہ بات علی بن جعد سے نہیں بلکہ یحییٰ بن عبدالحمید الحمانی سے سُنی جو کہ شیعی و کذاب شخص تھا مسائل امام احمد میں علی بن جعد کے حوالے سے یہ قول ابنِ ھانیؒ کا وہم ہے کیونکہ دلویه نے یہ بات اُن سے نہیں سُنی۔

ذیل میں ملاحظہ فرماٸیں کہ یہ بات دلویه نے یحییٰ بن عبد الحمید سے سُنی ہے نہ کہ علی بن جعد سے۔

امام خطیب بغدادیؒ یحییٰ بن عبدالحمید کے ترجمہ میں اپنی سند سے دلویه کا قول نقل کرتے ہیں کہ:

دلویه نے کہا میں نے یحییٰ بن عبدالحمید کو کہتے ہوئے سُنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اسلام کے علاوہ کسی مذہب پر فوت ہوئے (پھر اس کا رد کرتے ہوئے خود ہی) دلویه نے کہا: اللہ کے اس دشمن نے جھوٹ بولا ہے۔

(تاریخِ بغداد جلد 16 صحفہ 262)۔

امام عقیلیؒ بھی یحییٰ بن عبدالحمید کے ترجمہ میں اپنی سند سے دلویه کا قول نقل کرتے ہیں کہ:

دلویه نے کہا میں نے یحییٰ بن عبدالحمید کو کہتے ہوئے سُنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اسلام کے علاوہ کسی مذہب پر فوت ہوئے۔

(کتاب الضعفاء لعقیلی جلد 4 صحفہ 1542)۔

امام ذھبیؒ نے بھی یحییٰ بن عبدالحمید کے ترجمہ میں دلویه کا قول نقل کیا کہ:

دلویه نے کہا میں نے یحییٰ بن عبدالحمید کو کہتے ہوئے سُنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اسلام کے علاوہ کسی مذہب پر فوت ہوئے۔

(تذہیب تہذیب الکمال فی اسماء الرجال جلد 10 صحفہ 9)۔

امام ذھبیؒ نے دلویه کا یہی قول میزان الاعتدال میں بھی نقل کیا ہے۔

(میزان الاعتدال جلد 6 صحفہ 199)۔

حافظ ابنِ کثیرؒ نے بھی یحییٰ بن عبدالحمید کے ترجمہ میں دلویه کا یہی قول نقل کیا کہ:

دلویه نے کہا میں نے یحییٰ بن عبدالحمید کو کہتے ہوئے سُنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اسلام کے علاوہ کسی مذہب پر فوت ہوئے دلویه نے کہا: اللہ کے اس دشمن نے جھوٹ بولا ہے۔

(التکمیل فی الجرح والتعدیل جلد 2 صحفہ 240)۔

حافظ مزیؒ نے بھی یحییٰ بن عبدالحمید کے ترجمہ میں دلویه کا یہ قول نقل کیا کہ:

دلویه نے کہا میں نے یحییٰ بن عبدالحمید کو کہتے ہوئے سُنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اسلام کے علاوہ کسی مذہب پر فوت ہوئے دلویه نے کہا: اللہ کے اس دشمن نے جھوٹ بولا ہے۔

(تیذیب الکمال فی اسماء الرجال جلد 31 صحفہ 429)۔

علامہ بدر الدین عینیؒ نے بھی یحییٰ بن عبدالحمید کے ترجمہ میں دلویه کا یہ قول نقل کیا کہ:

دلویه نے کہا میں نے یحییٰ بن عبدالحمید کو کہتے ہوئے سُنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اسلام کے علاوہ کسی مذہب پر فوت ہوئے دلویه نے کہا! اللہ کے اس دشمن نے جھوٹ بولا ہے۔

(مغانی الاخیار جلد 3 صحفہ 218)۔

امام ابنِ حجر عسقلانیؒ نے بھی یحییٰ بن عبدالحمید کے ترجمہ میں دلویه کا یہ قول نقل کیا کہ!

دلویه نے کہا میں نے یحییٰ بن عبدالحمید کو کہتے ہوئے سُنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اسلام کے علاوہ کسی مذہب پر فوت ہوئے دلویه نے کہا: اللہ کے اس دشمن نے جھوٹ بولا ہے۔

(تہذیب التہذیب جلد 7 صحفہ 72)۔

اور شیعہ زاکر عباس قمی نے بھی یحییٰ حمانی کے بارے میں لکھتے ہوئے خطیبِ بغدادی کے حوالے سے اس کا یہ قول نقل کیا لکھتا ہے:

اور اس نے کہا سیدنا امیر معاویہؓ اسلام کے علاوہ کسی مذہب پر فوت ہوا۔

(الکنی والالقاب جلد 2 صحفہ 192)۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قول دلویه نے علی بن جعد سے نہیں سُنا بلکہ یحیٰ بن عبدالحمید حمانی سے سُنا ہے اور یحییٰ بن عبدالحمید حمانی خود شیعی اور کذاب ہے ملاحظہ فرماٸیں:

امام ذھبیؒ یحییٰ کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

امام احمدؒ کہتے ہیں یہ کھلم کھلا جھوٹ بولتا تھا امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے ابنِ نمیرؒ کہتے ہیں ابنِ حمانی کذاب ہے یحییٰ بن عبدالحمید نے امام دارمیؒ کی کتابوں سے احادیث چوری کر کے ان کو سلیمان بن بلال سے خود سے نقل کر دیا میں (ذھبیؒ) کہتا ہوں یہ بغض رکھنے والا شیعہ(رافضی) ہے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے۔

(میزان الاعتدال جلد 7 صحفہ 198۔199)

امام ذھبیؒ نے ”المغنی“ میں اس کے بارے میں فرمایا:

یحییٰ بن عبدالحمید منکر الحدیث ہے اور امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں یہ کھلم کھلا جھوٹ بولا کرتا تھا اور امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے۔

(المغنی جلد 2 صحفہ 407)۔

امام ذھبیؒ نے یحییٰ بن عبد الحمید کو ”دیوان الضعفاء والمتروکین“ میں بھی شامل فرمایا اور اس کے بارے میں فرمایا:

امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے امام احمدؒ کہتے ہیں یہ کھلم کھلا جھوٹ بولتا تھا اور احادیث چوری کرتا تھا اور ابنِ نمیرؒ کہتے ہیں یہ کذاب ہے اور جوزجانیؒ کہتے ہیں اس کی حدیث کو ترک کر دیا گیا (پھر امام ذھبیؒ کہتے ہیں) یہ شیعہ ہے جو چاہا کرتا تھا بول دیتا تھا سیدنا امیر معاویہؓ کی تکفیر کرتا تھا۔

(دیوان الضعفاء والمتروکین صحفہ 436)۔

علامہ بدر الدین عینیؒ بھی یحییٰ بن عبدالحمید کے بارے میں فرماتے ہیں:

یہ بغض رکھنے والا شیعہ (رافضی) تھا۔

(مغانی الاخیار جلد 3 صحفہ 218)۔

امام ابنِ جوزیؒ بھی یحییٰ بن عبدالحمید کو ”الضعفاء والمتروکین“ میں شامل کر کے فرماتے ہیں کہ:

ابنِ نمیرؒ کہتے ہیں یہ کذاب ہے اور امام احمدؒ کہتے ہیں کھلم کھلا جھوٹ بولا کرتا تھا احادیث چوری کیا کرتا تھا اور امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے۔

(کتاب الضعفاء والمتروکین جلد 3 صحفہ 197)۔

ان تمام جروحات سے ثابت ہوتا ہے کہ یحییٰ بن عبدالحمید الحمانی ایک شیعہ اور کذاب راوی تھا اس لیے اس کے کسی قول کو اہلِ سنت کے سامنے بطورِ استدلال پیش کرنا بھی کسی صورت جائز نہیں اور شیعہ رجال میں بھی یہ مجہول درجہ کا راوی ہے۔

شیعہ زاکر محمد الجواہری لکھتا ہے:

یحییٰ بن عبدالحمید مجہول ہے۔

(المفید من معجم رجال الحدیث صحفہ 664)۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی طرف منسوب یہ قول دلویه نے حافظ علی بن جعد سے نہیں سُنا اور نہ ہی ان کے شیعہ ہونے کے زمانے کا قول ہے بلکہ ایک شیعی کذاب یحییٰ بن عبدالحمید کا قول ہے اور اُسی سے دلویه نے یہ سُنا اور دلویه نے خود بھی اس کذاب شیعی کا رد یہ کہہ کر کیا کہ ”اللہ کے اس دشمن نے یہ جھوٹ بولا ہے“ اس لیے اس قول کو حافظ علی بن الجعد کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔