سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ غیر اسلام پر فوت ہوں گے -…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ غیر اسلام پر فوت ہوں گے

  محمد ذوالقرنین

صفحہ 1 از 3

سیدنا امیر معاویہؓ غیرِ اسلام پر فوت ہوں گے

انساب الاشراف ہی کی ایک روایت جو کہ دو اسناد سے مروی ہے کو دلیل بنا کر بعض شیعہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے اپنی زندگی میں ہی سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں فرما دیا تھا کہ یہ غیرِ اسلام یعنی اسلام کے علاؤہ کسی مذہب پر (مرتد ہوکر) فوت ہوں گے اس اعتراض پر پیش کی جانے والی روایت دو اسناد سے مروی ہے۔

 پہلی سند: حدثنی اسحاق و بكر بن الهيثم قالا حدثنا عبد الرزاق بن عمام انبانا معمر عن ابنِ طاؤس عن ابيه عن عبد اللّٰه ابنِ عمرو بن العاصؓ

 متن: سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ فرماتے ہیں میں نبیﷺ کے پاس موجود تھا تو نبیﷺ نے فرمایا ہمارے پاس ایک ایسا شخص آنے والا ہے جو میری ملت (یعنی اسلام) کے غیر پر مرے گا تو سیدنا عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاصؓ کہتے ہیں میں قضائے حاجت کے لیے جانا چاہتا تھا لیکن میں بیٹھا رہا تو ہمارے پاس سیدنا امیر معاویہؓ آئے تو نبیﷺ نے فرمایا وہ یہی ہے۔

(انساب الاشراف (عربی) جلد 5 صحفہ 134)۔

 اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔

 پہلی علت: اس روایت کی سند کا ایک راوی ابکر بن الہیثم مجہول ہے اس کا ترجمہ اسماء والرجال کی کسی کتاب میں موجود نہیں کہ آیا یہ ثقہ تھا یا نہیں اس لئے اس کی راویت سے استدلال جائز نہیں۔

 دوسری علت: اس روایت کی دوسری علت امام عبد الرزاق بن حمام الصنعانی ہیں امام عبد الرزاق خود محدث ہیں لیکن ان سے کئی منکر روایات منقول ہیں اور یہ پہلے شیعہ تھے اور غالی شیعہ تھے اور پہلے سیدنا امیر معاویہؓ سے بغض رکھتے تھے آخری عمر میں عبدالرزاق کی بینائی چلی گئی اور ان کو تلقین کی جاتی تھی تو ان کو ایسی روایات کی تلقین کر دی گئی جو ان کی کتب میں نہیں تھیں اور وہ منکر و باطل تھیں اس لئے ان کی وہ روایات جو ان کی اپنی کتاب میں ہوں وہ حُجت ہیں ذیل میں اس بارے میں تصریحات ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذھبیؒ ان کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں ہم سنہ 200 ہجری سے پہلے عبد الرزاق کے پاس گئے تھے اس وقت ان کی نظر ٹھیک تھی لیکن جس نے ان کی بینائی رخصت ہونے کے بعد ان سے سماع کیا تو اس کا سماع ضعیف ہوگا (مزید فرماتے ہیں) جب وہ نابینا ہوگئے تو ان کو تلقین کی جاتی تھی تو انہیں ایسی باتوں کی تلقین بھی کی گئی جو ان کی کتابوں میں نہیں تھی ان لوگوں نے ان کے حوالے سے ایسی روایات نقل کی ہیں جو ان کی کتابوں میں نہیں تھیں جو ان کے نابینا ہونے کے بعد ان کو تلقین کی گئی تھی امام نسائیؒ کہتے ہیں اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے جس نے ان کے حوالے سے بعد میں روایات نقل کی ہیں ان میں بہت سی منکر روایات بھی نقل کی گئی ہیں ابن عدیؒ کہتے ہیں انہوں نے فضائل کے بارے میں ایسی روایات نقل کی ہیں جن میں کسی نے ان کی موافقت نہیں کی اور دیگر لوگوں کی تنقید کے بارے میں منکر روایات نقل کی گئی ہیں لوگوں نے انہیں تشیعوں کی طرف بھی منسوب کیا ہے امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ ثقہ ہیں لیکن معمر سے روایت کرنے میں غلطی کر جاتا ہے امام بخاریؒ کہتے ہیں عبد الرزاق اپنی کتاب سے جو نقل کریں وہ صحیح ہوگا احمد بن زکیر حضرمی اور مخلد شعیری کہتے ہیں میں عبدالرزاق کے پاس موجود تھا ایک شخص نے سیدنا امیر معاویہؓ کا ذکر کیا تو عبدالرزاق نے کہا تم ابوسفیان کی اولاد کا تذکرہ کرکے ہماری محفل خراب مت کرو امام یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں ایک دن میں نے عبد الرزاق کا ایسا کلام سنا جس سے میں نے استدلال کیا کہ وہ شیعہ ہیں تو میں نے کہا کہ آپ کے وہ تمام استاد جن سے آپ نے استدلال کیا ہے وہ تو سنی ہیں تو آپ نے یہ مسلک کس سے حاصل کیا ؟ تو انہوں نے جواب دیا جعفر بن سلیمان ہمارے پاس آئے میں نے انہیں دیکھا کہ وہ ایک فاضل شخص ہیں اچھے اخلاق کے مالک ہیں تو میں نے ان سے یہ مسلک حاصل کر لیا امام یحییٰؒ سے کہا گیا کہ امام احمدؒ کہتے ہیں عبید اللہ بن موسیٰ کی روایات کو مسترد کیا جائے گا کیونکہ وہ شیعہ ہے تو یحییٰ نے کہا اللّٰه کی قسم امام عبد الرزاق عبید الله سے زیادہ غالی شیعہ تھے (پھر امام عبد الرزاق سے مروی کچھ منکر روایات کا تذکرہ کیا گیا)۔

امام ابنِ حجرؒ ان کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 4 صحفہ 310 تا 315)۔

ثقہ حافظ مصنف راوی ہے تاہم آخری عمر میں نابینا ہوگیا تھا اور اس کا حافظہ متغیرہ ہوگیا تھا۔ 

(تقریب التہذیب (اردو) جلد 1 صفحہ547)۔

امام بخاریؒ ان کے بارے میں فرماتے ہیں:

جو حدیث یہ اپنی کتاب سے بیان کریں وہ صحیح ہے۔

(التاريخ الكبير للبخاری (عربی) جلد 6 صحفه 130)۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ امام عبد الرزاق سے بہت سی منکر روایات منقول ہیں کیونکہ آخری عمر میں وہ نابینا ہوگئے تھے اور ان کا حافظہ خراب ہوگیا تھا اور ان کو روایات کی تلقین کی جاتی تھی اور ان کی معمر سے کی گئی روایت میں بھی بعض اوقات غلطی پائی جاتی ہے اور یہاں بھی وہ معمر سے ہی روایت کرہے ہیں اور ان کی وہ روایات جو ان کی کتب میں موجود ہیں وہ زیادہ قابلِ اعتماد ہیں۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت باطل ہے اور اس سے استدلال جائز نہیں۔

 دوسری سند:

حدثنی عبد اللّٰه بن صالح حدثنی يحيیٰ بن آدم عن شريك عن ليث عن طاوس عن عبداللّٰه بن عمرو بن العاصؓ۔ (انساب الاشراف (عربی) جلد 5 صحفه 134)۔

اس روایت کا راوی شریک بن عبد اللّٰہ نخعی ہے جو اختلاط کا شکار تھا اور احادیث میں بہت زیادہ غلطیاں کیا کرتا تھا اس کے حالات ملاحظہ فرمائیں۔

امام ابنِ حجرؒ اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

صدوق راوی ہے بکثرت غلطیاں کرتا تھا جب قاضی بنا تو اس وقت اس کا حافظہ بدل گیا۔

(تقریب التہذیب (اردو) جلد 1 صحفه 377)۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

صفحہ 1 از 3