سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ غیر اسلام پر فوت ہوں گے -…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ غیر اسلام پر فوت ہوں گے

  محمد ذوالقرنین

صفحہ 2 از 3

یحییٰ بن سعید القطانؒ سے کہا گیا کہ لوگ کہتے ہیں آخری عمر میں شریک اختلاط کا شکار ہوگیا تھا تو انہوں نے جواب دیا وہ تو شروع سے ہی اختلاط کا شکار تھا عبد اللّٰہ بن مبارکؒ کہتے ہیں شریک کی نقل کردہ روایات کی کوئی حیثیت نہیں جوزجانی کہتے ہیں یہ بُرے حافظے کا مالک تھا روایات میں اضطراب کا شکار ہوتا تھا ابراہیم بن سعید جوہری کہتے ہیں شریک نے 400 روایات میں غلطی کی ہے یحییٰؒ کہتے ہیں شریک ثقہ ہے لیکن یہ غلطی کرتا ہےعبد الرحمٰن بن شریک (شریک کا بیٹا) کہتا ہے میرے والد کے پاس دس ہزار غریب روایات تھیں امام دار قطنیؒ کہتے ہیں شریک جس روایت کو بیان کرنے میں منفرد ہو اس میں قوی شمار نہیں ہوگا۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 4 صحفہ 310 تا 315)۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شریک روایات میں بہت زیادہ غلطیاں کرتا تھا اور جس روایت میں یہ منفرد ہو وہ قابلِ استدلال نہیں۔

 دوسری علت: اس روایت کے راوی الیث بن ابی سلیم ضعیف اور مضطرب الحدیث راوی ہے یہ اختلاط کا شکار تھا اور اس کی روایت میں امتیاز نہیں ہوسکا کہ کون سی اختلاط سے پہلے کی ہیں کون سی بعد کی اس لئے اس کو ترک کر دیا گیا اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ابن حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

صدوق راوی ہے تاہم بہت زیادہ عارضہ اختلاط کا شکار ہوگیا اور اس کی بیان کردہ احادیث میں امتیاز نہیں ہوسکا (کہ کون سی اختلاط سے پہلے کی ہیں اور کون سی بعد کی) جس وجہ سے اسے ترک کر دیا گیا۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

(تقریب التهذیب (اردو) جلد 2، صحفہ 52)۔

امام احمدؒ فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہے یحییٰؒ اور امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے ابنِ حبانؒ کہتے ہیں یہ آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہوگیا تھا امام دار قطنیؒ کہتے ہیں محدثین نے اسے اس حوالے سے منکر قرار دیا ہے کہ اس نے عطاء طاؤس اور مجاہد کو جمع کر دیا تھا ابنِ ادریسؒ کہتے ہیں میں جب بھی اس کے پاس بیٹھا میں نے ایسی بات سنی جو پہلے کبھی نہیں سنی امام یحییٰ بن سعیدؒ کی رائے کسی کے بارے میں اتنی بری نہیں تھی جتنی لیث محمد بن اسحاق اور ہمام کے بارے میں تھی اور کوئی بھی ان کی رائے تبدیل نہیں کر سکتا تھا یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں لیث عطاء سے زیادہ ضعیف ہے۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 5 صحفہ 484،485)۔

ان تمام جروحات سے ثابت ہوتا ہے کہ لیث بن ابی سلیم کی روایت قابل اِستدلال نہیں کیونکہ یہ سخت ضعیف راوی ہے اور اس کو ترک کر دیا گیا تھا اور اختلاط کا شکار تھا جس وجہ سے اس سے منکر روایات منقول ہیں۔

پس ثابت ہوا کہ یہ سند بھی باطل ہے کیونکہ اس کی سند کے دو راوی شریک بن عبد اللّٰہ نخفی اور لیث بن ابی سلیم دونوں اختلاط کا شکار تھے اور ان سے منکر روایات منقول ہیں۔

اس لئے اس روایت کو دلیل بنا کر سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ (معاذ الله) مرتد ہو کر فوت ہوئے کسی صورت جائز نہیں۔

سیدنا امیر معاویہؓ غیر اسلام پر فوت ہوئے (ایک قول کا تحقیقی جائزہ)

شیعہ کی طرف سے سیدنا امیر معاویہؓ کے خلاف ایک قول پیش کیا جاتا ہے جو کہ حافظ علی ابنُ الجعد کی طرف منسوب کیا جاتا ہے قول کچھ یوں ہے:

ابنِ ھانیؒ کہتے ہیں میں نے امام احمد بن حنبلؒ سے سنا اور ان کو دلویه نے بتایا کہ میں نے علی بن جعد کو سُنا انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم سیدنا امیر معاویہؓ اسلام کے علاوہ (کسی مذہب) پر فوت ہوئے۔

(مسائل امام احمد براویة ابنِ ھانی جلد 2 صحفہ 154)۔

اس قول کو پیش کر کے شیعہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اہلِ سنت کے امام علی بن جعد سیدنا امیر معاویہؓ کو مرتد مانتے تھے شیعہ کے اس اعتراض کے جواب میں کئی محققین نے لکھا کہ اُن کا یہ قول تب کا ہے جب وہ شیعہ تھے (کیونکہ علی بن جعد پہلے شیعہ تھے) لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ دلویه نے یہ بات علی بن جعد سے نہیں بلکہ یحییٰ بن عبدالحمید الحمانی سے سُنی جو کہ شیعی و کذاب شخص تھا مسائل امام احمد میں علی بن جعد کے حوالے سے یہ قول ابنِ ھانیؒ کا وہم ہے کیونکہ دلویه نے یہ بات اُن سے نہیں سُنی۔

ذیل میں ملاحظہ فرماٸیں کہ یہ بات دلویه نے یحییٰ بن عبد الحمید سے سُنی ہے نہ کہ علی بن جعد سے۔

امام خطیب بغدادیؒ یحییٰ بن عبدالحمید کے ترجمہ میں اپنی سند سے دلویه کا قول نقل کرتے ہیں کہ:

دلویه نے کہا میں نے یحییٰ بن عبدالحمید کو کہتے ہوئے سُنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اسلام کے علاوہ کسی مذہب پر فوت ہوئے (پھر اس کا رد کرتے ہوئے خود ہی) دلویه نے کہا: اللہ کے اس دشمن نے جھوٹ بولا ہے۔

(تاریخِ بغداد جلد 16 صحفہ 262)۔

امام عقیلیؒ بھی یحییٰ بن عبدالحمید کے ترجمہ میں اپنی سند سے دلویه کا قول نقل کرتے ہیں کہ:

دلویه نے کہا میں نے یحییٰ بن عبدالحمید کو کہتے ہوئے سُنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اسلام کے علاوہ کسی مذہب پر فوت ہوئے۔

(کتاب الضعفاء لعقیلی جلد 4 صحفہ 1542)۔

امام ذھبیؒ نے بھی یحییٰ بن عبدالحمید کے ترجمہ میں دلویه کا قول نقل کیا کہ:

دلویه نے کہا میں نے یحییٰ بن عبدالحمید کو کہتے ہوئے سُنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اسلام کے علاوہ کسی مذہب پر فوت ہوئے۔

(تذہیب تہذیب الکمال فی اسماء الرجال جلد 10 صحفہ 9)۔

امام ذھبیؒ نے دلویه کا یہی قول میزان الاعتدال میں بھی نقل کیا ہے۔

(میزان الاعتدال جلد 6 صحفہ 199)۔

حافظ ابنِ کثیرؒ نے بھی یحییٰ بن عبدالحمید کے ترجمہ میں دلویه کا یہی قول نقل کیا کہ:

دلویه نے کہا میں نے یحییٰ بن عبدالحمید کو کہتے ہوئے سُنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اسلام کے علاوہ کسی مذہب پر فوت ہوئے دلویه نے کہا: اللہ کے اس دشمن نے جھوٹ بولا ہے۔

(التکمیل فی الجرح والتعدیل جلد 2 صحفہ 240)۔

حافظ مزیؒ نے بھی یحییٰ بن عبدالحمید کے ترجمہ میں دلویه کا یہ قول نقل کیا کہ:

دلویه نے کہا میں نے یحییٰ بن عبدالحمید کو کہتے ہوئے سُنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اسلام کے علاوہ کسی مذہب پر فوت ہوئے دلویه نے کہا: اللہ کے اس دشمن نے جھوٹ بولا ہے۔

(تیذیب الکمال فی اسماء الرجال جلد 31 صحفہ 429)۔

علامہ بدر الدین عینیؒ نے بھی یحییٰ بن عبدالحمید کے ترجمہ میں دلویه کا یہ قول نقل کیا کہ:

صفحہ 2 از 3