سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ غیر اسلام پر فوت ہوں گے -…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ غیر اسلام پر فوت ہوں گے

  محمد ذوالقرنین

صفحہ 3 از 3

دلویه نے کہا میں نے یحییٰ بن عبدالحمید کو کہتے ہوئے سُنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اسلام کے علاوہ کسی مذہب پر فوت ہوئے دلویه نے کہا! اللہ کے اس دشمن نے جھوٹ بولا ہے۔

(مغانی الاخیار جلد 3 صحفہ 218)۔

امام ابنِ حجر عسقلانیؒ نے بھی یحییٰ بن عبدالحمید کے ترجمہ میں دلویه کا یہ قول نقل کیا کہ!

دلویه نے کہا میں نے یحییٰ بن عبدالحمید کو کہتے ہوئے سُنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اسلام کے علاوہ کسی مذہب پر فوت ہوئے دلویه نے کہا: اللہ کے اس دشمن نے جھوٹ بولا ہے۔

(تہذیب التہذیب جلد 7 صحفہ 72)۔

اور شیعہ زاکر عباس قمی نے بھی یحییٰ حمانی کے بارے میں لکھتے ہوئے خطیبِ بغدادی کے حوالے سے اس کا یہ قول نقل کیا لکھتا ہے:

اور اس نے کہا سیدنا امیر معاویہؓ اسلام کے علاوہ کسی مذہب پر فوت ہوا۔

(الکنی والالقاب جلد 2 صحفہ 192)۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قول دلویه نے علی بن جعد سے نہیں سُنا بلکہ یحیٰ بن عبدالحمید حمانی سے سُنا ہے اور یحییٰ بن عبدالحمید حمانی خود شیعی اور کذاب ہے ملاحظہ فرماٸیں:

امام ذھبیؒ یحییٰ کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

امام احمدؒ کہتے ہیں یہ کھلم کھلا جھوٹ بولتا تھا امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے ابنِ نمیرؒ کہتے ہیں ابنِ حمانی کذاب ہے یحییٰ بن عبدالحمید نے امام دارمیؒ کی کتابوں سے احادیث چوری کر کے ان کو سلیمان بن بلال سے خود سے نقل کر دیا میں (ذھبیؒ) کہتا ہوں یہ بغض رکھنے والا شیعہ(رافضی) ہے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے۔

(میزان الاعتدال جلد 7 صحفہ 198۔199)

امام ذھبیؒ نے ”المغنی“ میں اس کے بارے میں فرمایا:

یحییٰ بن عبدالحمید منکر الحدیث ہے اور امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں یہ کھلم کھلا جھوٹ بولا کرتا تھا اور امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے۔

(المغنی جلد 2 صحفہ 407)۔

امام ذھبیؒ نے یحییٰ بن عبد الحمید کو ”دیوان الضعفاء والمتروکین“ میں بھی شامل فرمایا اور اس کے بارے میں فرمایا:

امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے امام احمدؒ کہتے ہیں یہ کھلم کھلا جھوٹ بولتا تھا اور احادیث چوری کرتا تھا اور ابنِ نمیرؒ کہتے ہیں یہ کذاب ہے اور جوزجانیؒ کہتے ہیں اس کی حدیث کو ترک کر دیا گیا (پھر امام ذھبیؒ کہتے ہیں) یہ شیعہ ہے جو چاہا کرتا تھا بول دیتا تھا سیدنا امیر معاویہؓ کی تکفیر کرتا تھا۔

(دیوان الضعفاء والمتروکین صحفہ 436)۔

علامہ بدر الدین عینیؒ بھی یحییٰ بن عبدالحمید کے بارے میں فرماتے ہیں:

یہ بغض رکھنے والا شیعہ (رافضی) تھا۔

(مغانی الاخیار جلد 3 صحفہ 218)۔

امام ابنِ جوزیؒ بھی یحییٰ بن عبدالحمید کو ”الضعفاء والمتروکین“ میں شامل کر کے فرماتے ہیں کہ:

ابنِ نمیرؒ کہتے ہیں یہ کذاب ہے اور امام احمدؒ کہتے ہیں کھلم کھلا جھوٹ بولا کرتا تھا احادیث چوری کیا کرتا تھا اور امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے۔

(کتاب الضعفاء والمتروکین جلد 3 صحفہ 197)۔

ان تمام جروحات سے ثابت ہوتا ہے کہ یحییٰ بن عبدالحمید الحمانی ایک شیعہ اور کذاب راوی تھا اس لیے اس کے کسی قول کو اہلِ سنت کے سامنے بطورِ استدلال پیش کرنا بھی کسی صورت جائز نہیں اور شیعہ رجال میں بھی یہ مجہول درجہ کا راوی ہے۔

شیعہ زاکر محمد الجواہری لکھتا ہے:

یحییٰ بن عبدالحمید مجہول ہے۔

(المفید من معجم رجال الحدیث صحفہ 664)۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی طرف منسوب یہ قول دلویه نے حافظ علی بن جعد سے نہیں سُنا اور نہ ہی ان کے شیعہ ہونے کے زمانے کا قول ہے بلکہ ایک شیعی کذاب یحییٰ بن عبدالحمید کا قول ہے اور اُسی سے دلویه نے یہ سُنا اور دلویه نے خود بھی اس کذاب شیعی کا رد یہ کہہ کر کیا کہ ”اللہ کے اس دشمن نے یہ جھوٹ بولا ہے“ اس لیے اس قول کو حافظ علی بن الجعد کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔




صفحہ 3 از 3