Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سینہ کوبی اور چہرہ پیٹنے کی حرمت

  حامد محمد خلیفہ عمان

شیعہ حضرات امام باقر کے اس قول کو دلیل بنا کر اس فعل کے جواز کے قائل ہیں۔

امام باقر کا قول ہے:

’’سخت ترین جزع فزع بلند آواز کے ساتھ واویلا کرنا، سینہ کوبی کرنا، چہرہ پیٹنا، ماتھے کے بال نوچنا وغیرہ ہے۔ جس نے نوحہ کیا اس نے صبر ترک کر دیا اور دوسرے راستے پر چل پڑا۔‘‘ (الکافی: جلد، 3 صفحہ 222-223 ذکری الشیعۃ: صفحہ 71 الوافی: جلد، 3 صفحہ 87)

جبکہ امام صادق رحمۃ اللہ کا قول ہے کہ

’’جس نے مصیب میں ران پر ہاتھ مارا اس کا اجر اکارت جائے گا۔‘‘ (الکافی: جلد، 3 صفحہ 225 ذکری الشیعۃ: صفحہ 71 وسائل الشیعۃ: جلد، 3 صفحہ 914)

جب ران پر ہاتھ مارنے سے اجر ضائع ہو جاتا ہے، تو چہرہ پیٹنے اور سینہ کوبی کرنے سے تو بدرجہ اولیٰ اجر برباد ہو گا۔ کیونکہ اس میں نبی کریمﷺ کی سنت کی مخالفت ہے۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:

’’وہ ہم میں سے نہیں، جو چہرہ پیٹے اور گریبان چاک کرے۔‘‘ (مستدرک الوسائل: جلد، 1 صفحہ 144 جامع احادیث الشیعۃ: جلد، 3 صفحہ 489 قجواہر الکلام: جپد، 4 صفحہ 370)

دکتور محمد تیجانی سماوی شیعی لکھتا ہے کہ امام محمد باقر الصدر سے جب اس حدیث کے بارے پوچھا گیا، تو انہوں نے جواب دیا:

’’اس حدیث کے صحیح ہونے میں کوئی شک نہیں۔‘‘ (ثم اہتدیت: صفحہ 57)

یحییٰ بن خالد سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: کون سی چیز مصیبت کے اجر کو اکارت کر دیتی ہے؟ تو نبی کریمﷺ نے فرمایا:

’’آدمی کا اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر مارنا اور صبر تو صدمہ کے آغاز میں ہی ہوتا ہے، جو راضی رہا اسے رضا ملے گی اور جو ناراض ہوا، اسے ناراضی ملے گی۔‘‘

پھر فرمایا:

’’جس نے سر منڈایا یا آواز بلند کی میں اس سے بری ہوں۔‘‘ (جامع احادیث الشیعۃ: جلد، 3 صفحہ 489)

جعفر بن محمد اپنے دادوں سے اور وہ نبی کریمﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے مصیبت کے وقت چیخنے چلانے سے منع کیا اور نوحہ کرنے سے، اسے سننے اور چہرہ پیٹنے سے منع فرمایا۔ (من لا یحضرہ الفقیہ: جلد، 4 صفحہ 3-4)

محمد بن مکی العاملی کہتا ہے:

’’چہرہ پیٹنا، نوچنا، بال کھینچنا، بالاجماع حرام ہے۔ شیخ نے المبسوط میں یہی کہا ہے، کیونکہ اس میں رب کی تقدیر پر ناراض ہونا ہے۔‘‘ (الذکری: صفحہ 72

شیرازی کہتا ہے کہ

’’چہرہ پیٹنا اور بال نوچنا حرام ہے۔‘‘ (الفقہ: جلد، 15 صفحہ 260)

شیعی عالم دکتور سماوی تیجانی حضرت حمزہ، حضرت خدیجہ اور حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہم پر نبی کریمﷺ کے رونے کو ذکر کرنے کے بعد لکھتا ہے کہ

’’یہ رونا رحمت کا رونا تھا لیکن آپﷺ نے مرنے والے پر چہرہ پیٹ کر، گریبان چاک کر کے، بالوں کو نوچ کر نوحہ کرنے سے منع فرمایا۔ تو پھر زنجیر زنی کے ذریعے نوحہ کرنے کا عالم کیا ہو گا، جو جسم کو خون میں نہلا دیتا ہے۔؟!!‘‘ (کل الحلول: صفحہ 151)

تیجانی کہتا ہے کہ

’’نبی کریمﷺ کے وفات پا جانے کے بعد امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ نے وہ کچھ نہ کیا تھا، جو آج شیعہ کرتے ہیں۔ اسی طرح جناب حسین کریمین رضی اللہ عنہما نے بھی ایسا نہ کیا تھا اور تو اور جناب سجاد نے بھی ایسا نہ کیا، جنہوں نے کربلا کا المیہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور انہوں نے اپنے والد ماجد، چچوں اور سب بھائیوں کو نہایت بے دردی کے ساتھ شہید ہوتے دیکھا اور بقول تیجانی انہوں نے ان مصائب کو دیکھا، جن سے پہاڑ ٹل جائیں، لیکن تاریخ کا ایک ورق بھی اس بات کی شہادت دینے سے قاصر ہے کہ کسی امام نے ان باتوں میں سے کسی کا ارتکاب کیا ہو، یا ان کے کرنے کا اپنے شیعہ کو حکم دیا ہو۔‘‘ (کل الحلول: صفحہ 151 سب تعریفیں اسی اللہ کی ہیں، جس نے اس کم عقل سے یہ کہلوا دیا کہ تاریخ ان باتوں میں سے کسی بات کی شہادت نہیں دیتی)

تیجانی آگے چل کر کہتا ہے:

’’حق تو یہ ہے کہ بعض شیعہ جو یہ افعال کرتے ہیں، ان کا دین سے کوئی واسطہ نہیں۔ چاہے کرتے رہیں مجتہدین اپنا اجتہاد اور دیتے رہیں فتویٰ دینے والے اور چاہے ان افعال کو بے حد اجر و ثواب کا حامل بھی قرار دیتے رہیں ۔ بے شک ان افعال کی حیثیت جذبات، عادات اور رسومات سے زیادہ کی نہیں۔ جن کے پہلے یہ لوگ خود عادی بنے، بعد میں اگلی نسلوں نے اس کو مذہبی ورثہ سمجھ کر اپنا لیا۔ بلاشبہ یہ نسل در نسل اندھی تقلید کا ایک بدترین نمونہ ہے اور انہیں اس کا شعور تک نہیں۔ بلکہ بعض نادان تو زنجیر زنی کے ذریعے اپنا خون بہانے کو قربتِ الٰہی کا قوی ذریعہ سمجھتے ہیں اور بعض یہ گمان رکھتے ہیں کہ جو یہ افعال نہیں کرتا، اسے حسین رضی اللہ عنہ سے کوئی محبت نہیں۔‘‘ (کل الحلول: صفحہ 148)

آگے چل کر تیجانی لکھتا ہے کہ

’’میں ان وحشت انگیز اور نفرت آمیز مناظر پر ذرا بھی مطمئن نہیں، بلاشبہ عقل سلیم ان باتوں سے دور اور نفور ہوتی ہے۔ چنانچہ جب ایک آدمی بدن ننگا کر کے جنونیوں کی طرح چیخ چیخ کر حسین حسین کہتے ہوئے، ہاتھوں میں تیز دھاری زنجیر لے کر اپنا بدن چھلنی کرنے لگتا ہے، تو ایک معتدل مزاج انصاف پسند انسان اس منظر کو دیکھ کر شدید کراہت کرتا ہے اور اس سے بھی زیادہ عجیب تر بات یہ ہے کہ ابھی جو لوگ یوں لگتے تھے کہ حسین کا غم ان کی جان ہی نکال لے گا، لیکن یہ کیا کہ جیسے ہی وہ ماتمی جلوسوں کے اختتام پر اکیلے ہوتے ہیں، تو کمال لا پراوہی سے کھا پی اور ہنس رہے ہوتے ہیں۔ ان کے تمام تر جذبات جو جنون کی حد کو چھو رہے تھے، کیا جلوس کے ختم ہوتے ہی اپنی موت آپ مر گئے؟!! اور اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ غم حسین میں چاقوؤں، خنجروں اور تلواروں سے اپنے بدن چھلنی اور لہو لہو کرنے والے اکثر لوگ پرلے درجے کے بے دین اور بدقماش ہوتے ہیں۔ اسی لیے میں اپنے آپ کو یہ کہنے سے اکثر نہیں روک پاتا کہ تم لوگ جو یہ سب کچھ کرتے ہو، یہ محض ڈھکوسلا اور اندھی تقلید ہے۔‘‘ (کل الحلول: صفحہ 149)

یہ ایک شیعہ مصنف کا اقرار و اعتراف ہے۔ شیخ حسن مغنیہ کا قول بھی اس کے قریب قریب ہے، وہ کہتا ہے:

’’حقیقت یہ ہے کہ چاقو اور خنجر مار کر سروں کو زخمی کرنا اور ان سے خون نکالنا اسلامی احکام میں سے نہیں اور نہ اس بارے کوئی صریح نص ہی آتی ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ یہ ایک اعلی جذبہ ہے جو مومنوں کے دلوں میں جوش مارتا ہے، اس دل فگار اور روح فرسا واقعہ پر جس میں اہل بیت حسین کے پاکیزہ خونوں کو ظلم کر کے بہا دیا گیا۔‘‘ (آداب المنابر: صفحہ 182)

اب ایک طرف حسن مغنیہ یہ کہتا ہے کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ چاقو اور خنجر مار کر سروں کو زخمی کرنا اور ان سے خون نکالنا اسلامی احکام میں سے نہیں۔‘‘

جبکہ ساتھ ہی یہ بھی کہہ جاتا ہے کہ ’’یہ ایک اعلیٰ جذبہ ہے۔‘‘ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ موصوف کے ان دونوں اقوال میں تطبیق کی صورت کیا ہے۔ کیا حسن مغنیہ یہ نہیں جانتا کہ جن باتوں کو وہ ’’اعلی جذبات قرار دے رہا ہے، خود اسی کے بقول یہ بدترین منکرات اور بدعات ہیں۔