سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث نہیں
محمد ذوالقرنینسیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث نہیں
بعض شیعہ امام اسحاق بن راہویہؒ کی طرف منسوب ایک قول اور دیگر علماء کے کچھ اقوال کو بغیر تحقیق و بغیر سمجھے بیان کر کے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان علماء کے نزدیک سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی حدیث ثابت نہیں۔
پہلی دلیل: شیعہ بطور دلیل امام اسحاق بن راہویہؒ کی طرف منسوب قول پیش کرتے ہیں جو کچھ یوں ہے۔
سند:
انبانا زاهر بن طاہر انبانا احمد بن الحسن البيہقی حدثنا ابو عبد اللّٰه الحاكم قال سمعت ابا العباس محمد بن يعقوب بن يوسف يقول سمعت أبی يعقوب بن يوسف يقول سمعت اسحاق بن ابراهيم الحنظلی۔
متن: محدث ابو العباس محمد بن یعقوب اپنے والد (یعقوب بن یوسف) کے حوالے سے نقل کرتے ہیں یعقوب بن یوسف نے امام اسحاق بن راہویہؒ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبیﷺ سے سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی چیز (حدیث) صحیح (سند سے ثابت) نہیں۔
(کتاب الموضوعات لابنِ جوزی (عربی) جلد 2 صحفہ 24)۔
اسناد کا تعاقب: یہ قول ثابت نہیں کیونکہ اس روایت کی سند کا مرکزی راوی یعقوب بن یوسف جو کہ محدث ابو العباس محمد بن یعقوب کا والد ہے مجہول ہے۔
جب تک کسی راوی کی عدالت ثابت نہ ہو تو اس کی روایت سے استدلال کیسے کیا جا سکتا ہے؟
اس کا بیٹا محمد بن یعقوب خود محدث ہے تو والد کا مجہول ہونا اس کی ثقاہت کو اور مشکوک بناتا ہے۔
امام ابنِ عساکرؒ محمد بن یعقوب کے بارے میں فرماتے ہیں۔
یہ مشہور محدث ہے
(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 56 صحفہ 287)۔
جبکہ اس کے والد کے ترجمہ میں اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی اس کے والد کا ترجمہ امام ابنِ عساکرؒ نے تاریخ مدینہ دمشق (عربی) جلد 74 صحفہ 180 پر بیان کیا ہے۔
اس لئے اس قول سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث موجود نہیں یہ جائز نہیں۔
اگر کوئی پھر بھی انکار کرتے ہوئے اس قول کو صحیح مانے تو اس کو چاہیے کہ سب سے پہلے یعقوب بن یوسف بن معقل بن سنان کی ثقاہت ثابت کرے۔
دوسری دلیل: شیعہ اس اعتراض پر دوسری دلیل کے طور پر امام عبد اللّٰہ بن مبارکؒ کی طرف منسوب قول پیش کرتے ہیں جو کچھ یوں ہے۔
سند:
حدثنی الحسين بن على الأسود عن يحيیٰ عن عبداللّٰه بن مبارك قال۔
متن: امام عبد اللہ بن مبارکؒ کہتے ہیں کچھ لوگ سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت کے بارے میں سوال کرتے ہیں حالانکہ سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں اتنا ہی کافی ہے کہ اُن کو چھوڑ دیا جائے (یعنی ان کے بارے میں کوئی سخت بات نہ کی جائے)۔
(انساب الاشراف (عربی) جلد 5 ، صحفه 137)
اسناد کا تعاقب: اس روایت سے استدلال جائز نہیں کیونکہ اس روایت کی سند میں حسین بن علی بن اسود راوی ہے اِس کی روایت پر کلام کیا گیا ہے۔
امام ذھبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
شیخ ابنِ عدیؒ کہتے ہیں یہ حدیث میں سرقہ کا مرتکب ہوتا تھا اس کی نقل کردہ روایات کی متابعت نہیں کی گئی شیخ ابو الفتح ازدیؒ کہتے ہیں یہ انتہائی ضعیف ہے۔
(میزان الاعتدال (عربی) جلد 2 صحفه 350)۔
امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
گیارہویں طبقہ کا صدوق بکثرت خطاء کرنے والا راوی ہے۔
(تقریب التہذیب (رود) جلد 1 صحفہ 189)۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ راوی ضعیف ہے اور روایات میں خطاء کرتا ہے اور اس کی روایات کی متابعت نہیں کی گئی اس لئے اس کی ایسی روایات جن کو بیان کرنے میں یہ منفرد ہو سے استدلال جائز نہیں۔
اس لیے اس قول کو امام عبد اللہ بن مبارکؒ کی طرف منسوب کرنا اور اس سے استدلال کرنا جائز نہیں۔
تیسری دلیل: شیعہ اس اعتراض پر تیسری دلیل کے طور پر امام نسائیؒ کی طرف منسوب قول پیش کرتے ہیں جو کچھ یوں ہے۔
سند:
قال محمد بن اسحاق الاصبهانیؒ سمعت مشايخنا بمصر يقولون۔
متن: محمد بن اسحاق الاصبھانیؒ کہتے ہیں میں نے مصر میں اپنے مشائخ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ امام نسائیؒ نے مصر کو آخری عمر میں چھوڑا تھا اور دمشق چلے گئے تھے اُن سے سیدنا امیر معاویہؓ اور جو کچھ ان کی فضیلت میں روایت کیا گیا ہے کہ بارے میں سوال ہوا تو امام نسائیؒ نے کہا کیا سیدنا امیر معاویہؓ اس پر راضی نہیں کہ وہ برابر برابر نکل جائیں گے (یعنی بخش دیے جائیں گے) چِہ جائے کہ ان کو فضیلت دی جائے اور دوسری روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا میں اُن کی کوئی فضیلت نہیں جانتا سوائے اس حدیث ہے کہ اللّٰہ سیدنا معاویہؓ کا پیٹ نہ بھرے۔
(وفیات الاعیان (عربی) جلد 1 صحفه 77)
روایت کا تعاقب: محمد بن اسحاقؒ نے یہ بات اپنے جن مشائخ سے بیان کی ہے وہ مشائخ کون ہیں ان کے نام کیا ہیں یہ بیان نہیں کیا گیا اس روایت میں محمد بن اسحاقؒ کے مشائخ مجہول ہیں ان کا تعین کیے بغیر امام نسائیؒ کی طرف منسوب اس قول سے استدلال جائز نہیں کیونکہ یہاں اس چیز کی صراحت نہیں ہے کہ وہ مشائخ کون ہیں؟ ان کے نام کیا ہیں؟ ثقہ ہیں یا نہیں؟۔
جبکہ اس قول کے برعکس امام نسائیؒ سے سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں صحیح سند سے جو بات منقول ہے وہ ملاحظہ فرمائیں۔
سند:
أبی الحسن على بن محمد القابسی قال سمعت ابا على الحسن بن ابى بلال يقول سئل ابو عبد الرحمان النسائی۔
متن: امام نسائیؒ سے صحابی رسول سے سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے سوال ہوا تو امام نسائیؒ نے فرمایا اسلام گویا ایک گھر ہے جس کے دروازے ہیں اور اسلام کے دروازے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں پس جس نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اذیت دی اس نے اسلام کو اذیت دی جو دروازہ توڑنا چاہتا ہے وہ گھر میں (زبردستی) داخل ہونا چاہتا ہے پس جو سیدنا امیر معاویہؓ کے درپے ہوتا ہے وہ تمام صحابہ رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کے درپے ہوتا ہے۔
(تہذیب الکمال فی اسماء الرجال (عربی) جلد 1 صحفہ 340 339)۔
امام نسائیؒ کے اس فرمان سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی سیدنا امیر معاویہؓ جلیل القدر صحابی ہیں اور جو ان کی شان میں کوئی نازیبا بات کہے وہ اسلام کا دشمن ہے اس قول سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ امام نسائیؒ کی طرف منسوب اس قول کہ سیدنا امیر معاویہؓ کو فضیلت نہیں دینی چاہیے بھی محض باطل ہے۔
چوتھی دلیل: شیعہ اس اعتراض پر چوتھی دلیل کے طور پر علامہ بدرالدین عینیؒ کا قول پیش کرتے ہیں جو کہ کچھ یوں ہے۔
علامہ عینیؒ کہتے ہیں:
(بخاری) کا باب ذکر سیدنا معاویہؓ فضیلت سیدنا معاویہؓ پر دلالت نہیں کرتا اگر یہ کہا جائے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں تو بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں تو میں کہوں گا ہاں لیکن وہ اسناد کے لحاظ سے صحیح نہیں ہیں اور یہی بات امام ابنِ اسحاقؒ اور امام نسائیؒ نے کی ہے اسی لیے امام بخاریؒ نے ذکر سیدنا معاویہؓ کا باب قائم کیا یہ نہیں کہا کہ فضیلت یا مناقب سیدنا معاویہؓ کا باب۔
(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری (عربی) جلد 16 صحفہ 343)۔
عینیؒ کے قول کا جواب: اول تو علامہ عینیؒ سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت کے منکر نہیں ہیں کیونکہ اس قول سے اوپر کی روایت جو سیدنا ابنِ عباسؓ سے مروی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ وہ خود فقیہ ہیں کے بارے میں علامہ عینیؒ کہتے ہیں
یه روایت سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے جو ان کو نبیﷺ کی صحبت سے حاصل ہوئی۔
(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری (عربی) جلد 16 صحفہ 342)۔
دوسری بات یہ کہ علامہ عینیؒ نے ان منکر و موضوع روایات کا رد کیا ہے جو سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں نواصب نے گھڑی ہیں۔
اور علامہ عینیؒ کو صحیح بخاری میں موجود باب ذکر سیدنا معاویہؓ کے بارے میں خطاء لاحق ہوئی ہے کہ امام بخاریؒ نے ذکر سیدنا معاویہؓ کا باب قائم کیا ہے تو یہ باب فضیلت سیدنا معاویہؓ پر دلالت نہیں کرتا یہ علامہ عینیؒ کی خطاء ہے کیونکہ اگر اس بات کو مانا جائے تو پھر امام بخاریؒ نے دیگر کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں بھی یوں ہی باب قائم کیے ہیں جیسے ذکر سیدنا اسامہ بن زیدؓ ذکر سیدنا ابنِ عباسؓ ذکر سیدنا جریر بن عبد اللّٰہ البجلیؓ ذکر سیدنا حذیفہ بن یمانؓ۔
اب اگر علامہ عینیؒ کی اس بات کو قبول کیا جائے تو اسی طرح ان دوسرے جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن میں سیدنا ابنِ عباسؓ سیدنا حذیفہ بن یمانؓ سیدنا اسامہ بن زیدؓ شامل ہیں ان کے بارے میں بھی یہی کہنا ہوگا کہ یہ باب ان کی فضیلت پر بھی دلالت نہیں کرتا جو کہ ممکن نہیں۔
اور رہی بات کہ علامہ عینیؒ نے امام ابنِ اسحاقؒ اور امام نسائیؒ کا بھی یہی موقف ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو امام ابنِ اسحاقؒ اور امام نسائیؒ کی طرف منسوب ان اقوال کی حقیقت ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔
پانچویں دلیل: شیعہ اپنے اس اعتراض پر پانچواں دلیل کے طور پر امام سیوطیؒ کا قول پیش کرتے ہیں۔
امام سیوطیؒ کہتے ہیں:
امام بخاریؒ نے باب ذکر سیدنا معاویہؓ قائم کیا ہے نہ کہ منقبت (فضیلت سیدنا معاویہؓ) کا کیونکہ سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی صحیح روایت نہیں جیسا کہ امام اسحاقؒ نے کہا ہے۔
(التوشيح شرح الجامع الصحیح (عربی) جلد 6 صحفہ 2379)
سیوطیؒ کے قول کا جواب:
امام سیوطیؒ نے بھی امام اسحاق بن راہویہؒ کے قول کو نقل کیا ہے جس کی حقیقت ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ یہ قول صحیح نہیں اور امام سیوطیؒ نے بھی امام بخاریؒ کے قائم کردہ باب سے وہی استدلال کیا ہے جو علامہ عینیؒ نے کیا اور ہم بیان کر چکے کہ یہ استدلال درست نہیں۔
رہی بات علامہ سیوطیؒ کے نزدیک سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں صحیح احادیث ہونے کی تو اس کا ذکر علامہ سیوطیؒ نے خود کیا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں صحیح احادیث موجود ہیں جیسا کہ انہوں نے خود فرمایا ہے۔
سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں وارد احادیث میں بہت ہی کم احادیث ثابت ہیں (یعنی بہت کم احادیث صحیح سند سے ثابت ہیں)۔
(التاریخ الخلفاء (عربی) صحفه 155)۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام سیوطیؒ کے نزدیک سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں صحیح روایات موجود ہیں اور دوسری کتاب میں انہوں نے جو قول نقل کیا ہے وہ امام اسحاقؒ کی طرف منسوب قول نقل کیا ہے جو ثابت نہیں اور انہوں نے بخاری کے باب کے حوالے سے علامہ عینیؒ والی ہی بات کی جو کہ قابل استدلال نہیں۔
اس سب سے ثابت ہوتا ہے کہ علامہ عینیؒ اور امام سیوطیؒ سیدنا امیر معاویہؓ کے فضیلت کے منکر نہیں تھے انہوں نے بخاری کے باب میں ایک غیر ثابت شدہ قول نقل کیا اور ان کو اس باب سے غلطی لاحق ہوئی کہ اس باب کو فضیلت پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔
اس سب سے ثابت ہوتا ہے کہ اس اعتراض پر پیش کیے جانے والے اقوال جو امام نسائیؒ امام عبد اللہ بن مبارکؒ اور امام محمد بن اسحاق راہویہؒ کی طرف منسوب ہیں وہ سب باطل ہیں اور علامہ عینیؒ اور جلال الدین سیوطیؒ نے بھی یہی اقوال نقل کیے ہیں جن سے استدلال جائز نہیں اور علامہ عینیؒ اور امام سیوطیؒ سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت کے منکر نہیں جیسا کہ ہم اوپر ثابت کر چکے ہیں۔
چھٹی دلیل: بعض شیعہ ابنِ تیمیہ کے دو اقوال بھی بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ ابنِ تیمیہ نے کہا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے اور ان کی فضیلت میں نبیﷺ سے مروی تمام احادیث گھڑی گئی ہیں۔
جیسا کہ ابنِ تیمیہ لکھتے ہے:
ایک گروہ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے فضائل گھڑے ہیں انہوں نے اس سلسلے میں نبیﷺ سے احادیث روایت کی ہیں جو سب کی سب جھوٹی ہیں۔
(منہاج السنة النبوية (عربی) جلد 4 صحفہ 400)
ایک اور مقام پر ابنِ تیمیہ کہتا ہے۔
خصوصاً سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں سوائے ان کا غزوہ تبوک غزوہ حنین اور حجتہ الوادع میں نبیﷺ کے ساتھ ہونے کے اور کاتبِ وحی ہونے کے۔
(منہاج السنة النبوية (عربی) جلد 7 صحفہ 40)۔
ابنِ تیمیہ پر ہمارا موقف: ہمارے لئے ابنِ تیمیہ کے یہ اقوال حجت نہیں اور نہ ہی ابنِ تیمیہ ہمارے نزدیک کوئی معتبر شخصیت ہے ابنِ تیمیہ کے اقوال کے جوابدہ اس کو ماننے والے ہی ہیں ہمارے نزدیک ابنِ تیمیہ ایک بددین اور گمراہ شخص ہے۔
جیسا کہ امام اہلِ سنت امام احمد رضا خان بریلویؒ ایک مسئلہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
کیونکہ اس کا قائل بلاشبہ بدعتی گمراہ ہے ابنِ تیمیہ جو کہ ایک گمراہ ہے اس کا نقل کرنا اس کی تائید کرتا ہے (کہ ابنِ تیمیہ ایک گمراہ شخص ہے)۔
(فتاویٰ رضویہ شریف جلد 27 صحفہ 468)۔
ایک مقام پر روضہ انورﷺ کی زیارت کے لیے سفر کے جواز کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
نبیﷺ کی زیارت و اطراف عالم سے اس کی طرف سفر اعظم قرباتِ الٰہی سے ہے جیسا کہ مدتوں سے شرق و غرب کے مسلمانوں میں معروف ہے آج کل بعض مردود یعنی ابنِ تیمیہ اور اس کے ہوا خواہ شیطان کے سکھائے سے اس میں شک ڈالنے لگے (یعنی اس کو ناجائز قرار دینے لگے ہیں)۔
(فتاویٰ رضویہ شریف (اردو) جلد 10 صحفہ (730)۔
اور ہمارے دیگر ائمہ کا بھی یہی مؤقف ہے کہ ابنِ تیمیہ گمراہ ہے جیسا کہ ابنِ حجر ہیتمیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔
ابنِ تیمیہ وہ بندہ ہے جسے اللّٰہ نے رسوا گمراہ اندھا بہرا اور ذلیل کیا تھا۔
(فتاویٰ حدیثیہ (اردو)، صحفه 335)
جیسا کہ ہم بیان کر چکے کہ ہمارے نزدیک ابنِ تیمیہ ایک گمراہ و بددین شخص ہے اس لیے اس کی کوئی بھی بات ہمارے لئے حُجت نہیں اس کے اقوال کے جوابدہ اس کے متبعین ہی ہیں۔