دس محرم اور سیاہ لباس
حامد محمد خلیفہ عمانشیعہ حضرات عاشوراء کے دن اہتمام کے ساتھ سیاہ لباس پہنتے ہیں، جبکہ خود اس بات کو بھی روایت کرتے ہیں کہ یہ اہل جہنم کا لباس ہے۔ امام صادق سے جب سیاہ ٹوپی پہن کر نماز ادا کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے صاف کہا کہ
’’سیاہ ٹوپی پہن کر نماز ادا مت کرو کہ یہ جہنمیوں کا لباس ہے۔‘‘ (من لا یحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ 162 وسائل الشیعۃ: جلد، 3 صفحہ 281 نجاۃ الامۃ: صفحہ 85)
شیعہ حضرات امیر المومنین سیدنا علی سے ان کے اصحاب کی معرفت یہ روایت کرتے ہیں کہ
’’سیاہ لباس نہ پہنو کہ سیاہ لباس فرعون پہنا کرتا تھا۔‘‘ (من لا یحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ 163 وسائل الشیعۃ: جلد، 3 صفحہ 278 نجاۃ الامۃ: صفحہ 84)
یہ لوگ خود نبی کریمﷺ سے یہ روایت کرتے ہیں کہ
’’تین چیزوں کے سوا سیاہ لباس مت پہنو، عمامہ، موزے اور چادر۔‘‘ (من لا یحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ 163 نجاۃ الامۃ: صفحہ 84)
جبرئیل علیہ السلام سے مروی ہے کہ وہ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ پاس سیاہ چوغہ پہنے اور ایک پٹکا باندھے اترے، جس میں خنجر اڑسا ہوا تھا۔ نبی کریمﷺ نے دریافت فرمایا کہ یہ کیسا حلیہ ہے؟ تو انہوں نے عرض کیا: اے محمد! یہ تیرے چچا عباس کی اولاد کا حلیہ ہے، تمہاری اولاد کے لیے تیرے چچا عباس کی اولاد سے ہلاکت ہو، نبی کریمﷺ اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا:
’’اے میرے چچا! میری اولاد کے لیے تیری اولاد سے ہلاکت ہے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی قوتِ باہ ختم کر دوں؟ تو نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’نہیں! تقدیر کا قلم چل چکا ہے۔‘‘ (من لا یحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ 162 وسائل الشیعۃ: جلد، 3 صفحہ 279 نجاۃ الامۃ: صفحہ 84-85 مستدراک الوسائل: جلد، 1 صفحہ 208)
شیعوں کے شیخ الحاج محمد رضا الحسینی الحائری کہتے ہیں:
’’ہم امامیہ میں یہ بات مشہور ہے، بلکہ اس کی بابت اجماع تک کا دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نماز میں سیاہ لباس پہننا مکروہ ہے بلکہ مطلق مکروہ ہے، البتہ سیاہ عمامہ، موزہ اور چادر پہننے میں کوئی حرج نہیں۔ ’’المعتبر‘‘ میں اس کو ہمارے علماء کی طرف منسوب کیا گیا۔ ’’شرائع، قواعد، ارشاد اور رؤوس‘‘ میں بھی اسی پر اکتفا کیا گیا ہے۔ شیخ مفید اور سالار نے انہی دونوں پر اقتصار کیا ہے، جبکہ ابن حمزہ نے صرف عمامہ پر اقتصار کیا ہے۔ ’’الذکری‘‘ سے منقول ہے کہ سرے سے ان تینوں کا استثناء ہے ہی نہیں۔ ’’کشف اللثام‘‘ میں مذکور ہے کہ
’’ہمارے اصحاب میں سے ابن سعید کے سوا کسی نے بھی چادر کا استثناء نہیں کیا۔‘‘ (نجاۃ الامۃ فی اقامۃ العزاء علی الحسین و الائمۃ: صفحہ 83)
شیخ حائری اپنا کلام ان الفاظ پر ختم کرتے ہیں:
’’ہمارے اصحاب نے ان روایات سے استدلال کر کے سیاہ لباس پہننے کو اور اس میں نماز پڑھنے کو مکروہ کہا ہے اور اس بابت اجماع تک کا دعویٰ کیا ہے۔‘‘ (نجاۃ الامۃ: صفحہ 85)
میں کہتا ہوں کہ جب یہ روایات بھی انہی شیعوں کی ہیں اور اجماع بھی انہی کا ہے، تو پھر اس کے باوجود بھی محرم کے پہلے عشرے میں شیعہ حضرات اس قدر اہتمام سے سیاہ لباس کیوں پہنتے ہیں؟
آخر یہ شیعہ خود اپنی روایات اور اپنے علماء کے منعقدہ اجماع کا احترام کیوں نہیں کرتے؟!!