نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ…

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ پر لعنت کرنا

  محمد ذوالقرنین

صفحہ 1 از 4

نبیﷺ کا سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا ابو سفیانؓ پر لعنت کرنا

شیعہ کی طرف سے اکثر یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ نبیﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا ابوسفیانؓ اور ان کے بھائی پر لعنت کی تھی اس اعتراض پر پانچ روایات بیان کی جاتی ہیں جو مختلف اسناد سے مروی ہیں ذیل میں ان سب کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔

 پہلی روایت:

 سند:

حدثنا خلف حدثنا عبد الوارث عن سعيد بن جميان عن سفينة

 متن: سیدنا سفینہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو ہمارے پاس سے سیدنا ابوسفیانؓ اونٹ پر گزرے ان کے ساتھ سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے بھائی تھے ان میں سے ایک اونٹ کی رسی پکڑ کر آگے چل رہا تھا اور دوسرا اونٹ کے پیچھے چل رہا تھا تو نبیﷺ نے فرمایا جو اس پر سوار ہے اور جو اس کے آگے ہے اور جو اس کے پیچھے ہے سب پر اللہ کی لعنت ہو۔

(انساب الاشراف (عربی) جلد 5 ، صحفہ 136)۔

 اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔

 پہلی علت: اس حدیث کو سعید بن جمہان سفینہ کے طرق سے روایت کر رہا ہے اور سعید بن جمہان کی سفینہ سے روایات کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔

امام ابو داؤدؒ فرماتے ہیں:

سعید بن جمہان ان شاء اللہ ثقہ ہے اور کچھ محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے انہیں اس کے سفینہ والے طریق سے خوف ہے۔

(تہذیب الکمال فی اسماء الرجال (عربی) جلد 10 صحفه 377)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سعید بن جمہان کی سیدنا سفینہؓ کے حوالے سے کی گئی روایات پر کلام کیا گیا ہے اور اس کی تفصیل دوسری علت میں ملاحظہ فرمائیں۔

 دوسری علت: اس روایت کی دوسری علت اس میں سعید بن جمہان کا تفرد ہے کیونکہ سعید بن جمہان منفرد روایات بیان کرتا ہے اور اس کی منفرد روایات قبول نہیں کی جائیں گی۔

امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

سعید چوتھے طبقہ کا صدوق راوی ہے اس سے منفرد روایات مروی ہیں۔

(تقریب التہذیب (اردو) جلد 1 صحفه 313)

امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں تفصیل سے فرماتے ہیں امام ابو حاتمؒ کہتے ہیں اس کی روایت لکھی جائے گی لیکن حجت قائم نہیں کی جائے گی امام بخاریؒ فرماتے ہیں اس کی حدیثیں عجیب ہیں امام ساجیؒ فرماتے ہیں اس کی حدیث کی اتباع نہیں کی گئی ۔

(تہذیب التہذیب (عربی) جلد 3صحفه 267)

امام ذھبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

سعید بن جمہان صالح الحدیث ہے لیکن اس سے احتجاج (یعنی روایت کو بطور دلیل قبول) نہیں کیا جائے گا۔

(ديوان الضعفاء والمتروکین (عربی) صحفہ 156)۔

امام ذھبیؒ اس کے بارے میں آخری حکم لگاتے ہوئے لکھتے ہیں:

یه اوسط درجہ کا صدوق ہے ابو حاتمؒ فرماتے ہیں اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا۔

(الكاشف للذهبی (عربی) جلد 1 صحفه 433)۔

امام ذھبیؒ صدوق راوی کی منفرد روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:

اگر کوئی ثقہ راوی کسی روایت کو نقل کرنے میں منفرد ہو تو اس کی روایت صحیح غریب کہلاتی ہے اور اگر صدوق راوی کسی روایت کو نقل کرنے میں منفرد ہو تو اس کی روایت منکر ہوتی ہے اور جب کوئی راوی بکثرت ایسی روایات نقل کرنا شروع کر دے جس کی متابعت نہ ملے تو راوی متروک الحدیث قرار پائے گا۔

(میزان الاعتدال (عربی) جلد 5 صحفہ 170) 

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ سعید بن جمہان کی روایات جن میں وہ منفرد ہے قابلِ قبول نہیں اور نہ ہی اس کی روایت سے حجت قائم کی جاسکتی ہے اور اس کی منفرد روایت منکر قرار پائے گی۔

امام بخاریؒ نے خود اس کی روایت کی تردید یہ کہہ کر کی ہے کہ اس کی متابعت نہیں کی گئی۔

امام بخاریؒ سعید بن جمہان کی سیدنا سفینہؓ کے طرق سے روایت نقل کرتے ہیں کہ

نبیﷺ نے فرمایا میرے بعد سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سیدنا و عثمانؓ خلیفہ ہوں گے (امام بخاریؒ فرماتے ہیں ) اس کی متابعت نہیں کی گئی کیونکہ سیدنا عمرؓ نے فرمایا کہ نبیﷺ نے ہم پر کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا (پھر امام بخاریؒ فرماتے ہیں) سعید سے پوچھا گیا تم نے سیدنا سفینہؓ سے ملاقات کی ہے؟ تو اس نے کہا میں سیدنا سفینہؓ سے مکہ میں ملا میں ان کے پاس آٹھ راتیں رہا اور نبیﷺ کی حدیث کے بارے میں پوچھتا رہا۔

التاريخ الكبير للبخاری (عربی) (جلد 3 صحفہ 117)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاریؒ کے نزدیک بھی سعید بن جمہان کی وہ روایات جن کی متابعت نہیں کی گئی وہ باطل ہیں۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت باطل و منکر ہے اور اس کو دلیل بنا کر سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں ایسے ملعون الفاظ کہنا حرام ہے۔

ایسی ایک روایت مسند البزار کے اندر بھی سعید بن جمہان عن سفینہ کے طرق سے مروی ہے اور وہ روایت بھی اسی وجہ سے باطل ہے اور اس کی سند میں ایک مجہول راوی سکن بن سعید بھی ہے لیکن اس میں جن پر لعنت کی گئی ان کے نام منقول نہیں ہیں۔

(مسند البزار (عربی) جلد 9 روایت 3839)

اور تاریخِ طبری کے اندر بھی یہ روایت بلاسند منقول ہے جس سے معلوم ہوتا ہے یہ روایت کسی ایک کتاب میں بھی کسی صحیح سند کے ساتھ منقول نہیں جس وجہ سے اس سے استدلال حرام ہے۔

 دوسری روایت: اسی روایت سے ملتی جلتی ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ سیدنا حسنؓ نے بھی یہ فرمایا تھا کہ نبیﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا ابو سفیانؓ پر لعنت کی ہے روایت کچھ یوں ہے۔

 سند:

حدثنا زكريا بن يحيىٰ الساجی حدثنا محمد بن بشار ابتدار حدثنا عبد الملك بن الصباح المسمعى حدثنا عمران بن حدير اظنه عن ابی مجلز قال قال عمرو بن العاصؓ۔

 متن: (طویل روایت ہے جس میں ہے کہ) سیدنا حسنؓ منبر پر تشریف لائے اللّٰہ کی حمد و ثناء کر کے کہا اے سیدنا عمرو بن العاصؓ اور اے سیدنا مغیرہؓ اللّٰہ کی قسم کیا تم جانتے ہو کہ نبیﷺ نے فرمایا تھا اللّٰه کی لعنت ہو (اونٹ کو) آگے سے پکڑ کر چلانے والے (سیدنا معاویہؓ) پر اور سوار ہونے والے (سیدنا ابو سفیان ) پر اور ان میں سے ایک فلاں ( سیدنا معاویہؓ) ہے ؟ دونوں نے کہا جی ہاں۔ 

(معجم الكبير للطبرانی (عربی) جلد 3 روایت 2698)۔

 اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔

صفحہ 1 از 4