Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نبیﷺ کا سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا ابو سفیانؓ پر لعنت کرنا

  محمد ذوالقرنین

نبیﷺ کا سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا ابو سفیانؓ پر لعنت کرنا

شیعہ کی طرف سے اکثر یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ نبیﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا ابوسفیانؓ اور ان کے بھائی پر لعنت کی تھی اس اعتراض پر پانچ روایات بیان کی جاتی ہیں جو مختلف اسناد سے مروی ہیں ذیل میں ان سب کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔

 پہلی روایت:

 سند:

حدثنا خلف حدثنا عبد الوارث عن سعيد بن جميان عن سفينة

 متن: سیدنا سفینہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو ہمارے پاس سے سیدنا ابوسفیانؓ اونٹ پر گزرے ان کے ساتھ سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے بھائی تھے ان میں سے ایک اونٹ کی رسی پکڑ کر آگے چل رہا تھا اور دوسرا اونٹ کے پیچھے چل رہا تھا تو نبیﷺ نے فرمایا جو اس پر سوار ہے اور جو اس کے آگے ہے اور جو اس کے پیچھے ہے سب پر اللہ کی لعنت ہو۔

(انساب الاشراف (عربی) جلد 5 ، صحفہ 136)۔

 اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔

 پہلی علت: اس حدیث کو سعید بن جمہان سفینہ کے طرق سے روایت کر رہا ہے اور سعید بن جمہان کی سفینہ سے روایات کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔

امام ابو داؤدؒ فرماتے ہیں:

سعید بن جمہان ان شاء اللہ ثقہ ہے اور کچھ محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے انہیں اس کے سفینہ والے طریق سے خوف ہے۔

(تہذیب الکمال فی اسماء الرجال (عربی) جلد 10 صحفه 377)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سعید بن جمہان کی سیدنا سفینہؓ کے حوالے سے کی گئی روایات پر کلام کیا گیا ہے اور اس کی تفصیل دوسری علت میں ملاحظہ فرمائیں۔

 دوسری علت: اس روایت کی دوسری علت اس میں سعید بن جمہان کا تفرد ہے کیونکہ سعید بن جمہان منفرد روایات بیان کرتا ہے اور اس کی منفرد روایات قبول نہیں کی جائیں گی۔

امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

سعید چوتھے طبقہ کا صدوق راوی ہے اس سے منفرد روایات مروی ہیں۔

(تقریب التہذیب (اردو) جلد 1 صحفه 313)

امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں تفصیل سے فرماتے ہیں امام ابو حاتمؒ کہتے ہیں اس کی روایت لکھی جائے گی لیکن حجت قائم نہیں کی جائے گی امام بخاریؒ فرماتے ہیں اس کی حدیثیں عجیب ہیں امام ساجیؒ فرماتے ہیں اس کی حدیث کی اتباع نہیں کی گئی ۔

(تہذیب التہذیب (عربی) جلد 3صحفه 267)

امام ذھبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

سعید بن جمہان صالح الحدیث ہے لیکن اس سے احتجاج (یعنی روایت کو بطور دلیل قبول) نہیں کیا جائے گا۔

(ديوان الضعفاء والمتروکین (عربی) صحفہ 156)۔

امام ذھبیؒ اس کے بارے میں آخری حکم لگاتے ہوئے لکھتے ہیں:

یه اوسط درجہ کا صدوق ہے ابو حاتمؒ فرماتے ہیں اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا۔

(الكاشف للذهبی (عربی) جلد 1 صحفه 433)۔

امام ذھبیؒ صدوق راوی کی منفرد روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:

اگر کوئی ثقہ راوی کسی روایت کو نقل کرنے میں منفرد ہو تو اس کی روایت صحیح غریب کہلاتی ہے اور اگر صدوق راوی کسی روایت کو نقل کرنے میں منفرد ہو تو اس کی روایت منکر ہوتی ہے اور جب کوئی راوی بکثرت ایسی روایات نقل کرنا شروع کر دے جس کی متابعت نہ ملے تو راوی متروک الحدیث قرار پائے گا۔

(میزان الاعتدال (عربی) جلد 5 صحفہ 170) 

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ سعید بن جمہان کی روایات جن میں وہ منفرد ہے قابلِ قبول نہیں اور نہ ہی اس کی روایت سے حجت قائم کی جاسکتی ہے اور اس کی منفرد روایت منکر قرار پائے گی۔

امام بخاریؒ نے خود اس کی روایت کی تردید یہ کہہ کر کی ہے کہ اس کی متابعت نہیں کی گئی۔

امام بخاریؒ سعید بن جمہان کی سیدنا سفینہؓ کے طرق سے روایت نقل کرتے ہیں کہ

نبیﷺ نے فرمایا میرے بعد سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سیدنا و عثمانؓ خلیفہ ہوں گے (امام بخاریؒ فرماتے ہیں ) اس کی متابعت نہیں کی گئی کیونکہ سیدنا عمرؓ نے فرمایا کہ نبیﷺ نے ہم پر کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا (پھر امام بخاریؒ فرماتے ہیں) سعید سے پوچھا گیا تم نے سیدنا سفینہؓ سے ملاقات کی ہے؟ تو اس نے کہا میں سیدنا سفینہؓ سے مکہ میں ملا میں ان کے پاس آٹھ راتیں رہا اور نبیﷺ کی حدیث کے بارے میں پوچھتا رہا۔

التاريخ الكبير للبخاری (عربی) (جلد 3 صحفہ 117)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاریؒ کے نزدیک بھی سعید بن جمہان کی وہ روایات جن کی متابعت نہیں کی گئی وہ باطل ہیں۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت باطل و منکر ہے اور اس کو دلیل بنا کر سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں ایسے ملعون الفاظ کہنا حرام ہے۔

ایسی ایک روایت مسند البزار کے اندر بھی سعید بن جمہان عن سفینہ کے طرق سے مروی ہے اور وہ روایت بھی اسی وجہ سے باطل ہے اور اس کی سند میں ایک مجہول راوی سکن بن سعید بھی ہے لیکن اس میں جن پر لعنت کی گئی ان کے نام منقول نہیں ہیں۔

(مسند البزار (عربی) جلد 9 روایت 3839)

اور تاریخِ طبری کے اندر بھی یہ روایت بلاسند منقول ہے جس سے معلوم ہوتا ہے یہ روایت کسی ایک کتاب میں بھی کسی صحیح سند کے ساتھ منقول نہیں جس وجہ سے اس سے استدلال حرام ہے۔

 دوسری روایت: اسی روایت سے ملتی جلتی ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ سیدنا حسنؓ نے بھی یہ فرمایا تھا کہ نبیﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا ابو سفیانؓ پر لعنت کی ہے روایت کچھ یوں ہے۔

 سند:

حدثنا زكريا بن يحيىٰ الساجی حدثنا محمد بن بشار ابتدار حدثنا عبد الملك بن الصباح المسمعى حدثنا عمران بن حدير اظنه عن ابی مجلز قال قال عمرو بن العاصؓ۔

 متن: (طویل روایت ہے جس میں ہے کہ) سیدنا حسنؓ منبر پر تشریف لائے اللّٰہ کی حمد و ثناء کر کے کہا اے سیدنا عمرو بن العاصؓ اور اے سیدنا مغیرہؓ اللّٰہ کی قسم کیا تم جانتے ہو کہ نبیﷺ نے فرمایا تھا اللّٰه کی لعنت ہو (اونٹ کو) آگے سے پکڑ کر چلانے والے (سیدنا معاویہؓ) پر اور سوار ہونے والے (سیدنا ابو سفیان ) پر اور ان میں سے ایک فلاں ( سیدنا معاویہؓ) ہے ؟ دونوں نے کہا جی ہاں۔ 

(معجم الكبير للطبرانی (عربی) جلد 3 روایت 2698)۔

 اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔

 پہلی علت: اس روایت کا راوی عمران بن حدیر اس روایت کو اظنہ کے صیغہ سے روایت کر رہا ہے یعنی راوی کو یقین نہیں کہ یہ روایت ابو مجلز نے ہی بیان کی ہے بلکہ اس کو یہ شک ہے کہ شاید یہ روایت ابو مجلز نے ہی بیان کی ہو تو ایسی روایت جس میں راوی کو یقین نہیں کہ اس روایت کو بیان کس نے کیا ہے کو کیسے قبول کیا جاسکتا ہے؟ اور اس کی بنیاد پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن کس طرح جائز ہوسکتا ہے؟

 دوسری علت: اس روایت کا راوی ابو مجلز لاحق بن حمید مدلس ہے ارسال کرتا ہے اور یہ راوی قال کے صیغہ سے ارسال کرتا ہے اور اس کی حدیث میں اضطراب بھی پایا جاتا ہے۔

جیسا کہ امام ابنِ حجرؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

امام ابنِ معینؒ کہتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہے۔

(تہذیب التہذیب (عربی) جلد 6 صحفہ 768)

امام ابنِ حجرؒ اس کی ایک روایت جو اس نے ابوجہل سے قال کے صیغہ سے نقل کی ہے کے بارے میں فرماتے ہیں۔

ابو مجلز جو کہ مشہور تابعی ہیں وہ کہتے ہیں کہ (قال ابوجہل) ابوجہل نے کہا (پھر ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں) یہ مرسل ہے۔

(فتح الباری بشرح صحیح البخاری (عربی) جلد 7 صحفہ 344)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لاحق بن حمید ثقہ تو ہے لیکن یہ ارسال کرتا ہے اور یہ قال کے صیغہ سے ارسال کرتا ہے اور اس کی روایات میں اضطراب بھی پایا جاتا ہے۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی ثابت نہیں، اور عمران بن حدیر کو یقین بھی نہیں کہ اس کو بیان کرنے والا راوی کون ہے محض اُس کے ظن کی بنیاد پر کے شاید اُس نے اس روایت کو ابو مجلز سے سنا ہو اس روایت کو قبول نہیں کیا جا سکتا اس لئے یہ روایت بھی باطل ہے۔

 تیسری روایت:

ایسی ہی ایک اور روایت بیان کی جاتی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا ابوسفیانؓ مسجد سے اٹھ کر باہر نکل گئے تو نبیﷺ نے ان پر لعنت کی یہ روایت تین اسناد سے مروی ہے ملاحظہ فرمائیں۔

 پہلی سند:

اخبرت عن ابی مالك كثير بن يحيىٰ قال حدثنا غسان بن مضر قال حدثنا سعيد بن يزيد عن نصر بن عاصم الليثی عن أبيه قال۔

 متن: عاصم اللیثی کہتا ہے کہ میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہہ رہے تھے ہم اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کے غضب سے پناہ مانگتے ہیں میں نے پوچھا کیا ہوا ہے؟ تو وہ بولے سیدنا معاویہؓ اپنے والد کا ہاتھ پکڑ کر مسجد سے باہر نکل گئے جبکہ رسول اللہﷺ منبر پر تھے پس رسول اللہﷺ نے ان کے متعلق کچھ کہا۔

(طبقات ابنِ سعد (عربی) جلد 7 صحفہ 54،55)

طبقات ابنِ سعد کی روایت میں لعنت کا ذکر نہیں ہے اور معجم الکبیر کی روایت میں مسجد سے باہر نکلنے والوں کا نام نہیں ہے لیکن اس میں لعنت کے الفاظ ہیں وہ روایت کچھ یوں ہے۔

 دوسری سند:

حدثنا عبد الرحمٰن بن الحسين الصابونى التسترى حدثنا عقبه بن سنان الدراع قال حدثناغسان بن مضر عن سعيد بن يزيد ابی سلمة عن نصر بن عاصم الليثی عن أبيه۔

متن: عاصم اللیثی کہتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہہ رہے تھے ہم اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کے غضب سے پناہ مانگتے ہیں میں نے پوچھا کیا ہوا ہے؟ تو وہ بولے ایک شخص کھڑا ہوا اور اپنے والد کا ہاتھ پکڑ کر مسجد سے باہر چلا گیا جبکہ رسول اللّٰہﷺ منبر پر تھے پس رسول اللّٰہﷺ نے ان کے متعلق فرمایا لعنت ہو آگے چلنے والے اور اس کے پیچھے چلنے والے پر وایے ہے اس امت پر فلاں موٹی سرین والے کی وجہ سے۔

 پہلی سند کا تعاقب: (معجم الكبير للطبرانی (عربی) جلد 17 صفحہ 176)

طبقات ابنِ سعد کی روایت کی سند میں دو علتیں ہیں۔

 پہلی علت: اس روایت کے مرکزی راوی عاصم اللیثی جو کہ صحابی معلوم ہوتے ہیں لیکن ان کی صحابیت میں اختلاف ہے بعض علماء نے ان کی صحابیت کا انکار کیا ہے اور اس روایت کا سماع نبیﷺ سے ہونے اور

عاصم اللیثی کی صحابیت کو مشکوک قرار دیا ہے۔

جیسا کہ امام ابنِ حجرؒ کہتے ہیں کہ امام بغویؒ نے اس روایت کے بارے میں فرمایا۔

مجھے نہیں معلوم کہ عاصم صحابی ہے یا نہیں (یعنی ان کا صحابی ہونا مشکوک ہے )

(الاصابة فی تمييز الصحابة (عربی) جلد 5 صحفه 488)

اور امام ابنِ عبد البرؒ بھی اس روایت کے متعلق احمد بن زہیر کا قول نقل فرماتے ہیں کہ احمد بن زہیر کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ عاصم نے یہ روایت نبیﷺ سے سنی ہے یا نہیں۔

(الاستيعاب في معرفة الاصحاب (عربی) جلد 5 صحفہ 520)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عاصم اللیثی کی صحابیت مشکوک ہے اور بعض حضرات نے اس روایت کے سماع کا انکار کیا ہے۔

 دوسری علت: اس روایت کا راوی کثیر بن یحییٰ شیعہ ہے اور اس سے منکر روایات منقول ہیں اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذھبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

یہ شیعہ ہے عباس عنبری نے لوگوں کو اس سے استفادہ کرنے سے روک دیا تھا ازدی کہتے ہیں اس کے حوالے سے منکر روایات منقول ہیں۔

(میزانُ الاعتدال (اردو) جلد 5 صفحه 473)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس راوی کی روایت سے استدلال جائز نہیں کیونکہ اس سے منکر روایات منقول ہیں اور اس وجہ سے حافظ عباس عنبری نے لوگوں کو اس سے استفادہ کرنے سے بھی روک دیا تھا۔

 دوسری سند کا تعاقب: معجم الکبیر کی روایت کا راوی عبد الرحمٰن بن الحسین الصابونی التستری مجہول ہے اس کا ترجمہ اسماء ورجال کی کسی کتاب میں موجود نہیں اس لئے اس کی روایت سے بھی استدلال جائز نہیں۔

یاد رہے معجم الکبیر میں یہاں عبد الرحمٰن بن الحسین العابوری لکھا ہوا ہے جو کہ غلطی ہے اصل راوی الصابونی ہی ہے جو کہ دیگر روایات میں بھی موجود ہے۔

 تیسری سند:

حدثنا ابو عمرو بن حمدان حدثنا الحسن بن سفيان حدثنا محمد بن عبد الرحمٰن العلاف حدثنا غسان بن مضر حدثنا سعيد بن يزيد الطائی عن نصر بن عاصم الليثی عن أبيه۔

 اسناد کا تعاقب: (معرفة الاصحابة لابی نعیم (عربی) جلد 4 روایت 5378)

اس روایت میں بھی ان اشخاص کا نام موجود نہیں اور یہ سند بھی صحیح نہیں کیونکہ اس کی سند میں بھی ایک راوی محمد بن عبد الرحمٰن بن العلاف مجہول ہے اس کو امام ابنِ حبانؒ نے الثقات میں شامل کیا ہے لیکن اہلِ علم جانتے ہیں کہ امام ابن حبانؒ راویوں کی توثیق میں تساہل ہیں اور وہ مجہول راویوں کو بھی ثقہ کہہ دیتے ہیں اس لئے ان کی توثیق راوی کی عدالت ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایات ثابت نہیں اگر کوئی عاصم اللیثی کی صحابیت کا قائل بھی ہے تب بھی یہ روایت ثابت نہیں کیونکہ اس کی تمام اسناد میں مجہول و شیعہ راوی موجود ہیں اور مجہول و شیعہ راویوں کی روایات سے استدلال جائز نہیں۔

 چوتھی روایت: اسی اعتراض پر بیان کی جانے والی چوتھی روایت بھی کچھ ایسی ہی ہے جو کہ دو اسناد سے مروی ہے۔

 پہلی سند:

حدثنا على بن سعيد الرازى قال حدثنا عبد الرحمن بن سلم الرازي قال حدثنا سلمه بن الفضل عن محمد بن اسحاق عن سلمة بن كهيل عن ابراهيم بن البراء عن ابيه (البراء بن عازب)

 متن: سیدنا براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوسفیانؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ نبیﷺ کے پیچھے سے گزرے سیدنا امیر معاویہؓ بڑی سرین والے شخص تھے تو نبیﷺ نے فرمایا اللّٰه کی لعنت ہو بڑی سرین والے شخص (یعنی سیدنا امیر معاویہؓ) پر۔

(معجم الاوسط للطبرانی (عربی) جلد 4 روایت 3994)۔ 

 اسناد کا تعاقب: اس سند میں تین علتیں ہیں۔

 پہلی علت: اس روایت کا راوی سلمہ بن فضل ضعیف ہے اور اس سے منکر روایات منقول ہیں۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

یہ رے (تہران) کا قاضی تھا، اس نے ابنِ اسحاق سے روایات نقل کی ہیں ابنِ راہویہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام بخاریؒ فرماتے ہیں اس کی روایات میں سے بعض منکر ہیں علی بن مدینیؒ کہتے ہیں ہم لوگ رے سے تب تک نہیں نکلے جب تک ہم نے سلمہ کی نقل کردہ روایات پھینک نہیں دیں امام ابوحاتمؒ کہتے ہیں اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا۔

(میزان الاعتدال (ارود) جلد 3 صفحہ 270)۔

امام ذھبیؒ اس کو دیوان الضعفاء میں شامل کر کے فرماتے ہیں:

اسحاق بن راہویہ وغیرہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔

(ديوان الضعفاء والمتروکین (عربی) صفحه (169)

امام نسائیؒ نے بھی اس کو الضعفاء میں شامل کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی ان کے نزدیک بھی ضعیف ہے کہتے ہیں۔

سلمہ بن فضل ابو عبداللہ ضعیف ہے ابنِ اسحاق سے روایت کرتا ہے:

(كتاب الضعفاء والمتروكين للنسائی (عربی) صحفه 118)۔

امام ابنِ جوزیؒ نے بھی اس کو الضعفاء میں شامل کیا ہے کہتے ہیں:

سلمه بن فضل ابنِ اسحاق سے روایت کرتا ہے ابنِ راہویہؒ اور نسائیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے اور علی بن مدینیؒ کہتے ہیں ہم نے اس کی احادیث پھینک دیں اور بخاریؒ کہتے ہیں اس سے منکر روایات منقول ہیں۔

(كتاب الضعفاء والمتروکین (عربی) جلد 2 صحفہ 11)

اور امام طبرانیؒ نے یہ روایت نقل کر کے خود اس کے بارے میں کہا ہے کہ سلمہ بن فضل اس کو روایت کرنے میں منفرد ہے کہتے ہیں۔

یہ روایت ابراہیم بن البراء سے سلمہ بن کھیل کے علاؤہ کسی نے نقل نہیں کی اور نہ ہی سلمہ بن فضل سے ابنِ اسحاق کے علاؤہ کسی نے اور اس میں سلمہ بن فضل منفرد ہے۔

(معجم الاوسط للطبرانی (عربی) جلد 4 روایت 3994)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کو نقل کرنے میں سلمہ بن فضل منفرد ہے اس لئے یہ روایت بھی منکر ہے۔

 دوسری علت: اس روایت کی دوسری علت اس میں محمد بن اسحاق کی تدلیس ہے (محمد بن اسحاق عن سلمہ بن کھیل) اور محمد بن اسحاق چوتھے طبقہ کا مدلس ہے اور جب تک چوتھے طبقے کا مدلس سماع کی تصریح نہ کرئے اس کے بارے میں آئمہ کا اتفاق ہے کہ ان کی روایت ہرگز قبول نہیں کی جاسکتی جیسا کہ ابنِ حجرؒ ابنِ اسحاق کو چوتھے طبقہ کے مدلسین میں شامل کر کے فرماتے ہیں۔

محمد بن اسحاق ضعفاء اور مجہولین سے تدلیس کرنے میں مشہور ہے۔

(تعریف اهل التقديس بمراتب الموصوفين بالتدلیس (عربی) صحفه 51)۔

اور چوتھے طبقہ کے مدلسین کی معنن کے بارے میں امام ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں:

یہ وہ ہیں جن (کی معنن) کے بارے میں اتفاق ہے کہ ان کی حدیث سے ہرگز احتجاج نہیں کیا جاسکتا جب تک یہ سماع کی تصریح نہ کریں یہ کثرت سے ضعفاء اور مجہولین سے تدلیس کرتے ہیں۔

(تعریف اہلِ التقديس بمراتب الموصوفين بالتدلیس (عربی) صحفه 14)

اس لئے محمد بن اسحاق کی معنن سے استدلال جائز نہیں جب تک سماع کی تصریح نہ کرئے۔

 تیسری علت:

اس روایت کی سند میں بھی اضطراب ہے۔

معجم الاوسط کی سند کچھ یوں ہے۔

انا سلمه بن الفضل عن محمد بن اسحاق عن سلمة بن كهيل عن ابراهيم بن البراء جبکہ یہی روایت جب تاریخِ دمشق میں نقل کی گئی اس کی سند وہاں کچھ یوں ہے۔

سلم بن الفضل حدثنا سلمة بن كهيل حدثنی محمد بن اسحاق عن ابراهيم بن البراء۔

(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 59 صحفہ 204)

یہاں سند میں اضطراب واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ منجم الکبیر کی سند میں سلمہ بن فضل محمد بن اسحاق سے اور وہ سلمہ بن کھیل سے اور وہ ابراہیم بن براء سے روایت کر رہا ہے جبکہ تاریخ دمشق کی روایت میں سلمہ بن فضل سلمہ بن کھیل سے اور وہ محمد بن اسحاق سے اور وہ ابراہیم بن براء سے روایت کر رہا ہے۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی باطل منکر ہے اس سے استدلال کسی صورت جائز نہیں۔

 دوسری سند: سیدنا براء بن عازبؓ کی روایت کی ایک دوسری سند جو کہ نصر بن مزاحم نے اپنی کتاب واقعہ صفین میں لکھی ہے کچھ یوں ہے ۔

 سند:

عبد الغفار بن القاسم عن عدی بن ثابت عن البراء بن عازبؓ قال

 متن: سیدنا براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوسفیانؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ گزرے تو نبیﷺ نے فرمایا اللّٰه کی لعنت ہو تابع اور متبوع پر اور اللّٰہ کی لعنت ہو اقیعس پر تو ابنِ البراء نے اپنے والد سیدنا براء بن عازبؓ سے پوچھا اقیعس کون ہے؟ تو انہوں نے کہا سیدنا امیر معاویہؓ۔

(وقعة صفین (عربی) صحفه 218)۔

 اسناد کا تعاقب: اول تو اس کتاب اور اس کے مصنف کی کیا حیثیت ہے یہ اس کتاب کے آخری باب میں آپ ملاحظہ فرمائیں گے۔

اور اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں۔

پہلی علت:

اس روایت کا راوی ابو مریم عبد الغفار بن قاسم شیعہ کذاب و متروک الحدیث ہے۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

یہ شیعہ ہے ثقہ نہیں ہے علی بن مدینیؒ کہتے ہیں یہ احادیث ایجاد کرتا ہے شیعہ کے اکابرین میں سے ہے امام بخاریؒ کہتے ہیں یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے عبد الواحد نے عبدالغفار کو کہا تو جھوٹ بولتا ہے اللّٰہ سے ڈر تو اس نے کہا اللّٰه سے ڈرو تم مجھے جھٹلا رہے ہو امام ابو داؤدؒ کہتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں ابو مریم کذاب ہے امام ابوحاتمؒ امام نسائیؒ اور دیگر حضرات نے اسے متروک الحدیث قرار دیا ہے امام شعبہؒ نے اسے ترک کردیا تھا۔

(میزان الاعتدال (ارود) جلد 4 صحفہ (342)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبد الغفار بن قاسم کذاب شیعہ راوی ہے اور اس کی روایت کسی صورت قابل قبول نہیں۔

 دوسری علت: اس روایت کا دوسرا راوی عدی بن ثابت اپنی ذات کے اعتبار سے تو ثقہ ہے لیکن یہ بھی شیعہ ہے جیسا کہ امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں

یہ اہلِ تشیع کا عالم ہے اُن کا سچا فرد اُن کا واعظ اور ان کی مسجد کا امام تھا امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ غالی شیعہ ہے لیکن ثقہ ہے۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 5 صحفہ 102)

اور اصول حدیث کے مطابق وہ ثقہ شیعہ جو شیعہ ہو اس کی وہ روایات جو اس کے مذہب کو تقویت دیں قابلِ قبول نہیں۔

اور یہ روایت ویسے بھی موضوع ہے اس کا راوی عبد الغفار بن قاسم کذاب و متروک الحدیث ہے اس لئے اس روایت سے استدلال قطعاً جائز نہیں اور اس کتاب وقعة صفین اور اس کے مصنف نصر بن مزاحم کی حقیقت کتاب کے آخری باب میں ملاحظہ فرمائیں۔

 پانچویں روایت: شیعہ اسی قسم کی ایک اور روایت پیش کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے تین لوگوں پر جو کہ ایک جانور پر سوار تھے لعنت کی اور کہتے ہیں کہ ان سے مراد سیدنا ابوسفیانؓ سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے بھائی ہیں جبکہ اس روایت میں ان کے نام موجود نہیں لیکن شیعہ کہتے ہیں کہ دیگر روایات جن میں نام ہیں (اور ہم ثابت کر چکے کہ وہ روایات موضوع ہیں) یہ روایت بھی انہی کی شاہد ہے وہ روایت کچھ یوں ہے۔

 سند:

حدثنا مقدام بن داود حدثنا اسد بن موسى حدثنا ابو معاويه محمد بن خازم عن اسماعيل بن مسلم عن الحسن عن المهاجر بن قنفذ قال۔

 متن: نبیﷺ نے تین لوگوں کو ایک جانور پر سوار دیکھا تو فرمایا یہ تینوں ملعون ہیں۔

(معجم الكبير للطبرانی (عربی) جلد 20 صحفہ 330)

 اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔

 پہلی علت: اس روایت کا راوی مقدام بن داؤد ضعیف ہے۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہے محمد بن یوسف کہتے ہیں یہ فقیہ اور مفتی تھا لیکن احادیث میں یہ قابلِ تعریف نہیں ہے '۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 6 صحفہ 479)۔

امام ذھبیؒ نے اس کو کتاب المغنی فی الضعفاء میں بھی شامل کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی ضعیف ہے۔

(المغنى في الضعفاء (عربی) جلد 2 صحفہ 321)۔

امام ابنِ جوزیؒ بھی اس کو الضعفاء میں شامل کر کے کہتے ہیں۔

امام ابنِ ابی حاتمؒ کہتے ہیں اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے:

(كتاب الضعفاء والمتر و کین (عربی) جلد 3، صحفہ 137)۔

ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ مقدام بن داؤد ضعیف ہے۔

 دوسری علت: اس روایت کا راوی اسماعیل بن مسلم مکی منکر الحدیث اور متروک ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

امام احمدؒ امام نسائیؒ اور دیگر حضرات کہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے ، امام نسائیؒ اور دیگر حضرات کہتے ہیں

یہ متروک ہے یحییٰؒ کہتے ہیں یہ ہمیشہ ہی اختلاط کا شکار رہا ہے اس نے ہمیں ایک ہی روایت تین صورتوں میں سنائی علی بن مدینیؒ کہتے ہیں اس کی نقل کردہ احادیث تحریر نہیں کی جائیں گی سعدی کہتے ہیں یہ انتہائی واہی ہے یحییٰ بن سعید القطانؒ اور ابنِ مہدی نے اسے متروک قرار دیا ہے (پھر امام ذھبیؒ نے اس کی بیان کردہ کچھ منکر روایات کو بیان کیا)۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 1 صحفہ 336 تا 339)

امام ذھبیؒ نے اس کو المغنی میں شامل کیا اور کہتے ہیں۔ اسماعیل بن مسلم یہ حسن سے روایت کرتا ہے یہ متروک ہے۔

(المغنى في الضعفاء (عربی) جلد 1 صحفہ (142)۔

امام بخاریؒ نے بھی اس کو الضعفاء میں شامل کیا اور کہتے ہیں۔

اسماعیل بن مسلم یہ حسن اور زہری سے روایت کرتا ہے ابنِ مبارکؒ نے اس کو ترک کر دیا تھا۔

(كتاب الضعفاء للبخاری (مربی) صحفه 16)

امام ابنِ جوزیؒ نے بھی اس کو الضعفاء میں شامل کیا اور فرماتے ہیں۔

اسماعیل بن مسلم یہ حسن سے روایت کرتا ہے ابنِ مبارکؒ نے اسے ضعیف کہا ہے سفیان کہتے ہیں حدیث میں خطاء کرتا ہے امام احمدؒ کہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے یحییٰؒ کہتے ہیں یہ کوئی شئی نہیں ہے علی بن مدینیؒ کہتے ہیں ضعیف ہے اس کی حدیث نہ لکھی جائے ہمارے اصحاب کا اس بات پر اجماع ہے کہ اسماعیل کی روایت کو ترک کر دیا جائے اور امام نسائیؒ اور علی بن جنید کہتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے۔

(کتاب الضعفاء والمتر و کمین (عربی) جلد 1صحفہ 120،121)۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ راوی متروک الحدیث ہے اس لئے یہ روایت بھی موضوع ہے اور اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔

پس ثابت ہوا کہ اس اعتراض پر پیش کی جانے والی تمام روایات موضوع و منکر ہیں ان میں سے کسی ایک سے بھی استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ نبیﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ یا سیدنا ابوسفیانؓ پر لعنت کی کسی صورت جائز نہیں۔