نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ…

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ پر لعنت کرنا

  محمد ذوالقرنین

صفحہ 2 از 4

 پہلی علت: اس روایت کا راوی عمران بن حدیر اس روایت کو اظنہ کے صیغہ سے روایت کر رہا ہے یعنی راوی کو یقین نہیں کہ یہ روایت ابو مجلز نے ہی بیان کی ہے بلکہ اس کو یہ شک ہے کہ شاید یہ روایت ابو مجلز نے ہی بیان کی ہو تو ایسی روایت جس میں راوی کو یقین نہیں کہ اس روایت کو بیان کس نے کیا ہے کو کیسے قبول کیا جاسکتا ہے؟ اور اس کی بنیاد پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن کس طرح جائز ہوسکتا ہے؟

 دوسری علت: اس روایت کا راوی ابو مجلز لاحق بن حمید مدلس ہے ارسال کرتا ہے اور یہ راوی قال کے صیغہ سے ارسال کرتا ہے اور اس کی حدیث میں اضطراب بھی پایا جاتا ہے۔

جیسا کہ امام ابنِ حجرؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

امام ابنِ معینؒ کہتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہے۔

(تہذیب التہذیب (عربی) جلد 6 صحفہ 768)

امام ابنِ حجرؒ اس کی ایک روایت جو اس نے ابوجہل سے قال کے صیغہ سے نقل کی ہے کے بارے میں فرماتے ہیں۔

ابو مجلز جو کہ مشہور تابعی ہیں وہ کہتے ہیں کہ (قال ابوجہل) ابوجہل نے کہا (پھر ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں) یہ مرسل ہے۔

(فتح الباری بشرح صحیح البخاری (عربی) جلد 7 صحفہ 344)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لاحق بن حمید ثقہ تو ہے لیکن یہ ارسال کرتا ہے اور یہ قال کے صیغہ سے ارسال کرتا ہے اور اس کی روایات میں اضطراب بھی پایا جاتا ہے۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی ثابت نہیں، اور عمران بن حدیر کو یقین بھی نہیں کہ اس کو بیان کرنے والا راوی کون ہے محض اُس کے ظن کی بنیاد پر کے شاید اُس نے اس روایت کو ابو مجلز سے سنا ہو اس روایت کو قبول نہیں کیا جا سکتا اس لئے یہ روایت بھی باطل ہے۔

 تیسری روایت:

ایسی ہی ایک اور روایت بیان کی جاتی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا ابوسفیانؓ مسجد سے اٹھ کر باہر نکل گئے تو نبیﷺ نے ان پر لعنت کی یہ روایت تین اسناد سے مروی ہے ملاحظہ فرمائیں۔

 پہلی سند:

اخبرت عن ابی مالك كثير بن يحيىٰ قال حدثنا غسان بن مضر قال حدثنا سعيد بن يزيد عن نصر بن عاصم الليثی عن أبيه قال۔

 متن: عاصم اللیثی کہتا ہے کہ میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہہ رہے تھے ہم اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کے غضب سے پناہ مانگتے ہیں میں نے پوچھا کیا ہوا ہے؟ تو وہ بولے سیدنا معاویہؓ اپنے والد کا ہاتھ پکڑ کر مسجد سے باہر نکل گئے جبکہ رسول اللہﷺ منبر پر تھے پس رسول اللہﷺ نے ان کے متعلق کچھ کہا۔

(طبقات ابنِ سعد (عربی) جلد 7 صحفہ 54،55)

طبقات ابنِ سعد کی روایت میں لعنت کا ذکر نہیں ہے اور معجم الکبیر کی روایت میں مسجد سے باہر نکلنے والوں کا نام نہیں ہے لیکن اس میں لعنت کے الفاظ ہیں وہ روایت کچھ یوں ہے۔

 دوسری سند:

حدثنا عبد الرحمٰن بن الحسين الصابونى التسترى حدثنا عقبه بن سنان الدراع قال حدثناغسان بن مضر عن سعيد بن يزيد ابی سلمة عن نصر بن عاصم الليثی عن أبيه۔

متن: عاصم اللیثی کہتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہہ رہے تھے ہم اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کے غضب سے پناہ مانگتے ہیں میں نے پوچھا کیا ہوا ہے؟ تو وہ بولے ایک شخص کھڑا ہوا اور اپنے والد کا ہاتھ پکڑ کر مسجد سے باہر چلا گیا جبکہ رسول اللّٰہﷺ منبر پر تھے پس رسول اللّٰہﷺ نے ان کے متعلق فرمایا لعنت ہو آگے چلنے والے اور اس کے پیچھے چلنے والے پر وایے ہے اس امت پر فلاں موٹی سرین والے کی وجہ سے۔

 پہلی سند کا تعاقب: (معجم الكبير للطبرانی (عربی) جلد 17 صفحہ 176)

طبقات ابنِ سعد کی روایت کی سند میں دو علتیں ہیں۔

 پہلی علت: اس روایت کے مرکزی راوی عاصم اللیثی جو کہ صحابی معلوم ہوتے ہیں لیکن ان کی صحابیت میں اختلاف ہے بعض علماء نے ان کی صحابیت کا انکار کیا ہے اور اس روایت کا سماع نبیﷺ سے ہونے اور

عاصم اللیثی کی صحابیت کو مشکوک قرار دیا ہے۔

جیسا کہ امام ابنِ حجرؒ کہتے ہیں کہ امام بغویؒ نے اس روایت کے بارے میں فرمایا۔

مجھے نہیں معلوم کہ عاصم صحابی ہے یا نہیں (یعنی ان کا صحابی ہونا مشکوک ہے )

(الاصابة فی تمييز الصحابة (عربی) جلد 5 صحفه 488)

اور امام ابنِ عبد البرؒ بھی اس روایت کے متعلق احمد بن زہیر کا قول نقل فرماتے ہیں کہ احمد بن زہیر کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ عاصم نے یہ روایت نبیﷺ سے سنی ہے یا نہیں۔

(الاستيعاب في معرفة الاصحاب (عربی) جلد 5 صحفہ 520)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عاصم اللیثی کی صحابیت مشکوک ہے اور بعض حضرات نے اس روایت کے سماع کا انکار کیا ہے۔

 دوسری علت: اس روایت کا راوی کثیر بن یحییٰ شیعہ ہے اور اس سے منکر روایات منقول ہیں اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذھبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

یہ شیعہ ہے عباس عنبری نے لوگوں کو اس سے استفادہ کرنے سے روک دیا تھا ازدی کہتے ہیں اس کے حوالے سے منکر روایات منقول ہیں۔

(میزانُ الاعتدال (اردو) جلد 5 صفحه 473)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس راوی کی روایت سے استدلال جائز نہیں کیونکہ اس سے منکر روایات منقول ہیں اور اس وجہ سے حافظ عباس عنبری نے لوگوں کو اس سے استفادہ کرنے سے بھی روک دیا تھا۔

 دوسری سند کا تعاقب: معجم الکبیر کی روایت کا راوی عبد الرحمٰن بن الحسین الصابونی التستری مجہول ہے اس کا ترجمہ اسماء ورجال کی کسی کتاب میں موجود نہیں اس لئے اس کی روایت سے بھی استدلال جائز نہیں۔

یاد رہے معجم الکبیر میں یہاں عبد الرحمٰن بن الحسین العابوری لکھا ہوا ہے جو کہ غلطی ہے اصل راوی الصابونی ہی ہے جو کہ دیگر روایات میں بھی موجود ہے۔

 تیسری سند:

حدثنا ابو عمرو بن حمدان حدثنا الحسن بن سفيان حدثنا محمد بن عبد الرحمٰن العلاف حدثنا غسان بن مضر حدثنا سعيد بن يزيد الطائی عن نصر بن عاصم الليثی عن أبيه۔

 اسناد کا تعاقب: (معرفة الاصحابة لابی نعیم (عربی) جلد 4 روایت 5378)

صفحہ 2 از 4