نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ…

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ پر لعنت کرنا

  محمد ذوالقرنین

صفحہ 3 از 4

اس روایت میں بھی ان اشخاص کا نام موجود نہیں اور یہ سند بھی صحیح نہیں کیونکہ اس کی سند میں بھی ایک راوی محمد بن عبد الرحمٰن بن العلاف مجہول ہے اس کو امام ابنِ حبانؒ نے الثقات میں شامل کیا ہے لیکن اہلِ علم جانتے ہیں کہ امام ابن حبانؒ راویوں کی توثیق میں تساہل ہیں اور وہ مجہول راویوں کو بھی ثقہ کہہ دیتے ہیں اس لئے ان کی توثیق راوی کی عدالت ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایات ثابت نہیں اگر کوئی عاصم اللیثی کی صحابیت کا قائل بھی ہے تب بھی یہ روایت ثابت نہیں کیونکہ اس کی تمام اسناد میں مجہول و شیعہ راوی موجود ہیں اور مجہول و شیعہ راویوں کی روایات سے استدلال جائز نہیں۔

 چوتھی روایت: اسی اعتراض پر بیان کی جانے والی چوتھی روایت بھی کچھ ایسی ہی ہے جو کہ دو اسناد سے مروی ہے۔

 پہلی سند:

حدثنا على بن سعيد الرازى قال حدثنا عبد الرحمن بن سلم الرازي قال حدثنا سلمه بن الفضل عن محمد بن اسحاق عن سلمة بن كهيل عن ابراهيم بن البراء عن ابيه (البراء بن عازب)

 متن: سیدنا براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوسفیانؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ نبیﷺ کے پیچھے سے گزرے سیدنا امیر معاویہؓ بڑی سرین والے شخص تھے تو نبیﷺ نے فرمایا اللّٰه کی لعنت ہو بڑی سرین والے شخص (یعنی سیدنا امیر معاویہؓ) پر۔

(معجم الاوسط للطبرانی (عربی) جلد 4 روایت 3994)۔ 

 اسناد کا تعاقب: اس سند میں تین علتیں ہیں۔

 پہلی علت: اس روایت کا راوی سلمہ بن فضل ضعیف ہے اور اس سے منکر روایات منقول ہیں۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

یہ رے (تہران) کا قاضی تھا، اس نے ابنِ اسحاق سے روایات نقل کی ہیں ابنِ راہویہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام بخاریؒ فرماتے ہیں اس کی روایات میں سے بعض منکر ہیں علی بن مدینیؒ کہتے ہیں ہم لوگ رے سے تب تک نہیں نکلے جب تک ہم نے سلمہ کی نقل کردہ روایات پھینک نہیں دیں امام ابوحاتمؒ کہتے ہیں اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا۔

(میزان الاعتدال (ارود) جلد 3 صفحہ 270)۔

امام ذھبیؒ اس کو دیوان الضعفاء میں شامل کر کے فرماتے ہیں:

اسحاق بن راہویہ وغیرہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔

(ديوان الضعفاء والمتروکین (عربی) صفحه (169)

امام نسائیؒ نے بھی اس کو الضعفاء میں شامل کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی ان کے نزدیک بھی ضعیف ہے کہتے ہیں۔

سلمہ بن فضل ابو عبداللہ ضعیف ہے ابنِ اسحاق سے روایت کرتا ہے:

(كتاب الضعفاء والمتروكين للنسائی (عربی) صحفه 118)۔

امام ابنِ جوزیؒ نے بھی اس کو الضعفاء میں شامل کیا ہے کہتے ہیں:

سلمه بن فضل ابنِ اسحاق سے روایت کرتا ہے ابنِ راہویہؒ اور نسائیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے اور علی بن مدینیؒ کہتے ہیں ہم نے اس کی احادیث پھینک دیں اور بخاریؒ کہتے ہیں اس سے منکر روایات منقول ہیں۔

(كتاب الضعفاء والمتروکین (عربی) جلد 2 صحفہ 11)

اور امام طبرانیؒ نے یہ روایت نقل کر کے خود اس کے بارے میں کہا ہے کہ سلمہ بن فضل اس کو روایت کرنے میں منفرد ہے کہتے ہیں۔

یہ روایت ابراہیم بن البراء سے سلمہ بن کھیل کے علاؤہ کسی نے نقل نہیں کی اور نہ ہی سلمہ بن فضل سے ابنِ اسحاق کے علاؤہ کسی نے اور اس میں سلمہ بن فضل منفرد ہے۔

(معجم الاوسط للطبرانی (عربی) جلد 4 روایت 3994)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کو نقل کرنے میں سلمہ بن فضل منفرد ہے اس لئے یہ روایت بھی منکر ہے۔

 دوسری علت: اس روایت کی دوسری علت اس میں محمد بن اسحاق کی تدلیس ہے (محمد بن اسحاق عن سلمہ بن کھیل) اور محمد بن اسحاق چوتھے طبقہ کا مدلس ہے اور جب تک چوتھے طبقے کا مدلس سماع کی تصریح نہ کرئے اس کے بارے میں آئمہ کا اتفاق ہے کہ ان کی روایت ہرگز قبول نہیں کی جاسکتی جیسا کہ ابنِ حجرؒ ابنِ اسحاق کو چوتھے طبقہ کے مدلسین میں شامل کر کے فرماتے ہیں۔

محمد بن اسحاق ضعفاء اور مجہولین سے تدلیس کرنے میں مشہور ہے۔

(تعریف اهل التقديس بمراتب الموصوفين بالتدلیس (عربی) صحفه 51)۔

اور چوتھے طبقہ کے مدلسین کی معنن کے بارے میں امام ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں:

یہ وہ ہیں جن (کی معنن) کے بارے میں اتفاق ہے کہ ان کی حدیث سے ہرگز احتجاج نہیں کیا جاسکتا جب تک یہ سماع کی تصریح نہ کریں یہ کثرت سے ضعفاء اور مجہولین سے تدلیس کرتے ہیں۔

(تعریف اہلِ التقديس بمراتب الموصوفين بالتدلیس (عربی) صحفه 14)

اس لئے محمد بن اسحاق کی معنن سے استدلال جائز نہیں جب تک سماع کی تصریح نہ کرئے۔

 تیسری علت:

اس روایت کی سند میں بھی اضطراب ہے۔

معجم الاوسط کی سند کچھ یوں ہے۔

انا سلمه بن الفضل عن محمد بن اسحاق عن سلمة بن كهيل عن ابراهيم بن البراء جبکہ یہی روایت جب تاریخِ دمشق میں نقل کی گئی اس کی سند وہاں کچھ یوں ہے۔

سلم بن الفضل حدثنا سلمة بن كهيل حدثنی محمد بن اسحاق عن ابراهيم بن البراء۔

(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 59 صحفہ 204)

یہاں سند میں اضطراب واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ منجم الکبیر کی سند میں سلمہ بن فضل محمد بن اسحاق سے اور وہ سلمہ بن کھیل سے اور وہ ابراہیم بن براء سے روایت کر رہا ہے جبکہ تاریخ دمشق کی روایت میں سلمہ بن فضل سلمہ بن کھیل سے اور وہ محمد بن اسحاق سے اور وہ ابراہیم بن براء سے روایت کر رہا ہے۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی باطل منکر ہے اس سے استدلال کسی صورت جائز نہیں۔

 دوسری سند: سیدنا براء بن عازبؓ کی روایت کی ایک دوسری سند جو کہ نصر بن مزاحم نے اپنی کتاب واقعہ صفین میں لکھی ہے کچھ یوں ہے ۔

 سند:

عبد الغفار بن القاسم عن عدی بن ثابت عن البراء بن عازبؓ قال

 متن: سیدنا براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوسفیانؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ گزرے تو نبیﷺ نے فرمایا اللّٰه کی لعنت ہو تابع اور متبوع پر اور اللّٰہ کی لعنت ہو اقیعس پر تو ابنِ البراء نے اپنے والد سیدنا براء بن عازبؓ سے پوچھا اقیعس کون ہے؟ تو انہوں نے کہا سیدنا امیر معاویہؓ۔

(وقعة صفین (عربی) صحفه 218)۔

 اسناد کا تعاقب: اول تو اس کتاب اور اس کے مصنف کی کیا حیثیت ہے یہ اس کتاب کے آخری باب میں آپ ملاحظہ فرمائیں گے۔

اور اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں۔

پہلی علت:

صفحہ 3 از 4