نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ…

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ پر لعنت کرنا

  محمد ذوالقرنین

صفحہ 4 از 4

اس روایت کا راوی ابو مریم عبد الغفار بن قاسم شیعہ کذاب و متروک الحدیث ہے۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

یہ شیعہ ہے ثقہ نہیں ہے علی بن مدینیؒ کہتے ہیں یہ احادیث ایجاد کرتا ہے شیعہ کے اکابرین میں سے ہے امام بخاریؒ کہتے ہیں یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے عبد الواحد نے عبدالغفار کو کہا تو جھوٹ بولتا ہے اللّٰہ سے ڈر تو اس نے کہا اللّٰه سے ڈرو تم مجھے جھٹلا رہے ہو امام ابو داؤدؒ کہتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں ابو مریم کذاب ہے امام ابوحاتمؒ امام نسائیؒ اور دیگر حضرات نے اسے متروک الحدیث قرار دیا ہے امام شعبہؒ نے اسے ترک کردیا تھا۔

(میزان الاعتدال (ارود) جلد 4 صحفہ (342)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبد الغفار بن قاسم کذاب شیعہ راوی ہے اور اس کی روایت کسی صورت قابل قبول نہیں۔

 دوسری علت: اس روایت کا دوسرا راوی عدی بن ثابت اپنی ذات کے اعتبار سے تو ثقہ ہے لیکن یہ بھی شیعہ ہے جیسا کہ امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں

یہ اہلِ تشیع کا عالم ہے اُن کا سچا فرد اُن کا واعظ اور ان کی مسجد کا امام تھا امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ غالی شیعہ ہے لیکن ثقہ ہے۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 5 صحفہ 102)

اور اصول حدیث کے مطابق وہ ثقہ شیعہ جو شیعہ ہو اس کی وہ روایات جو اس کے مذہب کو تقویت دیں قابلِ قبول نہیں۔

اور یہ روایت ویسے بھی موضوع ہے اس کا راوی عبد الغفار بن قاسم کذاب و متروک الحدیث ہے اس لئے اس روایت سے استدلال قطعاً جائز نہیں اور اس کتاب وقعة صفین اور اس کے مصنف نصر بن مزاحم کی حقیقت کتاب کے آخری باب میں ملاحظہ فرمائیں۔

 پانچویں روایت: شیعہ اسی قسم کی ایک اور روایت پیش کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے تین لوگوں پر جو کہ ایک جانور پر سوار تھے لعنت کی اور کہتے ہیں کہ ان سے مراد سیدنا ابوسفیانؓ سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے بھائی ہیں جبکہ اس روایت میں ان کے نام موجود نہیں لیکن شیعہ کہتے ہیں کہ دیگر روایات جن میں نام ہیں (اور ہم ثابت کر چکے کہ وہ روایات موضوع ہیں) یہ روایت بھی انہی کی شاہد ہے وہ روایت کچھ یوں ہے۔

 سند:

حدثنا مقدام بن داود حدثنا اسد بن موسى حدثنا ابو معاويه محمد بن خازم عن اسماعيل بن مسلم عن الحسن عن المهاجر بن قنفذ قال۔

 متن: نبیﷺ نے تین لوگوں کو ایک جانور پر سوار دیکھا تو فرمایا یہ تینوں ملعون ہیں۔

(معجم الكبير للطبرانی (عربی) جلد 20 صحفہ 330)

 اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔

 پہلی علت: اس روایت کا راوی مقدام بن داؤد ضعیف ہے۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہے محمد بن یوسف کہتے ہیں یہ فقیہ اور مفتی تھا لیکن احادیث میں یہ قابلِ تعریف نہیں ہے '۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 6 صحفہ 479)۔

امام ذھبیؒ نے اس کو کتاب المغنی فی الضعفاء میں بھی شامل کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی ضعیف ہے۔

(المغنى في الضعفاء (عربی) جلد 2 صحفہ 321)۔

امام ابنِ جوزیؒ بھی اس کو الضعفاء میں شامل کر کے کہتے ہیں۔

امام ابنِ ابی حاتمؒ کہتے ہیں اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے:

(كتاب الضعفاء والمتر و کین (عربی) جلد 3، صحفہ 137)۔

ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ مقدام بن داؤد ضعیف ہے۔

 دوسری علت: اس روایت کا راوی اسماعیل بن مسلم مکی منکر الحدیث اور متروک ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

امام احمدؒ امام نسائیؒ اور دیگر حضرات کہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے ، امام نسائیؒ اور دیگر حضرات کہتے ہیں

یہ متروک ہے یحییٰؒ کہتے ہیں یہ ہمیشہ ہی اختلاط کا شکار رہا ہے اس نے ہمیں ایک ہی روایت تین صورتوں میں سنائی علی بن مدینیؒ کہتے ہیں اس کی نقل کردہ احادیث تحریر نہیں کی جائیں گی سعدی کہتے ہیں یہ انتہائی واہی ہے یحییٰ بن سعید القطانؒ اور ابنِ مہدی نے اسے متروک قرار دیا ہے (پھر امام ذھبیؒ نے اس کی بیان کردہ کچھ منکر روایات کو بیان کیا)۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 1 صحفہ 336 تا 339)

امام ذھبیؒ نے اس کو المغنی میں شامل کیا اور کہتے ہیں۔ اسماعیل بن مسلم یہ حسن سے روایت کرتا ہے یہ متروک ہے۔

(المغنى في الضعفاء (عربی) جلد 1 صحفہ (142)۔

امام بخاریؒ نے بھی اس کو الضعفاء میں شامل کیا اور کہتے ہیں۔

اسماعیل بن مسلم یہ حسن اور زہری سے روایت کرتا ہے ابنِ مبارکؒ نے اس کو ترک کر دیا تھا۔

(كتاب الضعفاء للبخاری (مربی) صحفه 16)

امام ابنِ جوزیؒ نے بھی اس کو الضعفاء میں شامل کیا اور فرماتے ہیں۔

اسماعیل بن مسلم یہ حسن سے روایت کرتا ہے ابنِ مبارکؒ نے اسے ضعیف کہا ہے سفیان کہتے ہیں حدیث میں خطاء کرتا ہے امام احمدؒ کہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے یحییٰؒ کہتے ہیں یہ کوئی شئی نہیں ہے علی بن مدینیؒ کہتے ہیں ضعیف ہے اس کی حدیث نہ لکھی جائے ہمارے اصحاب کا اس بات پر اجماع ہے کہ اسماعیل کی روایت کو ترک کر دیا جائے اور امام نسائیؒ اور علی بن جنید کہتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے۔

(کتاب الضعفاء والمتر و کمین (عربی) جلد 1صحفہ 120،121)۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ راوی متروک الحدیث ہے اس لئے یہ روایت بھی موضوع ہے اور اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔

پس ثابت ہوا کہ اس اعتراض پر پیش کی جانے والی تمام روایات موضوع و منکر ہیں ان میں سے کسی ایک سے بھی استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ نبیﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ یا سیدنا ابوسفیانؓ پر لعنت کی کسی صورت جائز نہیں۔


صفحہ 4 از 4