شیعہ ذاکروں کو ایک نصیحت جو نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کو…

شیعہ ذاکروں کو ایک نصیحت جو نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کو جائز قرار دیتے ہیں

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 3

جس اصول کا تم لوگ ہمیں واسطہ دیتے ہو، اس کی بابت ہم صرف یہی کہیں گے کہ تمہارا بلا تحقیق اہل سنت پر قرآن میں تحریف کر دینے کا الزام ہی تمہارے اپنے اس اصول کے باطل ہونے کے لیے کافی ہے۔ کیا آج تک کوئی شیعہ اہل سنت کی کسی کتاب سے یہ ثابت کر سکا ہے کہ اہلِ سنت قرآن میں تحریف کے قائل ہیں؟!!

ہرگز بھی نہیں اور نہ قیامت تک ایک قول بھی دکھا سکیں گے، لیکن پھر بھی شیعہ حضرات یہ کہتے تھکتے نہیں کہ اہل سنت نے قرآن میں تحریف کر دی ہے اور یہ بات شیعہ حضرات کے ان بنیادی عقائد میں شامل ہے

جس کا دفاع ہر شیعہ پر واجب ہے۔ جس کا اقرار و اظہار ان کے اکابر علماء کرتے چلے آئے ہیں۔ لیکن برا ہو اس تقیہ کا کہ عین وقت پر یہ شیعہ اس کی چادر اوڑھ کر منظر سے غائب ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ وہی تقیہ نہیں کہ جس کے بارے میں آپ لوگوں کے امام خمینی یہ کہتے ہیں:

’’اگر تقیہ نہ ہوتا، تو یہ مذہب زوال اور فنا کی زَد میں آ جاتا۔‘‘ (الرسائل للخمینی: جلد، 2 صفحہ 185)

بقول تم لوگوں کے امام جعفر الصادق نے یہ کہا ہے:

’’تم لوگ ایک ایسے دین پر ہو، جس نے اسے چھپایا، اللہ اسے عزت دے گا اور جس نے اس کو ظاہر کیا، اللہ اسے ذلیل کرے گا۔‘‘ (الکافی: جلد، 2 صفحہ 222)

امام جعفر صادق رحمۃ اللہ سے ایک روایت میں ہے:

’’جو تقیہ نہیں کرتا وہ شیعان علی میں سے نہیں۔‘‘ (جامع الاخبار للشعیری: صفحہ 95)

کلینی اور کاشانی ابو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ

’’جس نے اپنے دن کا آغاز ہمارے راز کو ظاہر کرنے سے کیا رب تعالیٰ اس پر تیز دھار لوہا اور مجالس کی تنگی مسلط کر دے گا۔‘‘ (الکافی: جلد، 2 صفحہ 372)

امام جعفر الصادقؒ سے ایک روایت میں ہے:

’’جو تقیہ کو لازم نہیں پکڑتا وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ (وسائل الشیعۃ: جلد، 11 صفحہ 466)

جناب دکتور راسم صاحب! کیا سچوں کے اخلاق یہی ہوتے ہیں؟!!

کیا خطرات کے وقت تم لوگ تقیہ کی کھوہ میں پناہ نہیں لیتے، کیونکہ خود تمہارے امام خمینی نے تم لوگوں کو اس کی اجازت دی ہے۔ چاہے جان کو خطرہ نہ بھی ہو۔ امام خمینی کہتے ہیں:

’’تقیہ صرف جواز کی حد تک ہی نہیں بلکہ اگر جان وغیرہ کا خوف ہو تو تقیہ واجب ہے، بلکہ ظاہر یہ ہے کہ کسی بھی قسم کی مصلحت مخالفوں سے تقیہ اختیار کرنے کو واجب کرتی ہے، چاہے جان کا خوف نہ بھی ہو۔‘‘ (الرسائل للخمینی: جلد، 2 صفحہ 201)

جناب دکتور راسم کچھ تو راہ سجھائیں کہ ہم لوگ ان کے سچ کو تقیہ سے کیونکر پہچانیں گے؟

کیا آپ لوگ ہمیں اس حیران کن ترین سوال کا جواب دیں گے؟

وہ کون سا راز ہے، جو تم لوگ دوسروں سے چھپاتے ہو؟!!

یہ جتنی روایات ہم نے ذکر کی ہیں، یہ تم لوگوں کی کتابوں سے ہیں یا مخالفوں کی کتابوں سے ہیں؟

کیا یہ معز الدولہ بویہی نہیں تھا، جو امامیہ کا عالم تھا (یہ بات شیعہ کے عالم اور شیخ محمد باقر خونساوی نے ’’روضات الجنات: جلد، 6 صفحہ 139‘‘ میں اور شیعہ کے محدث عباس قمی نے ’’الکنی و الالقاب: جلد، 2 صفحہ 430‘‘ میں نقل کی ہے) ناکہ اہل بیت میں سے جس نے نوحہ کرنے، رونے، گریہ کرنے اور گلی کوچوں میں ماتمی جلوسوں کے نکالنے کا سب سے پہلے حکم دیا تھا ناکہ اہل بیت نے۔ جناب من! دکتور راسم صاحب کیا آپ کو اس بات کا علم ہے؟!

جبکہ اہل بیت نے تو اپنے نانا سید المرسلین نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے سنا تھا کہ ’’نوحہ کرنا جاہلیت کا عمل ہے۔‘‘

یہ بات بے حد بعید ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے ان سب رسومات کے قائم کرنے کا حکم دیا ہو۔

نبی کریمﷺ نے تو اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھی اس بات کی وصیت فرمائی تھی کہ

’’میرے مرنے پر چہرہ نہ نوچنا، بال نہ کھولنا، واویلا نہ مچانا اور مجھ پر کسی نوحہ کرنے والی کو کھڑا نہ کرنا۔‘‘ (دیکھیں: عورتیں اور حسینیات کا عنوان۔ کتاب ہٰذا)

کیا شیخ الطائفہ نے نوحہ کو حرام نہیں کہا؟

لیکن اس سب کے باوجود شیعہ تناقض و تضاد کا عجب مجموعہ ہیں، احوال و واقعات کے نقل میں ان کا مبالغہ اور تضاد دیدنی ہوتا ہے۔ ذرا اس شیعی وکیل حسین یعقوب کو ہی دیکھ لیجیے۔ موصوف پہلے لکھتے ہیں:

’’امام حسین کو قتل کرنے اور بیت نبوت کو تباہ و برباد کرنے کے لیے ابن زیاد نے تیس ہزار جنگجوؤ ں کو اکٹھا کیا۔‘‘ (کربلا الثورۃ الماساۃ: صفحہ 280)

لیکن آگے چل کر خود اپنی ہی بات کے بخیے ادھیڑتے ہوئے لکھتا ہے کہ سیدنا حسین نے فرمایا:

’’اے میرے اہل اور میرے شیعہ! اس رات کو اونٹ لے لو اور خود کو بچا لو، کہ یہ لوگ صرف مجھے چاہتے ہیں۔ اگر ان لوگوں نے مجھے قتل کر دیا تو تم لوگوں کو کچھ نہ کہیں گے۔ اللہ تم لوگوں پر رحم کرے کہ تم لوگ بچ جاؤ۔ میں نے اپنی بیعت اور عہد جو تم لوگوں نے کیا تھا اس کو حلال کر دیا۔‘‘ (کربلا الثورۃ الماساۃ: صفحہ 297)

امام حسین علیہ السلام خود صراحت سے فرما رہے ہی کہ کوفیوں کو صرف وہی مطلوب ہیں۔ اگر وہ انہیں پانے میں کامیاب ہو گئے، تو باقیوں کو کچھ نہ کہیں گے اور آں جناب یہ فرما رہے ہیں کہ ان کا مطلوب اہل بیت کو تباہ و برباد کرنا تھا۔

اب آپ خود ہی بتا دیں کہ آپ کی کون سی بات درست ہے اور کون سی غلط؟!!

شیعہ حضرات مقتل حسین کی بابت جو روایات سناتے ہیں، وہ کذب و بطلان کا طومار ہیں جن کی کوئی اساس نہیں۔ جس کا اقرار خود شیعوں کے شیخ اور مجتہد عبدالحسین الحلی ان الفاظ سے کرتے ہیں:

’’ان جملہ روایات کا صدق نامعلوم ہے۔ اگر لوگ اس بات کو لازم پکڑ لیں کہ وہ کتب حدیث و اصول سے صرف سچی بات ہی نقل کریں گے، تو نقل روایات کا دروازہ ہی بند ہو جائے اور مورخین کے اقوال سے استدلال باطل ٹھہرے۔‘‘ (الشعائر الحسینینۃ فی المیزان الفقہی: صفحہ 29)

یہ تو ایک بات ہوئی۔ پھر موصوف احمد حسین یعقوب کا یہ قول کہ ’’اے میرے اہل اور میرے شیعہ! آج کی رات اونٹ لے لو‘‘ اس قول کے صریح مناقض ہے جسے دکتور احمد راسم نے نقل کیا ہے کہ جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو خود ان کے بھائی محمد بن حنفیہ نے یہ کہا تھا کہ ’’اگر آپ کو نکلنا ہی ہے، تو اپنے ساتھ اپنی عورتوں کو لے کر مت نکلیے‘‘ تو جناب حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے نانا نبی کریمﷺ سے نقل کر کے ارشاد فرمایا:

’’رب تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ ان عورتوں کو قیدی دیکھنا چاہتا ہے۔‘‘ (علی خطی الحسین: صفحہ 97-101)

صفحہ 2 از 3