Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نبیﷺ کا سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے جہنم کی بددُعا کرنا

  محمد ذوالقرنین

نبیﷺ کا سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے جہنم کی بددُعا کرنا

شیعہ کی طرف سے ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ نبیﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا عمرو بن العاصؓ کو بددعا دی کہ اے الله ان کو جہنم میں داخل کر اس اعتراض پر جو روایت پیش کی جاتی ہے وہ چار اسناد سے مروی ہے ملاحظہ فرمائیں۔

 پہلی سند:

حدثنا احمد بن على الجارودی حدثنا عبد اللّٰه بن سعيد الكندى حدثنا عيسىٰ بن سوادة النخعی عن ليث عن طاؤس عن ابنِ عباسؓ قال۔

 متن: سیدنا ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے دو لوگوں کے گانے کی آواز سنی نبیﷺ نے پوچھا یہ کون ہیں تو بتایا گیا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا عمرو بن العاصؓ ہیں تو نبیﷺ نے بددعا کی اے اللّٰه ان کو کسی فتنے میں مبتلا کر دے اور ان کو آگ (جہنم) کی طرف دھکیل دے۔ 

( معجم الكبير للطبرانی (عربی) جلد 11 روایت 10970)

 پہلی علت: اس روایت کا راوی عیسیٰ بن سواده نخعی کذاب اور منکر الحدیث ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔ 

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

ابوحاتمؒ کہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں یہ کذاب ہے۔

(میزانُ الاعتدال (اردو) جلد 5 صحفه 369)

اور المغنی میں اس کو شامل کر کے کہتے ہیں۔

ابوحاتمؒ کہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے۔

(المغنى فی الضعفاء (مربی) جلد 2 صحفہ 84)۔

امام ابنِ جوزیؒ اس کو الضعفاء میں شامل کر کے فرماتے ہیں امام رازیؒ کہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے ضعیف ہے۔

(كتابُ الضعفاء والمتروکین (عربی) جلد 2 صحفه 158)

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ راوی کذاب اور منکر الحدیث ہے اور اس روای کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔

امام نور الدین بیثمیؒ بھی اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:

اس میں عیسیٰ بن سوادہ ہے جو کہ کذاب ہے۔

(مجمع الزوائد (عربی) جلد 8 روایت 13313)

 دوسری علت:

اس روایت کا راوی لیث بن ابوسلیم ابھی مضطرب الحدیث ہے اور اس کی روایت کو ترک کردیا گیا جس وجہ سے اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں اس کا ترجمہ گزر چکا ہے۔

(دیکھیں: باب سیدنا امیر معاویہؓ غیر اسلام پر فوت ہوں گے دوسری سند کا تعاقب)

 دوسری سند:

حدثنا محمد بن حفص بن بهمرد حدثنا اسحاق بن الحارث الرازى حدثنا عمرو بن عبد الغفار الفقيمی حدثنا نصير بن ابی الاشعث وشريك و ابوبكر بن عياش عن يزيد بن أبی زياد عن عبد اللّٰه بن الحارث نوفل عن المطلب بن ربيعه قال۔

(معجم الاوسط للطبرانی (عربی)، جلد 7 روایت 7080)۔

 اس اسناد کا تعاقب: اس سند میں چار علتیں ہیں۔

 پہلی علت: اس روایت کا راوی محمد بن حفص بن بہمرد مجہول الحال راوی ہے اس کا ترجمہ کتبِ اسماء ورجال میں موجود نہیں۔

 دوسری علت: اس روایت کا راوی اسحاق بن حارث رازی بھی مجہول الحال ہے۔

 تیسری علت: اس روایت کا راوی عمرو بن عبد الغفار فقیمی شیعہ کذاب اور متروک الحدیث ہے امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔

امام ابوحاتمؒ فرماتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے ابنِ عدیؒ کہتے ہیں اس پر یہ الزام ہے کہ یہ حدیث ایجاد کرتا تھا ابنِ مدینیؒ کہتے ہیں یہ شیعہ ہے میں نے اس کے رفض کی وجہ سے اسے ترک کر دیا عقیلیؒ اور دیگر حضرات کہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے۔

امام ذھبیؒ اس کو المغنی امیں شامل کر کے فرماتے ہیں:

(میزان الاعتدال (اردو)، جلد 5 ، صحفه 326)۔

ابوحاتمؒ کہتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے اور ابنِ عدیؒ کہتے ہیں اس پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام ہے۔

(المغنی فی الضعفاء (عربی)، جلد 2، صحفہ 68)۔

 چوتھی علت:

اس روایت کا راوی یزید بن ابی زیاد سخت ضعیف اور شیعہ ہے اور تلقین قبول کرتا تھا اس سے منکر روایات منقول ہیں اس کا ترجمہ چوتھی سند کے تعاقب میں ملاحظہ فرمائیں۔

امام نور الدین ہیثمیؒ اس سند کے بارے میں بھی کہتے ہیں اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن کو ہم نہیں جانتے (یعنی مجہول)۔

(مجمع الزوائد (عربی) جلد 8 روایت 13312)

 تیسری سند:

حدثنا محمد بن ہارون بن حميد حدثنا عبداللّٰه بن عمرو حدثنا شعيب بن ابراهيم حدثنا سيف حدثنی ابوعمر مولىٰ ابراهيم بن محمد بن طلحه بن عبيد اللّٰه عن زيد بن اسلم عن ابيه عن صالح شقران قال۔

(الكامل في ضعفاء الرجال (عربی) جلد 6 صحفہ 104)۔

 اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔ 

پہلی علت: اس سند کا راوی شعیب بن ابراہیم الکوفی مجہول ہے اور اس کی بیان کردہ روایات میں منکر روایات بھی موجود ہیں۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

اس نے سیف سے اس کی کتابیں نقل کی ہیں اس میں مجہول ہونا پایا جاتا ہے۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 3 صحفہ 372)۔

امام ابنِ عدیؒ خود اسی روایت کے تحت شعیب کے بارے میں فرماتے ہیں:

یہ معروف نہیں ہے اور اس کی بیان کردہ روایات کی تعداد زیادہ نہیں ہے اور ان میں سے بعض منکر ہیں۔

(الكامل في ضعفاء الرجال (مربی) جلد 6 صحفہ 105)۔

 دوسری علت: اسکا دوسرا راوی سیف بن عمر تیمی متروک اور منکر الحدیث ہے۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

یہ واقدی کی طرح ہے امام ابوداؤدؒ کہتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں ہے ابوحاتمؒ کہتے ہیں یہ متروک ہے ابنِ عدیؒ کہتے ہیں اس کی نقل کردہ زیادہ تر روایات منکر ہیں جمیع کہتے ہیں یہ احادیث ایجاد کرتا تھا۔

(میزان الاعتدال (ارود) جلد 3 صحفہ 372)۔

امام ذھبیؒ اس پر آخری حکم لگاتے ہوئے فرماتے ہیں۔

ابنِ معینؒ وغیرہ نے اس کو ضعیف کہا ہے۔

(الكاشف (مربی) جلد 1 صحفه 476)۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے یہ سند بھی باطل ہے اور اس سے بھی استدلال جائز نہیں۔

 چوتھی سند:

حدثنا عثمان بن ابی شيبه حدثنا جرير و محمد بن فضيل عن يزيد بن أبی زياد عن سليمان بن عمرو بن الاحوص قال حدثنی ابو بلال عن أبی برزه قال۔

(مسند ابویعلی (عربی) جلد 13 روایت 7436)۔

یہ روایت یزید بن ابی زیاد کی سند سے مختلف کتب میں موجود ہے، جیسے۔

(مصنف ابنِ ابی شیبہ (اردو) جلد ، 11 روایت 38875)۔

(مسند البزار (عربی) جلد 9 روایت (3859)۔

(مسند احمد (اردو) جلد 9 حدیث 20018)۔

ان تمام کُتب میں یہ روایت یزید بن ابوزیاد کی سند سے ہی منقول ہے۔

 اسناد کا تعاقب: اس سند کا راوی یزید بن ابی زیاد سخت ضعیف اور شیعہ راوی ہے تلقین قبول کرتا تھا اور اس سے منکر روایات منقول ہیں۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

اس کا حافظہ خراب تھا یحییٰؒ کہتے ہیں یہ قوی نہیں ہے اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ابنِ مبارکؒ کہتے ہیں اسے پھینک دو (پھر امام ذھبیؒ اسی روایت کے بارے میں فرماتے ہیں) یہ روایت منکر ہے ابنِ فضیل کہتے ہیں یزید بن ابوزیاد شیعہ کے اکابرین میں سے ہے امام مسلم نے اس سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ساتھ دوسرے راوی کا ذکر بھی ہے (یعنی متابعت میں)۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 7 صحفہ 232 تا 234)۔

امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

پانچویں طبقہ کا ضعیف راوی ہے بڑی عمر میں اس کا حافظہ بدل گیا تھا تلقین قبول کرتا تھا اور شیعہ تھا۔

(تقريب التہذیب (اردو) جلد 2 صحفه 313)۔

امام نسائیؒ اس کو الضعفاء میں شامل کر کے کہتے ہیں:

یزید بن ابی زیاد قوی نہیں ہے۔

(كتاب الضعفاء والمتروكين للنسائی (عربی) صحفه 256)۔

امام بخاریؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں یزید بن ابی زیاد منکر الحدیث ہے۔

(كتاب الضعفاء للبخاری (عربی) صحفه 168)۔

امام ابنِ جوزیؒ بھی اس کو الضعفاء میں شامل کر کے فرماتے ہیں یحییٰ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے اور اس سے احتجاج نہیں کیا جاسکتا ابنِ مبارکؒ کہتے ہیں اسے پھینک دو امام ابوحاتمؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے اور اس کی تمام احادیث موضوع اور باطل ہیں۔

(كتاب الضعفاء والمتر و کین (عربی) جلد 3، صحفہ 209)۔

امام ابنِ حبانؒ نے اس کو المجروحین میں شامل فرمایا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ راوی ان کے نزدیک بھی ضعیف ہے۔

(كتاب المجروحين من المحد ثین (عربی) جلد 2 صحفه 450)۔

اس روایت کے بارے میں محدثین نے بھی یہی فرمایا ہے کہ یہ منکر و باطل ہے۔ 

امام ذھبیؒ اس کی اسی روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:

یہ یزید کی منکر روایات میں سے ہے۔

(سیر اعلام النبلاء (عربی) جلد 3 صحفہ (132)۔

امام نور الدین ہیثمیؒ اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں۔ 

یزید بن ابی زیاد کو اکثر محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔

(مجمع الزوائد (عربی) جلد 8 روایت 13311)۔

امام ابنِ جوزیؒ اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں۔

یہ حدیث صحیح نہیں ہے یزید بن ابی زیاد آخری عمر میں تلقین قبول کرتا تھا اور علی اور یحییٰ کہتے ہیں اس کی حدیث سے احتجاج نہیں کیا جائے گا اور ابنِ مبارکؒ کہتے ہیں اسے پھینک دو (یعنی اس کی روایت کو پھینک دو) اور ابنِ عدی کہتے ہیں اس کی روایات کی متابعت نہیں کی گئی۔

(کتاب الموضوعات لابنِ جوزی (عربی) جلد 2 صحفہ 28)۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ اس روایت کی تمام اسناد باطل ہیں اور یہ روایت موضوع ہے اس لئے اس روایت سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔