نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے…

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے جہنم کی بددعا کرنا

  محمد ذوالقرنین

صفحہ 2 از 2

اس کا حافظہ خراب تھا یحییٰؒ کہتے ہیں یہ قوی نہیں ہے اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ابنِ مبارکؒ کہتے ہیں اسے پھینک دو (پھر امام ذھبیؒ اسی روایت کے بارے میں فرماتے ہیں) یہ روایت منکر ہے ابنِ فضیل کہتے ہیں یزید بن ابوزیاد شیعہ کے اکابرین میں سے ہے امام مسلم نے اس سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ساتھ دوسرے راوی کا ذکر بھی ہے (یعنی متابعت میں)۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 7 صحفہ 232 تا 234)۔

امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

پانچویں طبقہ کا ضعیف راوی ہے بڑی عمر میں اس کا حافظہ بدل گیا تھا تلقین قبول کرتا تھا اور شیعہ تھا۔

(تقريب التہذیب (اردو) جلد 2 صحفه 313)۔

امام نسائیؒ اس کو الضعفاء میں شامل کر کے کہتے ہیں:

یزید بن ابی زیاد قوی نہیں ہے۔

(كتاب الضعفاء والمتروكين للنسائی (عربی) صحفه 256)۔

امام بخاریؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں یزید بن ابی زیاد منکر الحدیث ہے۔

(كتاب الضعفاء للبخاری (عربی) صحفه 168)۔

امام ابنِ جوزیؒ بھی اس کو الضعفاء میں شامل کر کے فرماتے ہیں یحییٰ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے اور اس سے احتجاج نہیں کیا جاسکتا ابنِ مبارکؒ کہتے ہیں اسے پھینک دو امام ابوحاتمؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے اور اس کی تمام احادیث موضوع اور باطل ہیں۔

(كتاب الضعفاء والمتر و کین (عربی) جلد 3، صحفہ 209)۔

امام ابنِ حبانؒ نے اس کو المجروحین میں شامل فرمایا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ راوی ان کے نزدیک بھی ضعیف ہے۔

(كتاب المجروحين من المحد ثین (عربی) جلد 2 صحفه 450)۔

اس روایت کے بارے میں محدثین نے بھی یہی فرمایا ہے کہ یہ منکر و باطل ہے۔ 

امام ذھبیؒ اس کی اسی روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:

یہ یزید کی منکر روایات میں سے ہے۔

(سیر اعلام النبلاء (عربی) جلد 3 صحفہ (132)۔

امام نور الدین ہیثمیؒ اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں۔ 

یزید بن ابی زیاد کو اکثر محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔

(مجمع الزوائد (عربی) جلد 8 روایت 13311)۔

امام ابنِ جوزیؒ اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں۔

یہ حدیث صحیح نہیں ہے یزید بن ابی زیاد آخری عمر میں تلقین قبول کرتا تھا اور علی اور یحییٰ کہتے ہیں اس کی حدیث سے احتجاج نہیں کیا جائے گا اور ابنِ مبارکؒ کہتے ہیں اسے پھینک دو (یعنی اس کی روایت کو پھینک دو) اور ابنِ عدی کہتے ہیں اس کی روایات کی متابعت نہیں کی گئی۔

(کتاب الموضوعات لابنِ جوزی (عربی) جلد 2 صحفہ 28)۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ اس روایت کی تمام اسناد باطل ہیں اور یہ روایت موضوع ہے اس لئے اس روایت سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔


صفحہ 2 از 2