Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

زیارت حسین اور شیعی روایات

  حامد محمد خلیفہ عمان

شیعہ حضرات نے ابو الحسن الماضی سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں:

’’جس نے حسین رضی اللہ عنہ کا حق پہچان کر ان کی زیارت کی رب تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دے گا۔‘‘ (کامل الزیارات: صفحہ 262)

ابو عبداللہ سے روایت ہے:

’’جس نے حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت کی رب تعالیٰ اس کے لیے اسّی مقبول حجوں کا ثواب لکھ لے گا۔‘‘ (المزار للمفید: صفحہ 47)

ابو عبداللہ ہی سے روایت ہے:

’’جو حسین رضی اللہ عنہ کا حق پہچان کر ان کی قبر پر آیا، گویا کہ اس نے نبی کریمﷺ کے ساتھ تین حج کر لیے۔‘‘ (کامل الزیارات: صفحہ 267)

ابو عبداللہ سے یہ بھی روایت ہے:

’’جو حسین رضی اللہ عنہ کی قبر پر ان کا حق پہچان کر آیا، گویا کہ اس نے سو حج کیے۔‘‘ (کامل الزیارات: صفحہ 303-304 وسائل الشیعۃ: جلد، 10 صفحہ 350)

حذیفہ بن منصور کہتے ہیں:

’’مجھے ابو عبداللہ نے پوچھا: تم نے کتنے حج کر رکھے ہیں ؟ میں نے کہا: نو۔ تو بولے: اگر تم اکیس حج پورے کر لو، تو رب تعالیٰ تمہیں حسین کی زیارت کرنے والوں کی طرح لکھ لے گا۔‘‘ (کامل الزیارات: صفحہ 304 وسائل الشیعۃ: جلد، 10 صفحہ 350)

محمد بن مسلم ابو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ

’’جس نے حسین رضی اللہ عنہ کا حق پہچان کر ان کی قبر کی زیارت کی، رب تعالیٰ اس کے لیے ایک ہزار مقبول حجوں کا ثواب لکھ لے گا اور اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے گا۔‘‘ (وسائل الشیعۃ: جلد، 10 صفحہ 347)

یہ ہیں، وہ باطل روایات جن کی بنا پر یہ شیعہ حضرات کربلاء سے لائی مٹی پر سجدہ کرنے کو، جس کو یہ لوگ تربت حسینی کہتے ہیں، ارضِ حرم پر سجدہ کرنے پر ترجیح اور فضیلت دیتے ہیں۔ چنانچہ جب شیعہ کے آیۃ اللہ العظمی محمد حسین شیرازی سے سوال کیا گیا کہ

’’کہتے ہیں کہ سر زمین کربلاء سرزمین مکہ سے افضل ہے اور تربت حسینی پر سجدہ کرنا ارض حرم پر سجدہ کرنے سے افضل ہے؟ کیا یہ صحیح ہے؟ تو موصوف نے جواب دیا کہ ہاں۔‘‘ (فقہ العقائد: صفحہ 37)

شیعوں کے شیخ، آیت اللہ العظمی محمد الحسین کاشف الغطاء اکثر یہ شعر پڑھا کرتا تھا:

من حدیث کربلاء و الکعبۃ

لکربلاء بان علوم الرتبۃ

لکربلاء بان علو الرتبۃ

’’اگر بات کعبہ اور کربلا کی ہو، تو بے شک یہ ظاہر ہو گیا کہ کربلا کا رتبہ اونچا ہے، کربلا کا رتبہ اونچا ہے۔‘‘ (الارض و التربۃ الحسینیۃ: صفحہ 26)

شیعوں کے شیخ آیت اللہ العظمی عبدالحسین دست غیب کہتا ہے:

’’رب تعالیٰ نے اپنے بندوں پر یہ کرم کیا کہ قبر حسین کی زیارت کو بیت اللہ الحرام کے حج کا بدل بنا دیا، تاکہ جو حج نہ کر سکے، وہ قبر حسین کی زیارت کو لازم پکڑے۔ بلکہ جو لوگ قبر حسین کی زیارت کی شرائط کو ملحوظ رکھتے ہیں، انہیں حج سے بھی زیادہ ثواب ملتا ہے جیسا کہ اس باب میں وارد بے شمار صریح روایات میں آتا ہے۔‘‘ (الثورۃ الحسینیۃ: صفحہ 15 طبع دار التعارف بیروت از دست غیب)

شیعہ حضرات نبی کریمﷺ کی طرف منسوب کر کے یہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:

’’کربلاء روئے زمین کی سب سے پاکیزہ، سب سے زیادہ حرمت والی سرزمین ہے اور یہ جنت کے میدانوں میں سے ہے۔‘‘ (السجود علی التربۃ الحسینیۃ لمحمد ابراہیم القزوینی: صفحہ 25)

بے شک زیارت حسین یا قبر حسین کی زیارت دین کا حصہ نہیں۔ دین تو اس سے قبل مکمل ہو چکا تھا، جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا (سورۃالمائدۃ: آیۃ 3)

’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔‘‘

نبی کریمﷺ نے اس بات کا حکم امیر المومنین علی، حضرات حسنین کریمین، حضرت ابو ذر، حضرت مقداد، حضرت عمار، حضرت حذیفہ، حضرت ابو سعید خدری وغیرہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو بھی تو نہیں دیا اور اگر بالفرض یہ حکم تھا، بھی تو نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ قبر حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت کے اس ثواب سے یہ تمام مذکورہ اصحاب اور خود جناب حسین رضی اللہ عنہ بھی محروم رہے۔

امام صادق قتل حسین کے بعد آئے ہیں۔ حنان بن سدیر سے شیعہ حضرات روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں میں نے ابو عبداللہ سے پوچھا: آپ قبر حسین کی زیارت کے بارے میں کیا کہتے ہیں، ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ تم میں سے بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ’’زیارت قبر حسین اجر کے اعتبار سے حج اور عمرہ کے برابر ہے‘‘ تو فرمانے لگے:

’’یہ حدیث کتنی سخت ہے، زیارتِ قبر حج اور عمرہ کے برابر ہرگز بھی نہیں۔ البتہ ان کی قبر کی زیارت کرو اور ان سے جفا نہ کرو کہ وہ نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں۔‘‘ (وسائل الشیعۃ: جلد، 10 صفحہ 352)