سیدنا ابنِ عباسؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ پر لعنت کرنا
محمد ذوالقرنینسیدنا ابنِ عباسؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ پر لعنت کرنا
امام بیہقیؒ نے اپنی سنن میں ایک روایت نقل کی ہے جس کو دلیل بنا کر شیعہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا علیؓ سے بغض رکھتے تھے اور سیدنا ابنِ عباسؓ نے ان پر لعنت بھی کی۔
روایت کچھ یوں ہے:
سند:
اخبرنا ابو الحسن محمد بن حسن العلوى اخبرنا عبد اللّٰه بن محمد بن الحسن بن الشرقی حدثنا على بن سعيد النسوى حدثنا خالد بن مخلد حدثنا على بن صالح عن ميسرة بن حبيب النهدی عن المنهال بن عمرو عن سعيد بن جبير قال۔
متن: سعید بن جبیر کہتے ہیں ہم سیدنا ابنِ عباسؓ کے پاس عرفہ میں تھے انہوں نے کہا سعید کیا وجہ ہے کہ میں لوگوں کو تلبیہ کہتے نہیں سنتا؟ میں نے کہا وہ سیدنا امیر معاویہؓ سے ڈرتے ہیں تو سیدنا ابنِ عباسؓ اپنے خیمہ سے نکلے اور کہا لبیک اللّٰهم لبیک سیدنا امیر معاویہؓ کی ناک خاک آلود ہو جائے اے اللّٰه سیدنا امیر معاویہؓ پر لعنت کر انہوں نے سیدنا علیؓ سے بغض کی وجہ سے سنت کو چھوڑ دیا ہے۔
(سنن الکبری بیہقی (اردو) جلد 6 روایت 9447)۔
یہ روایت دیگر کتب میں تین مختلف اسناد کے ساتھ بیان کی گئی ہے اور باقی تینوں روایات میں لعنت کے الفاظ نہیں ہیں صرف ان میں یہ الفاظ ہیں سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا علیؓ کے بغض میں سنت کو چھوڑ دیا۔ لیکن ان تمام اسناد کا دار و مدار بھی خالد بن مخلد پر ہے دیگر کتب جن میں یہ روایت بیان کی گئی ہے ان کے حوالے ملاحظہ فرمائیں۔
(مستدرک الحاکم (ارود) جلد 2 روایت 1706)۔
(سنن نسائی (اردو) جلد 4 روایت 3009)۔
(صحیح ابن خزیمہ (اردو) جلد 3 روایت 2830)۔
امام حاکمؒ نے مستدرک میں اس روایت کو بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے لیکن اہلِ علم جانتے ہیں کہ امام حاکمؒ تصحیح احادیث میں متساہل ہیں اور ان کی تصحیح سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔
اس روایت کی حقیقت ملاحظہ فرمائیں۔
اسناد کا تعاقب: اس روایت میں دو علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کا راوی عبد اللہ بن محمد بن حسن شرقی فاسق و فاجر تھا۔
امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے کیونکہ یہ باقاعدگی سے شراب پیتا تھا۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 4 صحفہ 188)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی فاسق ہے اور فاسق راوی کی روایت قابل قبول نہیں ہوتی۔
دوسری علت: اس روایت بنیادی راوی خالد بن مخلد ہے جو کہ اپنی ذات کے اعتبار سے تو صدوق ہے لیکن یہ شیعہ رافضی راوی ہے اور اس سے منکر روایات بھی منقول ہیں۔
امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:
امام ابوداؤدؒ کہتے ہیں یہ صدوق ہے پر شیعہ ہے امام احمدؒ کہتے ہیں اس سے منکر روایات منقول ہیں امام ابوحاتمؒ کہتے ہیں اس کی روایات لکھی جائیں گی لیکن ان سے استدلال نہیں کیا جاسکتا ابنِ سعدؒ کہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے اور یہ انتہا پسند شیعہ تھا (ذھبیؒ) کہتے ہیں ابنِ عدیؒ نے اس کے حوالے سے دس روایات نقل کی ہیں جو منکر ہیں (مزید فرماتے ہیں) اس سے منفرد روایات منقول ہیں (پھر ذھبیؒ اس کی بخاری میں نقل کی گئی روایت کے بارے میں فرماتے ہیں) یہ روایت انتہائی غریب ہے اگر بخاری کی عظمت پیش نظر نہ ہوتی تو یہ خالد کی نقل کردہ منکر روایت ہوتی۔
(میزان الاعتدال (اردو)، جلد 2، صحفہ 483،484)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بخاری میں خالد کی جو روایت آئی ہے وہ غریب ہے اور اس بات سے یہ استدلال بھی نہیں کیا جاسکتا کہ یہ بخاری کا راوی ہے تو اس کی روایت کو مطلقاً قبول کیا جائے گا۔
امام ذھبیؒ خالد بن مخلد پر آخری حکم لگاتے ہوئے لکھتے ہیں:
امام ابوداؤدؒ کہتے ہیں یہ صدوق شیعہ ہے امام احمدؒ کہتے ہیں اس سے منکر روایات مروی ہیں۔
(الكاشف (عربی) جلد 1 صحفہ 368)۔
امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔
خالد صدوق شیعہ راوی ہے اور اس سے منفرد احادیث مروی ہیں۔
(تقریب التہذیب (اردو) جلد 1 صحفه 233)۔
ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ خالد بن مخلد شیعہ راوی ہے اس سے منکر روایات منقول ہیں یہ منفرد روایات بھی بیان کرتا ہے اور اس روایت کو بیان کرنے میں بھی منفرد ہے۔
اہلِ سنت کے اصول حدیث کے مطابق شیعہ راوی کی وہ روایت جو اس کے مذہب کو تقویت دے باطل ہوتی ہے۔
اور ہم یہ اصول بھی بیان کرچکے کہ صدوق راوی اگر منفرد روایت بیان کرئے تو وہ منکر ہوتی ہے اور خالد کے بارے میں تو تصریح بھی ہے کہ یہ منکر روایات بیان کرتا ہے۔
ان تمام دلائل کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ روایت موضوع ہے اور اس کو بطور حُجت قبول کرنا جائز نہیں۔