Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

روضۂ حسین کی بدعت

  حامد محمد خلیفہ عمان

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی قبر پر شیعوں نے روضہ بنا کر خود ان کے علماء کے بقول گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ شیعہ کے امام اور شیخ جناب شیرازی لکھتے ہیں:

’’شیعہ حضرات یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ پیغمبروں، ائمہ اور اسلامی شخصیات کی قبروں پر روضے بنانا، سب سے بڑی نیکی ہے، (فقہ العقائد: صفحہ 365) بے شک یہ قول سراسر باطل ہے کیونکہ نبی کریمﷺ نے قبروں پر عمارتیں بنانے سے منع فرمایا ہے۔ شیعہ حضرات ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: نبی کریمﷺ نے قبر پر نماز پڑھنے یا اس پر بیٹھنے یا اس پر عمارت بنانے سے منع فرمایا ہے۔‘‘ (وسائل الشیعۃ: جلد، 2 صفحہ 869)

نبی کریمﷺ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے قبروں کو گچ سے پختہ بنانے، یا ان پر تعمیر کرنے یا ان پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ اسی لیے اس نہی کو ائمہ نے امام جعفر صادق رحمۃ اللہ سے نقل کیا ہے کہ سات باتیں حرام کھانے میں داخل ہیں:

(1) فیصلہ کرنے میں رشوت لینا

(2) رنڈی کی اجرت

(3) کاہن کا معاوضہ

(4) کتے کا ثمن

(5) اور جو لوگ قبروں پر عمارتیں بناتے ہیں۔ (مستدرک الوسائل: جلد، 1 صفحہ 127)

علی بن جعفر سے روایت ہے کہ انہوں نے امام موسیٰ علیہ السلام سے قبروں پر بیٹھنے اور ان پر عمارتیں بنانے کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا:

’’قبروں پر عمارتیں بنانا، ان پر بیٹھنا، انہیں گچ سے پختہ کرنا اور انہیں لیپ دینا درست نہیں۔‘‘ (وسائل الشیعۃ: جلد، 2 صفحہ 869 جامع احادیث الشیعۃ: جلد، 3 صفحہ 444)

ہم شیعوں پر یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ وہ قبروں پر عمارتیں بنانے کی بابت جناب امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ کی اقتدا کریں، جن کو نبی کریمﷺ نے اس بات کے لیے بھیجا تھا کہ وہ قبروں پر بنی عمارتوں کو ڈھا دیں اور مورتیوں کو توڑ دیں، تاکہ یہ امر بعد والوں کے لیے نمونہ بنے۔

اس لیے قبروں کے پاس یا ان پر مساجد بنانے سے بچا جائے۔ سماعہ بن مہران سے روایت ہے کہ انہوں نے قبروں کی زیارت کرنے اور ان پر عمارتیں بنانے کے بارے میں ابو عبداللہ علیہ السلام سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا:

’’زیارتِ قبور میں تو کوئی حرج نہیں، البتہ ان کے پاس مساجد کو تعمیر نہ کیا جائے۔‘‘ (الکافی: جلد، 3 صفحہ 228 من لا یحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ 114 وسائل الشیعۃ: جلد، 2 صفحہ 887)

قبروں کو قبلہ اور سجدہ گاہ بنانے سے بچا جائے۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:

’’میری قبر کو قبلہ اور مسجد نہ بنانا کیونکہ رب تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ پر لعنت کی ہے، اس لیے کہ انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مساجد بنا لیا تھا۔‘‘ (من لا یحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ 114 علل الشرائع: 358 الوافی: جلد، 5 صفحہ 72 وسائل الشیعۃ: جلد، 2 صفحہ 882)

امیر المومنین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے:

’’میری قبر کو مسجد نہ بنا لینا اور نہ اپنے گھروں کو قبریں ہی بنا لینا، تم جہاں کہیں ہو وہیں نماز پڑھ لیا کرو اور تمہارا سلام مجھے پہنچ جاتا ہے۔‘‘

ایک روایت میں یہ زیادہ ہے کہ

’’اور اپنی قبروں کو مساجد نہ بناؤ۔‘‘ (مستدرک الوسائل: جلد، 1 صفحہ 225)

شیخ محمد الحسینی آل کاشف الغطاء نے اپنے رسالہ ’’نقض فتاوی الوہابیۃ: صفحہ 27‘‘ پر قبروں پر تعمیر کے مسئلہ سے جب تعرض کیا، تو جان بوجھ کر شیعی روایات کو ذکر تک نہیں کیا، تاکہ قارئین کو اس مغالطہ میں ڈال سکے کہ قبروں پر تعمیر کی ممانعت کا ذکر صرف اہل سنت والجماعت اور اہل حدیث کی روایات میں ملتا ہے اور اس بابت مسلم شریف کی ایک روایت کو ذکر کر کے گویا کہ اپنے تئیں اس مسئلہ کو سنیت کا شاخسانہ قرار دے دیا۔ جبکہ ان روایات کی طرف اشارہ تک نہیں کیا، جو شیعہ مآخذ و مصادر میں مذکور ہیں اور وہ روایات صراحت کے ساتھ قبروں پر تعمیر سے روکتی ہیں۔

کیا شیعہ علماء کا یہ روایت کرنا باطل مذہب کی حمایت نہیں؟ بھلا امام خمینی کے اس سچ کے بعد بھی اس بات کے تسلیم کرنے کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ شیعہ علماء صدق لسانی اور راست گوئی سے کام لیتے ہیں۔

امام خمینی لکھتے ہیں:

’’اگر تقیہ نہ ہوتا، تو ہمارا مذہب زوال اور فنا کی زَد میں آ جاتا۔‘‘ (الرسائل للخمینی: جلد، 2 صفحہ 185)

کیا شیخ آل کاشف الغطاء نے جان بوجھ کر دو صریح شیعی روایات کے ذکر سے اعراض نہیں کیا، جو خود مسلم شریف کی روایت کی تائید کرتی ہیں۔ وہ دو روایات یہ ہیں:

 پہلی روایت

کلینی اور الحر العاملی نے ابو عبداللہ رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’مجھے نبی کریمﷺ نے مدینہ بھیجا اور فرمایا: ’’کسی مورت کو نہ چھوڑنا مگر اس کو مٹا دینا، کسی قبر کو نہ چھوڑنا مگر اس کو برابر کر دینا اور کسی کتے کو نہ چھوڑنا مگر اس کو قتل کر دینا۔‘‘ (الکافی: جلد، 6 صفحہ 528 وسائل الشیعۃ: جلد، 2 صفحہ 870 جامع احادیث الشیعۃ: جلد، 3 صفحہ 445)

 دوسری روایت

یہ دونوں شیعی علماء ابو عبداللہ ہی سے نقل کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں:

’’امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہﷺ نے بھیجا، تاکہ میں قبروں کو ڈھا دوں اور مورتیوں کو توڑ دوں۔‘‘ (الکافی: جلد، 6 صفحہ 528 وسائل الشیعۃ: جلد، 2 صفحہ 870 جامع احادیث الشیعۃ: جلد، 3 صفحہ 445)

لیکن ذرا ٹھہریے! بات صرف اسی حد تک ختم نہیں ہو جاتی، بلکہ ایک اور شیعی عالم کاشف الغطاء حسن سعید نامی ایک صاحب کی پیروی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی مسلم کی ایک روایت لاتے ہیں، پھر ایک اور روایت ذکر کرتے ہیں، جو مسلم اور ترمذی دونوں میں مذکور ہے، جن میں قبروں کو پختہ بنانے اور ان پر تعمیر کرنے کی ممانعت مذکور ہے۔ (الرسول و الشیعۃ: صفحہ 132-136) اس کے بعد طرفہ تماشا یہ ہے کہ اس بات کو امت کی طرف منسوب کرتا ہے کہ امت کا قبروں پر عمارت بنوانے اور ان پر کتبوں کی تحریریں لکھوانے کے جواز پر اجماع ہے۔ (الرسول و الشیعۃ: صفحہ 137)

بلاشبہ یہ نرا جھوٹ ہے۔ اگر آپ اس جھوٹ کا جائزہ لینا چاہتے ہیں، تو علامہ البانی رحمہ اللہ کی کتاب ’’تحذیر الساجد من اتخاذ القبور مساجد‘‘ کا مطالعہ کیجیے۔ ان شاء اللہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا اور شیعوں کے لگائے اس الزام کی قلعی کھل جائے گی کہ اہل سنت والجماعت کا مساجد پر تعمیر کے جواز پر اجماع ہے۔

پھر موصوف اپنے ائمہ کی طرف بھی اس جواز کی نسبت بیان کرتے ہیں، یہ بھی جھوٹ ہے۔ جس کی دلیل ہماری گزشتہ مذکورہ دو روایات ہیں جو ان ہی کے ائمہ سے مروی ہیں جو قبروں پر تعمیر کی حرمت کو صراحت کے ساتھ ذکر کرتی ہیں، لیکن موصوف آل کاشف کتمان پر کتمان کیے چلے جاتے ہیں۔ مذکورہ مسئلہ کسی لطیفہ سے کم نہیں۔ ان کے شیخ یوسف بحرانی کہتے ہیں:

’’جملہ اصحاب نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ قبروں کو پختہ بنانا، ان پر تعمیر کرنا مکروہ ہے۔ بلکہ ’’التذکرۃ‘‘ کے ظاہر سے اس کراہت پر اجماع محسوس ہوتا ہے۔ شیخ نے ’’النہایۃ‘‘ میں قبروں کو پختہ بنانے اور ان پر چھایا کرنے کو مکروہ لکھا ہے اور ’’المبسوط‘‘ میں لکھتے ہیں کہ قبروں کو پختہ بنانا مباح جگہوں میں ان پر تعمیر کرنا بالاجماع مکروہ ہے۔‘‘ (الحدائق الناضرۃ: جلد، 4 صفحہ 130)

شیعوں کے علامہ اور محقق ملا محمد باقر سبزواری کہتے ہیں:

’’ہمارے اصحاب کے نزدیک قبروں پر تعمیر مکروہ ہے مصنف نے ’’التذکرۃ‘‘ میں اس پر اجماع نقل کیا ہے، شیخ نے بھی اجماع کو ذکر کیا ہے۔ ’’الذکری‘‘ میں مذکور ہے: مشہور قول قبروں پر تعمیر کرنے اور ان کو مساجد بنانے کے مکروہ ہونے کا ہے۔‘‘

شیخ ’’الذکری‘‘ میں ان اخبار کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

’’ان روایات کو الصدوق، شیخین اور متاخرین کی ایک جماعت نے اپنی کتابوں میں روایت کیا ہے اور اس حکم سے قبر کو مستثنیٰ نہیں کیا۔‘‘ (ذخیرۃ المعادفی شرح الارشاد للسبزواری: صفحہ 343)

شیخ محمد جواد الحسینی العاملی نے شیعہ کے نزدیک قبروں پر عمارت بنانے کے مکروہ ہونے پر اجماع نقل کیا ہے۔ (مفتاح الکرامۃ شرح قواعد العلامۃ للعاملی: جلد، 2 صفحہ 856)

لیکن اس سب کے باوجود شیعہ کے شیخ علامہ سبزواری، اپنے شیخ ’’شہید الاول‘‘ سے یہ قول بھی نقل کرتے ہیں کہ

’’امامیہ کا اس اجماع کے خلاف پر اجماع ہے، جس کو شیخ الطائفہ ابو جعفر طوسی اور ان کے علامہ الحلی وغیرہ نے نقل کیا ہے۔ (ذخیرۃ المعاد: صفحہ 344) جیسا کہ انہوں نے نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کی حرمت پر شیعہ کے علماء کے اجماع کا انکار کیا ہے۔‘‘

فَاعْتَبِرُوْا یَا اُوْلِی الْاَبْصَارِ!

افسوس کہ شیعہ حضرات خود اپنی روایات، اقوال اور اپنے علماء کے اجماع کا احترام نہیں کرتے۔ یہ ایک اجماع نقل کرتے ہیں پھر خود ہی اس کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔