سیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا علیؓ کی شہادت پر خوش ہونا
محمد ذوالقرنينسیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا علیؓ کی شہادت پر خوش ہونا
شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا علیؓ سے بغض رکھتے تھے اس پر شیعہ ایک روایت پیش کرتے ہیں کہ جب سیدنا علیؓ کی شہادت ہوئی تو سیدنا امیر معاویہؓ نے خوشی کا اظہار کیا۔
روایت کچھ یوں ہے۔
سند:
اخبرنا ابوبكر محمد بن محمد بن على بن كرتيلا ، انا محمد بن على المقرى، انا احمد بن عبداللّٰه السوسنجردی، انا ابو جعفر احمد بن ابی طالب على بن محمد الكاتب انا ابی انا محمد بن مروان بن عمر السعيدی اخبرنى جعفر بن احمد بن معدان نا الحسن بن جهور و نا المدائني عن مسلمة بن محارب قال، قال عبداللّٰه ابنِ عباسؓ
متن: سیدنا عبداللہ ابنِ عباسؓ کہتے ہیں صلح کے بعد میں پہلی مرتبہ سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا خوش آمدید اے سیدنا ابنِ عباسؓ وہ میرے اور کسی شخص (سیدنا علیؓ) کے درمیان فتنہ ابھی اتنا نہیں بڑھا تھا کہ اس کی دوری کی وجہ سے تم مجھے اور زیادہ عزیز اور محبوب ہوگئے ہو اللّٰہ کا شکر ہے کہ جس نے سیدنا علیؓ کو موت دے دی تو میں (سیدنا ابنؓ عباسؓ) نے کہا اے سیدنا امیر معاویہؓ اللّٰہ کو اس کی لکھی ہوئی تقدیر پر ملامت مت کرو اور اس بات کے علاؤہ کوئی بات کرو تو اچھا ہے تم میرے چچا کے بیٹے کے بارے میں ایسی بات نہ کرو تو میں تمہارے چچا کے بیٹے کے بارے میں بھی خاموش رہوں گا تو سیدنا امیر معاویہؓ نے کہا ٹھیک ہے۔
(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 29 صحفہ 287،288)
اسناد کا تعاقب: اس روایت کی سند میں پانچ علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کا مرکزی راوی مسلمہ بن محارب مجہول الحال ہے اور اس کا سماع بھی سیدنا امیر معاویہؓ یا سیدنا ابنِ عباسؓ سے ثابت نہیں۔
امام بخاریؒ نے اس کے ترجمہ میں اس کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے جو یہ اپنے باپ سے نقل کرتا ہے لکھتے ہیں۔
مسلمة بن محارب عن ابیہ ان معاویہؓ کتب الی زیاد۔
(تاريخ الكبير للبخاری (عربی) جلد 7 صحفه 387)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس راوی کا خود کا سماع سیدنا امیر معاویہؓ یا سیدنا ابنِ عباسؓ سے ثابت نہیں اور اس راوی کو صرف ابنِ حبانؒ نے اپنی الثقات میں شامل کیا ہے جو کہ اس کی ثقاہت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں کیونکہ امام ابنِ حبانؒ راویوں کی توثیق کرنے میں تساہل ہیں۔
دوسری علت: اس روایت میں مسلمہ سے روایت کرنے والا مدائنی کون ہے اس بات کا تعین نہیں ہوسکا۔
تیسری علت: اس روایت کا راوی حسن بن جہور مجہول العین ہے اس کا ترجمہ بھی اسماء ورجال کی کسی کتاب میں موجود نہیں۔
چوتھی علت: اس روایت کا راوی جعفر بن احمد بن معدان مجہول العین ہے۔
پانچویں علت: اس روایت کا راوی محمد بن مروان بن عمر السعیدی بھی مجہول العین ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارا سلسلہ ہی مجہولین کا ہے اور اس کا متصل ہونا ممکن نہیں اس روایت کو گھڑنے کا ذمہ دار انہیں مجہول راویوں میں سے کوئی ایک ہے۔
سیدنا امیر معاویہؓ کی مداح سیدنا ابنِ عباسؓ کی زبانی
جبکہ اس کے برعکس سیدنا ابنِ عباسؓ کا صحیح سند سے جو قول سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں منقول ہے وہ ملاحظہ فرمائیں۔
سند:
اخبرنی عبد الملك الميمونى قال حدثنا ابو سلمة قال حدثنا عبد اللّٰه بن مباركؒ عن معمر عن همام بن منبه
سمعت ابنِ عباسؓ۔
متن:
سیدنا عبداللّٰه ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں میں نے (سیدنا علیؓ کی وفات کے بعد) سیدنا امیر معاویہؓ سے زیادہ حکومت کے لئے بہتر کسی کو نہیں پایا آپؓ کو تمام لوگوں نے حد درجہ سخی اور کشادہ دل پایا آپ تنگ نظر تنگ دل اور متعصب نہیں تھے۔
(کتاب السنۃ لابی خلال (عربی) جلد 1 روایت 677)۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سبھی لوگ سیدنا امیر معاویہں کو پسند کرتے تھے اور سیدنا امیر معاویہؓ بہترین حکمران تھے۔
اور اس کے برعکس جو روایت پیش کی جاتی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا ابنِ عباسؓ کے سامنے سیدنا علیؓ کی شہادت پر خوشی کا اظہار کیا وہ موضوع ہے۔