Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا عثمانؓ کو شہید کرنا چاہتے تھے

  محمد ذوالقرنين

سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا عثمانؓ کو شہید کرنا چاہتے تھے

بعض شیعہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا عثمانؓ کو شہید کرنا چاہتے تھے اور اپنے اس بہتان کو ثابت کرنے کے لئے ایک روایت کا سہارا لیتے ہیں روایت کچھ یوں ہے کہ۔

 سند: 

حدثنی حرملة قال اخبرنا ابنِ وبسب عن ابنِ لهيعة عن يزيد بن أبی حبيب قال اقام عبداللّٰه بن سعد۔

 متن: یزید بن ابی حبیب کہتے ہیں کہ سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے بعد سیدنا عبد اللّٰہ بن سعدؓ (سیدنا عثمانؓ کے رضائی بھائی) عسقلان چلے گئے انہوں نے سیدنا امیر معاویہؓ کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا اور کہا میں ایسے شخص کے ساتھ کیسے رہ سکتا ہوں جس کے بارے میں مجھے معلوم ہے کہ وہ سیدنا عثمانؓ کی شہادت کا خواہشمند تھا پھر وہ وفات تک وہیں (عسقلان میں) رہے۔

(كتاب المعرفة والتاريخ للفسوی (عربی) جلد 1 صحفه 254)

(تاریخ مدینہ دمشق ابنِ عساکر (عربی) جلد 29 صحفہ 42)

 اسناد کا تعاقب: یہ روایت مرسل ہے کیونکہ یزید بن ابی حبیب ارسال کرتا ہے اور اس نے سیدنا عبداللہ بن سعد بن ابی سراحؓ سے سماع نہیں کیا۔

امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

پانچویں طبقہ کا ثقہ فقیہ راوی ہے اور ارسال کرتا ہے۔

(تقريب التہذيب (اردو) جلد 2 صحفہ 311)

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یزید بن حبیب ارسال کرتا ہے اور یہاں بھی ارسال کر رہا ہے کیونکہ اس نے سیدنا عبد اللّٰہ بن سعد بن ابی سراحؓ سے سماع نہیں کیا اور نہ ہی ان کا زمانہ پایا۔

 سیدنا عبداللہ بن ابی سراحؓ کی وفات:

سیدنا عبداللّٰہ بن سعد بن ابی سراحؓ کی وفات کے بارے میں مختلف اقوال ہیں اور راجح قول یہی ہے کہ وہ سیدنا علیؓ کے دورِ خلافت میں فوت ہوئے۔

امام ابنِ عساکرؒ نقل کرتے ہیں

(ایک قول نقل کرتے ہیں کہ) سیدنا عبد اللّٰہ بن سعدؓ سیدنا امیر معاویہؓ کے دور میں 59 ہجری میں فوت ہوئے (اور ایک قول نقل کرتے ہیں) کہ 66 ہجری میں فوت ہوئے۔

(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 29 صحفہ 42)۔

امام ذھبیؒ نقل فرماتے ہیں:

امام ابوحاتمؒ کہتے ہیں کہ ان کی وفات 59 ہجری میں ہوئی پھر امام ذھبیؒ خود فرماتے ہیں) اور اصح بات یہ ہے کہ ان کی وفات سیدنا علیؓ کے دورِ خلافت میں ہوئی۔

(سیر اعلام النُبلاء (عربی) جلد 9 صحفہ 35)

اور ابنِ منظورؒ لکھتے ہیں۔

سیدنا عبد اللہ بن سعدؓ کی وفات 36 ہجری میں عسقلان میں ہوئی اور بعض کہتے ہیں رملہ میں 59 ہجری میں ہوئی اور بعض کہتے ہیں کہ 66 ہجری میں ہوئی۔

(مختصر تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 12 صحفہ 225)۔

امام ابنِ اثیرؒ فرماتے ہیں:

سیدنا عبد اللّٰہ بن سعد بن ابی سراحؓ جو عسقلان میں 36 ہجری میں فوت ہوئے ایک قول ہے 59 ہجری میں ایک قول ہے سیدنا امیر معاویہؓ کے دور کے آخر میں ایک قول ہے 66 ہجری میں (پھر فرماتے ہیں) اور اصح پہلی بات ہے (یعنی 36 ہجری میں)۔

(اسد الغابة فی معرفة الصحابةؓ (عربی) جلد 3 صحفہ 156)

اِن اقوال سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا عبد اللّٰہ بن ابی سراحؒ کی وفات سیدنا علیؓ کے دور خلافت میں 36 ہجری میں ہوئی جیسا کہ امام ذھبیؒ اور امام ابنِ اثیرؒ نے صراحت فرمائی ہے کہ اصح بات یہ ہے کہ ان کی وفات 36 ہجری میں یعنی خلافتِ سیدنا علیؓ کے دور میں ہوئی۔

 یزید بن حبیب ابی کی پیدائش:

ملاحظہ فرمائیں یزید بن ابی حبیب کب پیدا ہوا۔ 

امام ذھبیؒ فرماتے ہیں:

یزید بن ابی حبیب 50 ہجری کے بعد سیدنا امیر معاویہؓ کے دور حکومت میں پیدا ہوا۔

(سیر اعلام النُبلاء (عربی) جلد 6 صحفہ 31)۔

امام ذھبیؒ ہی تاریخِ الاسلام میں فرماتے ہیں۔

ابنِ لھیعہ کہتے ہیں یزید بن ابی حبیب تقریباً 53 ہجری میں پیدا ہوئے لیث کہتے ہیں ہمارے شیخ (یزید بن ابی حبیب) سیدنا امیر معاویہؓ کے دورِ حکومت میں پیدا ہوئے۔

(تاریخِ الاسلام للذهبی (عربی) جلد 8 صحفه 304)

ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ یزید بن ابی حبیب 53 ہجری میں سیدنا امیر معاویہؓ کے دور حکومت میں پیدا ہوئے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ اپنے پیدا ہونے سے 17 سال پہلے انہوں نے سیدنا عبداللّٰہ بن ابی سراحؓ سے سماع کر لیا ہو؟۔

اگر کوئی سیدنا عبد اللہ بن ابی سراحؓ کی وفات 59 ہجری یا 66 ہجری میں مانتا ہے تو بھی یزید بن ابی حبیب کا 6 سال یا 13 سال کی عمر میں مصر سے عسقلان میں جاکر سیدنا عبداللہ بن ابی سراحؓ سے سماع ثابت نہیں۔

اور سیدنا عبداللہ بن ابی سراحؓ کی وفات کے بارے میں اصح قول وہی ہے جو امام ذھبیؒ اور امام ابنِ اثیرؒ نے بیان کیا کہ ان کی وفات سیدنا علیؓ کے دورِ خلافت میں سنہ 36 ہجری میں ہوئی۔

پس ثابت ہوا کہ یہ روایت باطل ہے کیونکہ یزید بن ابی حبیب نے ارسال کیا ہے اور ان کا سماع سیدنا عبداللّٰہ بن ابی سراحؓ سے ثابت نہیں اس لئے اس روایت کو دلیل بنا کر یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا عثمانؓ کو شہید کرنا چاہتے تھے بہتان سے زیادہ کچھ نہیں۔