نوحہ خوانی کی حرمت
حامد محمد خلیفہ عمانہم قارئین پر یہ امر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ حسینی شعائر کے نام پر سیاہ لباس پہننا، سینہ کوبی کرنا زنجیر زنی کرنا، سیاہ پرچم اٹھانا وغیرہ جو کچھ بھی کیا جاتا ہے جن کے جواز کا یہ شیعہ علماء فتویٰ دیتے ہیں، نبی کریمﷺ نے ان سب امور کو حرام قرار دیا ہے۔ جبکہ خود شیعہ حضرات کے قدیم مآخذ میں ائمہ اہل بیت کرام کے حوالے سے بھی ان امور کو حرام کہا گیا ہے۔ اثنا عشری شیوخ اس کی حرمت کو تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ شیعہ کے شیخ محمد بن علی بن حسین بن بابویہ القمی الملقب بہ الصدوق کہتے ہیں:
رسول اللہﷺ کے الفاظ ہیں: ’’نوحہ کرنا جاہلیت کا فعل ہے۔‘‘ (شیخ صدوق نے یہ روایت ’’من لا یحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ 271-272‘‘ میں نقل کی ہے۔ اسی طرح یہ روایت الحر العاملی نے ’’وسائل الشیعۃ: جلد، 2 صفحہ 915‘‘ میں، یوسف بحرانی نے ’’الحدائق الناضرۃ: جلد، 4 صفحہ 167‘‘ میں اور حاجی حسین البروجردی نے ’’جامع احادیث الشیعۃ: جلد، 3 صفحہ 488‘‘ میں نقل کی ہے) یہی الفاظ محمد باقر المجلسی نے بھی نقل کیے ہیں۔‘‘ (بحار الانوار: جلد، 82 صفحہ 103)
معلوم ہوا کہ شیعہ حضرات صدیوں سے نسل در نسل جو نوحہ خوانی کرتے آ رہے ہیں، وہ سراسر جاہلیت ہے جیسا کہ نبی کریمﷺ نے بیان فرمایا ہے۔
نوحہ ان مبغوض اور ملعون آوازوں میں سے ایک آواز ہے جس سے اللہ اور اس کے رسول کو بغض ہے جیسا کہ شیعہ علماء علامہ مجلسی، نوری، بروجردی وغیرہ نے اس کو رسول اللہﷺ سے نقل کیا ہے۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:
’’دو آوازیں ملعون ہیں، جن سے اللہ کو بغض ہے، ایک مصیبت کے وقت نوحہ کرنا اور ایک گانے کی آواز۔‘‘ (بحار الانوار للمجلسی: جلد، 82 صفحہ 101 مستدرک الوسائل للنوری: جلد، 1 صفحہ 144 جامع احادیث الشیعۃ للبروجردی: جلد، 3 صفحہ 486)
شیعہ علماء نے ایسی جگہوں میں جانے سے منع کیا ہے جہاں یہ دو ملعون آوازیں ہوں۔ جو روایات ان حسینی شعائر میں حاضر ہونے سے منع کرتی ہیں، ان میں سے ایک امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ کا وہ خط ہے، جو انہوں نے رفاعہ بن شداد کو لکھا تھا کہ
’’اپنے زیر ولایت علاقہ میں کسی میت پر نوحہ کرنے سے بچنا۔‘‘ (مستدرک الوسائل للنوری: جلد، 1 صفحہ 144 جامع احادیث الشیعۃ: جلد، 1 صفحہ 144 بحار الانوار: جلد، 82 صفحہ 101)
ایک روایت نبی کریمﷺ کا یہ ارشاد ہے:
’’میں نے تمہیں نوحہ کرنے اور واویلا کرنے سے روکا ہے۔‘‘ (یہ الفاظ ’’جامع احادیث الشیعۃ: جلد، 3 صفحہ 372‘‘ میں منقول ہیں)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’میں نے تمہیں نوحہ کرنے سے اور دو احمق اور گناہ گار آوازوں سے منع کیا ہے، ایک وہ آواز جو لہو اور شیطانی بانسریوں کے وقت گانے کی آواز ہوتی ہے اور دوسری وہ آواز جو مصیبت کے وقت چہرہ نوچنے اور گریبان چاک کرنے کے وقت ہوتی ہے کہ یہ شیطان کی آواز ہے۔‘‘ (مستدرک الوسائل: جلد، 1 صفحہ 145 جامع احادیث الشیعۃ: جلد، 3 صفحہ 486)
حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ
’’تین اعمال جاہلیت کے ہیں، جن میں لوگ قیامت تک مبتلا رہیں گے: (1) ستاروں سے بارش مانگنا (2) نسبوں میں طعنہ دینا (3) اور مرنے والوں پر نوحہ کرنا۔‘‘ (بحار الانوار: جلد، 82 صفحہ 101 مستدرک الوسائل: جلد، 1 صفحہ 143-143 جامع احادیث الشیعۃ: جلد، 3 صفحہ 488)
کلینی وغیرہ نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:
’’مردوں پر نوحہ کرنا مناسب نہیں لیکن لوگ جانتے نہیں۔‘‘ (الکافی للکلینی: جلد، 3 صفحہ 226 الوافی للملا محسن الملقب بہ الفیض الکاشانی: جلد، 13 صفحہ 88)
ایک روایت میں کلینی امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ
’’میت پر نوحہ کرنا اور کپڑے پھاڑنا جائز نہیں۔‘‘ (الکافی: جلد، 3 صفحہ 225 الوافی: جلد، 13 صفحہ 88)
امام موسیٰ جعفر علیہ السلام سے جب میت پر نوحہ کرنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے اس کو مکروہ جانا۔ (وسائل الشیعۃ للحر العاملی: جلد، 12 صفحہ 92 یہاں کراہت سے مراد تحریم ہے جیسا کہ بحرانی نے ’’الحدائق الناضرۃ: جلد، 4 صفحہ 168‘‘ میں واضح کیا ہے)
محمد باقر مجلسی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتا ہے کہ جب ابراہیم بن رسول اللہﷺ کا انتقال ہوا، تو آپﷺ کے حکم سے ان کو غسل میں نے دیا، جبکہ انہیں کفن خود نبی کریمﷺ نے پہنایا اور خوشبو لگائی اور فرمایا: اے علی! ان کو اٹھاؤ! چنانچہ میں ابراہیم رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھا کر بقیع پہنچا۔ نبی کریمﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، نبی کریمﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، جن کو دیکھ کر دوسرے مسلمان بھی رونے لگے۔ حتیٰ کہ مردوں کی آوازیں عورتوں کی آوازوں سے بلند ہو گئیں، جس پر نبی کریمﷺ نے انہیں ایساکرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا اور فرمایا:
’’نگاہ اشک بار ہے، دل غمگین ہے لیکن ہم رب کی ناراضی کا بول نہ بولیں گے۔ اے ابراہیم! ہمیں تیری مصیبت پہنچی ہے اور ہم تم پر غم زدہ ہیں۔‘‘ (بحار الانوار: جلد، 82 صفحہ 100-101)
اس کے بعد شیخ مرتضی عیاد نے متعدد علماء کی تحریریں نقل کی ہیں، جو ان بدعات کے جواز کو بتلاتی ہیں۔ ہم ان تحریروں میں سے صرف ایک جملہ کے نقل پر اکتفا کرتے ہیں، جسے ان حضرات کے بقول علامہ کبیر، زاہد، الورع، المحدث اور آیۃ اللہ جیسے بھاری القاب کے مالک مشہور شیعی عالم شیخ خضر بن شلال العفکاوی نے تحریر کیا ہے۔ موصوف لکھتا ہے:
’’نصوص سے مستفاد ہوتا ہے کہ حسینی شعائر کی زیارت جائز ہے، چاہے اسے اس بات کا یقین ہو کہ عزداری کے اس طریق سے وہ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا۔‘‘ (مقتل الحسین: صفحہ 153 طبع 1996 المطبعۃ العلویۃ فی النجف)
شیخ مرتضی فیروز آبادی لکھتا ہے:
’’سینہ کوبی کرنا گزشتہ صدیوں سے اہل تشیع کا دستور چلا آتا ہے، متقدمین و متاخرین اکابر فقہائے شیعہ نے اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ کسی ایک کے بارے میں بھی نہ آج تک سنا گیا اور نہ سنا جائے گا کہ وہ اس کے عدمِ جواز کا فتویٰ دیتا ہے اور اس پر انکار کرتا ہے اور بالفرض اگر کسی کو ان حسینی شعائر کے جواز میں شبہ ہے یا کسی کی بد سلیقگی عدمِ جواز کی داعی بنتی ہے، تو یہ نادر ہے اور نادر معدوم کے حکم میں ہوتا ہے۔‘‘ (مقتل الحسین: صفحہ 188-189 طبع 1996)
شیخ محمد حسین فضل اللہ سینہ کوبی کے بارے میں ان خیالات کا اظہار کرتا ہے:
’’ہمارے نزدیک شعائرِ حسینیہ غم اور حزن و ملال کے اظہار اور آل بیت حسین کے ساتھ ولاء کے اقرار کی تعبیر کے مختلف اسالیب ہیں اور تعبیر کے اسالیب مختلف زمانوں میں بدلتے رہتے ہیں، تو جیسے رونا غم کے اظہار کا ایک طریقہ ہے، اسی طرح مناسب حد تک سینہ کوبی کرنا بھی غم کے اظہار کا ایک اسلوب ہے۔‘‘ (الندوۃ: جلد، 1 صفحہ 289)
موصوف ایک اور جگہ لکھتا ہے:
’’اس بنا پر ہم یہ کہتے ہیں کہ ہر انسان اپنی ولاء و محبت کے بقدر سینہ کوبی کر سکتا ہے، البتہ یہ شرط ہے کہ سینہ کوبی تکلیف دہ نہ ہو۔‘‘ (الندوۃ: جلد، 1 صفحہ 337)
آگے لکھتا ہے:
’’نرم سینہ کوبی یہ ہے کہ تو سینہ پیٹتے وقت واقعۂ کربلا کے المیہ کو یاد کرے۔ لہٰذا غم کے اظہار کا ہر وہ طریق جائز ہے جو بدن کے لیے ضرر رساں نہ ہو۔‘‘
(الندوۃ: جلد، 1 صفحہ 339)
یہ وہی جانتے ہیں۔ لیجیے سنیے: شیعہ کے شیخ الطائفہ ’’تہذیب الاحکام‘‘ اور ’’الاستبصار‘‘ میں ابو عبداللہ علیہ السلام کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں:
’’عاشوراء کا روزہ نویں محرم کو ملا کر رکھو کہ یہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔‘‘ (تہذیب الاحکام: جلد، 4 صفحہ 299 الاستبصار: جلد، 2 صفحہ 134)
ابو الحسن علیہ السلام سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
’’رسول اللہﷺ نے عاشوراء کا روزہ رکھا۔‘‘ (تہذیب الاحکام: جلد، 4 صفحہ 299 الاستبصار: جلد، 2 صفحہ 134)
جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ
’’عاشوراء کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔‘‘ (تہذیب الاحکام: جلد، 4 صفحہ 300 الاستبصار: جلد، 2 صفحہ 124)
الصادق رحمۃ اللہ سے روایت ہے کہ
’’جو محرم کا روزہ رکھ سکے، وہ ضرور رکھے کہ محرم کا روزہ، اسے رکھنے والے کی گناہوں سے حفاظت کرتا ہے۔‘‘ (وسائل الشیعۃ: جلد، 7 صفحہ 347)
نبی کریمﷺ سے روایت ہے کہ
’’رمضان کے بعد افضل ترین روزے اللہ کے اس ماہ کے روزے ہیں، جس کو لوگ محرم کہہ کر پکارتے ہیں۔‘‘ (وسائل الشیعۃ: جلد، 7 صفحہ 347)
موصوف تیجانی پڑھ لیں کہ عاشوراء کا روزہ کس کس نے رکھا اور کس نے اس روزہ کی بنیاد رکھی ہے۔ یہ نبی کریمﷺ ناکہ بنو امیہ جیسا کہ تم لوگوں کا گمان ہے اور تم لوگ رسول اللہﷺ اور اہل ایمان پر افتراء باندھتے ہو!!!
کیا تم لوگوں کا اہل بیت پر یہی افتراء بس نہیں کہ تم لوگوں سے اہل بیت کی بابت یہ چرچا کرتے ہو کہ وہ اس دن کے روزہ کو حرام قرار دیتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مذکور ہو چکا کہ وہ عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو اس دن کا علم نہیں تھا اور اس نے کچھ کھا لیا تھا، تب بھی وہ باقی کا دن روزہ رکھ کر پورا کرے۔ (مستدرک الوسائل: جلد، 1 صفحہ 594) ذرا امیر المومنین رضی اللہ عنہ کی اس دن کے روزہ پر حرص تو دیکھیے کہ وہ کس طرح مسلمانوں کو اس دن کا روزہ رکھنے پر آمادہ کر رہے ہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
’’جب محرم کا چاند چڑھ جائے، تو اس کے دنوں کو شمار کرنا شروع کر دو۔ جب نویں کی صبح آئے، تو اس کا روزہ رکھو۔ راوی کہتا ہے: میں نے عرض کیا: کیا نبی کریمﷺ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے؟ تو فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ (اقبال الاعمال لشیخ الشیعۃ رضی الدین ابو القاسم علی بن موسی بن جعفر بن طاووس: صفحہ 554)
تیجانی کا اس روزہ سے انکار اور مسلمانوں پر یہ کہہ کر طعن کرنا کہ انہوں نے بنو امیہ کی خوشنودی کے لیے اس دن کی بابت نہ جانے کیسے کیسے فضائل گھڑے، تو بلاشبہ یہ تیجانی کے تجاہل، قلت علم اور بے انصافی کی صریح دلیل ہے کہ خود ان کے شیخ الطائفہ اس بات کو روایت کرنے والوں میں سے ہیں کہ کشتیٔ نوح عاشوراء کے دن کوہِ جودی سے آ لگی تھی۔ جس پر سیدنا نوح نے کشتی کے سواروں کو شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا۔
ابو جعفر علیہ السلام کہتے ہیں: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ یہ وہ دن ہے جس میں رب تعالیٰ نے آدم و حوا کی توبہ قبول کی۔ بنی اسرائیل کے لیے دریا کو پھاڑا اور اس میں فرعون اور اس کے لشکروں کو غرق کیا اور موسیٰ کو فرعون پر غلبہ دیا۔ اسی دن ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی دن قومِ یونس کی توبہ قبول ہوئی اور اسی دن عیسیٰ بن مریم پیدا ہوئے۔‘‘ (تہذیب الاحکام للشیخ الطوسی شیخ الطائفۃ: جلد، 4 صفحہ 300)
شیعی عالم رضی الدین نے موسی بن جعفر سے روایت کیا ہے کہ متعدد روایات میں اس دن کے روزہ رکھنے کی ترغیب آئی ہے۔ (اقبال الاعمال: صفحہ 557)
اس روایت کو الحر العاملی، (وسائل الشیعۃ: جلد، 7 صفحہ 338) النوری الطبرسی، (مستدرک الوسائل: جلد، 1 صفحہ 594) حسین بروجردی (جامع احادیث الشیعۃ: جلد، 9 صفحہ 475-476) اور یوسف بحرانی (الحدائق الناضرۃ: جلد، 13 صفحہ 371) نے بھی ذکر کیا ہے۔
نوری طبرسی جعفر بن محمد سے روایت کرتا ہے:
’’کشتیٔ نوح دس محرم کو جودی سے آ لگی تھی، جس پر سیّدنا نوح علیہ السلام نے جن و انس کو روزہ رکھنے کا حکم دیا اور اسی دن آدم و حواء کی توبہ قبول ہوئی۔‘‘ (مستدرک الوسائل: جلد، 1 صفحہ 594)
کیا یہ سب روایات کسی اور کی ہیں؟!!تیجانی بتلائیں کہ اب وہ کیا کہتے ہیں؟!!
اب تیجانی کے ذمہ ہے کہ وہ ان شیعی روایات کو تلاش کر کے ان کی معتبر اسانید کا ہوش کے ساتھ جائزہ لیں، جن میں عاشوراء کے دن کے روزہ کی ترغیب ہے اور جن روایات میں ممانعت ذکر ہے ان کو دیانت کے ساتھ دیکھیں کہ ان کی اسانید کس قدر ضعیف ہیں۔ جن کا شیخ محمد رضا الحسین الحائری نے بھی اپنی کتاب ’’نجاۃ الامۃ: صفحہ 145-56-148‘‘ پر صاف صاف اقرار کیا ہے۔ یہ کتاب قم ایران سے 1413 ہجری میں شائع ہوئی ہے۔
کیا تیجانی اب بھی کچھ کہنے کو تیار ہیں؟
دکتور احمد راسم نفیس کی اس بات کا کیا جواب ہے کہ
’’امویوں نے حقائق کو بدل ڈالا، انہوں نے المیہ کے دن کو عید کا دن بنا دیا اور آج تک اسی پر عمل چلا آ رہا ہے۔‘‘ (علی خطی الحسین: صفحہ 106)
کیا شیعہ حضرات اور بالخصوص تیجانی اور دکتور راسم یہ ماننے کو تیار ہیں کہ طوسی، صدوق، الحر العاملی، نوری طبرسی اور ابن طاؤوس بھی بنو امیہ کے پروپیگنڈا کی زَد میں آ کر حقائق کو بدلتے اور مسخ کرتے رہے اور عاشوراء کے روزہ کو ثابت کرنے اور اس کے رکھنے کی ترغیب دیتے رہے؟
دکتور راسم بتلائیں کہ ان کے پاس اس بات کا کیا جواب ہے؟!!