نوحہ خوانی کی حرمت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

نوحہ خوانی کی حرمت

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 3

شیخ محمد حسین فضل اللہ سینہ کوبی کے بارے میں ان خیالات کا اظہار کرتا ہے:

’’ہمارے نزدیک شعائرِ حسینیہ غم اور حزن و ملال کے اظہار اور آل بیت حسین کے ساتھ ولاء کے اقرار کی تعبیر کے مختلف اسالیب ہیں اور تعبیر کے اسالیب مختلف زمانوں میں بدلتے رہتے ہیں، تو جیسے رونا غم کے اظہار کا ایک طریقہ ہے، اسی طرح مناسب حد تک سینہ کوبی کرنا بھی غم کے اظہار کا ایک اسلوب ہے۔‘‘ (الندوۃ: جلد، 1 صفحہ 289)

موصوف ایک اور جگہ لکھتا ہے:

’’اس بنا پر ہم یہ کہتے ہیں کہ ہر انسان اپنی ولاء و محبت کے بقدر سینہ کوبی کر سکتا ہے، البتہ یہ شرط ہے کہ سینہ کوبی تکلیف دہ نہ ہو۔‘‘ (الندوۃ: جلد، 1 صفحہ 337)

آگے لکھتا ہے:

’’نرم سینہ کوبی یہ ہے کہ تو سینہ پیٹتے وقت واقعۂ کربلا کے المیہ کو یاد کرے۔ لہٰذا غم کے اظہار کا ہر وہ طریق جائز ہے جو بدن کے لیے ضرر رساں نہ ہو۔‘‘

(الندوۃ: جلد، 1 صفحہ 339)

یہ وہی جانتے ہیں۔ لیجیے سنیے: شیعہ کے شیخ الطائفہ ’’تہذیب الاحکام‘‘ اور ’’الاستبصار‘‘ میں ابو عبداللہ علیہ السلام کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں:

’’عاشوراء کا روزہ نویں محرم کو ملا کر رکھو کہ یہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔‘‘ (تہذیب الاحکام: جلد، 4 صفحہ 299 الاستبصار: جلد، 2 صفحہ 134)

ابو الحسن علیہ السلام سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:

’’رسول اللہﷺ نے عاشوراء کا روزہ رکھا۔‘‘ (تہذیب الاحکام: جلد، 4 صفحہ 299 الاستبصار: جلد، 2 صفحہ 134)

جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ

’’عاشوراء کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔‘‘ (تہذیب الاحکام: جلد، 4 صفحہ 300 الاستبصار: جلد، 2 صفحہ 124)

الصادق رحمۃ اللہ سے روایت ہے کہ

’’جو محرم کا روزہ رکھ سکے، وہ ضرور رکھے کہ محرم کا روزہ، اسے رکھنے والے کی گناہوں سے حفاظت کرتا ہے۔‘‘ (وسائل الشیعۃ: جلد، 7 صفحہ 347)

نبی کریمﷺ سے روایت ہے کہ

’’رمضان کے بعد افضل ترین روزے اللہ کے اس ماہ کے روزے ہیں، جس کو لوگ محرم کہہ کر پکارتے ہیں۔‘‘ (وسائل الشیعۃ: جلد، 7 صفحہ 347)

موصوف تیجانی پڑھ لیں کہ عاشوراء کا روزہ کس کس نے رکھا اور کس نے اس روزہ کی بنیاد رکھی ہے۔ یہ نبی کریمﷺ ناکہ بنو امیہ جیسا کہ تم لوگوں کا گمان ہے اور تم لوگ رسول اللہﷺ اور اہل ایمان پر افتراء باندھتے ہو!!!

کیا تم لوگوں کا اہل بیت پر یہی افتراء بس نہیں کہ تم لوگوں سے اہل بیت کی بابت یہ چرچا کرتے ہو کہ وہ اس دن کے روزہ کو حرام قرار دیتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مذکور ہو چکا کہ وہ عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو اس دن کا علم نہیں تھا اور اس نے کچھ کھا لیا تھا، تب بھی وہ باقی کا دن روزہ رکھ کر پورا کرے۔ (مستدرک الوسائل: جلد، 1 صفحہ 594) ذرا امیر المومنین رضی اللہ عنہ کی اس دن کے روزہ پر حرص تو دیکھیے کہ وہ کس طرح مسلمانوں کو اس دن کا روزہ رکھنے پر آمادہ کر رہے ہیں۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

’’جب محرم کا چاند چڑھ جائے، تو اس کے دنوں کو شمار کرنا شروع کر دو۔ جب نویں کی صبح آئے، تو اس کا روزہ رکھو۔ راوی کہتا ہے: میں نے عرض کیا: کیا نبی کریمﷺ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے؟ تو فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ (اقبال الاعمال لشیخ الشیعۃ رضی الدین ابو القاسم علی بن موسی بن جعفر بن طاووس: صفحہ 554)

تیجانی کا اس روزہ سے انکار اور مسلمانوں پر یہ کہہ کر طعن کرنا کہ انہوں نے بنو امیہ کی خوشنودی کے لیے اس دن کی بابت نہ جانے کیسے کیسے فضائل گھڑے، تو بلاشبہ یہ تیجانی کے تجاہل، قلت علم اور بے انصافی کی صریح دلیل ہے کہ خود ان کے شیخ الطائفہ اس بات کو روایت کرنے والوں میں سے ہیں کہ کشتیٔ نوح عاشوراء کے دن کوہِ جودی سے آ لگی تھی۔ جس پر سیدنا نوح نے کشتی کے سواروں کو شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا۔

ابو جعفر علیہ السلام کہتے ہیں: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ یہ وہ دن ہے جس میں رب تعالیٰ نے آدم و حوا کی توبہ قبول کی۔ بنی اسرائیل کے لیے دریا کو پھاڑا اور اس میں فرعون اور اس کے لشکروں کو غرق کیا اور موسیٰ کو فرعون پر غلبہ دیا۔ اسی دن ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی دن قومِ یونس کی توبہ قبول ہوئی اور اسی دن عیسیٰ بن مریم پیدا ہوئے۔‘‘ (تہذیب الاحکام للشیخ الطوسی شیخ الطائفۃ: جلد، 4 صفحہ 300)

شیعی عالم رضی الدین نے موسی بن جعفر سے روایت کیا ہے کہ متعدد روایات میں اس دن کے روزہ رکھنے کی ترغیب آئی ہے۔ (اقبال الاعمال: صفحہ 557)

اس روایت کو الحر العاملی، (وسائل الشیعۃ: جلد، 7 صفحہ 338) النوری الطبرسی، (مستدرک الوسائل: جلد، 1 صفحہ 594) حسین بروجردی (جامع احادیث الشیعۃ: جلد، 9 صفحہ 475-476) اور یوسف بحرانی (الحدائق الناضرۃ: جلد، 13 صفحہ 371) نے بھی ذکر کیا ہے۔

نوری طبرسی جعفر بن محمد سے روایت کرتا ہے:

’’کشتیٔ نوح دس محرم کو جودی سے آ لگی تھی، جس پر سیّدنا نوح علیہ السلام نے جن و انس کو روزہ رکھنے کا حکم دیا اور اسی دن آدم و حواء کی توبہ قبول ہوئی۔‘‘ (مستدرک الوسائل: جلد، 1 صفحہ 594)

کیا یہ سب روایات کسی اور کی ہیں؟!!تیجانی بتلائیں کہ اب وہ کیا کہتے ہیں؟!!

اب تیجانی کے ذمہ ہے کہ وہ ان شیعی روایات کو تلاش کر کے ان کی معتبر اسانید کا ہوش کے ساتھ جائزہ لیں، جن میں عاشوراء کے دن کے روزہ کی ترغیب ہے اور جن روایات میں ممانعت ذکر ہے ان کو دیانت کے ساتھ دیکھیں کہ ان کی اسانید کس قدر ضعیف ہیں۔ جن کا شیخ محمد رضا الحسین الحائری نے بھی اپنی کتاب ’’نجاۃ الامۃ: صفحہ 145-56-148‘‘ پر صاف صاف اقرار کیا ہے۔ یہ کتاب قم ایران سے 1413 ہجری میں شائع ہوئی ہے۔

کیا تیجانی اب بھی کچھ کہنے کو تیار ہیں؟

دکتور احمد راسم نفیس کی اس بات کا کیا جواب ہے کہ

’’امویوں نے حقائق کو بدل ڈالا، انہوں نے المیہ کے دن کو عید کا دن بنا دیا اور آج تک اسی پر عمل چلا آ رہا ہے۔‘‘ (علی خطی الحسین: صفحہ 106)

صفحہ 2 از 3