سیدنا امیر معاویہؓ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا
محمد ذوالقرنينسیدنا امیر معاویہؓ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا
بعض شیعہ ایک روایت بیان کر کے کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے اپنی زندگی میں ہی فرما دیا تھا کہ اگر تم سیدنا امی معاویہؓ کو میرے منبر کو دیکھو تو اسے قتل کر دینا یہ روایت مختلف کتب میں 7 مختلف اسناد سے مروی ہے ذیل میں اس روایت کی تمام اسناد کا تعاقب ملاحظہ فرمائیں۔
پہلی سند:
قال جندل بن والق حدثنا محمد بن بشر حدثنا مجالد عن ابى الوداك عن ابی سعيدؓ قال۔
متن: سیدنا ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں نبیﷺ نے فرمایا جب تم سیدنا معاویہؓ کو میرے منبر پر دیکھو تو اسے قتل کر دینا۔
(تاریخ الاسلام للذهبی (عربی) جلد 4 صحفہ 312)
اسناد کا تعاقب: اس روایت کا راوی مجالد بن سعید ہمدانی ضعیف اور شیعہ ہے اور اس سے منکر روایات منقول ہیں۔
امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
یحییٰ بن معینؒ اور دیگر حضرات کہتے ہیں اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا امام احمدؒ کہتے ہیں یہ راوی کوئی چیز نہیں امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ قوی نہیں اشج کہتے ہیں یہ شیعہ ہے امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے امام بخاریؒ کہتے ہیں یحییٰ بن سعیدؒ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے فلاس کہتے ہیں یحییٰ بن سعید نے کہا کہ اگر تم مجالد کو کہو کہ یہ روایات شعبی کے حوالے سے مسروق کے حوالے سے سیدنا عبداللّہؓ سے منقول بنا دو تو وہ ایسا کر دے گا (یعنی روایات کی اسناد بدل دے گا) خالد الطحان کہتے ہیں اس سے منکر روایات منقول ہیں۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 6 صحفہ 58،59)
امام ذھبیؒ اس پر الکاشف میں آخری حکم لگاتے ہوئے فرماتے ہیں:
مجالد بن سعید کو ابنِ معینؒ نے ضعیف کہا ہے اور نسائیؒ کہتے ہیں یہ قوی نہیں۔
(الكاشف (عربی) جلد 2 صحفہ 239)
امام بخاریؒ نے بھی مجالد کو اپنی الضعفاء میں شامل کیا اور کہتے ہیں:
یحییٰ بن سعید القطانؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے ابنِ مہدی کہتے ہیں اس سے روایت نہیں لی جائے گی اور امام احمدؒ کہتے ہیں یہ کوئی شئے نہیں۔
(كتاب الضعفاء للبخاری (عربی) صحفہ 112)۔
امام ذھبیؒ اسی وجہ سے اس روایت کو نقل کر کے خود ضعیف فرماتے ہیں:
اس میں مجالد ضعیف ہے۔
(تاریخ الاسلام للذهبی (عربی) جلد 4 صحفه 313)
دوسری سند:
اخبرنا ابو القاسم بن السمرقندی انا ابو القاسم بن مسعدة انا حمزة بن يوسف انا ابو احمد بن عدى انا على بن العباس نا على بن المثنى نا الوليد بن قاسم عن مجالد عن ابی الوداك عن ابی سعيد۔
(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 59 صحفہ 155)
اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں
پہلی علت: اس سند میں بھی مجالد بن سعید ہے جس کا ترجمہ گزر چکا ہے۔
دوسری علت: اس کا راوی ولید بن قاسم ضعیف ہے اس سے استدلال جائز نہیں اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
امام یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے ابنِ حبانؒ کہتے ہیں یہ ثقہ راویوں سے ایسی روایات نقل کرنے میں منفرد ہے جو اُن کی احادیث سے مشابہت نہیں رکھتی اس لئے یہ اس حد سے نقل کیا ہے کہ اس سے استدلال کیا جائے۔
(میزان الاعتدال (ارود) جلد 7 صحفه 150)۔
اور اس طرق کو ابنِ جوزیؒ بھی اپنی الموضوعات میں لائے اور فرماتے ہیں۔
ابو سعید کی حدیث میں مجالد ہے ابنِ مہدی اور امام احمدؒ اس کے بارے میں کہتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں ہے یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں اس کی حدیث سے احتجاج نہیں کیا جائے گا اور اس میں ولید بن قاسم ہے جس کو یحییٰؒ نے ضعیف کہا ہے اور ابنِ حبانؒ کہتے ہیں یہ ثقہ راویوں سے ایسی روایات نقل کرنے میں منفرد ہے جو اُن کی احادیث سے مشابہت نہیں رکھتی اس لئے یہ اس حد سے نقل کیا ہے کہ اس سے استدلال کیا جائے۔
(کتاب الموضوعات لابنِ جوزی (عربی) جلد 2 صحفہ 26)
تیسری سند:
نا محمد بن ابراهيم الاصبهانی نا احمد بن الفرات نا عبد الرزاق انا جعفر بن سليمان عن على بن زيد عن ابی نضرة عن أبی سعيد۔
(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 59 صحفہ 156)
اسناد کا تعاقب: اس سند میں بھی دو علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کے راوی جعفر بن سلیمان پر کلام ہے کہ یہ شیعہ تھا اور اس کی کچھ روایات منکر ہیں جن سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔
امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطانؒ نے کہا ہے کہ اس کی روایات کو نقل نہیں کیا جائے گا انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ابنِ سعد کہتے ہیں یہ ثقہ ہے تاہم اس میں ضعف پایا جاتا ہے اور اس میں تشیع بھی ہے (امام ذھبیؒ کہتے ہیں) جعفر کی نسبت تشیع کی طرف کی جاتی تھی ابنِ حبانؒ نقل کرتے ہیں کہ جریر بن یزید نے اس سے پوچھا کیا تم سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو برا کہتے ہو؟ تو اس نے کہا برا تو میں نہیں کہتا البتہ جسے چاہوں ناپسند کرسکتا ہوں تو کہتے ہیں یہ شخص شیعہ ہے اور گدھے کی مثل ہے محمد بن ابوبکر کہتے ہیں عبد الرزاق کے علاؤہ جعفر کو کسی نے خراب نہیں کیا یعنی تشیع کے حوالے سے ، (ذھبیؒ مزید لکھتے ہیں) اس کی نقل کردہ روایات زیادہ تر غیر مستند ہیں یہ بعض روایات نقل کرنے میں منفرد ہے جن میں سے بعض منکر ہیں اور اس سے استدلال کرنے میں اختلاف کیا گیا ہے۔
(میزان الاعتدال (اردو)،خ جلد 2 صحفہ 178 تا 180)
اس سب سے معلوم ہوتا ہے کہ جعفر بن سلیمان کی بیان کردہ بعض روایات منکر ہیں اور اس میں تشیع تھا۔
دوسری علت: اس روایت کا راوی علی بن زید شیعہ اور ضعیف ہے اور اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذھبیؒ نقل فرماتے ہیں:
یحییٰ بن معینؒ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے یحییٰ بن سعید القطانؒ علی بن زید کی حدیث سے احتیاط کیا کرتے تھے حماد بن زید کہتے ہیں علی بن زید حدیث کو الٹ پلٹ کر دیتا تھا یزید بن زریع کہتے ہیں علی بن زید شیعہ ہے امام احمدؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے یحییٰؒ کہتے ہیں یہ قوی نہیں ہے (مزید کہتے ہیں) یہ کوئی چیز نہیں ہے احمد عجلی کہتے ہیں یہ شیعہ تھا اور قوی نہیں ہے امام بخاریؒ و امام ابوحاتمؒ کہتے ہیں اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ابنِ خزیمہ کہتے ہیں اس کے حافظہ کی خرابی کی وجہ سے میں اس سے استدلال نہیں کروں گا (پھر امام ذھبیؒ نے اس کی نقل کردہ کچھ منکر روایات کو بیان کیا)۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 5 صحفہ 172 تا 174)
ان تمام جروحات سے ثابت ہوتا ہے کہ علی بن زید کی روایت قبول نہیں کی جاسکتی اس لئے یہ طرق بھی باطل ہوا اور امام ابنِ جوزیؒ نے اس طرق کو بھی الموضوعات میں شامل کیا ہے فرماتے ہیں اس طرق میں علی بن زید ہے امام احمدؒ و یحییٰؒ کہتے ہیں یہ کوئی شئی نہیں ہے ابوحاتمؒ کہتے ہیں اس کو وہم ہوتا ہے اور خطاء کرتا ہے اس لئے اس کو ترک کردیا گیا اور شعبہ کہتے ہیں یہ اختلاط کا شکار ہے۔
(کتاب الموضوعات لابنِ جوزی (عربی) جلد 2 صحفہ 26)
چوتھی سند:
انا ابو احمد انا على بن عباس نا عباد بن يعقوب نا حكم بن ظهير عن عاصم عن زر عن عبداللّٰه بن مسعود۔
اسناد کا تعاقب: اس سند میں بھی دو علتیں ہیں۔
(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 59 صحفہ 156)
پہلی علت: اس روایت کا راوی عباد بن یعقوب شیعہ اور متروک الحدیث ہے اور اس سے منکر روایات منقول ہیں ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذھبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
یہ غالی شیعہ تھا اور بدعتیوں کا سردار تھا ابنِ خزیمہ کہتے ہیں ہمیں ایک ایسے شخص نے حدیث بیان کی جو اپنی روایت میں ثقہ ہے لیکن اپنے دین میں اس پر تہمت عائد کی گئی ہے اور اس کا نام عباد ہے (یعنی جو روایات عباد اپنے شیعہ مذہب کی تقویت میں نقل کرئے ان میں قابلِ اعتماد نہیں) عبدان اہوازی نے ایک ثقہ راوی کا بیان نقل کیا ہے کہ عباد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا کہتا تھا ابنِ عدیؒ کہتے ہیں اس نے فضائل کے بارے میں ایسی روایات نقل کی ہیں جن کو میں منکر کہتا ہوں صالح جزرہ کہتے ہیں عباد سیدنا عثمانؓ کو برا کہتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ کی شان کے لائق نہیں کہ وہ سیدنا طلحہؓ و سیدنا زبیرؓ کو جنت میں داخل کرئے جنہوں نے سیدنا علیؓ کی بیعت کرنے کے بعد ان سے لڑائی کی تھی قاسم بن زکریا کہتے ہیں میں عباد کے پاس گیا وہ احادیث کا سماع کرنے والے کا امتحان لیتا تھا اس نے پوچھا سمندر کو کس نے بنایا ہے؟ میں نے کہا الله نے اُس نے کہا ایسا ہی ہے اسے کس نے بنایا ہے؟ میں نے کہا آپ بتادیں اُس نے کہا سیدنا علیؓ وہ نے اسے بنایا ہے اُس نے پوچھا سمندر کو جاری کس نے کیا ہے؟ میں نے کہا اللّٰه نے اُس نے کہا ایسا ہی ہے اُسے جاری کس نے کیا ہے؟ میں نے کہا جناب آپ ہی بتادیں عباد نے کہا سیدنا حسینؓ نے اسکو جاری کیا ہے عباد نے اپنے ساتھ ایک تلوار لٹکا رکھی تھی میں نے پوچھا یہ کس لیے ہے؟ تو عباد نے کہا یہ میں نے تیار رکھی ہے تاکہ میں اس کے ذریعہ امام مہدی کے ساتھ مل کر لڑائی کروں (قاسم بن زکریا کہتے ہیں) جب میں نے عباد سے وہ روایات سن لی جو میں سننا چاہتا تھا تو میں پھر سے اس کے پاس گیا اس نے پھر سے پوچھا سمندر کو کس نے بنایا ہے؟ میں نے جواب دیا سیدنا امیر معاویہؓ نے اسے بنایا ہے اور سیدنا عمرو ابن العاصؓ نے اسے جاری کیا ہے پھر میں کھڑا ہوکر وہاں سے بھاگ نکلا اور عباد پیچھے سے چیخ کر کہتا رہا اس فاسق کو اللّٰہ کے دشمن کو پکڑو اور قتل کر دو ابنِ حبانؒ کہتے ہیں یہ شیعہ فرقہ کا داعی تھا اور اس نے مشہور راویوں کے حوالے سے منکر روایات نقل کی ہیں اس کی وجہ سے یہ متروک قرار پایا یہی وہ شخص ہے جس نے اپنی سند سے سیدنا عبداللّٰہؓ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے کہ جب تم سیدنا امیر معاویہؓ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 4 صحفه 62،63)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت عباد بن یعقوب ہی کی گھڑی گئی ہے اور ابنِ حبانؒ نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ یہ اس کی نقل کردہ منکر روایت ہے اور عباد شیعہ تھا اور منکر و موضوع روایات بیان کرتا تھا اس لئے اس کی کسی روایت سے استدلال جائز نہیں۔
دوسری علت:
اس روایت کا راوی حکم بن ظہیر بھی منکر الحدیث و متروک ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
اس نے عباد بن یعقوب سے روایات نقل کی ہیں یحییٰؒ کہتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہے دوسرے قول کے مطابق یہ کوئی چیز نہیں ہے امام بخاریؒ کہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے اور دوسرے قول کے مطابق محدثین نے اسے متروک قرار دیا (پھر اس کی نقل کردہ منکر روایات میں اسی روایت کا تذکرہ کیا کہ) اس نے اپنی سند سے سیدنا عبداللّٰہؓ سے روایت نقل کی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جب تم سیدنا امیر معاویہؓ کو میرے منبر پر دیکھو تو اسے قتل کر دینا۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد2 صحفہ388,389)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکم بن ظہیر بھی متروک ہے اور اس کی روایت بھی استدلال جاںٔز نہیں۔
امام ابنِ جوزیؒ نے اس طرق کو بھی الموضوعات میں شامل کیا لکھتے ہیں:
ابنِ مسعود کی حدیث میں عباد بن یعقوب ہے جو کہ غالی شیعہ ہے اور اس سے فضائل اہلِ بیت میں منکر روایات منقول ہیں ابنِ حبانؒ کہتے ہیں یہ شیعیت کا داعی تھا اور اس نے مشہور راویوں کے حوالے سے منکر روایات بیان کی ہیں جس وجہ سے یہ ترک ہونے کا مستحق قرار پایا اور دوسرا اس میں حکم بن ظہیر ہے اس کے بارے میں یحییٰؒ کہتے ہیں یہ کوئی شئی نہیں نسائیؒ کہتے ہیں متروک ہے اور ابنِ حبانؒ کہتے ہیں ثقہ راویوں سے موضوع روایات نقل کرتا ہے۔
(کتاب الموضوعات لابنِ جوزی (عربی) جلد 2 صحفہ 26)
پانچویں سند:
سليمان بن حرب نا حماد بن زيد قال قيل لايوب ان عمرو بن عبيد روى عن الحسن ان رسول اللّٰهﷺ قال۔
(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 59 صحفہ 157)
اسناد کا تعاقب: اس سند میں بھی دو علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کی پہلی علت اس کا مرسل ہونا ہے کیونکہ حسن بصریؒ تابعی ہیں اور انہوں نے نبیﷺ کا زمانہ نہیں پایا۔
دوسری علت: اس روایت کا راوی عمرو بن عبید کذاب اور متروک الحدیث ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذھبیؒ فرماتے ہیں:
یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں اس کی روایت کو لکھا نہیں جائے گا امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے یونس کہتے ہیں یہ جھوٹ بولتا تھا حمید بیان کرتے ہیں اس نے حسن بصریؒ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کی ہیں امام دارقطنیؒ اور دیگر حضرات کہتے ہیں یہ ضعیف ہے عقیلی کہتے ہیں کہ سعید بن عامر کے سامنے عمرو بن عبید کا کسی چیز کے حوالے سے ذکر کیا کہ اُس نے یہ کہا ہے تو انہوں نے کہا اس نے جھوٹ بولا ہے وہ جھوٹ بولنے والوں اور گناہگار لوگوں میں سے ایک تھا (ذھبیؒ کہتے ہیں) یحییٰ بن سعید القطان نے عمرو کو متروک قرار دیا ہے حماد بن سلمہ کہتے ہیں کہ حمید نے مجھے کہا تم عمرو بن عبید سے استفادہ ہرگز نہ کرنا کیونکہ یہ حسن بصری کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتا ہے حماد بن زید کہتے ہیں میں نے ایوب سے کہا عمرو بن عبید نے حسن بصری کے حوالے سے روایت نقل کی ہے کہ جب تم سیدنا امیر معاویہؓ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا تو ایوب نے کہا عمرو نے جھوٹ بولا ہے۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 5 صحفہ 327 تا330)
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عمرو بن عبید کذاب راوی ہے اور اس روایت کے بارے میں ایوب سختیائیؒ نے صراحت کی ہے کہ یہ عمرو بن عبید نے یہ حسن بصریؒ کی طرف جھوٹ منسوب کیا ہے۔
ابنِ جوزیؒ نے اس طرق کو بھی الموضوعات میں شامل کیا لکھتے ہیں:
حسن بصریؒ کے طرق میں عمرو بن عبید کذاب ہے یہ عمرو نے جھوٹ بولا ہے یحییٰ کہتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں ابوحاتمؒ کہتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے ابوجعفر عقیلی کہتے ہیں نبیﷺ سے یہ متن (یعنی یہ روایت کہ سیدنا معاویہؓ کو منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا) صحیح سند سے ثابت نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی چیز ثابت ہے۔
(کتاب الموضوعات لابنِ جوزی (عربی) جلد 2 صحفہ 26)
چھٹی سند:
حدثنی الحسن محمد بن الخلال قال حدثنا يوسف بن أبی حفص الزاهد قال حدثنا محمد بن اسحاق الفقيه قال حدثنی ابو النضر الغازى قال حدثنا الحسن بن كثير قال حدثنا بكر بن ايمن القيسی قال حدثنا عامر بن يحيى الصريمی قال حدثنا ابو الزبير عن جابر قال قال رسول اللّٰهﷺ۔
(تاریخِ بغداد (عربی) جلد 2 صحفه 73)
اسناد کا تعاقب: اس روایت کی سند کے بارے میں امام خطیب بغدادیؒ خود ہی فرماتے ہیں۔
میں نے یہ روایت اس سند کے علاؤہ کسی سند سے نہیں لکھی اور اس سند میں محمد بن اسحاق شاموخ اور ابوزبیر کے درمیان کے تمام راوی (یعنی ابوالنظر حسن بن کثیر بکر بن ایمن اور عام بن یحییٰ) مجہول ہیں۔
(تاریخ بغداد (عربی) جلد 2، صحفه 73)
اور امام ابنِ عساکرؒ اس روایت کو نقل کر کے خطیبؒ کا یہی قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں اور محمد بن اسحاق شاموخ کی احادیث میں کثیر روایات منکر ہیں۔
(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 59 صحفه 158)
اور امام ابو الفضل عبد الرحیم بن حسین عراقی عامر بن یحییٰ الصریمی کے ترجمہ میں یہی روایت نقل کرکے لکھتے ہیں۔
اس نے ابی زبیر عن جابر سے مرفوعاً روایت نقل کی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا بکر بن ایمن سے روایات نقل کرتا ہے امام خطیبؒ کہتے ہیں یہ مجہول ہیں اور یہ حدیث منکر ہے۔
(ذیل میزان الاعتدال (عربی) صحفه 222)
ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ مجہولین کا ہے اور یہ روایت انہیں مجہولین میں سے کسی نے گھڑ کر سیدنا جابرؓ کی منسوب کی ہے اس لیے یہ سند بھی باطل اور منکر ہے اور اس سے بھی استدلال جائز نہیں۔
ساتویں سند:
حدثنی ابراهيم العلاف البصرى قال سمعت سلاماً ابا المنذر يقول قال عاصم بن بهدلةؒ حدثنی زر بن حبيش عن عبداللّٰه بن مسعود قال قال رسول اللّٰهﷺ۔
(انساب الاشراف (عربی) جلد 5 صحفہ 137)
اسناد کا تعاقب: اس روایت کے راوی عاصم بن بہدلۃؒ صدوق ہیں پر ان کی روایت پر کلام کیا گیا ہے قراءت سبعہ کے قاری ہیں۔
امام بلخیؒ ان کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:
ابوعبید کہتے ہیں عاصم کی احادیث مضطرب ہیں یہ آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہوگیا تھا اور صدقہ بن فضل کہتے ہیں عاصم مضطرب الحدیث ہے۔
(قبول الاخبار و معرفة الرجال للبلخی (عربی) جلد 2 صحفہ 105)
امام ابنِ سعدؒ ان کے بارے میں کہتے ہیں:
عاصم ثقہ ہے لیکن یہ حدیث میں بہت زیادہ غلطیاں کرتا ہے۔
(طبقاتِ ابنِ سعد (عربی) جلد 6، صحفه 317)۔
امام ذھبیؒ ان کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:
قراءت میں یہ ثبت ہے اور علم حدیث میں ثبت سے کم درجہ کا ہے کیونکہ یہ سچا ہے لیکن وہم کا شکار ہوجاتا ہے یحییٰ القطانؒ کہتے ہیں میں نے عاصم نامی جو راوی بھی پایا ہے اس کا حافظہ خراب ہی پایا ہے ابنِ سعدؒ کہتے ہیں یہ ثقہ ہے پر احادیث میں بکثرت غلطیاں کرتا ہے۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 4 صحفه (35)
امام ابنِ حجرؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
یعقوب بن سفیان کہتے ہیں یہ ثقہ ہے پر اس کی حدیث میں اضطراب ہے ابنِ خراش کہتے ہیں اس کی روایت میں نکارت ہے دار قطنیؒ اور عقیلیؒ کہتے ہیں اس کا حافظہ خراب تھا حماد بن سلمہ کہتے ہیں آخری عمر میں اس کا حافظہ خراب ہو گیا تھا۔
(تہذیب التہذیب (عربی) جلد 3 صحفه 314 تا 316)
امام ابنِ حجرؒ مزید فرماتے ہیں۔
صدوق صاحب اوہام راوی ہے قراءت میں حجت ہے اور صحیحین میں اس کی روایت مقرونا آئی ہے۔
(تقريب التہذيب (اردو) جلد 1 صحفه 413)
اور ان کے شاگرد اسلام ابوالمنذر جو کہ خود صدوق ہیں پر ان کی روایت پر بھی کلام کیا گیا ہے۔
امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
اس کی حدیث کی متابعت نہیں کی گئی۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 3 صحفه 252)
ان سب دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ عاصم اپنی ذات کے اعتبار سے صدوق ہیں پر یہ اختلاط کا شکار ہوگئے تھے اور حدیث میں غلطیاں کرتے تھے اور ان کی حدیث میں اضطراب پایا جاتا ہے اور ان کے شاگرد کی احادیث کی متابعت نہیں کی گئی۔
ان تمام وجوہات کی بناء پر یہ روایت سخت ضعیف ہے بلکہ منکر ہے اور اس کو دلیل بنانا جائز نہیں۔
اس متن کی دیگر تمام روایات جو مختلف اسناد سے مختلف کتب میں موجود ہیں ان سب کا دار و مدار ان 6 راویوں پر ہی ہے۔
1- مجالد بن سعید
2- ولید بن قاسم
3- علی بن زید
4- عباد بن يعقوب
5۔ حکم بن ظہیر
6- عمرو بن عبید
اور یہ تمام راوی کذاب منکر الحدیث رافضی شیعہ اور سخت ترین ضعیف ہیں اس لئے ان راویوں کی روایت سے استدلال جائز نہیں اور اس متن کی روایت کسی ایک صحیح سند کے ساتھ بھی منقول نہیں۔
علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے بھی ان تمام روایات کو موضوعات میں شمار کیا ہے لکھتے ہیں۔
(عباد بن یعقوب کا طرق نقل کر کے کہتے ہیں) روایت موضوع ہے عباد شیعہ متروک کذاب ہے (مجالد اور علی بن زید کا طرق نقل کر کے کہتے ہیں) مجالد اور علی کوئی شئے نہیں ہیں (اور عمرو بن عبید کا طرق نقل کر کے کہتے ہیں) اس میں عمرو کذاب ہے (اور پھر عقیلی کا قول نقل کرتے ہیں) نبیﷺ سے یہ متن (یعنی یہ روایت کہ سیدنا معاویہؓ کو منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا) ثابت نہیں۔
(اللالى المصنوعة في الاحاديث الموضوعية (عربی) جلد 1 صحفہ 424،425)
اور جیسا کہ ہم اوپر امام عقیلیؒ کی صراحت دکھا چکے ہیں کہ اس متن کی تمام روایات باطل ہیں جیسا کہ ابنِ جوزیؒ نے نقل فرمایا۔
ابو جعفر عقیلیؒ کہتے ہیں نبیﷺ سے یہ متن (یعنی یہ روایت کہ سیدنا معاویہؓ کو منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا) صحیح سند سے ثابت نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی چیز ثابت ہے۔
(کتاب الموضوعات لابنِ جوزی (عربی)، جلد 2 صحفہ 26)۔
ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت کہ (سیدنا معاویہؓ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا) موضوع ہے اور اس کا ایک طرق بھی صحیح نہیں اس لئے اس روایت کو دلیل بنا کر یہ کہنا کہ نبیﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں ایسے الفاظ کہے کسی صورت جائز نہیں۔
ممکن ہے کچھ شیعہ کہیں کہ اہلِ سنت کے اصولِ حدیث کے مطابق کثرتِ طرق سے روایت کا ضعف ختم ہو جاتا ہے اور روایت حسن درجہ کی ہو جاتی ہے تو یہ غلط فہمی بھی دور کرتے چلیں کہ کثرتِ طرق سے فقط کم درجہ کی ضعیف روایت کا ضعف ختم ہوتا ہے نہ کہ ایسی روایت کا جس کی اسناد میں کذاب شیعہ منکر الحدیث متروک الحدیث مضطرب الحدیث راوی ہوں بلکہ ایسی روایات کثرتِ طرق سے مزید موضوع ہو جاتی ہیں کیونکہ شر کی زیادتی سے شر بڑھتا ہے کم نہیں ہوتا۔
جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلویؒ فرماتے ہیں:
موضوع حدیث کسی طرح کارآمد ہیں ہے اور کثرتِ طرق کے باوجود اس کا عیب ختم نہیں ہوسکتا کیونکہ شر کی زیادتی سے شر مزید بڑھتا ہے نیز موضوع، معدوم چیز کی طرح ہے اور معدوم چیز نہ قوی ہوسکتی ہے نہ قوی بنائی جاسکتی ہے۔
(فتاویٰ رضویہ شریف (1)، جلد 5 ، صحفہ 538)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موضوع روایت کثرتِ طرق کے باوجود قوی نہیں ہوسکتی بلکہ کثرتِ طرق سے یہ مزید موضوع ہو جاتی ہے اس لیے اس روایت کو دلیل بنا کر یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں نبی کریمﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ سیدنا امیر معاویؓہ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا بہتان کے سوا کچھ نہیں۔