سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 1 از 4

سیدنا امیر معاویہؓ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا

بعض شیعہ ایک روایت بیان کر کے کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے اپنی زندگی میں ہی فرما دیا تھا کہ اگر تم سیدنا امی معاویہؓ کو میرے منبر کو دیکھو تو اسے قتل کر دینا یہ روایت مختلف کتب میں 7 مختلف اسناد سے مروی ہے ذیل میں اس روایت کی تمام اسناد کا تعاقب ملاحظہ فرمائیں۔

 پہلی سند:

قال جندل بن والق حدثنا محمد بن بشر حدثنا مجالد عن ابى الوداك عن ابی سعيدؓ قال۔

 متن: سیدنا ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں نبیﷺ نے فرمایا جب تم سیدنا معاویہؓ کو میرے منبر پر دیکھو تو اسے قتل کر دینا۔

(تاریخ الاسلام للذهبی (عربی) جلد 4 صحفہ 312)

 اسناد کا تعاقب: اس روایت کا راوی مجالد بن سعید ہمدانی ضعیف اور شیعہ ہے اور اس سے منکر روایات منقول ہیں۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

یحییٰ بن معینؒ اور دیگر حضرات کہتے ہیں اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا امام احمدؒ کہتے ہیں یہ راوی کوئی چیز نہیں امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ قوی نہیں اشج کہتے ہیں یہ شیعہ ہے امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے امام بخاریؒ کہتے ہیں یحییٰ بن سعیدؒ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے فلاس کہتے ہیں یحییٰ بن سعید نے کہا کہ اگر تم مجالد کو کہو کہ یہ روایات شعبی کے حوالے سے مسروق کے حوالے سے سیدنا عبداللّہؓ سے منقول بنا دو تو وہ ایسا کر دے گا (یعنی روایات کی اسناد بدل دے گا) خالد الطحان کہتے ہیں اس سے منکر روایات منقول ہیں۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 6 صحفہ 58،59)

امام ذھبیؒ اس پر الکاشف میں آخری حکم لگاتے ہوئے فرماتے ہیں:

مجالد بن سعید کو ابنِ معینؒ نے ضعیف کہا ہے اور نسائیؒ کہتے ہیں یہ قوی نہیں۔

(الكاشف (عربی) جلد 2 صحفہ 239)

امام بخاریؒ نے بھی مجالد کو اپنی الضعفاء میں شامل کیا اور کہتے ہیں:

یحییٰ بن سعید القطانؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے ابنِ مہدی کہتے ہیں اس سے روایت نہیں لی جائے گی اور امام احمدؒ کہتے ہیں یہ کوئی شئے نہیں۔

(كتاب الضعفاء للبخاری (عربی) صحفہ 112)۔

امام ذھبیؒ اسی وجہ سے اس روایت کو نقل کر کے خود ضعیف فرماتے ہیں:

اس میں مجالد ضعیف ہے۔

(تاریخ الاسلام للذهبی (عربی) جلد 4 صحفه 313)

 دوسری سند:

اخبرنا ابو القاسم بن السمرقندی انا ابو القاسم بن مسعدة انا حمزة بن يوسف انا ابو احمد بن عدى انا على بن العباس نا على بن المثنى نا الوليد بن قاسم عن مجالد عن ابی الوداك عن ابی سعيد۔

(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 59 صحفہ 155)

 اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں 

 پہلی علت: اس سند میں بھی مجالد بن سعید ہے جس کا ترجمہ گزر چکا ہے۔

 دوسری علت: اس کا راوی ولید بن قاسم ضعیف ہے اس سے استدلال جائز نہیں اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

امام یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے ابنِ حبانؒ کہتے ہیں یہ ثقہ راویوں سے ایسی روایات نقل کرنے میں منفرد ہے جو اُن کی احادیث سے مشابہت نہیں رکھتی اس لئے یہ اس حد سے نقل کیا ہے کہ اس سے استدلال کیا جائے۔

(میزان الاعتدال (ارود) جلد 7 صحفه 150)۔

اور اس طرق کو ابنِ جوزیؒ بھی اپنی الموضوعات میں لائے اور فرماتے ہیں۔

ابو سعید کی حدیث میں مجالد ہے ابنِ مہدی اور امام احمدؒ اس کے بارے میں کہتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں ہے یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں اس کی حدیث سے احتجاج نہیں کیا جائے گا اور اس میں ولید بن قاسم ہے جس کو یحییٰؒ نے ضعیف کہا ہے اور ابنِ حبانؒ کہتے ہیں یہ ثقہ راویوں سے ایسی روایات نقل کرنے میں منفرد ہے جو اُن کی احادیث سے مشابہت نہیں رکھتی اس لئے یہ اس حد سے نقل کیا ہے کہ اس سے استدلال کیا جائے۔

(کتاب الموضوعات لابنِ جوزی (عربی) جلد 2 صحفہ 26)

 تیسری سند:

نا محمد بن ابراهيم الاصبهانی نا احمد بن الفرات نا عبد الرزاق انا جعفر بن سليمان عن على بن زيد عن ابی نضرة عن أبی سعيد۔

(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 59 صحفہ 156)

 اسناد کا تعاقب: اس سند میں بھی دو علتیں ہیں۔

 پہلی علت: اس روایت کے راوی جعفر بن سلیمان پر کلام ہے کہ یہ شیعہ تھا اور اس کی کچھ روایات منکر ہیں جن سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطانؒ نے کہا ہے کہ اس کی روایات کو نقل نہیں کیا جائے گا انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ابنِ سعد کہتے ہیں یہ ثقہ ہے تاہم اس میں ضعف پایا جاتا ہے اور اس میں تشیع بھی ہے (امام ذھبیؒ کہتے ہیں) جعفر کی نسبت تشیع کی طرف کی جاتی تھی ابنِ حبانؒ نقل کرتے ہیں کہ جریر بن یزید نے اس سے پوچھا کیا تم سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو برا کہتے ہو؟ تو اس نے کہا برا تو میں نہیں کہتا البتہ جسے چاہوں ناپسند کرسکتا ہوں تو کہتے ہیں یہ شخص شیعہ ہے اور گدھے کی مثل ہے محمد بن ابوبکر کہتے ہیں عبد الرزاق کے علاؤہ جعفر کو کسی نے خراب نہیں کیا یعنی تشیع کے حوالے سے ، (ذھبیؒ مزید لکھتے ہیں) اس کی نقل کردہ روایات زیادہ تر غیر مستند ہیں یہ بعض روایات نقل کرنے میں منفرد ہے جن میں سے بعض منکر ہیں اور اس سے استدلال کرنے میں اختلاف کیا گیا ہے۔

(میزان الاعتدال (اردو)،خ جلد 2 صحفہ 178 تا 180)

اس سب سے معلوم ہوتا ہے کہ جعفر بن سلیمان کی بیان کردہ بعض روایات منکر ہیں اور اس میں تشیع تھا۔

 دوسری علت: اس روایت کا راوی علی بن زید شیعہ اور ضعیف ہے اور اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذھبیؒ نقل فرماتے ہیں:

یحییٰ بن معینؒ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے یحییٰ بن سعید القطانؒ علی بن زید کی حدیث سے احتیاط کیا کرتے تھے حماد بن زید کہتے ہیں علی بن زید حدیث کو الٹ پلٹ کر دیتا تھا یزید بن زریع کہتے ہیں علی بن زید شیعہ ہے امام احمدؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے یحییٰؒ کہتے ہیں یہ قوی نہیں ہے (مزید کہتے ہیں) یہ کوئی چیز نہیں ہے احمد عجلی کہتے ہیں یہ شیعہ تھا اور قوی نہیں ہے امام بخاریؒ و امام ابوحاتمؒ کہتے ہیں اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ابنِ خزیمہ کہتے ہیں اس کے حافظہ کی خرابی کی وجہ سے میں اس سے استدلال نہیں کروں گا (پھر امام ذھبیؒ نے اس کی نقل کردہ کچھ منکر روایات کو بیان کیا)۔

صفحہ 1 از 4