سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 2 از 4

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 5 صحفہ 172 تا 174)

ان تمام جروحات سے ثابت ہوتا ہے کہ علی بن زید کی روایت قبول نہیں کی جاسکتی اس لئے یہ طرق بھی باطل ہوا اور امام ابنِ جوزیؒ نے اس طرق کو بھی الموضوعات میں شامل کیا ہے فرماتے ہیں اس طرق میں علی بن زید ہے امام احمدؒ و یحییٰؒ کہتے ہیں یہ کوئی شئی نہیں ہے ابوحاتمؒ کہتے ہیں اس کو وہم ہوتا ہے اور خطاء کرتا ہے اس لئے اس کو ترک کردیا گیا اور شعبہ کہتے ہیں یہ اختلاط کا شکار ہے۔

(کتاب الموضوعات لابنِ جوزی (عربی) جلد 2 صحفہ 26)

 چوتھی سند:

انا ابو احمد انا على بن عباس نا عباد بن يعقوب نا حكم بن ظهير عن عاصم عن زر عن عبداللّٰه بن مسعود۔

 اسناد کا تعاقب: اس سند میں بھی دو علتیں ہیں۔

(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 59 صحفہ 156)

 پہلی علت: اس روایت کا راوی عباد بن یعقوب شیعہ اور متروک الحدیث ہے اور اس سے منکر روایات منقول ہیں ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذھبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

یہ غالی شیعہ تھا اور بدعتیوں کا سردار تھا ابنِ خزیمہ کہتے ہیں ہمیں ایک ایسے شخص نے حدیث بیان کی جو اپنی روایت میں ثقہ ہے لیکن اپنے دین میں اس پر تہمت عائد کی گئی ہے اور اس کا نام عباد ہے (یعنی جو روایات عباد اپنے شیعہ مذہب کی تقویت میں نقل کرئے ان میں قابلِ اعتماد نہیں) عبدان اہوازی نے ایک ثقہ راوی کا بیان نقل کیا ہے کہ عباد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا کہتا تھا ابنِ عدیؒ کہتے ہیں اس نے فضائل کے بارے میں ایسی روایات نقل کی ہیں جن کو میں منکر کہتا ہوں صالح جزرہ کہتے ہیں عباد سیدنا عثمانؓ کو برا کہتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ کی شان کے لائق نہیں کہ وہ سیدنا طلحہؓ و سیدنا زبیرؓ کو جنت میں داخل کرئے جنہوں نے سیدنا علیؓ کی بیعت کرنے کے بعد ان سے لڑائی کی تھی قاسم بن زکریا کہتے ہیں میں عباد کے پاس گیا وہ احادیث کا سماع کرنے والے کا امتحان لیتا تھا اس نے پوچھا سمندر کو کس نے بنایا ہے؟ میں نے کہا الله نے اُس نے کہا ایسا ہی ہے اسے کس نے بنایا ہے؟ میں نے کہا آپ بتادیں اُس نے کہا سیدنا علیؓ وہ نے اسے بنایا ہے اُس نے پوچھا سمندر کو جاری کس نے کیا ہے؟ میں نے کہا اللّٰه نے اُس نے کہا ایسا ہی ہے اُسے جاری کس نے کیا ہے؟ میں نے کہا جناب آپ ہی بتادیں عباد نے کہا سیدنا حسینؓ نے اسکو جاری کیا ہے عباد نے اپنے ساتھ ایک تلوار لٹکا رکھی تھی میں نے پوچھا یہ کس لیے ہے؟ تو عباد نے کہا یہ میں نے تیار رکھی ہے تاکہ میں اس کے ذریعہ امام مہدی کے ساتھ مل کر لڑائی کروں (قاسم بن زکریا کہتے ہیں) جب میں نے عباد سے وہ روایات سن لی جو میں سننا چاہتا تھا تو میں پھر سے اس کے پاس گیا اس نے پھر سے پوچھا سمندر کو کس نے بنایا ہے؟ میں نے جواب دیا سیدنا امیر معاویہؓ نے اسے بنایا ہے اور سیدنا عمرو ابن العاصؓ نے اسے جاری کیا ہے پھر میں کھڑا ہوکر وہاں سے بھاگ نکلا اور عباد پیچھے سے چیخ کر کہتا رہا اس فاسق کو اللّٰہ کے دشمن کو پکڑو اور قتل کر دو ابنِ حبانؒ کہتے ہیں یہ شیعہ فرقہ کا داعی تھا اور اس نے مشہور راویوں کے حوالے سے منکر روایات نقل کی ہیں اس کی وجہ سے یہ متروک قرار پایا یہی وہ شخص ہے جس نے اپنی سند سے سیدنا عبداللّٰہؓ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے کہ جب تم سیدنا امیر معاویہؓ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 4 صحفه 62،63)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت عباد بن یعقوب ہی کی گھڑی گئی ہے اور ابنِ حبانؒ نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ یہ اس کی نقل کردہ منکر روایت ہے اور عباد شیعہ تھا اور منکر و موضوع روایات بیان کرتا تھا اس لئے اس کی کسی روایت سے استدلال جائز نہیں۔ 

 دوسری علت:

اس روایت کا راوی حکم بن ظہیر بھی منکر الحدیث و متروک ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

اس نے عباد بن یعقوب سے روایات نقل کی ہیں یحییٰؒ کہتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہے دوسرے قول کے مطابق یہ کوئی چیز نہیں ہے امام بخاریؒ کہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے اور دوسرے قول کے مطابق محدثین نے اسے متروک قرار دیا (پھر اس کی نقل کردہ منکر روایات میں اسی روایت کا تذکرہ کیا کہ) اس نے اپنی سند سے سیدنا عبداللّٰہؓ سے روایت نقل کی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جب تم سیدنا امیر معاویہؓ کو میرے منبر پر دیکھو تو اسے قتل کر دینا۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد2 صحفہ388,389)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکم بن ظہیر بھی متروک ہے اور اس کی روایت بھی استدلال جاںٔز نہیں۔ 

امام ابنِ جوزیؒ نے اس طرق کو بھی الموضوعات میں شامل کیا لکھتے ہیں:

ابنِ مسعود کی حدیث میں عباد بن یعقوب ہے جو کہ غالی شیعہ ہے اور اس سے فضائل اہلِ بیت میں منکر روایات منقول ہیں ابنِ حبانؒ کہتے ہیں یہ شیعیت کا داعی تھا اور اس نے مشہور راویوں کے حوالے سے منکر روایات بیان کی ہیں جس وجہ سے یہ ترک ہونے کا مستحق قرار پایا اور دوسرا اس میں حکم بن ظہیر ہے اس کے بارے میں یحییٰؒ کہتے ہیں یہ کوئی شئی نہیں نسائیؒ کہتے ہیں متروک ہے اور ابنِ حبانؒ کہتے ہیں ثقہ راویوں سے موضوع روایات نقل کرتا ہے۔

(کتاب الموضوعات لابنِ جوزی (عربی) جلد 2 صحفہ 26)

 پانچویں سند:

سليمان بن حرب نا حماد بن زيد قال قيل لايوب ان عمرو بن عبيد روى عن الحسن ان رسول اللّٰهﷺ‎ قال۔

(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 59 صحفہ 157)

 اسناد کا تعاقب: اس سند میں بھی دو علتیں ہیں۔

 پہلی علت: اس روایت کی پہلی علت اس کا مرسل ہونا ہے کیونکہ حسن بصریؒ تابعی ہیں اور انہوں نے نبیﷺ‎ کا زمانہ نہیں پایا۔

 دوسری علت: اس روایت کا راوی عمرو بن عبید کذاب اور متروک الحدیث ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذھبیؒ فرماتے ہیں:

صفحہ 2 از 4