سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 3 از 4

یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں اس کی روایت کو لکھا نہیں جائے گا امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے یونس کہتے ہیں یہ جھوٹ بولتا تھا حمید بیان کرتے ہیں اس نے حسن بصریؒ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کی ہیں امام دارقطنیؒ اور دیگر حضرات کہتے ہیں یہ ضعیف ہے عقیلی کہتے ہیں کہ سعید بن عامر کے سامنے عمرو بن عبید کا کسی چیز کے حوالے سے ذکر کیا کہ اُس نے یہ کہا ہے تو انہوں نے کہا اس نے جھوٹ بولا ہے وہ جھوٹ بولنے والوں اور گناہگار لوگوں میں سے ایک تھا (ذھبیؒ کہتے ہیں) یحییٰ بن سعید القطان نے عمرو کو متروک قرار دیا ہے حماد بن سلمہ کہتے ہیں کہ حمید نے مجھے کہا تم عمرو بن عبید سے استفادہ ہرگز نہ کرنا کیونکہ یہ حسن بصری کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتا ہے حماد بن زید کہتے ہیں میں نے ایوب سے کہا عمرو بن عبید نے حسن بصری کے حوالے سے روایت نقل کی ہے کہ جب تم سیدنا امیر معاویہؓ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا تو ایوب نے کہا عمرو نے جھوٹ بولا ہے۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 5 صحفہ 327 تا330)

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عمرو بن عبید کذاب راوی ہے اور اس روایت کے بارے میں ایوب سختیائیؒ نے صراحت کی ہے کہ یہ عمرو بن عبید نے یہ حسن بصریؒ کی طرف جھوٹ منسوب کیا ہے۔

ابنِ جوزیؒ نے اس طرق کو بھی الموضوعات میں شامل کیا لکھتے ہیں:

حسن بصریؒ کے طرق میں عمرو بن عبید کذاب ہے یہ عمرو نے جھوٹ بولا ہے یحییٰ کہتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں ابوحاتمؒ کہتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے ابوجعفر عقیلی کہتے ہیں نبیﷺ سے یہ متن (یعنی یہ روایت کہ سیدنا معاویہؓ کو منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا) صحیح سند سے ثابت نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی چیز ثابت ہے۔

(کتاب الموضوعات لابنِ جوزی (عربی) جلد 2 صحفہ 26)

 چھٹی سند:

حدثنی الحسن محمد بن الخلال قال حدثنا يوسف بن أبی حفص الزاهد قال حدثنا محمد بن اسحاق الفقيه قال حدثنی ابو النضر الغازى قال حدثنا الحسن بن كثير قال حدثنا بكر بن ايمن القيسی قال حدثنا عامر بن يحيى الصريمی قال حدثنا ابو الزبير عن جابر قال قال رسول اللّٰهﷺ۔‎ 

(تاریخِ بغداد (عربی) جلد 2 صحفه 73)

 اسناد کا تعاقب: اس روایت کی سند کے بارے میں امام خطیب بغدادیؒ خود ہی فرماتے ہیں۔

میں نے یہ روایت اس سند کے علاؤہ کسی سند سے نہیں لکھی اور اس سند میں محمد بن اسحاق شاموخ اور ابوزبیر کے درمیان کے تمام راوی (یعنی ابوالنظر حسن بن کثیر بکر بن ایمن اور عام بن یحییٰ) مجہول ہیں۔

(تاریخ بغداد (عربی) جلد 2، صحفه 73)

اور امام ابنِ عساکرؒ اس روایت کو نقل کر کے خطیبؒ کا یہی قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں اور محمد بن اسحاق شاموخ کی احادیث میں کثیر روایات منکر ہیں۔

(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 59 صحفه 158) 

اور امام ابو الفضل عبد الرحیم بن حسین عراقی عامر بن یحییٰ الصریمی کے ترجمہ میں یہی روایت نقل کرکے لکھتے ہیں۔

اس نے ابی زبیر عن جابر سے مرفوعاً روایت نقل کی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا بکر بن ایمن سے روایات نقل کرتا ہے امام خطیبؒ کہتے ہیں یہ مجہول ہیں اور یہ حدیث منکر ہے۔

(ذیل میزان الاعتدال (عربی) صحفه 222)

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ مجہولین کا ہے اور یہ روایت انہیں مجہولین میں سے کسی نے گھڑ کر سیدنا جابرؓ کی منسوب کی ہے اس لیے یہ سند بھی باطل اور منکر ہے اور اس سے بھی استدلال جائز نہیں۔

 ساتویں سند:

حدثنی ابراهيم العلاف البصرى قال سمعت سلاماً ابا المنذر يقول قال عاصم بن بهدلةؒ حدثنی زر بن حبيش عن عبداللّٰه بن مسعود قال قال رسول اللّٰهﷺ۔‎ 

(انساب الاشراف (عربی) جلد 5 صحفہ 137) 

 اسناد کا تعاقب: اس روایت کے راوی عاصم بن بہدلۃؒ صدوق ہیں پر ان کی روایت پر کلام کیا گیا ہے قراءت سبعہ کے قاری ہیں۔

امام بلخیؒ ان کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

ابوعبید کہتے ہیں عاصم کی احادیث مضطرب ہیں یہ آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہوگیا تھا اور صدقہ بن فضل کہتے ہیں عاصم مضطرب الحدیث ہے۔

(قبول الاخبار و معرفة الرجال للبلخی (عربی) جلد 2 صحفہ 105)

امام ابنِ سعدؒ ان کے بارے میں کہتے ہیں:

عاصم ثقہ ہے لیکن یہ حدیث میں بہت زیادہ غلطیاں کرتا ہے۔

(طبقاتِ ابنِ سعد (عربی) جلد 6، صحفه 317)۔

امام ذھبیؒ ان کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

قراءت میں یہ ثبت ہے اور علم حدیث میں ثبت سے کم درجہ کا ہے کیونکہ یہ سچا ہے لیکن وہم کا شکار ہوجاتا ہے یحییٰ القطانؒ کہتے ہیں میں نے عاصم نامی جو راوی بھی پایا ہے اس کا حافظہ خراب ہی پایا ہے ابنِ سعدؒ کہتے ہیں یہ ثقہ ہے پر احادیث میں بکثرت غلطیاں کرتا ہے۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 4 صحفه (35)

امام ابنِ حجرؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

یعقوب بن سفیان کہتے ہیں یہ ثقہ ہے پر اس کی حدیث میں اضطراب ہے ابنِ خراش کہتے ہیں اس کی روایت میں نکارت ہے دار قطنیؒ اور عقیلیؒ کہتے ہیں اس کا حافظہ خراب تھا حماد بن سلمہ کہتے ہیں آخری عمر میں اس کا حافظہ خراب ہو گیا تھا۔

(تہذیب التہذیب (عربی) جلد 3 صحفه 314 تا 316)

امام ابنِ حجرؒ مزید فرماتے ہیں۔

صدوق صاحب اوہام راوی ہے قراءت میں حجت ہے اور صحیحین میں اس کی روایت مقرونا آئی ہے۔

(تقريب التہذيب (اردو) جلد 1 صحفه 413)

اور ان کے شاگرد اسلام ابوالمنذر جو کہ خود صدوق ہیں پر ان کی روایت پر بھی کلام کیا گیا ہے۔ 

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

اس کی حدیث کی متابعت نہیں کی گئی۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 3 صحفه 252)

ان سب دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ عاصم اپنی ذات کے اعتبار سے صدوق ہیں پر یہ اختلاط کا شکار ہوگئے تھے اور حدیث میں غلطیاں کرتے تھے اور ان کی حدیث میں اضطراب پایا جاتا ہے اور ان کے شاگرد کی احادیث کی متابعت نہیں کی گئی۔

ان تمام وجوہات کی بناء پر یہ روایت سخت ضعیف ہے بلکہ منکر ہے اور اس کو دلیل بنانا جائز نہیں۔

اس متن کی دیگر تمام روایات جو مختلف اسناد سے مختلف کتب میں موجود ہیں ان سب کا دار و مدار ان 6 راویوں پر ہی ہے۔

1- مجالد بن سعید

2- ولید بن قاسم

3- علی بن زید 

4- عباد بن يعقوب

5۔ حکم بن ظہیر

6- عمرو بن عبید

صفحہ 3 از 4