سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 4 از 4

اور یہ تمام راوی کذاب منکر الحدیث رافضی شیعہ اور سخت ترین ضعیف ہیں اس لئے ان راویوں کی روایت سے استدلال جائز نہیں اور اس متن کی روایت کسی ایک صحیح سند کے ساتھ بھی منقول نہیں۔

علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے بھی ان تمام روایات کو موضوعات میں شمار کیا ہے لکھتے ہیں۔

(عباد بن یعقوب کا طرق نقل کر کے کہتے ہیں) روایت موضوع ہے عباد شیعہ متروک کذاب ہے (مجالد اور علی بن زید کا طرق نقل کر کے کہتے ہیں) مجالد اور علی کوئی شئے نہیں ہیں (اور عمرو بن عبید کا طرق نقل کر کے کہتے ہیں) اس میں عمرو کذاب ہے (اور پھر عقیلی کا قول نقل کرتے ہیں) نبیﷺ سے یہ متن (یعنی یہ روایت کہ سیدنا معاویہؓ کو منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا) ثابت نہیں۔

(اللالى المصنوعة في الاحاديث الموضوعية (عربی) جلد 1 صحفہ 424،425)

اور جیسا کہ ہم اوپر امام عقیلیؒ کی صراحت دکھا چکے ہیں کہ اس متن کی تمام روایات باطل ہیں جیسا کہ ابنِ جوزیؒ نے نقل فرمایا۔

ابو جعفر عقیلیؒ کہتے ہیں نبیﷺ سے یہ متن (یعنی یہ روایت کہ سیدنا معاویہؓ کو منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا) صحیح سند سے ثابت نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی چیز ثابت ہے۔

(کتاب الموضوعات لابنِ جوزی (عربی)، جلد 2 صحفہ 26)۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت کہ (سیدنا معاویہؓ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا) موضوع ہے اور اس کا ایک طرق بھی صحیح نہیں اس لئے اس روایت کو دلیل بنا کر یہ کہنا کہ نبیﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں ایسے الفاظ کہے کسی صورت جائز نہیں۔

ممکن ہے کچھ شیعہ کہیں کہ اہلِ سنت کے اصولِ حدیث کے مطابق کثرتِ طرق سے روایت کا ضعف ختم ہو جاتا ہے اور روایت حسن درجہ کی ہو جاتی ہے تو یہ غلط فہمی بھی دور کرتے چلیں کہ کثرتِ طرق سے فقط کم درجہ کی ضعیف روایت کا ضعف ختم ہوتا ہے نہ کہ ایسی روایت کا جس کی اسناد میں کذاب شیعہ منکر الحدیث متروک الحدیث مضطرب الحدیث راوی ہوں بلکہ ایسی روایات کثرتِ طرق سے مزید موضوع ہو جاتی ہیں کیونکہ شر کی زیادتی سے شر بڑھتا ہے کم نہیں ہوتا۔ 

جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلویؒ فرماتے ہیں:

موضوع حدیث کسی طرح کارآمد  ہیں ہے اور کثرتِ طرق کے باوجود اس کا عیب ختم نہیں ہوسکتا کیونکہ شر کی زیادتی سے شر مزید بڑھتا ہے نیز موضوع، معدوم چیز کی طرح ہے اور معدوم چیز نہ قوی ہوسکتی ہے نہ قوی بنائی جاسکتی ہے۔

(فتاویٰ رضویہ شریف (1)، جلد 5 ، صحفہ 538)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موضوع روایت کثرتِ طرق کے باوجود قوی نہیں ہوسکتی بلکہ کثرتِ طرق سے یہ مزید موضوع ہو جاتی ہے اس لیے اس روایت کو دلیل بنا کر یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں نبی کریمﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ سیدنا امیر معاویؓہ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا بہتان کے سوا کچھ نہیں۔


صفحہ 4 از 4