عاشوراء کے روزے کا انکار
حامد محمد خلیفہ عمانشیعہ عاشوراء کے روزے کا یہ کہہ کر انکار کرتے ہیں کہ اس باب میں مروی روایات کو امویوں نے ایجاد کیا ہے۔ جمال الدین بن عبداللہ نے ’’صیام عاشوراء‘‘ نامی کتاب لکھ کر اس میں عاشوراء کے روزہ سے متعلق ہر قسم کی روایات کو جمع کر کے ان روایات کی تائید کی ہے، جن کی بدولت شیعہ مذہب کی نصرت و حمایت ہوتی ہے۔ لیکن موصوف اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ موصوف نے اس باب میں بے حد طول بیانی سے کام لیا ہے اور روایات کا ایک ڈھیر لگا دیا ہے۔ اب ان روایات کی تعداد بھی کم نہیں، جن میں اس دن کے روزہ کی ممانعت مذکور ہے۔ لیکن یہ جملہ روایات خود ایک دوسرے کو جھٹلاتی ہیں۔
رضا سے روایت ہے کہ جب ان سے عاشوراء کے روزہ کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو کہنے لگے
’’کیا تم لوگ مجھ سے ابن مرجانہ کے روزہ کے بارے میں پوچھتے ہو؟ اس دن آلِ زیاد نے قتل حسین کے لیے روزہ رکھا تھا۔ اس دن نہ روزہ رکھا جاتا ہے اور نہ اس دن سے برکت حاصل کی جاتی ہے، کیونکہ اس دن آلِ محمد اور اہلِ اسلام باہم فرقوں میں بٹے تھے اور سوموار کا دن منحوس ہے، اس دن نبی کریمﷺ کا انتقال ہوا تھا۔ آل محمد کو بھی اسی دن حادثۂ فاجعہ پیش آیا تھا۔ پس جس نے دس محرم اور سوموار کے دنوں کو روزہ رکھا، وہ مسخ دل کے ساتھ اللہ سے ملے گا اور اس کا حشر انہی لوگوں کے ساتھ ہو گا، جنہوں نے ان دونوں دنوں کے روزہ رکھنے کی نیو ڈالی تھی۔‘‘ (صیام عاشوراء: صفحہ 117-118)
زید نرسی روایت کرتا ہے کہ میں نے عبیداللہ بن زرارہ کو سنا، وہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے عاشوراء کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ انہوں نے فرمایا:
’’جس نے اس دن کا روزہ رکھا، اسے ابن مرجانہ اور آل زیاد کے حصے میں سے ملے گا۔ میں نے پوچھا: ان کا اس دن سے کیا حصہ ہے؟ تو فرمانے لگے: آگ اور اللہ آگ سے پناہ دے اور جس نے اس دن کا روزہ رکھا، وہ جہنم کی آگ کے قریب ہو جائے گا۔‘‘ (صیام عاشوراء: صفحہ 118)
ایک روایت میں ابو جعفر اور ابو عبداللہ دونوں سے عاشوراء اور عرفات کے دن کا مکہ میں روزہ رکھنے کی ممانعت مذکور ہے۔ (صیام عاشوراء: صفحہ 114)
نجیہ کی روایت میں ابو جعفر نے اس دن کے روزہ کو رمضان کے روزوں کی وجہ سے متروک قرار دیا ہے اور متروک پر عمل بدعت ہوتا ہے۔
بعد میں یہی سوال جب نجیہ نے ابو عبداللہ سے کیا، تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا، جو ان کے والد ابو جعفر نے دیا تھا۔ پھر فرمایا اس دن کے روزہ کے بارے میں کتاب و سنت میں سے کچھ بھی نہیں آتا۔ یہ آل زیاد کی سنت ہے، جو انہوں نے قتل حسین پر جاری کی تھی۔ (ایضاً)
قارئین کرام ذرا اس کھلے تضاد کا نظارہ تو کیجیے کہ پہلی روایت اس بات کی تصریح کرتی ہے کہ عاشوراء کا روزہ آل زیاد کی ایجاد ہے۔ جب کہ جعفر صادق رحمۃ اللہ سے مروی روایت بتلاتی ہے کہ قتل حسین کے بعد جب لوگ شام یزید کے پاس گئے، تو اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے طرح طرح کی روایات گھڑ کر اسے سنائی گئیں اور خوب انعام وصول کیے۔ انہی روایات میں سے ایک روایت عاشوراء کے روزہ کے بارے میں بھی گھڑی کہ یہ برکت کا دن ہے، تاکہ لوگ اس دن بجائے گریہ و نوحہ کرنے کے فرحت و سرور کا اظہار کریں۔ (صیام عاشوراء: صفحہ 122)
یہی حال دوسری اور تیسری روایت کا بھی ہے، جبکہ چوتھی روایت تو ماقبل کی دونوں روایات کو خاک بنا کر اڑا دیتی ہے۔ یہ روایت اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ عاشوراء کا روزہ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے قبل موجود تھا۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عاشوراء کا روزہ قتل حسین سے کہیں پہلے سے موجود تھا۔ قارئین کرام! خود ہی بنظرِ انصاف دیکھ لیں کہ کیسے باطل خود ایک دوسرے کو پچھاڑتا ہے۔
تیجانی نے بھی اسے امویوں کا روزہ قرار دے کر اس کا انکار کیا ہے۔ سماوی کہتا ہے کہ اہل سنت و الجماعت عاشوراء کا روزہ یزید بن معاویہ اور بنی امیہ کی سنت کی پیروی میں رکھتے ہیں، کیونکہ اس دن انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پر غلبہ پا کر انہیں شہید کر دیا تھا اور اپنے گمان میں ان کے انقلاب کو ختم کر دیا، جس سے انہیں اپنا وجود تک خطرے میں نظر آتا تھا۔ چنانچہ اہل سنت و الجماعت کے علماء سُوء آگے بڑھے اور انہوں نے بنو امیہ کی خوشنودی کے لیے اس دن کے روزے کے طرح طرح کے فضائل و مناقب ایجاد کر لیے، جیسے اسی دن کشتیٔ نوح کوہِ جودی پر آ ٹکی تھی، اسی دن نارِ ابراہیم ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ سیدنا یوسف علیہ السلام اسی دن جیل سے نکالے گئے وغیرہ وغیرہ اور یہ بھی بیان کیا کہ ہجرت کے بعد نبی کریمﷺ نے یہود کو اس دن کا روزہ رکھتے دیکھا۔ دریافت کرنے پر یہود کہنے لگے کہ اس دن موسیٰ علیہ السلام نے فرعون پر فتح پائی تھی اور فرعون غرق ہو کر ہلاک ہو گیا۔ یہ سن کر نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ہم یہود سے زیادہ موسیٰ کے قریب ہیں۔ چنانچہ آپﷺ نے مسلمانوں کو عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی نویں محرم کو بھی روزہ رکھنے کو فرمایا تاکہ یہود کی مخالفت کی جا سکے۔ بے شک یہ سب ایک رسوا کن جھوٹ ہے۔‘‘ (الشیعۃ ہم اہل السنۃ للتیجانی: صفحہ 301-302)
غرض تیجانی ہمیں ازحد برافروختہ نظر آتا ہے کہ اہل سنت اس دن کا روزہ بنو امیہ کی خوشنودی کے لیے رکھتے ہیں، تاکہ شہادت حسین کے ذکر کو ختم کیا جا سکے۔ تیجانی کا یہ بیان بے حد طویل ہے اور کیسٹوں میں ملتا ہے، جس میں وہ اس پر بے حد زور دیتا ہے کہ اہل سنت کی روایات اس دن کے روزہ کو حرام قرار دیتی ہیں۔
ہم تیجانی کی اس برہمی پر اسے کچھ نہیں کہتے لیکن موصوف خود شیعہ روایات کا کیا کریں گے؟!!