سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کامال کی خاطر سیدنا حکم بن…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کامال کی خاطر سیدنا حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کو قید کرنا

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 2 از 2

(المنتظم في تاریخ الملوک والامم (عربی) جلد 5 صحفہ 229)۔

 اسناد کا تعاقب: اس روایت کا راوی ہیثم بن عدی کذاب و متروک الحدیث ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

امام بخاریؒ کہتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہے یہ جھوٹ بولتا تھا یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہے جھوٹ بولتا تھا امام ابوداؤدؒ کہتے ہیں یہ کذاب ہے امام نسائیؒ اور دیگر حضرات نے کہا ہے یہ متروک الحدیث ہے عباس دوری کہتے ہیں ہمارے اصحاب نے ہمیں یہ بات بتائی کہ ہیثم کی کنیز نے ہمیں یہ بتایا کہ میرا آقا رات کے زیادہ تر حصہ میں نماز ادا کرتا رہتا تھا اور جب صبح ہوتی تو وہ بیٹھ کر جھوٹ بولنا شروع کر دیتا تھا۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 7 صحفہ 130،131)

امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں؛

امام بخاریؒ اور یحییٰؒ کہتے ہیں یہ کذاب ہے امام ابوداؤدؒ اور امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ متروک ہے ، امام نسائیؒ مزید کہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے امام ابوحاتمؒ کہتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے امام عجلیؒ کہتے ہیں یہ کذاب ہے امام ساجیؒ کہتے ہیں یہ کذاب ہے امام حاکمؒ کہتے ہیں یہ ثقہ راوی سے منکر احادیث بیان کرتا ہے۔

(لسان المیزان (عربی) جلد 8 صحفه 361 تا 363)۔

ان جروحات سے ثابت ہوتا ہے کہ ہیثم بن عدی کذاب اور متروک الحدیث راوی ہے اور اس کی روایت کو دلیل بنانا جائز نہیں۔

اور اس واقعہ کے برعکس جو واقعہ صحیح سند سے منقول ہے وہ امام ابنِ عساکرؒ نے نقل کیا۔

قتادہ کہتے ہیں جب سیدنا حکم بن عمرو غفاریؓ کا جوابی خط زیاد کے پاس پہنچا تو اس نے جوابی خط اور اپنے مکتوب کو سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس بھیجا جب یہ مکتوب اور خط سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس پہنچا تو انہوں نے سب کے سامنے زیاد کے خط کا تذکرہ کیا اور سیدنا حکم بن عمرو غفاریؓ کے جواب کو بیان کیا کہ سیدنا حکمؓ نے مرکز کی طرف سے دی گئی ہدایات کے بر عکس اموالِ غنائم میں سے خمس کو الگ کر کے باقی مال مجاہدین میں اس وقت تقسیم کر دیا سیدنا امیر معاویہؓ نے فرمایا تم لوگوں کی کیا رائے ہے؟ اس پر بعض نے کہا کہ سیدنا حکمؓ کو اس عمل کی وجہ سے صلیب پر چڑھایا جائے بعض نے کہا ان کے اعضاء کاٹ دیے جائیں بعض نے کہا جتنا مال انہوں نے تقسیم کیا ہے اس کا تاوان وصول کیا جائے ان آراء کے بعد سیدنا امیر معاویہؓ نے فرمایا تم لوگ کتنے بڑے وزیر ہو تم سے تو فرعون کے وزیر اچھے تھے تم مجھے کہتے ہو کہ ایسے شخص کو سزادوں اور اس کے اعضاء کاٹ دوں جس نے اللّٰہ کے فرمان کو میرے حکم پر ترجیح دی اور رسول اللّٰہﷺ کی سنت کو میری بات پر مقدم رکھا اس شخص (سیدنا حکمؓ) نے بہت اچھا اور عمدہ کردار ادا کیا اور اچھے عمل کا مظاہرہ کیا (پھر قتادہ کہتے ہیں) یہ واقعہ سیدنا امیر معاویہؓ کے عمدہ مناقب میں شمار ہوتا ہے۔

(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 59 صحفہ 170)۔

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس جب سیدنا حکم بن عمرو غفاریؓ کا جوابی خط پہنچا تو انہوں نے ان کو سزا دینے کی بجائے ان کی تعریف و مداح کی اور جن وزیروں نے ان کو سزا دینے کا مشورہ دیا تو ان کی تذلیل کی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کو مال کا کوئی لالچ نہیں تھا اور نہ ہی وہ ظالم تھے اور نہ ہی انہوں نے سیدنا حکمؓ کو قید کر وایا اور جن روایات میں ایسا کچھ ملتا ہے وہ سب روایات باطل ہیں۔


صفحہ 2 از 2