Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تیجانی کا ایک اور جھوٹ

  حامد محمد خلیفہ عمان

اس امر میں کوئی خِفا نہیں کہ اکثر علماء جیسے محسن الامین اور السید القائد علی خامنائی، آیۃ اللہ محمد حسین فضل اللہ وغیرہ بے شمار علماء نے ان امور کے عدمِ جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ (کل الحلول: صفحہ 153)

تیجانی جھوٹ بولنے کا عادی ہے، جیسا کہ اس کی تمام تالیفات دروغ بیانیوں کا مظہر ہیں۔ یہ سب کچھ موصوف تیجانی تقیہ کی آڑ لے کر کرتے ہیں، جس پر ایک شیعہ ماجور اور مغفور ہوتا ہے۔ تیجانی مسلمانوں کے سامنے شیعیت کی صورت کو ملمع کر کے پیش کرنا چاہتا ہے، کیونکہ اس کی کتابیں لوگوں میں بکثرت پھیلائی جاتی ہیں، بلاشبہ یہ اس کا کذب اور دجل ہے۔ تیجانی کی یہ عبارت سراپا جھوٹ ہے۔ خامنائی (انقلاب کا بانی) ان تمام امور کو جائز قرار دیتا ہے، جیسا کہ ہم نے گزشتہ میں نقل کیا ہے۔ جبکہ یہ تیجانی خامنائی کی بابت اس بات کا انکار کرتا ہے۔

محمد حسین فضل اللہ نرم سینہ کوبی کو جائز کہتا ہے جیسا کہ گزشتہ میں بیان ہوا۔ اس لیے تیجانی کا یہ کہنا سراسر جھوٹ ہے کہ ’’اکثر علماء نے ان شعائر کے عدمِ جواز کا فتویٰ دیا ہے‘‘ اور مرتضیٰ فیروز آبادی نے تو تیجانی کو بالکل ہی رسوا کر کے رکھ دیا ہے۔ وہ کہتا ہے: ’’نہ پہلے کبھی سنا اور نہ آئندہ سنیں گے کہ کسی عالم نے ان حسینی شعائر پر نکیر کی ہو۔‘‘

اب کیا ہم تیجانی کو سچا مانیں جو فتاوی اور نصوص کی تکذیب کرتا ہے یا شیعہ کے کبار علماء کو سچا مانیں؟!!