Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا امیر معاویہؓ کی قبر سے سیاہ غبار نکلنا

  محمد ذوالقرنين

سیدنا امیر معاویہؓ کی قبر سے سیاہ غبار نکلنا

بعض شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ کا جسم قبر میں سلامت نہیں کیونکہ ان کی قبر کو کھولا گیا تھا اور ان کی قبر سے جسم کی جگہ سیاہ غبار کی مانند دھاگا نکلا اس پر بطورِ دلیل ایک واقعہ پیش کیا جاتا ہے کہ عباسی خلیفہ عبداللّٰہ بن علی نے بنوامیہ کی دشمنی میں سیدنا امیر معاویہؓ کی قبر کو اکھیڑ دیا تھا تو ان کے جسم کی جگہ صرف سیاہ غبار کی مانند ایک دھاگا نکلا۔

واقعہ کچھ یوں ہے۔

 سند:

قرات بخط ابی الحسن الرازک حدثنی ابو العباس محمود بن محمد بن الفضل الرافقی حدثنی محمد بن موسى العمى ويعرف بحبش الصينی حدثنی على بن محمد بن سليمان النوفلہ قال سمعت أبي يقول۔

متن: محمد سلیمان بن نوفلی کہتا ہے کہ جب عبداللہ بن علی سب سے پہلے دمشق میں داخل ہوا تو میں اس کے ساتھ تھا وہ تلوار کے ساتھ دمشق میں داخل ہوا تھا اور اس نے آتے ہی تین گھڑی تک قتل و غارت کی اور دمشق کی مسجد کو ستر دن تک اپنی سواریوں اور اونٹوں کا اصطبل بنائے رکھا پھر اس نے بنوامیہ کی قبروں کو اکھیڑا اور اس نے سیدنا امیر معاویہؓ کی قبر میں غبار کی مانند صرف ایک سیاہ دھاگا پایا اور اس نے عبدالملک بن مروان کی قبر کو بھی اکھیڑا اور ایک کھوپڑی پائی اور وہ قبروں میں ایک ایک عضو پاتا تھا ہشام بن عبدالملک کو اس نے صحیح سالم پایا اس کی ناک کے سرے کے سوا کوئی چیز بوسیدہ نہیں تھی عبداللّٰہ نے اسے کوڑوں سے مارا حالانکہ وہ مردہ تھا اور اسے کئی دن تک صلیب پر لٹکائے رکھا اور پھر اسے جلا دیا اور اس کی راکھ کو کوٹ کر ہوا میں بکھیر دیا۔

(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 53 صحفہ 126،127)

اس واقعہ کو امام ابنِ کثیرؒ نے بھی تاریخ ابنِ کثیر (اردو) جلد 10 صحفہ 60 59 اپر امام ابنِ عساکر کے حوالے سے ہی نقل کیا ہے۔

 اسناد کا تعاقب:

اس واقعہ کی سند کے چاروں راوی محمود بن محمد بن فضل رافقی، محمد بن موسیٰ علمی علی بن محمد بن سلیمان النوفلی اور اس کا باپ محمد بن سلیمان نوفلی چاروں مجہول ہیں اور ان کی ثقاہت ثابت نہیں امام ابنِ عساکر نے ان کے ترجمہ میں کسی پر کوئی جرح و تعدیل نقل نہیں کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سبھی راوی مجہول ہیں۔

محمود بن محمد بن فضل رافقی یہ مجہول الحال ہے اس کا ترجمہ امام ابنِ عساکرؒ نے تاریخ مدینہ دمشق (عربی) جلد 57 صحفہ 127 126 پر نقل کیا ہے۔

محمد بن موسیٰ عمی کا ترجمہ اسماء و رجال کی کسی کتاب میں موجود نہیں یہ راوی بھی مجہول الحال ہے۔

علی بن محمد بن سلیمان نوفلی کا ترجمہ اہلِ سنت رجال کی کسی کتاب میں موجود نہیں البتہ شیعہ رجال کی كتاب المفيد من منجم رجال الحدیث (عربی) صحفہ 410 اپر اس کا ترجمہ موجود ہے اور وہاں بھی اسے مجہول لکھا گیا ہے۔

محمد بن سلیمان نوفلی یہ مجہول العین ہے اس کا ترجمہ امام ابنِ عساکرؒ نے تاریخِ مدینہ دمشق (عربی) جلد 53 صحفہ 126 تا 128 پر نقل کیا ہے اور شیعہ رجال کی کتاب المفید من منجم رجال الحدیث (عربی) صحفہ 534 پر شیعہ ذاکر نے اس کو بھی مجہول لکھا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سند کا سارا سلسلہ ہی مجہولین کا ہے اور ان راویوں کی ظاہری و باطنی عدالت ثابت نہیں اور اس سند کے راویوں کو شیعہ بھی مجہول مانتے ہیں تو ایسی روایت کو کیسے قبول کیا جاسکتا ہے؟۔

امام ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں:

مجہول (راوی کی روایت) سے احتجاج نہیں کیا جاسکتا۔

(لسان المیزان (عربی) جلد 1 صحفه 198)۔

امام ابو عمرو بن الصلاحؒ فرماتے ہیں۔

اور وہ مجہول راوی جس کی ظاہری و باطنی عدالت ثابت نہ ہو اس کی روایت غیر مقبول ہوتی ہے۔

(علوم الحدیث لابنِ الصلاح (عربی) صحفہ 111)۔

امام احمد رضا خان بریلویؒ بھی ان سے یہی نقل فرماتے ہیں کہ۔

مجہول العین جس کو صرف ایک راوی نے روایت کیا ہے اسے اکثر نے رد کیا ہے دوسرا وہ مجہول راوی جس کی ظاہری و باطنی عدالت دونوں ثابت نہ ہوں اسے جمہور نے رد کیا ہے۔

(فتاویٰ رضویہ شریف (اردو) جلد 5 صحفه 445)

اس لئے ایسی روایات کہ جس کے تمام راوی مجہول ہوں اور ان کی عدالت ثابت نہ ہو اسے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ کی قبر کو اکھیڑا گیا اور ان کی توہین کی گئی حرام ہے اور یہ روایت تو شیعہ کے اپنے رجال کے اصولوں پر بھی باطل ہے تو اس سے شیعہ بھی استدلال کیسے کر سکتے ہیں؟۔