Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بعد از نبی صلی اللہ علیہ وسلم خلافت صدیق پر اجماع کے باوجود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت میں تاخیر کی جس سے  تفرقہ پیدا ہوا۔

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ پر خوارج کا تیسرا اعتراض

بعد از نبیﷺ خلافت صدیق پر اجماع کے باوجود حضرت علیؓ نے بیعت میں تاخیر کی جس سے  تفرقہ پیدا ہوا۔

 حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد مذہب کی ترقی اور اس کے تنزل کا مدار صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر ہی تو تھا۔ ان کے باہمی اتفاق سے اسلام میں برکات نمودار ہوئے اور ان کے افتراق سے جو کچھ ہونا تھا وہ سب کے سامنے ہے۔ ظاہر ہے کہ نبوت کے بعد امرِ خلافت ایک اہم مسئلہ تھا، جس پر مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم کے دو زبردست گروہ تعینِ خلیفہ کے سلسلے میں متحیّر تھے۔ بالآخر اکثریت کا اتفاق صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ پر ہوا۔ مگر صِرف سیدنا علیؓ کہ آپے سے باہر ہو گئے۔ اور پورے چھ مہینے بیعت نہ کی اور ان کی تاخیر سے اسلام اور اِسلامیانِ مدینہ میں ذہنی طور پر جو تفرقہ و تشتّت پیدا ہوا، وہ سب آپ کی وجہ سے ہوا۔ ورنہ ایسے معاملات رونما نہ ہوتے۔

جوابات اہلسنت

جواب 1: اس میں شک نہیں کہ نبوت کے بعد انتخاب امیر ایک اہم  مسئلہ تھا۔ لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حیثیت بھی معمولی نہ تھی۔ ثقیفہ بنی ساعدہ میں ان کو انہوں نے تو اس لیے نہیں بُلایا تھا کہ تجہیز و تکفین کی وصیت ان سے متعلق تھی۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ ثقیفہ کو چلے آتے تو جنازۂ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکیلا رہتا اور یہ بھی اس لیے نہ گئے تاکہ وصیت کے خلاف نہ ہونے پائے۔

  رہا آپے سے باہر ہو جانا تو خوارج کا سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی پاکیزہ شخصیت پر ایک الزام ہے جس سے آپ رضی اللہ عنہ قطعاً بری ہیں۔ آپ سے کہیں بھی منتخب شدہ خلیفہ پر طعن مقبول نہیں ہے۔

 کچھ دن تاخیر میں بھی راز و نیاز کی شان جلوہ گر تھی۔ (طبقات ابن سعد جلد 2 صفحہ 101)

 تاریخِ اِسلام صفحہ 123 مصنفہ سید معین الدین صاحب میں ہے کہ سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے قسم اٹھا کر فرمایا۔ میں آپ کی امارت نا پسند نہیں کرتا۔ لیکن میں نے قسم اُٹھائی ہے کہ جب تک قرآن نہ جمع کر لوں گا، اس وقت نماز کے سوائے اپنی چادر تک نہ اوڑھوں گا۔

جواب 2:  تھوڑی سی مدت کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کا بیعت منظور کر لینا بتاتا ہے کہ بوجوہ چند در چند سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں تاخیر فرمائی۔ مگر سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت و افضلیت پر آپ کو شبہ نہ تھا جبکہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ ویسے کے ویسے تھے، جیسا کہ پہلے تھے۔

 اہلِ تشیع کی معتبر کتابوں میں سے احتجاج طبرسی صفحہ 53 میں بھی موجود ہے۔

ثم تناول یدا الی ابی بکر فبایعه۔

 کہ سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے جا کر صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور بیعت کی۔

جواب 3:  افتراق و انشقاق کا باعث سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے تاخیر کو سمجھنا خلافِ عقل و نقل ہے۔  کیونکہ پہلے تو کوئی ایسا افتراق پیدا ہی نہیں ہوا، جس سے دین کی ترقی میں نقصان کا اندیشہ ہوا ہو۔ ثانیاً یہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بظاہر  تخالف بھی ثابت نہیں اور خلافِ نقل اس لیے کہ جب اکثریت کا اتفاق کتبِ اہلِ سنت اور کتبِ اہلِ تشیع میں منقول ہے تو (للاکثر حکم الکل) اکثر کے لیے کل کا حکم ہے اور ذہنی تفرق و تشتّت کا کوئی بھی شکار نہیں ہوا۔ فتامل رہےخارجی تو وہ خارجی ہی ٹھہرے۔