ایک کھلا تضاد
حامد محمد خلیفہ عمانتیجانی لکھتا ہے کہ
’’یہ سینہ کوبی اور زنجیر زنی وغیرہ عوام کا فعل اور ان کی جہالت ہے ناکہ علماء کا شیوہ ہے بلکہ وہ تو ہمیشہ ان باتوں سے منع کرتے چلے آئے ہیں۔‘‘ (کل الحلول: صفحہ 150)
جبکہ مرتضی فیروز آبادی لکھتا ہے کہ
’’چہرہ پیٹنا وغیرہ شیعہ کی سیرت و کردار رہا ہے، نہ یہ سنا گیا اور نہ سنا جائے گا کہ کسی عالم نے کبھی ان افعال پر انکار کیا ہو۔‘‘ (ثم اہتدیت للتیجانی: صفحہ 150)
ادھر امام محمد باقر الصدر کہتے ہیں کہ
’’علماء ہمیشہ سے ان شیعوں کو ان امور سے روکتے اور ان کی حرمت بیان کرتے آئے ہیں۔‘‘
اب دونوں میں سے کون سچا اور کون جھوٹا ہے؟ تیجانی یا محمد باقر۔ یا محمد باقر پر تیجانی جھوٹا الزام لگا رہے ہیں، بظاہر یہاں جھوٹا تیجانی ہے۔ کیونکہ تیجانی ذکر کرتا ہے کہ جب محمد باقر الصدر نجف آئے، تو میں ان کی زیارت کو گیا اور یہ سوال کیا کہ یہ شیعہ گریہ کیوں کرتے ہیں، سینہ کوبی اور زنجیر زنی کیوں کرتے ہیں، حتیٰ کہ ان کے خون نکلنے لگتے ہیں۔ یہ باتیں اسلام میں حرام ہیں۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے: ’’جس نے چہرہ پیٹا، گریبان چاک کیا اور جاہلیت کی طرف بلایا وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘
تیجانی خود بیان کرتا ہے کہ محمد باقر نے میری اس بات کا یہ جواب دیا کہ
’’بے شک یہ حدیث صحیح ہے لیکن اس کا ابو عبداللہ کے ماتموں پر اطلاق نہیں ہوتا۔ لہٰذا جو ابو عبداللہ کا ماتم کرتا ہے اور حسینی طریق پر چلتا ہے، وہ جاہلیت کی دعوت دینے والا نہیں۔ پھر شیعہ میں عالم بھی ہیں اور جاہل بھی اور ان کے جذبات بھی ہیں۔ اگر یہ شیعہ آل بیت حسین پر ہونے والے مظالم کو سن کر جذبات سے مغلوب ہو جاتا ہے، تو وہ ماجور ہو گا۔ کیونکہ اس کی نیت اللہ کے لیے ہے۔‘‘ (ثم اہتدیت للتیجانی: صفحہ 57 اگر ان کی نیتیں اللہ کے لیے ہوتیں، تو یہ اللہ اور اس کے رسول کے سچے فرمانبردار ہوتے)
اس سے زیادہ حیرت کا امر اور کیا ہو گا کہ ایک شخص حدیث کی صحت کو تسلیم کر لینے کے بعد بھی مقابلہ و مکابرہ کرتے ہوئے اس کو ردّ کرتا ہے اور یہ گمان کرتے ہوئے ردّ کرتا ہے کہ اس حدیث کا اطلاق اس کے ہم مذہبوں کی بدعات و منکرات پر نہیں ہوتا۔ جبکہ تیجانی اس بات کا مدعی بھی ہے کہ شیعہ علماء ان بدعات کو حرام کہتے ہیں۔ اب کون جھوٹا اور کون سچا ہے۔