سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا گروہ جہنم میں -…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا گروہ جہنم میں

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 1 از 3

سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کا گروہ جہنم میں

بعض شیعہ کا دعویٰ ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کا گروہ جہنمی ہے کیونکہ نبیﷺ نے سیدنا عمار بن یاسرؓ کو فرمایا تھا کہ تم کو ایک باغی گروہ قتل کرئے گا تم ان جو جنت کی طرف بلاتے ہو وہ تم کو جہنم کی طرف اس روایت کو پیش کر کے شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسرؓ کو سیدنا امیر معاویہؓ کے گروہ نے جنگ صفین میں شہید کیا تھا تو سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کا گروہ جہنمی ہوا۔

اس روایت کو حدیثِ سیدنا عمارؓ بھی کہا جاتا ہے یہ روایت مختلف کُتب میں مختلف الفاظ کے ساتھ موجود ہے جبکہ یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ کہ تقتله الفئة الباغية يدعوهم الى الجنة ويدعونه الى النار صرف عکرمہ کی سند سے سیدنا ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے۔

صحیح بخاری میں یہ روایت خالد الحذاء عن عکرمہ کی سند سے اس طرح منقول ہے کہ۔

عکرمہ کہتا ہے سیدنا ابنِ عباس نے مجھے اور اپنے بیٹے علی کو کہا کہ سیدنا ابوسعید خدریؓ کے پاس جاؤ اور ان سے احادیث سنو ہم دونوں گئے تو دیکھا کہ سیدنا ابوسعیدؓ ایک باغ کو درست کر رہے ہیں انہوں نے اپنی چادر سے کمر کو گھٹنوں تک لپیٹا اور بیٹھ کر احادیث سنانے لگے حتٰی کہ مسجد نبوی کی تعمیر کا ذکر آیا تو فرمایا ہم ایک ایک اینٹ اٹھاتے تھے جبکہ سیدنا عمارؓ دو، دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے نبیﷺ نے جب سیدنا عمارؓ کو دیکھا تو ان کے جسم سے مٹی جھاڑتے ہوئے فرمانے لگے افسوس سیدنا عمارؓ تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرئے گا سیدنا عمارؓ ان کو جنت کی طرف بلاتے ہیں اور وہ انہیں جہنم کی طرف بلاتے ہیں سیدنا ابوسعیدؓ کہتے ہیں سیدنا عمارؓ نے یہ سن کر کہا میں فتنوں سے اللّٰہ کی پناہ مانگتا ہوں۔

(صحیح بخاری (اردو) جلد 1 روایت 447)۔

(صحیح بخاری (اردو) جلد 3 روایت 2812)۔

 روایت کا تعاقب: یہ دو جملے تقتله الفئة الباغية یعنی تم کو ایک باغی گروہ قتل کرئے گا اور یدعوهم الى الجنة ويدعونه الى النار یعنی تم ان کو جنت کی طرف بلاتے ہو اور وہ تمہیں جہنم کی طرف بلاتے ہیں صرف عکرمہ کی روایت میں ہیں کسی اور کی روایت میں یہ دونوں جملے اکھٹے نہیں ہیں اور بخاری کی روایت میں تقتله الفئة الباغية کے الفاظ زائد ہیں اور یہ الفاظ بخاری کے قدیم قلمی نسخوں میں بھی موجود نہیں ہیں اور اس کے بارے میں تصریحات موجود ہیں کہ امام بخاریؒ نے خود یہ الفاظ تقتله الفئة الباغية البخاری سے مٹا دیے تھے کیونکہ سیدنا ابوسعید خدریؓ نے یہ صراحت کر دی تھی کہ انہوں نے خود یہ حدیث نبیﷺ سے نہیں سنی اور نہ ہی یہ زیادت اس لئے اس روایت کے اندر اِدراج ہے اور یہ روایت مضطرب ہے اس کا ذکر آگے کیا جائے گا۔

امام بخاریؒ نے صرف یہ الفاظ نقل کیے کہ نبیﷺ نے سیدنا عمارؓ کو فرمایا افسوس سیدنا عمارؓ تم ان کو جنت کی طرف بلاتے ہو اور وہ تم کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں۔

 بخاری میں موجود الفاظ تقتله الفئة الباغية کی حقیقت:

صحیح بخاری کے قدیم قلمی نسخوں میں صرف ابنِ سعادة کا نسخہ موجود ہے اور اس نسخہ میں بھی تقتله الفئة الباغية کے الفاظ موجود نہیں۔

اور جامعۃ الملک السعود کے قدیم نسخہ میں بھی یہ الفاظ تقتله الفئة الباغية موجود نہیں۔

سب سے پہلے یہ الفاظ اس روایت کے اندر صحیح بخاری کے نسخہ یونینیہ میں شامل کیے گئے اور ان الفاظ کے اوپر لکھ دیا گیا کہ ساقط یعنی یہ الفاظ قدیم نسخوں میں موجود نہیں۔

(صحيح البخارى للنسخة اليونينية دار طوق النجاة (عربی) جلد 1 صحف 97) 

اور پھر سلطان عبد الحمید نے نسخہ یونینیہ کو مدِنظر رکھ کر ایک نسخہ تیار کروایا جس کو نسخہ السلطانیۃ کہا جاتا ہے اس نسخہ میں ان الفاظ کو روایت میں شامل کر کے نیچے حواشی میں لکھ دیا گیا کہ۔

تقتله الفئة الباغية ساقط عند ابی ذر والاصيلی

یعنی ابو ذر ہروی اور اصیلی کے نسخہ میں تقتله الفئة الباغية کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔

(صحيح البخاري للنسخة السلطانية دار التاصيل (عربی) جلد 1 صحفه 491)۔

اور امام مہلب بن ابی صفرہ تمیمیؒ کے نقل کردہ بخاری کے نسخہ میں بھی تقتله الفئة الباغية کے الفاظ نہیں ہیں۔

(المختصر النصيح في تہذيب الكتاب الجامع الصحیح (عربی) جلد 1 صحفه 324)۔

ان تمام کُتب کے اصلی کتابی صحفات ویب سائیٹ پر دیکھیں "صحیح بخاری کے قدیم نسخے" اور آج بخاری کے جو نسخے رائج ہیں وہ نسخہ سلطانیہ کو مدِنظر رکھ کر ہی لکھے جاتے ہیں اور نسخہ سلطانیہ میں حواشی میں جو وضاحتیں موجود تھیں ان نسخوں میں اُن کو بیان نہیں کیا گیا اس لیے آج یہ الفاظ بخاری میں موجود ہیں اور لوگ ان الفاظ کو اسی حدیث کا حصہ سمجھتے ہیں۔

 تقتله الفئة الباغية كے الفاظ بخاری میں زائد ہیں:

ذیل میں محدثین کی صراحت ملاحظہ فرمائیں کہ یہ الفاظ تقتله الفئة الباغية بخاری میں زائد ہیں اور امام بخاریؒ نے یہ الفاظ نہیں لکھے یا لکھ کر خود ہی ان کو حذف کر دیا۔

امام محمد بن فتوح الحمیدیؒ (المتوفی 488 ھ) اس روایت کو ان الفاظ کے بغیر نقل کر کے فرماتے ہیں۔

نبیﷺ نے فرمایا ویح عمارؓ يدعوهم الى الجنة ويدعونه الى النار (پھر فرماتے ہیں) اس حدیث میں کچھ زیادت بھی مشہور ہوگئی ہے (یعنی تقتله الفئة الباغية) لیکن ان الفاظ کو امام بخاریؒ نے نہیں لکھا ابو مسعود دمشقی اپنی کتاب میں کہتے ہیں کہ یہ حدیث عبدالعزیز بن المختار خالد بن عبد اللّٰہ الواسطی یزید بن زریع محبوب بن حسین اور شعبہ سے مروی ہے اور کبھی اسناد کا دار و مدار خالد الخذا عن عکرمہ پر ہے اور امام بخاریؒ نے اس حدیث کے اندر اس زیادت کو نقل نہیں کیا اور ہمارے نزدیک اس حدیث میں یہ زیادت بخاری کی حدیث کے علاؤہ کسی حدیث میں نہیں ہے۔

(الجمع بین الصحیحین البخاری و مسلم (عربی) جلد 2 صحفہ 462 461)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حمیدیؒ کے مطابق بھی اس روایت میں باغی گروہ کے الفاظ زائد ہیں اور امام بخاریؒ نے ان کو نہیں لکھا اور سبھی اسناد کا دار و مدار خالد بن مہران اور عکرمہ پر ہے (اس کا ذکر آگے آئے گا کہ اس میں عکرمہ کا اضطراب اور روایت میں ادراج ہے)۔

امام ابنِ الدريع الشافعیؒ اس حدیث کو تقتله الفئة الباغية کے الفاظ کے ساتھ نقل کر کے فرماتے ہیں۔

صفحہ 1 از 3