Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کا گروہ جہنم میں

  محمد ذوالقرنين

سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کا گروہ جہنم میں

بعض شیعہ کا دعویٰ ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کا گروہ جہنمی ہے کیونکہ نبیﷺ نے سیدنا عمار بن یاسرؓ کو فرمایا تھا کہ تم کو ایک باغی گروہ قتل کرئے گا تم ان جو جنت کی طرف بلاتے ہو وہ تم کو جہنم کی طرف اس روایت کو پیش کر کے شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسرؓ کو سیدنا امیر معاویہؓ کے گروہ نے جنگ صفین میں شہید کیا تھا تو سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کا گروہ جہنمی ہوا۔

اس روایت کو حدیثِ سیدنا عمارؓ بھی کہا جاتا ہے یہ روایت مختلف کُتب میں مختلف الفاظ کے ساتھ موجود ہے جبکہ یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ کہ تقتله الفئة الباغية يدعوهم الى الجنة ويدعونه الى النار صرف عکرمہ کی سند سے سیدنا ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے۔

صحیح بخاری میں یہ روایت خالد الحذاء عن عکرمہ کی سند سے اس طرح منقول ہے کہ۔

عکرمہ کہتا ہے سیدنا ابنِ عباس نے مجھے اور اپنے بیٹے علی کو کہا کہ سیدنا ابوسعید خدریؓ کے پاس جاؤ اور ان سے احادیث سنو ہم دونوں گئے تو دیکھا کہ سیدنا ابوسعیدؓ ایک باغ کو درست کر رہے ہیں انہوں نے اپنی چادر سے کمر کو گھٹنوں تک لپیٹا اور بیٹھ کر احادیث سنانے لگے حتٰی کہ مسجد نبوی کی تعمیر کا ذکر آیا تو فرمایا ہم ایک ایک اینٹ اٹھاتے تھے جبکہ سیدنا عمارؓ دو، دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے نبیﷺ نے جب سیدنا عمارؓ کو دیکھا تو ان کے جسم سے مٹی جھاڑتے ہوئے فرمانے لگے افسوس سیدنا عمارؓ تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرئے گا سیدنا عمارؓ ان کو جنت کی طرف بلاتے ہیں اور وہ انہیں جہنم کی طرف بلاتے ہیں سیدنا ابوسعیدؓ کہتے ہیں سیدنا عمارؓ نے یہ سن کر کہا میں فتنوں سے اللّٰہ کی پناہ مانگتا ہوں۔

(صحیح بخاری (اردو) جلد 1 روایت 447)۔

(صحیح بخاری (اردو) جلد 3 روایت 2812)۔

 روایت کا تعاقب: یہ دو جملے تقتله الفئة الباغية یعنی تم کو ایک باغی گروہ قتل کرئے گا اور یدعوهم الى الجنة ويدعونه الى النار یعنی تم ان کو جنت کی طرف بلاتے ہو اور وہ تمہیں جہنم کی طرف بلاتے ہیں صرف عکرمہ کی روایت میں ہیں کسی اور کی روایت میں یہ دونوں جملے اکھٹے نہیں ہیں اور بخاری کی روایت میں تقتله الفئة الباغية کے الفاظ زائد ہیں اور یہ الفاظ بخاری کے قدیم قلمی نسخوں میں بھی موجود نہیں ہیں اور اس کے بارے میں تصریحات موجود ہیں کہ امام بخاریؒ نے خود یہ الفاظ تقتله الفئة الباغية البخاری سے مٹا دیے تھے کیونکہ سیدنا ابوسعید خدریؓ نے یہ صراحت کر دی تھی کہ انہوں نے خود یہ حدیث نبیﷺ سے نہیں سنی اور نہ ہی یہ زیادت اس لئے اس روایت کے اندر اِدراج ہے اور یہ روایت مضطرب ہے اس کا ذکر آگے کیا جائے گا۔

امام بخاریؒ نے صرف یہ الفاظ نقل کیے کہ نبیﷺ نے سیدنا عمارؓ کو فرمایا افسوس سیدنا عمارؓ تم ان کو جنت کی طرف بلاتے ہو اور وہ تم کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں۔

 بخاری میں موجود الفاظ تقتله الفئة الباغية کی حقیقت:

صحیح بخاری کے قدیم قلمی نسخوں میں صرف ابنِ سعادة کا نسخہ موجود ہے اور اس نسخہ میں بھی تقتله الفئة الباغية کے الفاظ موجود نہیں۔

اور جامعۃ الملک السعود کے قدیم نسخہ میں بھی یہ الفاظ تقتله الفئة الباغية موجود نہیں۔

سب سے پہلے یہ الفاظ اس روایت کے اندر صحیح بخاری کے نسخہ یونینیہ میں شامل کیے گئے اور ان الفاظ کے اوپر لکھ دیا گیا کہ ساقط یعنی یہ الفاظ قدیم نسخوں میں موجود نہیں۔

(صحيح البخارى للنسخة اليونينية دار طوق النجاة (عربی) جلد 1 صحف 97) 

اور پھر سلطان عبد الحمید نے نسخہ یونینیہ کو مدِنظر رکھ کر ایک نسخہ تیار کروایا جس کو نسخہ السلطانیۃ کہا جاتا ہے اس نسخہ میں ان الفاظ کو روایت میں شامل کر کے نیچے حواشی میں لکھ دیا گیا کہ۔

تقتله الفئة الباغية ساقط عند ابی ذر والاصيلی

یعنی ابو ذر ہروی اور اصیلی کے نسخہ میں تقتله الفئة الباغية کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔

(صحيح البخاري للنسخة السلطانية دار التاصيل (عربی) جلد 1 صحفه 491)۔

اور امام مہلب بن ابی صفرہ تمیمیؒ کے نقل کردہ بخاری کے نسخہ میں بھی تقتله الفئة الباغية کے الفاظ نہیں ہیں۔

(المختصر النصيح في تہذيب الكتاب الجامع الصحیح (عربی) جلد 1 صحفه 324)۔

ان تمام کُتب کے اصلی کتابی صحفات ویب سائیٹ پر دیکھیں "صحیح بخاری کے قدیم نسخے" اور آج بخاری کے جو نسخے رائج ہیں وہ نسخہ سلطانیہ کو مدِنظر رکھ کر ہی لکھے جاتے ہیں اور نسخہ سلطانیہ میں حواشی میں جو وضاحتیں موجود تھیں ان نسخوں میں اُن کو بیان نہیں کیا گیا اس لیے آج یہ الفاظ بخاری میں موجود ہیں اور لوگ ان الفاظ کو اسی حدیث کا حصہ سمجھتے ہیں۔

 تقتله الفئة الباغية كے الفاظ بخاری میں زائد ہیں:

ذیل میں محدثین کی صراحت ملاحظہ فرمائیں کہ یہ الفاظ تقتله الفئة الباغية بخاری میں زائد ہیں اور امام بخاریؒ نے یہ الفاظ نہیں لکھے یا لکھ کر خود ہی ان کو حذف کر دیا۔

امام محمد بن فتوح الحمیدیؒ (المتوفی 488 ھ) اس روایت کو ان الفاظ کے بغیر نقل کر کے فرماتے ہیں۔

نبیﷺ نے فرمایا ویح عمارؓ يدعوهم الى الجنة ويدعونه الى النار (پھر فرماتے ہیں) اس حدیث میں کچھ زیادت بھی مشہور ہوگئی ہے (یعنی تقتله الفئة الباغية) لیکن ان الفاظ کو امام بخاریؒ نے نہیں لکھا ابو مسعود دمشقی اپنی کتاب میں کہتے ہیں کہ یہ حدیث عبدالعزیز بن المختار خالد بن عبد اللّٰہ الواسطی یزید بن زریع محبوب بن حسین اور شعبہ سے مروی ہے اور کبھی اسناد کا دار و مدار خالد الخذا عن عکرمہ پر ہے اور امام بخاریؒ نے اس حدیث کے اندر اس زیادت کو نقل نہیں کیا اور ہمارے نزدیک اس حدیث میں یہ زیادت بخاری کی حدیث کے علاؤہ کسی حدیث میں نہیں ہے۔

(الجمع بین الصحیحین البخاری و مسلم (عربی) جلد 2 صحفہ 462 461)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حمیدیؒ کے مطابق بھی اس روایت میں باغی گروہ کے الفاظ زائد ہیں اور امام بخاریؒ نے ان کو نہیں لکھا اور سبھی اسناد کا دار و مدار خالد بن مہران اور عکرمہ پر ہے (اس کا ذکر آگے آئے گا کہ اس میں عکرمہ کا اضطراب اور روایت میں ادراج ہے)۔

امام ابنِ الدريع الشافعیؒ اس حدیث کو تقتله الفئة الباغية کے الفاظ کے ساتھ نقل کر کے فرماتے ہیں۔

یہ بخاری نے نقل کی ہے اور تقتله الفئة الباغية کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔

(تيسير الوصول الى جامع الاصول من حديث الرسولﷺ (عربی) جلد 3 صحفه 278)۔

اس سے معلوم ہوا کہ امام ابنِ الدیبعؒ کے نزدیک بھی ان الفاظ کو امام بخاریؒ نے نقل نہیں کیا۔

امام ابنِ بطالؒ (المتوفی 449ھ) نے بھی بخاری کی شرح میں اس حدیث کو تقتله الفئة الباغية کے الفاظ کے بغیر نقل کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی اس روایت میں باغی گروہ کے الفاظ موجود نہیں۔

(شرح صحیح البخاری لابنِ بطال (عربی) جلد 2 صحفہ 98)۔

امام محمد سفارینی حنبلیؒ (المتوفی 1188 ھ) بھی اس حدیث کو باغی گروہ کے الفاظ کے بغیر نقل کر کے فرماتے ہیں۔

اور اس روایت کو یوں بھی بیان کیا جاتا ہے تقتله الفئة الباغية يدعوهم الى الجنة ويدعونه الى النار اور امام بخاریؒ نے اس زیادت یعنی تقتله الفئة الباغية کو نہیں لکھا یہ روایت کہ تقتله الفئة الباغية صحيح مسلم وغیرہ کی ہے۔

(لوامع الانور البهية و سواطع الاسرار (عربی) جلد 2 صحفہ 342)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام سفارینیؒ کے نزدیک بھی یہ الفاظ بخاری میں زائد ہیں اور یہ الگ الفاظ ہیں جو کہ مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہیں جن میں جنت اور جہنم کی طرف بلانے کا ذکر نہیں ہے۔ 

امام مزیؒ (المتوفی 442 ھ) بھی اس حدیث کو باغی گروہ کے الفاظ کے بغیر نقل کر کے فرماتے ہیں۔

اس حدیث میں تقتله عمار الفئة الباغية' کے الفاظ نہیں ہیں۔

(تحفة الاشراف بمعرفة الاطراف (عربی) جلد 3 صحفه 427)

امام بیہقیؒ بھی اس روایت کو نقل کر کے کہتے ہیں۔

یه روایت امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں نقل کی اور تقتله الفئة الباغية' کے الفاظ نہیں لکھے۔

(دلائل النبوة (عربی) جلد 2 صحفہ 546)

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ صحیح بخاری کی اس روایت میں تقتله الفئة الباغية کے الفاظ غیر محفوظ ہیں اور امام بخاریؒ نے ان الفاظ کو نقل نہیں کیا اور یہ الفاظ راوی کی زیادت ہیں۔ 

 يدعوهم الى الجنة ويدعونه الى النار كے الفاظ کا معنی:

بخاری کی اس حدیث کہ نبی کریمﷺ نے سیدنا عمارؓ کو دو دو اینٹیں اٹھاتے دیکھ کر فرمایا افسوس سیدنا عمارؓ کہ تم ان کو جنت کی طرف بلاتے ہو اور وہ تم کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں کا مفہوم ملاحظہ فرمائیں۔

اس روایت کے بارے میں محدثین میں دو آراء ہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ حدیث خوارج کے بارے میں ہے اور بعض کہتے ہیں یہ کفار مکہ کے بارے میں ہے اور محدثین نے اس بات کی صراحت بھی کی ہے کہ یہ روایت کسی صحابی کے بارے میں بلکل نہیں ہے۔

 خوارج کے متعلق ہونے کی رائے:

امام ابنِ بطالؒ فرماتے ہیں:

امام مہلب کہتے ہیں یہ فرمان که يدعوهم الى الجنة ويدعونه الی النار یہ خوارج کے بارے میں ہے کیونکہ سیدنا علیؓ نے سیدنا عماراؓ کو خوارج کی طرف بھیجا تھا تاکہ خوارج ان کی جماعت میں شامل ہوجائیں اور یہ فرمان کسی صحابی (یعنی سیدنا امیر معاویہؓ) کے بارے میں نہیں ہے اور بعض مفسرین جو کہ اصحابِ رسولﷺ ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا عمارؓ کو خوارج کی طرف بھیجا تھا تاکہ وہ ان کو سیدنا علیؓ کی جماعت میں شامل ہونے کا کہیں۔

(شرح صحیح البخاری لابنِ بطال (عربی) جلد 2 صحفہ 98،99)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض محدثین کا گمان اس حدیث کے بارے میں یہ ہے کہ یہ حدیث خوارج کے بارے میں ہے کیونکہ سیدنا عمارؓ نے ان کو سیدنا علیؓ کی جماعت میں آنے کی دعوت دی لیکن خوارج سیدنا عمارؓ کو اپنی طرف بلاتے تھے۔

 کفار قریش کے متعلق ہونے کی رائے:

امام ابنِ حجر عسقلانیؒ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

یہ کسی صحابی کے بارے میں نہیں ہے اور ممکن ہے کہ اس سے مراد کفار قریش ہیں (کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کفار کو اسلام کی دعوت دیتے تھے اور کفار مسلمانوں کو کہتے تھے کہ ہمارے دین میں واپس آجاؤ) جیسا کہ بعض صریح شروحات سے معلوم ہوتا ہے۔

(فتح الباری بشرح صحیح البخاری (عربی) جلد 1 صحفہ 646)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابنِ حجرؒ کے نزدیک اس روایت میں جہنم کی طرف بلانے والے سے مراد کوئی صحابی نہیں بلکہ کفار قریش ہیں۔

 تقتله الفئة الباغية کے الفاظ راوی کا اِدراج ہیں:

امام ابنِ حجرؒ اس روایت کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اور اس حدیث میں یہ زائد الفاظ تقتله الفئة الباغية حمیدی نے اپنی جامع میں نقل نہیں کیے اور کہا ہے کہ امام بخاریؒ نے ان کو ذکر نہیں کیا میں (ابنِ حجرؒ) کہتا ہوں کہ امام بخاریؒ نے ان الفاظ کو خود مٹادیا تھا کیونکہ اس کی وجہ ایک بہت گہرا نقطہ تھا اور وہ یہ کہ سیدنا ابوسعید خدریؓ نے یہ اعتراف کیا کہ انہوں نے یہ زیادت (تقتله الفئة الباغية) نبیﷺ سے نہیں سنی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت میں اِدراج ہے۔

(فتح الباری بشرح صحیح البخاری (عربی) جلد 1 صحفہ 646)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابنِ حجرؒ کے نزدیک بھی امام بخاریؒ نے ان الفاظ کو بخاری سے مٹادیا تھا کیونکہ سیدنا ابو سعید خدریؓ نے صراحت کر دی کہ انہوں نے یہ حدیث نبیﷺ سے خود نہیں سنی (جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے) اس لئے باغی گروہ والی زیادت کو امام بخاریؒ نے نقل نہیں کیا اور یہ الفاظ بخاری کی روایت میں اِدراج تھا۔ 

 عکرمہ کی بیان کردہ حدیثِ سیدنا عمارؓ میں اضطراب:

سیدنا ابنِ عباسؓ کے غلام عکرمہ کی بیان کردہ حدیثِ سیدنا عمارؓ میں اضطراب ہے اور عکرمہ کی روایت میں اضطراب پایا جاتا ہے جیسا کہ امام احمد بن حنبلؒ نے صراحت فرمائی ہے کہتے ہیں۔

عکرمہ مضطرب الحدیث ہے اور اس کی روایت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

(سیر اعلام النُبلاء (عربی) جلد 5 صحفہ 26)۔

اب اس روایت میں عکرمہ کا اضطراب ملاحظہ فرمائیں۔

یہی روایت جب عکرمہ سے امام حاکم ؒنے نقل کی اس میں جو الفاظ ہیں ملاحظہ فرمائیں۔

 سند

حدثنا ابو احمد الحسين بن على التميمی حدثنا ابو القاسم عبد اللّٰه بن محمد البغوى حدثنا ابو كامل الجحدری حدثنا عبد العزيز بن المختار حدثنا خالد الحذاء عن عكرمه عن ابنِ عباسؓ۔ 

متن: عکرمہ کہتا ہے سیدنا ابنِ عباسؓ نے مجھے اور اپنے بیٹے علی کو کہا سیدنا ابوسعید خدریؓ کے پاس جاؤ اور ان سے خوارج کے متعلق احادیث سنو ہم دونوں گئے تو سیدنا ابوسعیدؓ باغ میں کام کر رہے تھے انہوں نے ہمیں دیکھا تو اپنی چادر درست کر کے ہم سے باتیں کرنے لگے حتٰی کہ مسجد نبوی کی تعمیر کا ذکر آیا تو فرمایا ہم ایک ایک اینٹ اٹھاتے تھے جبکہ سیدنا عمارؓ دو دو اینٹیں اٹھا کر لارہے تھے نبیﷺ نے جب سیدنا عمارؓ کو دیکھا تو ان کے جسم سے مٹی جھاڑتے ہوئے بولے اے سیدنا عمارؓ اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح تم ایک ایک اینٹ کیوں نہیں اٹھا رہے؟ تو سیدنا عمارؓ نے عرض کی میں اللّٰہ سے زیادہ اجر کا طلب گار ہوں تو نبیﷺ نے فرمایا اے سیدنا عمارؓ افسوس تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرئے سیدنا عمارؓ نے یہ سن کر کہا میں فتنوں سے اللّٰہ کی پناہ مانگتا ہوں۔

(مستدرک الحاکم (اردو) جلد 2 روایت 2653)۔

اس روایت سے تو ہر چیز ہی تبدیل ہو جاتی ہے کہ سیدنا ابنِ عبادؓ نے یہ کہہ کر بھیجا کہ جا کر خوارج کے متعلق احادیث سنو پھر سیدنا ابوسعید خدریؓ نے یہ روایت سنائی اب کیا کوئی شیعہ اس روایت کے مطابق یہ کہے گا کہ نبیﷺ کا یہ فرمان خوارج کے بارے میں تھا اور خوارج نے ان کو قتل کیا کیونکہ سیدنا ابنِ عباس نے ان کو خوارج کے متعلق احادیث سننے کو کہا تو سیدنا ابوسعید خدریؓ نے تب یہ روایت ان کو سنائی اس لئے اس روایت سے بلکل واضح ہو جاتا ہے کہ عکرمہ کی روایت میں اضطراب ہے اور روایت میں اِدراج کیا گیا ہے۔

اب صحیح مسلم کی روایت ملاحظہ فرمائیں جس سے روز روشن کی طرح یہ بات واضح ہو جائے گی کہ عکرمہ کی روایت مضطرب ہے اور سیدنا ابوسعیدؓ نے یہ حدیث خود نبیﷺ سے نہیں سنی اور نہ ہی یہ واقعہ مسجد نبویﷺ کی تعمیر کے وقت کا ہے۔

امام مسلمؒ نقل فرماتے ہیں:

سیدنا ابوسعید خدریؓ فرماتے ہیں مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی جو مجھ سے بہتر ہے (کسی اور صحابی نے) کہ رسولﷺ نے جب آپﷺ نے خندق کھودنے کا آغاز کیا تو سیدنا عمارؓ سے ایک بات ارشاد فرمائی آپﷺ نے سیدنا عمارؓ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمانے لگے سیدہ سمیہں کے بیٹے کی مصیبت تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔

(صحیح مسلم (اردو) جلد 5 حدیث 7320)

اس روایت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سیدنا ابوسعید خدریؓ نے حدیثِ سیدنا عمارؓ خود نبیﷺ سے نہیں سنی بلکہ کسی اور صحابی سے سنی اور نہ ہی یہ واقعہ مسجد نبویﷺ کی تعمیر کے وقت کا ہے بلکہ غزوۂ خندق کے دوران یہ سب پیش آیا اور سیدنا ابوسعید خدریؓ سے زیادت بھی منقول نہیں ہے اس لیے امام بخاریؒ نے عکرمہ کی روایت سے تقتله الفئة الباغية کے الفاظ کاٹ دیے۔

ثابت ہوتا ہے کہ تقتله الفئة الباغية اور يدعوهم الى الجنة ويدعونه الى النار ایک ہی روایت کے الفاظ نہیں ہیں اور جس روایت میں یہ دو جملے اکھٹے ہیں وہ روایت ہی عکرمہ کی وجہ سے مضطرب ہے۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ بخاری کی اس روایت میں اضطراب ہے اور تقتله الفئة الباغية کے الفاظ اس میں زیادت و اِدراج ہے اور کسی صحیح و مرفوع حدیث سے یہ دو جملے تقتله الفئة الباغية اور يدعوهم الى الجنة ويدعونه الى النار اکھٹے ہونا ثابت نہیں اور بخاری کی روایت میں سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے گروہ کے جہنمی ہونے کا ذکر نہیں ہے بلکہ یہ خوارج یا کفار مکہ کے بارے میں ہے جیسا کہ محدثین کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے اس لئے اس روایت کو دلیل بنا کر سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کا گروہ کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ جہنم کی طرف بلانے والے اور جہنمی ہیں حرام ہے۔

 فی زمانہ لفظ باغی کا اطلاق سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے جائز نہیں:

سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے گروہ کے بارے میں صرف باغی گروہ کے الفاظ ثابت ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں اور سیدنا امیر معاویہؓ سے جب سیدنا حسنؓ نے صلح کر کے ان کی بیعت کر لی تو اس کے بعد سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے ساتھیوں پر باغی لفظ کا اطلاق کرنا بھی جائز نہیں۔

اور فی زمانہ تو جب باغی کا معنی مفسد ہوگیا ہے صحابہ میں سے کسی پر اس لفظ کا اطلاق حرام ہے۔

مولانا امجد علی اعظمیؒ فرماتے ہیں:

عرف شرع میں بغاوت مطلقاً مقابلہ امام برحق کو کہتے ہیں عناد ہو خواہ اجتہاداً سیدنا امیر معاویہؓ پر حسب اصطلاح شرع اطلاق فئہ باغیہ آیا ہے مگر اب کہ باغی بمعنیٰ مفسد و معاند و سرکش ہوگیا اور دشنام سمجھا جاتا ہے اب کسی صحابی پر اس کا اطلاق جائز نہیں۔

(بہار شریعت (اردو) حصہ اول امامت کا بیان صحفہ 260 259)۔

اس لئے فی زمانہ سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے لفظ باغی کا استعمال کرنا بھی جائز نہیں۔