سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا گروہ جہنم میں -…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا گروہ جہنم میں

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 2 از 3

یہ بخاری نے نقل کی ہے اور تقتله الفئة الباغية کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔

(تيسير الوصول الى جامع الاصول من حديث الرسولﷺ (عربی) جلد 3 صحفه 278)۔

اس سے معلوم ہوا کہ امام ابنِ الدیبعؒ کے نزدیک بھی ان الفاظ کو امام بخاریؒ نے نقل نہیں کیا۔

امام ابنِ بطالؒ (المتوفی 449ھ) نے بھی بخاری کی شرح میں اس حدیث کو تقتله الفئة الباغية کے الفاظ کے بغیر نقل کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی اس روایت میں باغی گروہ کے الفاظ موجود نہیں۔

(شرح صحیح البخاری لابنِ بطال (عربی) جلد 2 صحفہ 98)۔

امام محمد سفارینی حنبلیؒ (المتوفی 1188 ھ) بھی اس حدیث کو باغی گروہ کے الفاظ کے بغیر نقل کر کے فرماتے ہیں۔

اور اس روایت کو یوں بھی بیان کیا جاتا ہے تقتله الفئة الباغية يدعوهم الى الجنة ويدعونه الى النار اور امام بخاریؒ نے اس زیادت یعنی تقتله الفئة الباغية کو نہیں لکھا یہ روایت کہ تقتله الفئة الباغية صحيح مسلم وغیرہ کی ہے۔

(لوامع الانور البهية و سواطع الاسرار (عربی) جلد 2 صحفہ 342)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام سفارینیؒ کے نزدیک بھی یہ الفاظ بخاری میں زائد ہیں اور یہ الگ الفاظ ہیں جو کہ مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہیں جن میں جنت اور جہنم کی طرف بلانے کا ذکر نہیں ہے۔ 

امام مزیؒ (المتوفی 442 ھ) بھی اس حدیث کو باغی گروہ کے الفاظ کے بغیر نقل کر کے فرماتے ہیں۔

اس حدیث میں تقتله عمار الفئة الباغية' کے الفاظ نہیں ہیں۔

(تحفة الاشراف بمعرفة الاطراف (عربی) جلد 3 صحفه 427)

امام بیہقیؒ بھی اس روایت کو نقل کر کے کہتے ہیں۔

یه روایت امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں نقل کی اور تقتله الفئة الباغية' کے الفاظ نہیں لکھے۔

(دلائل النبوة (عربی) جلد 2 صحفہ 546)

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ صحیح بخاری کی اس روایت میں تقتله الفئة الباغية کے الفاظ غیر محفوظ ہیں اور امام بخاریؒ نے ان الفاظ کو نقل نہیں کیا اور یہ الفاظ راوی کی زیادت ہیں۔ 

 يدعوهم الى الجنة ويدعونه الى النار كے الفاظ کا معنی:

بخاری کی اس حدیث کہ نبی کریمﷺ نے سیدنا عمارؓ کو دو دو اینٹیں اٹھاتے دیکھ کر فرمایا افسوس سیدنا عمارؓ کہ تم ان کو جنت کی طرف بلاتے ہو اور وہ تم کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں کا مفہوم ملاحظہ فرمائیں۔

اس روایت کے بارے میں محدثین میں دو آراء ہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ حدیث خوارج کے بارے میں ہے اور بعض کہتے ہیں یہ کفار مکہ کے بارے میں ہے اور محدثین نے اس بات کی صراحت بھی کی ہے کہ یہ روایت کسی صحابی کے بارے میں بلکل نہیں ہے۔

 خوارج کے متعلق ہونے کی رائے:

امام ابنِ بطالؒ فرماتے ہیں:

امام مہلب کہتے ہیں یہ فرمان که يدعوهم الى الجنة ويدعونه الی النار یہ خوارج کے بارے میں ہے کیونکہ سیدنا علیؓ نے سیدنا عماراؓ کو خوارج کی طرف بھیجا تھا تاکہ خوارج ان کی جماعت میں شامل ہوجائیں اور یہ فرمان کسی صحابی (یعنی سیدنا امیر معاویہؓ) کے بارے میں نہیں ہے اور بعض مفسرین جو کہ اصحابِ رسولﷺ ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا عمارؓ کو خوارج کی طرف بھیجا تھا تاکہ وہ ان کو سیدنا علیؓ کی جماعت میں شامل ہونے کا کہیں۔

(شرح صحیح البخاری لابنِ بطال (عربی) جلد 2 صحفہ 98،99)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض محدثین کا گمان اس حدیث کے بارے میں یہ ہے کہ یہ حدیث خوارج کے بارے میں ہے کیونکہ سیدنا عمارؓ نے ان کو سیدنا علیؓ کی جماعت میں آنے کی دعوت دی لیکن خوارج سیدنا عمارؓ کو اپنی طرف بلاتے تھے۔

 کفار قریش کے متعلق ہونے کی رائے:

امام ابنِ حجر عسقلانیؒ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

یہ کسی صحابی کے بارے میں نہیں ہے اور ممکن ہے کہ اس سے مراد کفار قریش ہیں (کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کفار کو اسلام کی دعوت دیتے تھے اور کفار مسلمانوں کو کہتے تھے کہ ہمارے دین میں واپس آجاؤ) جیسا کہ بعض صریح شروحات سے معلوم ہوتا ہے۔

(فتح الباری بشرح صحیح البخاری (عربی) جلد 1 صحفہ 646)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابنِ حجرؒ کے نزدیک اس روایت میں جہنم کی طرف بلانے والے سے مراد کوئی صحابی نہیں بلکہ کفار قریش ہیں۔

 تقتله الفئة الباغية کے الفاظ راوی کا اِدراج ہیں:

امام ابنِ حجرؒ اس روایت کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اور اس حدیث میں یہ زائد الفاظ تقتله الفئة الباغية حمیدی نے اپنی جامع میں نقل نہیں کیے اور کہا ہے کہ امام بخاریؒ نے ان کو ذکر نہیں کیا میں (ابنِ حجرؒ) کہتا ہوں کہ امام بخاریؒ نے ان الفاظ کو خود مٹادیا تھا کیونکہ اس کی وجہ ایک بہت گہرا نقطہ تھا اور وہ یہ کہ سیدنا ابوسعید خدریؓ نے یہ اعتراف کیا کہ انہوں نے یہ زیادت (تقتله الفئة الباغية) نبیﷺ سے نہیں سنی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت میں اِدراج ہے۔

(فتح الباری بشرح صحیح البخاری (عربی) جلد 1 صحفہ 646)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابنِ حجرؒ کے نزدیک بھی امام بخاریؒ نے ان الفاظ کو بخاری سے مٹادیا تھا کیونکہ سیدنا ابو سعید خدریؓ نے صراحت کر دی کہ انہوں نے یہ حدیث نبیﷺ سے خود نہیں سنی (جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے) اس لئے باغی گروہ والی زیادت کو امام بخاریؒ نے نقل نہیں کیا اور یہ الفاظ بخاری کی روایت میں اِدراج تھا۔ 

 عکرمہ کی بیان کردہ حدیثِ سیدنا عمارؓ میں اضطراب:

سیدنا ابنِ عباسؓ کے غلام عکرمہ کی بیان کردہ حدیثِ سیدنا عمارؓ میں اضطراب ہے اور عکرمہ کی روایت میں اضطراب پایا جاتا ہے جیسا کہ امام احمد بن حنبلؒ نے صراحت فرمائی ہے کہتے ہیں۔

عکرمہ مضطرب الحدیث ہے اور اس کی روایت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

(سیر اعلام النُبلاء (عربی) جلد 5 صحفہ 26)۔

اب اس روایت میں عکرمہ کا اضطراب ملاحظہ فرمائیں۔

یہی روایت جب عکرمہ سے امام حاکم ؒنے نقل کی اس میں جو الفاظ ہیں ملاحظہ فرمائیں۔

 سند

حدثنا ابو احمد الحسين بن على التميمی حدثنا ابو القاسم عبد اللّٰه بن محمد البغوى حدثنا ابو كامل الجحدری حدثنا عبد العزيز بن المختار حدثنا خالد الحذاء عن عكرمه عن ابنِ عباسؓ۔ 

صفحہ 2 از 3