سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا گروہ جہنم میں -…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا گروہ جہنم میں

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 3 از 3

متن: عکرمہ کہتا ہے سیدنا ابنِ عباسؓ نے مجھے اور اپنے بیٹے علی کو کہا سیدنا ابوسعید خدریؓ کے پاس جاؤ اور ان سے خوارج کے متعلق احادیث سنو ہم دونوں گئے تو سیدنا ابوسعیدؓ باغ میں کام کر رہے تھے انہوں نے ہمیں دیکھا تو اپنی چادر درست کر کے ہم سے باتیں کرنے لگے حتٰی کہ مسجد نبوی کی تعمیر کا ذکر آیا تو فرمایا ہم ایک ایک اینٹ اٹھاتے تھے جبکہ سیدنا عمارؓ دو دو اینٹیں اٹھا کر لارہے تھے نبیﷺ نے جب سیدنا عمارؓ کو دیکھا تو ان کے جسم سے مٹی جھاڑتے ہوئے بولے اے سیدنا عمارؓ اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح تم ایک ایک اینٹ کیوں نہیں اٹھا رہے؟ تو سیدنا عمارؓ نے عرض کی میں اللّٰہ سے زیادہ اجر کا طلب گار ہوں تو نبیﷺ نے فرمایا اے سیدنا عمارؓ افسوس تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرئے سیدنا عمارؓ نے یہ سن کر کہا میں فتنوں سے اللّٰہ کی پناہ مانگتا ہوں۔

(مستدرک الحاکم (اردو) جلد 2 روایت 2653)۔

اس روایت سے تو ہر چیز ہی تبدیل ہو جاتی ہے کہ سیدنا ابنِ عبادؓ نے یہ کہہ کر بھیجا کہ جا کر خوارج کے متعلق احادیث سنو پھر سیدنا ابوسعید خدریؓ نے یہ روایت سنائی اب کیا کوئی شیعہ اس روایت کے مطابق یہ کہے گا کہ نبیﷺ کا یہ فرمان خوارج کے بارے میں تھا اور خوارج نے ان کو قتل کیا کیونکہ سیدنا ابنِ عباس نے ان کو خوارج کے متعلق احادیث سننے کو کہا تو سیدنا ابوسعید خدریؓ نے تب یہ روایت ان کو سنائی اس لئے اس روایت سے بلکل واضح ہو جاتا ہے کہ عکرمہ کی روایت میں اضطراب ہے اور روایت میں اِدراج کیا گیا ہے۔

اب صحیح مسلم کی روایت ملاحظہ فرمائیں جس سے روز روشن کی طرح یہ بات واضح ہو جائے گی کہ عکرمہ کی روایت مضطرب ہے اور سیدنا ابوسعیدؓ نے یہ حدیث خود نبیﷺ سے نہیں سنی اور نہ ہی یہ واقعہ مسجد نبویﷺ کی تعمیر کے وقت کا ہے۔

امام مسلمؒ نقل فرماتے ہیں:

سیدنا ابوسعید خدریؓ فرماتے ہیں مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی جو مجھ سے بہتر ہے (کسی اور صحابی نے) کہ رسولﷺ نے جب آپﷺ نے خندق کھودنے کا آغاز کیا تو سیدنا عمارؓ سے ایک بات ارشاد فرمائی آپﷺ نے سیدنا عمارؓ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمانے لگے سیدہ سمیہں کے بیٹے کی مصیبت تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔

(صحیح مسلم (اردو) جلد 5 حدیث 7320)

اس روایت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سیدنا ابوسعید خدریؓ نے حدیثِ سیدنا عمارؓ خود نبیﷺ سے نہیں سنی بلکہ کسی اور صحابی سے سنی اور نہ ہی یہ واقعہ مسجد نبویﷺ کی تعمیر کے وقت کا ہے بلکہ غزوۂ خندق کے دوران یہ سب پیش آیا اور سیدنا ابوسعید خدریؓ سے زیادت بھی منقول نہیں ہے اس لیے امام بخاریؒ نے عکرمہ کی روایت سے تقتله الفئة الباغية کے الفاظ کاٹ دیے۔

ثابت ہوتا ہے کہ تقتله الفئة الباغية اور يدعوهم الى الجنة ويدعونه الى النار ایک ہی روایت کے الفاظ نہیں ہیں اور جس روایت میں یہ دو جملے اکھٹے ہیں وہ روایت ہی عکرمہ کی وجہ سے مضطرب ہے۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ بخاری کی اس روایت میں اضطراب ہے اور تقتله الفئة الباغية کے الفاظ اس میں زیادت و اِدراج ہے اور کسی صحیح و مرفوع حدیث سے یہ دو جملے تقتله الفئة الباغية اور يدعوهم الى الجنة ويدعونه الى النار اکھٹے ہونا ثابت نہیں اور بخاری کی روایت میں سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے گروہ کے جہنمی ہونے کا ذکر نہیں ہے بلکہ یہ خوارج یا کفار مکہ کے بارے میں ہے جیسا کہ محدثین کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے اس لئے اس روایت کو دلیل بنا کر سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کا گروہ کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ جہنم کی طرف بلانے والے اور جہنمی ہیں حرام ہے۔

 فی زمانہ لفظ باغی کا اطلاق سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے جائز نہیں:

سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے گروہ کے بارے میں صرف باغی گروہ کے الفاظ ثابت ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں اور سیدنا امیر معاویہؓ سے جب سیدنا حسنؓ نے صلح کر کے ان کی بیعت کر لی تو اس کے بعد سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے ساتھیوں پر باغی لفظ کا اطلاق کرنا بھی جائز نہیں۔

اور فی زمانہ تو جب باغی کا معنی مفسد ہوگیا ہے صحابہ میں سے کسی پر اس لفظ کا اطلاق حرام ہے۔

مولانا امجد علی اعظمیؒ فرماتے ہیں:

عرف شرع میں بغاوت مطلقاً مقابلہ امام برحق کو کہتے ہیں عناد ہو خواہ اجتہاداً سیدنا امیر معاویہؓ پر حسب اصطلاح شرع اطلاق فئہ باغیہ آیا ہے مگر اب کہ باغی بمعنیٰ مفسد و معاند و سرکش ہوگیا اور دشنام سمجھا جاتا ہے اب کسی صحابی پر اس کا اطلاق جائز نہیں۔

(بہار شریعت (اردو) حصہ اول امامت کا بیان صحفہ 260 259)۔

اس لئے فی زمانہ سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے لفظ باغی کا استعمال کرنا بھی جائز نہیں۔


صفحہ 3 از 3