عورتیں اور حسینیات - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عورتیں اور حسینیات

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 1 از 2

حسینی شعائر کی بابت گزشتہ مذکورہ ممانعت مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے یکساں ہے۔ قارئین کے مزید علمی افادہ کی خاطر ان روایات کو ذکر کیا جاتا ہے جن میں خاص عورتوں کے حق میں ان بدعات سے دور رہنے کی تاکید اور ان کے ارتکاب کی ممانعت کا ذکر ہے۔ تاکہ ماتمی جلوسوں میں جانے والی شیعہ خواتین کو بھی اپنے اس رویہ میں غور و تدبر کرنے اور نظر ثانی کرنے کا موقع ملے تاکہ وہ بھی شرعی محظورات و محرمات میں جا پڑنے سے بچیں۔

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے جب اپنا چہرہ پیٹا اور گریباں چاک کرنے کو ہاتھ بڑھایا اور گریباں چاک کر کے بے ہوش ہو کر گر پڑیں، تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’اے میری بہن! اللہ سے ڈر اور اللہ کی تعزیت کے ساتھ تعزیت کر، جان رکھ کہ زمین پر بسنے والے سب مر جائیں گے اور آسمانوں میں بسنے والے بھی نہ بچیں گے، رب کی ذات کے سوا سب مرنے والے ہیں۔ جس نے مخلوق کو اپنی قدرت سے پیدا کیا اور انہیں مر جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ وہ ایک اکیلا ہمیشہ زندہ رہے گا۔ میرا باپ، میری ماں اورمیرا بھائی مجھ سے بہتر تھا، میرے لیے اور ہر ایک مسلمان کے لیے رسول اللہﷺ کی ذات میں اسوہ اور نمونہ ہے۔‘‘

جناب حسین رضی اللہ عنہ نے اس طور پر اپنی بہن سے غم گساری اور تعزیت کی، پھر انہیں ارشاد فرمایا:

’’اے میری بہن! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں اور تو میری قسم ضرور پوری کرنا۔ جب میں شہید کر دیا جاؤں تو میری میت پر گریباں چاک نہ کرنا، چہرہ نہ نوچنا اور نہ میرے اوپر واویلا کرنا۔‘‘ (الملہوف لابن طاؤوس: صفحہ 50 منتہی الآمال لعباس القمی: جلد، 1 صفحہ 481)

ایک روایت میں ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’اے میری بہن! اے ام کلثوم! اے فاطمہ! اے رباب! دیکھنا کہ جب میں قتل کر دیا جاؤں، تو مجھ پر نہ تو گریباں چاک کرنا اور نہ چہرے نوچنا۔‘‘ (مقتل الحسین لعبد الرزاق الموسوی المقر: صفحہ 218)

صدوق وغیرہ نے عمر بن ابی المقدام سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابو الحسن اور ابو جعفر رحمہم اللہ کو ارشاد باری تعالیٰ: وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوفٍ (سورۃ الممتحنۃ: آیۃ 12)

 ’’اور نہ کسی نیک کام میں تیری نافرمانی کریں گی۔‘‘ کی تفسیر میں یہ بیان کرتے سنا ہے: نبی کریمﷺ نے فاطمہ رحمۃ اللہ سے ارشاد فرمایا:

’’جب میرا انتقال ہو جائے تو اپنا چہرہ نہ نوچنا، بالوں کو نہ کھولنا، واویلا نہ کرنا اور نہ نوحہ کرنا۔‘‘

پھر فرمایا:

’’یہی وہ ’’معروف‘‘ ہے، جس کا ذکر اس آیت میں آتا ہے۔‘‘ (معانی الاخبار لابن بابویہ القمی: صفحہ 390)

ابو عبداللہ علیہ السلام اس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں:

’’معروف یہ ہے کہ عورتیں اپنا گریبان چاک نہ کیا کریں، چہرے نہ پیٹا کریں، واویلا نہ مچایا کریں اور نہ قبروں پر کھڑی ہوا کریں۔‘‘ (تفسیر نور الثقلین: جلد، 5 صفحہ 307 مستدرک الوسائل: جلد، 1 صفحہ 144 بحار الانوار: جلد، 82 صفحہ 77)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

’’نبی کریمﷺ نے نوحہ کرنے والی اور نوحہ سننے والی دونوں پر لعنت کی ہے۔‘‘ (مستدرک الوسائل: جلد، 1 صفحہ 144 جامع احادیث الشیعۃ لحسین البروجردی: جلد، 3 صفحہ 487)

ان روایات اور ممانعتوں کے سننے کے بعد آخر شیعہ خواتین کو ماتمی مجالس میں جانے کا کیا فائدہ؟!! بے شک وہ اس سے بچیں۔

القطب الراوندی ’’لب اللباب‘‘ (مستدرک الوسائل: جلد، 2 صفحہ 431 میں لکھتا ہے:

’’رسول اللہﷺ نے چار عورتوں پر لعنت کی ہے: (1) وہ عورت جو خاوند کے مال اور اپنی ذات میں اس کی خیانت کرے (2) نوحہ کرنے والی (3) خاوند کی نافرمان (4) اور ماں باپ کی نافرمان۔‘‘

امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ نے جب صفین کے مقتولوں پر عورتوں کے نوحہ کرنے کی آوازیں سنیں اور حرب بن شرحبیل آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ نے انہیں ارشاد فرمایا:

’’کیا تمہاری عورتیں تم پر غالب ہیں، یہ میں کیا سن رہا ہوں؟ تم لوگ ان کو اس واویلا کرنے سے روکتے کیوں نہیں؟‘‘ (جامع احادیث الشیعۃ: جلد، 3 صفحہ 387)

ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ

’’جسے خدا نے ایک نعمت سے نوازا اور اس نے اس نعمت کے ملنے پر بنسریاں بجائیں، تو اس نے اس نعمت کا کفران کیا اور جسے کوئی مصیبت پہنچی اور اس نے اس مصیبت میں نوحہ کرنے والی بلائی، تو اس نے اس مصیبت میں کفران کیا اور ایک روایت میں ہے کہ اس نے اس مصیبت کے اجر کو برباد کر دیا۔‘‘ (وسائل الشیعۃ: جلد، 12 صفحہ 9)

جعفر بن محمد اپنے دادوں سے نبی کریمﷺ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’اے علی! جس نے اپنی بیوی کا کہنا مانا، رب تعالیٰ اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ بیوی کی اطاعت کیا چیز ہے؟ فرمایا: ’’یہ کہ تو اسے حماموں، عرسوں اور نوحہ کی مجالس میں جانے کی اور باریک کپڑے پہننے کی اجازت دے۔‘‘ (وسائل الشیعۃ: جلد، 1 صفحہ 376)

صدوق وغیرہ نے جعفر بن محمد سے، انہوں نے اپنے آباء سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’چار قسم کے لوگ میری امت میں ہمیشہ رہیں گے: (1) حسب نسب پر فخر کرنے والے (2) نسب میں طعن کرنے والے (3) ستاروں سے بارش مانگنے والے (4) اور نوحہ کرنے والیاں۔ نوحہ کرنے والی اگر توبہ کیے بغیر مر جاتی ہے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں کھڑی ہو گی کہ اس پر تارکول کا کرتا اور خارش کی اوڑھنی ہو گی۔‘‘ (الخصال: صفحہ 226 الحدائق للبحرانی: جلد، 4 صفحہ 68)

ابو جعفر ثانی اپنے دادوں سے نبی کریمﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ

’’جب مجھے آسمانوں کی معراج کرائی گئی، تو میں نے ایک عورت کو کتے کی شکل میں دیکھا، آگ اس کے پیچھے سے داخل ہو کر اس کے منہ سے نکلتی تھی، جبکہ فرشتے آگ کے ہتھوڑے اس کے سر اور بدن پر مار رہے تھے۔ جب نبی کریمﷺ نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو جبرئیل علیہ السلام نے بتلایا کہ یہ نوحہ کرنے والی حسد خوری لونڈی تھی۔‘‘ (عیون اخبار الرضا: جلد، 2 صفحہ 11)

صفحہ 1 از 2