عورتیں اور حسینیات - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عورتیں اور حسینیات

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 2

امام جعفر بن محمد رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت گھر کی خواتین کو نوحہ کرنے، گریباں چاک کرنے اور چہرہ نوچنے سے منع کیا۔ (بحار الانوار: جلد، 82 صفحہ 101 جامع احادیث الشیعۃ: جلد، 3 صفحہ 490)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے عورتوں سے اس بات کی بیعت لی کہ وہ نوحہ نہ کریں گی، چہرہ نہ نوچیں گی اور خلوتوں میں اجنبی مردوں کے ساتھ نہ بیٹھیں گی۔ (بحار الانوار: جلد، 82 صفحہ 101 جامع احادیث الشیعۃ: جلد، 3 صفحہ 489)

اب سب حضرات غور سے دیکھ لیں کہ نبی کریمﷺ نے کس شدت کے ساتھ میت پر بلند آواز سے نوحہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔

نبی کریمﷺ نے جس طرح مصیبت کے وقت چیخیں مار کر رونے سے منع کیا ہے، اسی طرح نوحہ کرنے سے اور اس کو سننے سے بھی منع فرمایا ہے۔ (وسائل الشیعۃ للحر العاملی: جلد، 2 صفحہ 915)

کلینی فضل بن میسر سے روایت کرتا ہے، وہ کہتے ہیں:

’’ہم ابو عبداللہ علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ ایک آدمی نے آ کر اپنی مصیبت کا شکویٰ کیا۔ انہوں نے فرمایا: صبر کر تجھے اجر ملے گا اور اگر تم صبر نہ کرو گے، تو تقدیر تو نافذ ہو کر رہے گی البتہ تمہیں گناہ ضرور ہو گا۔‘‘ (الکافی: جلد، 3 صفحہ 225 الذکری: صفحہ 71 وسائل الشیعۃ: جلد، 2 صفحہ 913)

امام صادق جعفر بن محمد سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:

’’صبر اور بلاء (آزمائش) دونوں مومن کی طرف بڑھتے ہیں تو آزمائش اسے صابر پاتی ہے۔ جبکہ آزمائش اور جزع فزع کافر کی طرف بڑھتے ہیں، تو آزمائش کافر کو بے صبرا پاتی ہے۔‘‘ (الذکری: صفحہ 71)

محمد بن مکی العاملی المقلب بہ شہید اوّل کہتا ہے:

’’شیخ نے ’’المبسوط‘‘ میں اور ابن حمزہ نے نوحہ کو حرام قرار دیا ہے اور شیخ نے نوحہ کی حرمت پر اجماع نقل کیا ہے۔‘‘ (الذکری، ص: ۷۲۔ بحار الانوار: جلد، 82 صفحہ 107)

شیخ سے مراد ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی ہے جو شیخ الطائفہ کے لقب سے مشہور ہے، اس نے نوحہ کو حرام بھی کہا ہے اور اس کی حرمت پر اجماع بھی نقل کیا ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ شیخ طوسی کے دور تک سب شیعہ نوحہ خوانی کی حرمت پر مجتمع تھے، جس کو آج ہم حسینیات میں برملا بیان ہوتے سنتے ہیں۔ اب ہم ان شیعوں کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ وہ اپنے طرز عمل کا متقدمین شیعہ علماء کے فتاویٰ سے موازنہ کر کے جائزہ لیں۔ آیت اللہ العظمی محمد الحسینی الشیرازی لکھتا ہے:

’’لیکن شیخ سے ’’المبسوط‘‘ میں اور ابن حمزہ سے نوحہ خوانی کی مطلق تحریم منقول ہے۔‘‘ (الفقہ: جلد، 15 صفحہ 253)

شیرازی کہتا ہے:

’’الجواہر‘‘ میں واویلا کرنے اور سینہ کوبی کرنے کی مطلق اور قطعی حرمت پر اجماع کا دعویٰ منقول ہے۔‘‘ (الفقہ: جلد، 15 صفحہ 260)

نجم الدین ابو القاسم جعفر بن حسن ملقب بہ ’’المحقق الحلی‘‘ لکھتا ہے:

’’شیخ نے تعزیہ کے لیے جلوس کی کراہیت پر اجماع سے استدلال کیا ہے۔ کیونکہ تعزیہ کے جلوس کسی صحابی یا امام سے منقول نہیں۔ لہٰذا تعزیہ نکالنا اور اسے جلوس میں لے چلنا اسلاف کی سنت کے خلاف ہے۔‘‘ (المعتبر: صفحہ 94)

محمد بن مکی العاملی لکھتا ہے:

’’شیخ نے تعزیہ کے لیے دو یا تین دن کا جلوس نکالنا مکروہ لکھا ہے اور اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ ابن ادریس نے یہ کہہ کر اس اجماع کو ردّ کیا ہے کہ یہ تو لوگوں کا محض اکٹھا ہونا اور ایک دوسرے کی زیارت کرنا ہے۔ جب کہ شیخ المحقق نے ان الفاظ کے ساتھ اجماع کی تائید کی ہے کہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ یا امام علیہ السلام سے تعزیہ نکالنا اور اسے جلوس میں لے چلنا منقول نہیں، لہٰذا یہ اسلاف کی سنت کے مخالف ہو گا۔ گو یہ عمل تحریم کی حد تک نہ بھی پہنچتا ہو۔ میں کہتا ہوں کہ مذکورہ اخبار اس کی حرمت کو بتلاتی ہیں۔ لہٰذا تزاور (باہمی ملاقات) کی حجت بے معنی ہے۔‘‘ (الذکری: صفحہ 70)

اگرچہ شیخ بحرانی نے نوحہ خوانی کی حرمت کی روایات کے رد کی بڑی کوشش کی ہے لیکن بے سود کہ جب شیخ اور ابن حمزہ نے اس پر اجماع نقل کر دیا ہے، تو اس کے بعد اس تاویل کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی کہ اس سے مراد وہ نوحہ ہے، جو حرمت پر مشتمل ہو یا جاہلیت کے نوحہ کے مثل ہو۔

شیخ بحرانی نے نقل کیا ہے کہ شیخ الطائفہ نے ’’النہایۃ‘‘ میں اس حرمت کو مقید ذکر کیا ہے۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ شیخ بحرانی کا یہ نقل مردود ہے، کیونکہ شیخ الطائفہ نے خود اس پر اجماعِ مطلق ذکر کر دیا ہے۔ تو اب ہمارے یہ شیعی مصنف کیا جواب دیں گے؟!!


صفحہ 2 از 2