سیدنا امیر معاویہؓ پر علامہ عینیؒ کا اعتراض
محمد ذوالقرنينسیدنا امیر معاویہؓ پر علامہ عینیؒ کا اعتراض
بعض شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اہلِ سنت کے امام علامہ عینیؒ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے اجتہاد کا انکار کیا ہے اور ان پر تنقید کی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کو پتہ تھا کہ سیدنا عمارؓ کو ایک باغی گروہ قتل کرئے گا تو ان کی خطاء کو اجتہادی کیسے کہا جاسکتا ہے حالانکہ حدیث ان کے سامنے تھی یہ سب کہہ کر شیعہ علامہ عینیؒ کو آڑ بنا کر سیدنا امیر معاویہؓ پر طعن کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ملاحظہ فرمائیں۔
اعتراض: علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے علامہ عینیؒ کا قول نقل فرمایا ہے کہ (علامہ عینیؒ کہتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ سیدنا امیر معاویہؓ کی خطاء کو اجتہادی خطاء کیسے کہا جائے گا؟۔ حالانکہ ان کو یہ حدیث پہنچ چکی تھی جس میں نبیﷺ نے فرمایا ہے افسوس سیدنا ابنِ سمیہؓ کو ایک باغی جماعت قتل کرئے گی سیدنا ابنِ سمیہ عمار بن یاسرؓ ہیں اور ان کو سیدنا امیر معاویہؓ کے گروہ نے قتل کیا کیا سیدنا معاویہؓ برابر سرابر ہونے پر راضی نہیں ہیں کہ ان کو ایک اجر ملے گا؟۔
(شرح صحیح مسلم (اردو)جلد 7 صحفہ 791)۔
اعتراض کا جواب:
اس اعتراض کا جواب علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے خود ہی یہ اعتراض نقل کر کے دیا ہے۔
علامہ غلام رسول سعیدیؒ فرماتے ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ علامہ عینیؒ کی مغفرت فرمائے انہوں نے سیدنا امیر معاویہؓ پر یہ اعتراض کیا ہے کہ جب ان کو یہ حدیث پہنچ چکی تھی کہ رسول اللّٰہﷺ نے سیدنا عمار بن یاسرؓ کے متعلق فرمایا تھا کہ ان کو ایک باغی جماعت قتل کرئے گی اور سیدنا امیر معاویہؓ کے گروہ نے ہی سیدنا عمارؓ کو قتل کیا تھا اور ان کے قتل کے بعد تو نصِ صریح سے سیدنا علیؓ کے مؤقف کا حق ہونا واقع ہوگیا تھا حالانکہ اس کے بعد بھی سیدنا امیر معاویہؓ نے اپنے مؤقف سے رجوع نہیں کیا (علامہ غلام رسول سعیدیؒ جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں) علامہ عینیؒ کے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ سیدنا عمارؓ کی شہادت سے پہلے تو سیدنا امیر معاویہؓ کے اجتہاد پر کوئی اعتراض نہیں ہے ہاں سیدنا عمارؓ کی شہادت کے بعد حق ضرور واضح ہوگیا تھا لیکن سیدنا امیر معاویہؓ کو یہاں بھی التباس اور اشتباہ ہوگیا انہوں نے کہا کہ سیدنا عمارؓ کی شہادت کا باعث سیدنا علیؓ ہیں اگر سیدنا علیؓ سیدنا عثمانؓ کا قصاص لے لیتے تو جنگ کی نوبت ہی نہ آتی اور نہ ہی سیدنا عمارؓ شہید ہوتے سیدنا امیر معاویہؓ کی یہ تاویل صحیح نہیں ہے لیکن یہ تاویل بھی ان کی اجتہادی خطاء پر مبنی تھی علامہ عینیؒ نے عمدۃُ القاری کے شروع میں خود سیدنا امیر معاویہؓ کے مجتہد ہونے کا اعتراف کیا ہے وہ لکھتے ہیں سیدنا عمارؓ کو سیدنا امیر معاویہؓ کے گروہ نے قتل کیا تھا لیکن وہ مجتہد تھے اور اپنے ظن کی اتباع کرنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ہے اگر تم یہ کہو کہ مجتہد جب صحیح اجتہاد کرے تو اس کو دو اجر ملتے ہیں اور اگر غلط اجتہاد کرئے تو ایک اجر ملتا ہے تو یہاں کیا معاملہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے اقناعی جواب دیا ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حق میں اس کے خلاف کہنا لائق نہیں ہے کیونکہ اللّٰہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف کی ہے اور ان کی فضیلت کی شہادت دی ہے قرآنِ مجید میں ہے تم بہترین امت ہو مفسرین نے بیان کیا ہے اس سے مراد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔
(شرح صحیح مسلم (اردو) جلد 7 صحفہ 791،792)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علامہ عینیؒ نے سیدنا امیر معاویہؓ پر کوئی تنقید نہیں کی بلکہ ان کے بارے میں یہ کہا کہ ان کو سیدنا عمارؓ کی شہادت کے بعد رجوع کر لینا چاہیے تھا لیکن ان کو پھر سے خطاء لاحق ہوگئی اور علامہ عینیؒ نے خود سیدنا امیر معاویہؓ کو ایک اجر ملنے کا ذکر بھی کیا ہے کہ ان کو ایک اجر ملے گا اور یہ کہا ہے کہ ان کی شان میں گستاخانہ بات کرنا جائز نہیں کیونکہ اللّٰہ نے ان کی تعریف کی ہے اور ان کی فضیلت بیان کی ہے اور ان کو بہترین لوگ قرار دیا ہے۔
اس لئے شیعہ کا اس قول سے استدلال کرنا شیعہ کے اپنے پیروں پر کلہاڑی ہے کیونکہ علامہ عینیؒ خود کہتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ کو ان کے اجتہاد پر ایک اجر ملے گا اور ان کی شان میں کوئی نازیبا جمله استعمال کرنا جائز نہیں کیونکہ قرآن میں اللّٰہ نے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف کی ہے۔